ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

بدھ، 26 جولائی، 2017

جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا / آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے / انور زاہدی

انور زاہدی
دل نے ہمارے خواب جو بوئے تھے کیا ہوئے 
شب روز اس فراق میں کھوئے تھے کیا ہوئے
وہ سحر خیز باد صبا کیسے گم ہوئی
لمحے گلے لگا کے جو روئے تھے کیا ہوئے
سنولائی ہوئی شاموں میں روشن ترے چراغ
ویران دریچوں میں سموئے تھے کیا ہوئے
قصے کہانیاں جو سناتے رہے تھے ہم
سب ہجر کی راتوں میں ڈبوئے تھے کیا ہوئے
جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا 
آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے

اتوار، 21 مئی، 2017

آج حسرت پر سکوں ہے زندگی / عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے/ حسرت بلال

حسرت بلال
قیدِ الفت سے رہا ہوتے ہوئے
وہ بھی کب خوش تھا جدا ہوتے ہوئے
میں نے دیکھے ہیں بہت سنسان شہر
راستوں سے آشنا ہوتے ہوئے
خود کشی کا ذائقہ چکھا گیا
مفلسی سے آشنا ہوتے ہوئے
کچھ نہیں دیکھا گیا حسب و نسب
خوبروں پر فدا ہوتے ہوئے
پھرمسافر کو بھٹکنے سے بچا
راستے کا اک دیا ہوتے ہوئے
آج حسرت پر سکوں ہے زندگی
عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے

جمعہ، 19 مئی، 2017

میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں / ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری / قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
غرور آیا نہ کام آئی خاکساری مری
ہر ایک شخص نے گردن یہاں اتاری مری
میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں
ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری
دھرا ہوا ہے مرے سر پہ اک شکستہ خواب
خدا کا شکر کہ گٹھڑی نہیں ہے بھاری مری
کوئی تو روشنی مجھ کو اڑائے پھرتی ہے
یہ ماہتاب نہیں ہے اگر سواری مری
میں آپ اپنے گناہوں کی ہوں سزا شہزاد
مرے وجود پہ ہوتی ہے۔ سنگ باری مری

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی

  
جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت معروف ترقی پسند شاعر،ادیب اور دانشور ڈاکٹر خالد جاوید جان نے کی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی  اور ممتاز راشد لاہوری تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف نوجوان شاعرمیجر احمد نواز  اور شاعرہ، ادیبہ وکالم نگار محترمہ عالیہ بخاری تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔

سید علی  گوہرنے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں مقررین نے ڈاکٹر عبدالغفار عزم کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی۔ دوسری نشست میں  ان کی یاد میں محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ان کی شہرہ آفاق کتا ب ''نقش اول'' کا بھر پور تعاف کرایا گیا اور صاحبِ صدر اور مہمانِ اعزاز کو یہ مایہ ناز ادب کا شہکار تصنیف پیش کی گئی۔ایم زیڈ کنولؔ نے ڈاکٹرصاحب کی کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''   آج کے طوائف الملوکی کے دور میں ڈاکٹر عبدالغفار عزم نہ صرف خود چمنِ ادب کو اپنے لہو سے سینچتے رہے بلکہ   اس کی بہار کو سدا بہار کرنے کے لئے دیارِ مغرب میں مشرقی روایتوں کے فروغ کے لئے ساری دنیا سے گوہرِ نایاب چُن چُن کر ایک ایسی منفرد بستی بسا ڈالی۔ جس کی آباد کاری جغرافیائی سرحدوں سے بے نیاز ہے۔ساکنانِ شعر وسخن دنیا کے جس گوشے میں بھی آباد ہیں اس بستی کی شہریت ان کیلئے اعزاز ہے۔ جس کا نہ کوئی رنگ ہے، نہ نسل، نہ مذہبی قد غن،اور نہ جغرافیائی حدود۔ جہاں گاگر اور ساگر میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کی بنیاد رکھنے سے لے کر آخر ی سانسوں تک سخنورانِ ادب کے لئے آپ ایک شجرِ سایہ دار بن کر سایہ بھی دیتے رہے اور ٹھنڈک بھی۔خوشبو بھی اور طراوت بھی اور ایک قطب ستارے کی طرح میرِ کارواں بن کر سر گرمِ عمل رہے۔'' 
 اختر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، فراست علی بخاری، ندا سرگودھوی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب روایتوں کے امین تھے۔9۔اپریل2016 کو جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام دوسری تقریبِ ایوارڈ کی صدارت فرمانے کے لئے وہ بیماری کے باوجود  لند ن سے لاہور تشریف لائے۔ یہاں سے بخیریت   واپس لندن پہنچنے کے بعد یکم مئی 2016 کو ہمتوں اور استقامت کا یہ ستارا، ''استعارا  '' بن گیا۔ جگنو انٹرنیشنل نے اس وقت بھی ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یہ یادیں ہمیشہ جاوداں رہیں گی۔ آج کی تقریب اس بات کا ثبوت ہے۔تقریب میں مظہر جعفری،بابر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، ظلِ ہما نقوی،شبانہ زیدی(اوکاڑہ)،محمد اکرم فریدی،پروفیسر نذر بھنڈر،ریاض احمد ریاض،فراست بخاری، رضون خوشی، اظہر اقبال مغل، اعجاز اللہ نازاور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔احباب نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر جگنو انٹرنیشنل کی تمام ٹیم کی کارکردگی کو سراہا  اور ایم زیڈ کنول، چیف ایگزیکٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ڈاکٹر عزم کی یادو ں کے چراغ روشن کر کے ڈاکٹر صاحب کی فروغ ِ اردو کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو امر  بنانے کا اہتمام کیا۔تقریب کے اختتام پر ملک کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں گئیں۔

جمعرات، 4 مئی، 2017

دُرّ ِ مکنون کی جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام تقریبِ اجرا


الحمرا ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی کی تالیف شدہ کتاب " دُرّ ِ مکنون "المعروف الہامی الفاظ توانائی کے یونٹس کی تقریبِ اجراء الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت  پیر مخدوم سید نفیس الحسن بخاری، سجادہ نشین،چیئرمین،صوفی ازم کونسل پاکستان و اُچ شریف ٹرسٹ  نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف شاعرہ،ادیبہ،کالم نگار محترمہ فاطمہ رضوی تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔قاری،حافظ ڈاکٹرسیدنور المصطفیٰ نے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔عالیہ بخاری ہالہ، پروفیسر نذر بھنڈر،ممتاز راشد لاہوری،میجر خالد نصر،، ڈاکٹر ایم ابرار،محمد زہیب صدیقی،میاں صلاح الدین اور دیگرنے بہت خوبصورت مقالے پیش کئے۔ایم زیڈ کنول نے کتاب اور صاحبِ کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ"    شاعری ہو یا نثرحب اہلِ بیت اُن کی گھٹی میں پڑی ہے۔ روحانیت، اور فہمِ دین اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔جس نے انہیں بحرِ مسیحائی کا شناور بنا دیا۔ علم و حکمت کے خزینے چُنتے چُنتے ایسے باغِ اِرم میں جا پہنچے جہاں تصوف ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔اپنے اب و جد کی محبت اس طرح اُن کی روح میں حلول کر گئی کہ اُن کے لفظوں کے ساگرایسے گوہر اُگلنے لگے کہ تصوف کے بام و در مسکرا اُٹھے۔بس پھر کیا تھا تخلیق کے چشمے گُل وبلبل کی کہی و اَن کہی داستانوں سے سیراب ہونے کی بجائے تصوف کی آبشاروں سے روح کوسیراب کرنے لگے اور      اکو الف ان کی ہستی کا مدعا بن گیا۔پھر سلطان الہند،روضہ الاقطاب جیسے گنجہائے گراں مایہ تصنیف و تالیف کئے۔ سید زادے نے اس نوجوانی کی عمر میں ہی شریعت اور طریقت  کے جواہر اپنی جھولی میں بھر لئے ہیں جن سے وہ خلائقِ عامہ کو مستفیذکر رہے ہیں۔اسی آرزو کی تکمیل دُرّ ِ مکنون کی تالیف ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ سعادتوں اور دعاؤں کا یہ گنجینہٗ علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمامشائع ہوئی ہے۔یہ کتاب دُرّ ِ مکنون  ہی نہیں در نایاب بھی ہے اور آج کے زمانے کی ضرورت بھی" معزز مہمانوں اور مقررین نے جگنو انٹرنیشنل کو اس شاندار با برکت روحانی تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور ڈاکٹر فہیم کاظمی کی اس تالیف کو روحانیت کے باب میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیااور کہا کہ حقیقی و حسبی و نسبی وارث درگاہ معلی خواجہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز اجمیری رحمتہ اللہ علیہصاحبزادہ سید فہیم رضا کاظمی الچشتی عفی،صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی نے کلام پاک، مشاہیر مشائخ عظا م اور خواجگانِ چشت کے عملیات و وظائف میں سے سدا بہار پھول اولیائے چشت سے محبت کرنے والوں کی نذر کر کے اپنے اسلاف کی محبت کا

 حق ادا کیا ہے۔تقریب میں مسعود اختر،مظہر جعفری،ڈاکٹرکنول فیروز، محمد طفیل اعظمی،عقیل اختر،ایم شاہد رانا،رانا سعید احمد،فراست بخاری، نجمہ شاہین،عزیز شیخ اور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں  کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔

منگل، 2 مئی، 2017

رات کی بے کراں اُداسی میں / ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے / انور زاہدی

طاق میں اک چراغ جلتا ہے
درد تنہائی میں ہی پلتا ہے 
رات کی بے کراں اُداسی میں 
ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے
کاش یہ علم تمہیں ہوسکتا
دُکھ کا دریا ہی کیوں بکھرتا ہے
کیسے برسات کے مہینوں میں
دل پہ ساون یونہی گرجتا ہے
چاند برکھا کی بھیگی راتوں میں
چھپ کے بادل میں پھر اُجلتا ہے
رات کٹتی نہیں ہے کیوں انور
غم کا دن کس طرح نکلتا ہے
انور زاہدی

جمعرات، 13 اپریل، 2017

پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب / نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
نیامِ حرف میں شمشیر سے معانی رکھ
کمانِ شوق میں اک تیر سی کہانی رکھ
نکل بھی خواب گزیدہ حصارِ نوم سے آنکھ
نمودِ حسن کی یوں تو نہ پاسبانی رکھ
پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب 
نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ
کسی خیال میں لا اُس کی بے خیالی کو
کبھی دھیان میں اُس کی بھی بے دھیانی رکھ
نزولِ عشق ، مصیبت ہی ناگہانی ہے
یہ ناگہانی ، ہمیشہ ہی ناگہانی رکھ
یہ زادِ راہِ محبت ہے، عشرتِ غم ہے
میاں سنبھال کے یہ دردِ جاودانی رکھ
اداس آنکھ کی جو دلکشی بڑھانی ہے
تو اس میں یاد کا صہبا نشاط پانی رکھ
رگوں میں خون کی گردش فشار خیز نہ ہو
توُ چشم زار میں اشکوں کی بھی روانی رکھ
جواں ترنگ ہے اصغر ترا بڑھاپا بھی
سرُور خیزیٔ الفت کی شادمانی رکھ

سوموار، 20 مارچ، 2017

لو ح ،، کی تقریب پذیرائی ۔۔ صدارت: ایس ایم ظفر ، مہمانِ خصوصی : محترمہ صدیقہ بیگم

رپورٹ:رابعہ الرَ بّا ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،
مو سم بہا ر شروع ہو چکا تھا ۔ مگر سر دی کی کچھ لہر یں ملیریا میں لگنے والی سردی کی طر ح شہر میں دور رہی تھیں۔ کچھ جسم میں سنسنا ہٹ بن کر دوڑ جاتی تو کچھ ہمیں یا د دلاتی کہ نہیں یہ تو کو ئی خیالی سنسناہٹ ہو گی جو مو سم کا مزہ نہیں لینے دے رہیں۔ موسم بھی کیا ظالم شے ہے حساس انسانو ں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا
ہے
 ۔ 
یہ اتو ار کا دن تھا صبح سے ہی دھوپ اور سرد ہو ئیں آنکھ مچو لی کھیل رہی تھیں۔ دونو ں نے ہا ر نہیں ما نی اور ان کی من ما نی میں زندگی نے بھی مسکرانے سے انکا ر نہیں کیا ۔ اور شہر ہو شہر لا ہور، زندہ دلان کا شہر ، باغو ں کا شہر ، پھولوں اور خوشبو کا شہر،گورنمنٹ کالج کاشہر تو کس کی مجال ہے کہ کو ئی کرتا انکا ر ۔ الحمرا میں جشن بہا راں تھا ، ایوان اقبا ل میں حلقہ اربا ب ذوق کا اجلا س تھا، تو ایک اجلاس پا ک ٹی ہا ئوس میں منعقد تھا،کہیں جشن بہا

را ں کا مشاعرہ تھا ، کہیں فیض امن میلہ،یو ایم ٹی کی ادبی بیٹھک تو کاسمو پو لیٹن کلب میںکو ئی تقریب پذیرائی، انہی ادبی میلو ں میں ایک میلا سن فورٹ ہو ٹل لاہو ر کی دوسری منزل پر بھی سجا ہواتھا ۔ جہا ں ادبی بہا ر کے ساتھ اولڈ راوینز کی بہا ر دکھا ئی دے رہی تھی۔ کیو نکہ اس بہا ر کا انعقا د اولڈ راوینئز ایسوسی ایشن لا ہو ر کی جا نب سے کیا گیا تھا ۔ سو یہا ں را وی کیو ں نا بہتا ۔ جتنے راوینز بیٹھے ہو ئے تھے وہ آج بھی راوین ہی لگتے تھے ، عمر ان پہ اپنے اثرات چھو ڑنے میں نا کا م نظر آتی تھی ۔ بس ذرا سب کے جسما نی زاویے بد ل گئے تھے۔ مجھے محسو س ہوتا ہے کہ راوین ہونا ایک کیفیت کا نا م ہے جو طا ری ہو جا ئے تو طاری اور جا ری ر ہتی ہے۔

سن فورٹ کی بھی اگرتاریخ اٹھا ئی جاتی تو اس میں بھی کو ئی باب ایسا نہیں ہو گا جس میں درج ہو کہ اس کی زمین پہ کتنے راوینئز اکھٹے ہو ئے ہوںگے۔وہ آج خو د اس کیف میں جھو م گیا ہو گا ۔ خود پہ نا زاں ہو گا اور نا ز کا سہر ا جا تا ہے ممتا زشیخ کے سر ، ’’ اک سہر ے پہ کئی سہر ے سجا لیتے ہیں لو گ،، مگر یہ ہمت بھی کو ئی کو ئی کر تا ہے ، اور یہ نصیب بھی کسی کسی کو ملتاہے، ممتا ز شیخ نے پہلے اپنا سہرا تو سجا یا ہی ہو گا ، مگر اس کے بعد ’’لو ح ،، کو نکالنے کا ، پھر اس کی کامیا ب اشاعت کا ، کامیاب پریزنٹیش کا ، اور کامیاب سر کو لیشن کا، اور پھر ہر سال ایک بھر پو ر تقر یب کا ، اور یہ اس سلسلے کی چوتھی تقر یب تھی ۔ اور چوتھا انداز تھا ۔ 
ہال بھرا ہو تھا ۔ اور بقو ل ماہر قانون اور قابلِ احترام پاکستانی جناب ایس ایم ظفر جو اس تقریب کی صدارت بھی فرما رہے تھے کہ اس ہال میں سب کے سب اسیرانِ ادب ہی تشریف فرما ہیں اور اسیرانِ ادب کا لفظ سہ ماہی"لوح" کے 
ٹائٹل کی پیشانی پر بھی کندہ ہے، 

میزبانی کے فرائض کا آغاز اولڈ راوئینزایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکرٹری شہباز شیخ نے کیا اور اس تقریب کے حوالے سے مختصر گفتگو کے بعد تقریب چلانے کی ذمے داری معروف شاعر اور دانشور ڈاکٹر ابرار احمد کو سونپ دی۔ "ادبِ لطیف" کی سدا بہارایڈیٹر محترمہ صدیقہ بیگم تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں ۔محترمہ صدیقہ بیگم کے دائیں طرف جناب ممتاز شیخ براجمان تھے جن کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا کہ تقریب میں لاہور کے تمام نمائندہ شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور نقاد تشریف فرما تھے۔ غالباََ یہ اس روز کی سب سے کامیاب اور بھرپور تقریب تھی۔ راوئینز اور"لوح" کے پروانوں کا ہجوم سا اُمڈ آیا تھا جس میں امجد اسلام امد، ڈاکٹر اختر شما ر، ڈاکٹر سعادت سعید ، ڈاکٹر ضیا الحسن ، ڈاکٹر نجیب اجمل، ظفر سپل ، سعود عثما نی،حسین مجر وح ، ڈاکٹر نیازی ، انجم قریشی ، امجد طفیل ، اقتداد جاوید ، ڈاکٹر ابرار احمد ، سجا د بلو چ ، عبرین صلاح الدین ، مظہر سلیم مجوکہ ،وقاص عزیز ، ر خشند ہ نو ید ، قمر رضا شہرا د ، ڈاکٹر خالد ہ انو ر ، اورنگ زیب نیازی ، یو نس خان ، سلمی اعوان، نیلم احمد بشیر ، حمید ہ شاہین ، انجم قریشی، وحید رضا بھٹی ، سرفراز احمد، نا ز بٹ ، آسنا تھ کنو ل ،باقی احمد پوری، ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر جو ا ز جعفری، محمد ندیم بھابھہ، امجد طفیل ، شائستہ نزہت، وسیم عباس ،ہا یٓکورٹ کے ریٹایرڈ ججز، بیوروکریٹس ،وکلاہ، اور میرے سمیت بہت سے لو گ شامل تھے۔ جن کے نا م شامل نہیں کر سکی ، وہ میر ی کم علمی ہے۔ اس موقعہ پر ممتاز شیخ صاحب کے بچپن یعنی گورنمنٹ کالج کے دوست بھی کثیر تعداد میں موجود تھے جن کا تعلق آج زندگی کے مختلف شعبوں میں امتیازی حیثیت رکھنے سے ھے جن میں عسکری اداروں کے اعلی عہدے دار ،پولیس کے زمے دارعہدوں پر متمکن حضرات ، ڈاکٹرز ، سول سروس ، بینکار ،بزنیس مین شامل تھے-
آدبا ،افسانہ نگاروں اور شعراہ کی اکثریت نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا اور وہ بھی مفید - یہ دن تھا راز فاش ہو نے کا ، ایک کے بعد ایک بھید کھل رہا تھا ، کچھ سے تو میں بھی پر دہ نہیں اٹھا نے والی کہ ہر راز کے فاش ہو نے کا بھی وقت ہو تا ہے ۔ اسے اس کی عمر دینی چاہئے ۔ انجم اعظم قریشی نے بتایا کہ ’’ لو ح ،، کا نا م انہو ں نے تجو یز کیا تھا اور وہ آج تک اس پر اتراتی ہیں اور اس کی مٹھاس محسوس کرتی ھیں جس کی تائید ممتازشیخ صاحب نے بھی کی ، اک راز ممتا ز شیخ کی ز با ن سے بھی سماعتوں تک گزرا، آہ کیا یاد آگیا
’’ وقت کر تا ہے پر ور ش بر سوں،،
یہ نہیں معلو م ممتاز صا حب نے کس عشر ے کی با ت کی ، مگر جگہ تھی گورنمنٹ کا لج لا ہو ر اور ’’راوی،، کی ادارت کے"ہما "کا موقع تھا مگر ممتاز شیخ صاحب بوجوہ راوی کے ’’ ایڈیٹر،، منتخب نہ کیے جا سکے، بس یہ درد خواب بن کر نجانے کب سے تعبیر کی تلا ش میں کتنی وحشتوں کا سفر تنہا کر تا رہا اور آخر اس خواب نے’’ لو ح ،، کی صورت تعبیر پا لی۔ مجھے عطا الحق قاسمی کی ایک با ت یا د آ گئی ’’ آئیڈیل ملتا ضر ور ہے مگر بس وقت پہ نہیں ملتا،،تب ممتا ز صاحب نے دل میں ٹھا نی تھی کہ وہ ’’راوی،،کو آئیڈیل بناتے ہوئے "راوی " جیسا ہی مقتدرپر چہ نکا لیں گےانہوں نے مذید کہا کہ اگر انہیں "راوی " کے نام سے پرچہ نکالنے کی اجازت مل سکتی تو وہ "لوح" کا نام "راوی ثانی" رکھتے۔ اب انہو ں نے ثابت کر دکھایا کہ دیکھے جانے والے خواب ضرور پو رے ہو کر رہتے ہیں۔

بہت سی تجا ویز بھی پیش کی گئیں، بہت سے مشو رے دئیے گئے۔ تعریف بھی کی گئی ، تنفید بھی نے خاصی جگہ پا ئی ،اس موقع پر ممتاز شیخ صاحب نے کہا وہ اس اجمتاع میں ہر قسم کی تنقید کا خیر مقدم کریں گے اور اس کی روشنی میں "لوح" کو مذید بہتر بنائیں گے۔اس موقع پر میری معلومات میں بھی بہت اضافہ ہوا اور ایس ایم ظفر صاحب کی یہ بات سن کر اچھا لگا کہ پاکستا ن بننے سے قبل اس سر زمین ِ بر صغیر پہ چا ر ہز ار سے زائد پر چے نکلتے تھے، جس میں سے دو ہزار صرف لاہو ر سے ہی نکلا کر تے تھے۔تو گویا لا ہو ر کو ’’ ادبی رسائل و جرائد ،، کا شہر بھی کہہ سکتے ہیں ۔ وہ زما نہ چشم تصور میںگردش کرنے لگا۔ 
خلیل جبرا ن کی با ت ہو ئی، ابن خیام کی بات ہو ئی ، دوستو فسکی کو یا د کیا تو ،کو لمبس کو یا د کیا ، تو پطر س بخاری تک کا ذکر چھڑا ، سو ند ھی ٹرانسلیشن سوسائیٹی (گو ر نمنٹ کا لج لاہو ر) کا قصہ چھڑا ، نجا نے کتنی داستانیں ابھی با قی تھیں ، نجا نے کتنے قصے ابھی چھڑنے تھے، مگر وقت کی قید نے رسمی کا روائیو ں کی طر ف مو ڑ دیا ۔ 
ان اختتامی ر سمی کا روائیوں کے بعد جہا ں پْر تکلف چائے کا دور چلا ، وہا ں نئی تہذیب کے نئے ر نگ نے بھی ر نگ بکھیرے، یعنی سیلفی ٹا ئم جس میں بنا عمر و رنگ ونسل محمو د و ایا ز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے ۔ اور یہ ہر دور کا حسن ہو تا ہے کہ اس کو اس کی طر ح ہی گزارا جا ئے تو لطف ہے۔کیو نکہ زند گی کا کو ئی پل لو ٹ کے نہیں آتا ۔ اور یہ پل بھی آج کے بعد سے یا د بن گیا ہے ۔ جس کو ہم خو ش نصیبو ں نے کیمر وں اور یاداشتوں میں قید کر لیا ہے ۔ کل سے یہ ہما ری یا دوں میں مسکرائے گا۔

منگل، 14 مارچ، 2017

ھم دنیا میں عدت کے دن گزار ر ہے ہیں /احمد سہیل امریکہ

احمد سہیل
جب لڑکی خاموش ہو جاتی ہے
تو خواب تعبیر سے جدا ہو جاتے ہیں
جب لڑکی مسکراتی ہے
تو ھم سے آزادی چھین کی جاتی ہے
ھم دنیا میں عدت کے دن گزار ر ہے ہیں
مجھے موت دے دو
کہ میں اپنی زندگی میں واپس جانا چاہتا ہوں
موت ایک معمہ ہے
سایوں کے پیچھے
وہ اپنی تعریف سن کر رو دیتی ہے
الجھے ہوئے اندھیرں میں
زندگی مجرم بنے کھڑی ہے
تم خزاں سے پہلے آجانا
زندگی بیچنے والا سپاہی موت سینے پر سجاتا ہے
موسموں کے بدل جانے سے
پیڑوں سے پتے جدا ہو جاتے ہیں
مگر جدائی کا کوئی موسم نہیں ہوتا
جتنی دیر میں یہ نظم پوری ہو
تم لوٹ آنا
جاڈوں سے پہلے تم مجھے آزاد کردو
یہ اس شہر کی کہانی ہے
جب شہر سر شام سوگیا تھا