ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 30 اکتوبر، 2017

کچھ اور بھی لفظوں کو معانی میں پروتی / کچھ شعر غزل میں اگر الہام کے ہوتے / صبیحہ صبا

قدرت کی طرف سے ہمیں انعام کے ہوتے
کچھ یاد نہیں ہم کو ترے نام کے ہوتے 
کیوں سارے ثمر غیر کا ہوتے ہیں مقدر
یاں اپنی زمیں اپنے دروبام کے ہوتے
جو دل پہ زمانے کا ہر اک درد اٹھا لیں 
آلام سے بیکل رہے آرام کے ہوتے
جو میرے لئے اہل محبت نے سجائی 
کچھ لمحے ترے نام بھی اس شام کے ہوتے

دوری کا تصور کسے ہوتا ہے گوارا
یہ فیصلے ایسے ہیں کہ دل تھام کے ہوتے
کچھ اور بھی لفظوں کو معانی میں پروتی 
کچھ شعر غزل میں اگر الہام کے ہوتے
صبیحہ صباؔ

اتوار، 29 اکتوبر، 2017

پاکستان کے خلاف جاری الزامات اور پروپیگنڈے کے جواب میں مضبوط قومی بیانیے کی ضرورت ہے:رضا ربانی کا امجد پرویز ملک کی کتاب فوکس پاکستان کی تقریب رونمائی کے موقع پر پیغام

ملک کا مثبت تاثر اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے:رفیق رجوانہ

(رپورٹ: رمضان ساجد) 
چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ مغربی طاقتوں اور ان کے مشرقی اتحادیوں کی جانب سے دہشت گردی او ر انتہاپسندی کے ذریعے پیدا کی گئی افراتفری کے الزامات اْلٹا پاکستان پر لگانے کا موثر جواب دینے کے لئے مربوط قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ سیاسی، پارلیمانی اور سفارتی شعبوں میں حالیہ ادب اور تحریریں اس قومی بیانیے کو منظم بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک کی کتاب’’فوکس پاکستان’‘ کی تقریب رونمائی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔فوکس پاکستان کی تقریب رونمائی اقبال ہال، قائداعظم لائبریری باغ جناح لاہور میں منعقد ہوئی جس میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ مہمان خصوصی تھے۔اس تقریب کا اہتمام ڈائریکٹر جنرل لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے کیا تھا۔ چیئرمین سینٹ نے کتاب کے مصنف امجد پرویز ملک کو اس کتاب کے ذریعے پاکستان کے حوالے سے کئے جانے والے منفی پروپیگنڈے ، غلط فہمیوں اور منفی تاثر کو بھرپور انداز میں زائل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ لکھاری نے اپنی تحریر کے ذریعے پاکستان کے مضبوط قومی بیانیے کے خدوخال بیان کئے ہیں اور پاکستان کے معاشی طورپر ترقی یافتہ، جمہوری طور پر مضبوط ،امن دوست اور ذمہ دار جمہوری ملک کے طور پر پہلوؤں کو کامیابی سے اجاگر کیا ہے جوکہ اسے خطے کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتے ہیں۔
اِس موقع پر مہمان خصوصی گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ ملک کا مثبت تاثر کرنے کی ضرورت ہے ، ملک کو اِس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے جس میں آبادی میں بے پناہ اضافہ اور پانی کی کمی جیسے سنجیدہ مسائل شامل ہیں تاہم مثبت بات یہ ہے کہ آبادی میں نوجوانوں کی زیادہ تعداد مناسب مواقع ملنے پر ملک کی ترقی کا زینہ بن سکتی ہے ۔ جغرافیائی مرکزیت کی وجہ سے علاقائی امن کے لئے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ پاکستان اپنی مقبول قدروں کی وجہ سے ترقی پسند ملک ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت معاشی خوشحالی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ اہم منصوبوں کے ذریعے نا صرف ہم اپنی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کررہے ہیں بلکہ مختلف شعبوں میں ہونے والی خوشحالی کے ثمرا ت سے خطے کے ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن کے فروغ کے لئے پرعزم ہیں اور اس مقصد کیلئے ہم نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اس کے باوجود بعض طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں امجد پرویز ملک کی کتاب فوکس پاکستان اس تاثر کو زائل کرنے کی ایک موثر اور مربوط کوشش ہے۔ اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے کے مقابلے کیلئے ایک موثر قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی ، معاشی استحکام ، آزاد میڈیا اور ترقی پسند معاشرت نے پاکستان کو ایک مضبوط جمہوری ملک بنا دیا ہے۔ 
کتاب فوکس پاکستان کے مصنف سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک نے اکہا کہ یہ کتاب پاکستان کو در پیش چیلنجوں او ر مستقبل کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کی شاندار کامیابیوں کا احوال ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہادی کلچرکے فروغ سے پہلے پاکستان ایک ترقی پسند ملک تھا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں میں بھرپور ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور آمروں کی جانب سے پاکستانی میں جہادی کلچر کے فروغ سے پاکستانی ثقافت، سیاست اور معاشی شعبوں میں انحطاط وقوع پذیر ہوا، انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں بھرپور طور پر بتایاگیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ تاثر حقائق پر مبنی نہیں ہے اور منفی تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70برسوں کے دوران پاکستان نے زندگی کی مختلف شعبوں میں بھرپور ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہر اس پاکستانی کی آواز ہے جوپاکستان کو ترقی پسند مضبوط اور ثقافتی طور پر مربوط دیکھنا چاہتا ہے۔ملک میں صوفی کلچر جیسے خزانے سے استفادہ نہیں کیا گیاحالانکہ مثبت تاثر اُجاگر کرنے میں یہ ایک بہت اہم پہلو ہو سکتا تھا ۔اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم اپنے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کریں اور دُنیا کو بتائیں کے ہم اُس طرح انتہا پسند نہیں جس طرح کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان آنے والے غیر ملکی نہ صرف پاکستان کی مہمان نوازی سے بلکہ ملک کے کئی ایک شعبوں میں مثبت پہلوؤں سے اپنا تاثر تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔
تقریب سے معروف صحافی سہیل وڑائچ، سیاسی رہنما منیر احمد خان اور ڈائریکٹر جنرل لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے بھی خطاب کیا۔

جمعہ، 13 اکتوبر، 2017

جگنو انٹرنیشنل کی تقریبِ محفلِ مسالمہ ۔صدارت،قائم نقوی،مہمانِ خصوصی۔شفیق سلیمی، مہمانانِ اعزاز۔جمیل ناز،مظہر جعفری

 (جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام نواسہِ رسولﷺ  امام عالی مقام ؑ شہیدِ کربلا سے محبت و عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے محفلِ مسالمہ انعقاد پذیر ہوئی۔ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست میں جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی ڈاکٹر فہیم کاظمی(پی ایچ ڈی، اقبالیات۔ اُچ شریف، ضلع بہاولپور) کی شہرہ آفاق کتاب''سلطان الہند'' کے تیسرے ایڈیشن کی تقریبِ تقسیم و تعارف کا اہتمام کیا گیا۔
جبکہ دوسری نشست میں محفل مسالمہ کا انتہائی عقیدت و احترام سے انعقاد کیا گیا۔دونوں نشستوں کی صدارت قائم نقوی نے کی۔ 
مہمانِ خصوصی شفیق سلیمی جبکہ مہمانِ اعزاز جمیل ناز(منڈی بہاؤالدین)اورمظہر جعفری تھے۔ نقابت چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، ایم زیڈ کنول نے اپنے خوبصورت،منفرد اندازمیں کی۔ 
تقریب کا آغاز حسبِ روایت تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعاد ت بابر ہاشمی کو حا صل ہوئی۔ بعد ازاں صائمہ اشرف نے انتہائی خوبصورت انداز میں نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔مقصود چغتائی نے  تعارفی کلمات ادا کئے۔اختر ہاشمی،اخلاق عاطف (سرگودھا)،فضل گیلانی، شگفتہ غزل ہاشمی، بابر ہاشمی،افضل پارس، ڈاکٹر دانش عزیز،علی صدف، خالد نصر، ڈاکٹر ایم ابرار،حسنین محسن، سمیرا عابد اور دیگر نے امام مظلوم سے محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے خوبصورت نذرانہئ عقیدت پیش کیا۔ مہمانانِ گرامی نے جگنو انٹر نیشنل کی فروغ، ادب کے ضمن میں کاوشوں کو سراہا۔ اس ضمن میں ایم زیڈ کنول (چیف ایگزیکٹو، جگنو انٹرنیشنل) کی بے لوث خدمات کا خاص طور پر ذکر کیا۔ تقریب میں تسنیم کوثر،کنول شہزادی، میثم عباس، اسلم جاوید ہاشمی اور ایم الطاف شا کے علاوہ شاعروں، ادیبوں، ،طلبہ، اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ایم زیڈ کنول نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں پُر تکلف تواضع کا اہتمام بھی کیا گیا۔ یوں یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

اتوار، 8 اکتوبر، 2017

ساہیوال میں ادارہ تکوین کے زیرِ اہتمام پہلا ادبی ،علمی اور تہذیبی مکالمہ (شامِ افسانہ)


ساہیوال میں ادارہ تکوین ( ڈاکٹر افتخار شفیع کی رہائش گاہ )کے زیرِ اہتمام  پہلا  ادبی ،علمی اور تہذیبی مکالمہ (شامِ افسانہ)  پروفیسر اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ایزد عزیز (مہمان اعزاز) فائق احمد (مہمان اعزاز) تھے
پروفیسر ڈاکٹر رانی آکاش .پروفیسر عبدالقدیر مرزا. مقصود الحسن جعفری. پروفیسر رشید الظفر. عبدالخالق آرزو. کاشف حنیف  اور ندیم صادق
نے مکالمے میں حصہ لیا۔

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2017

کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر / کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا / سعود عثمانی

سعود عثمانی
یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا
جو نہیں ملے گا وہ جابجا نظر آئے گا
کبھی جھانک تو کسی برگِ زرد کی آنکھ میں 
کوئی آشنا تجھے دیکھتا نظر آئے گا
کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر
کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا
کہیں کائنات کے باغ میں گل ِ نیلگوں
کہیں سرخ پھول گلاب سا نظر آئے گا
نظر آئے گی تجھے سات رنگ کی روشنی
کوئی راستا تجھے دودھیا نظر آئے گا
ٰہے تری تلاش میں ' تو ہے جس کی تلاش میں 
مگر اس غبارِ سفر میں کیا نظر آئے گا

بدھ، 27 ستمبر، 2017

دنیا بھر کے اردو پروگراموں، تقریبات، مشاعروں،مذاکروں اور سیمیناروں میں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی شرکت و شمولیت لازمی عنصر کا درجہ رکھتی ہے: ۔ ڈاکٹریحییٰ صبا


 ٭ آج دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں اردو ہو اور وہاں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کا نام نہ پہنچا ہو۔
دنیا بھر کے اردو پروگراموں، تقریبات، مشاعروں،مذاکروں اور سیمیناروں میں برقی کی شرکت و شمولیت لازمی عنصر کا درجہ رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ خود ڈاکٹر برقی کی درجنوں اردو 

سائٹس،فیس، وہاٹس ایپ،ٹوئٹر اور دیگر سوشل سائٹس پرہر دن اپلوڈ ہونے والی پوسٹ اور میسج ان کی اردو دوستی اور دنیا ئے اردو میں اہمیت و مقام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔مذکورہ خیالا ت کا اظہار ڈاکٹریحییٰ صبانے کے ایم سی کے شعبہئ اردو کی جانب سے منعقدہ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کو دی گئی استقبالیہ تقریب سے کیا۔ نھوں نے مزید گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ابھی حالیہ دنوں ڈاکٹر برقی اعظمی کا شعری مجموعہ”روح سخن“منظر عام پر آیا ہے جس نے پوری دنیا سے قبول عام اور پذیرائی حاصل کی ہے۔دوران تعارفی خطاب انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر برقی کی ذات او رشخصیت ایک انجمن اور ایک عہد کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کا وجود اردو شعرو ادب کے لیے نیک فال ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر برقی جہاں ایک معروف ادیب و شاعر ہیں وہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے آل انڈیا ریڈیو،نئی دہلی کے شعبہ ِ فارسی سے وابستہ ہیں جہاں آپ سینئر براڈ کاسٹر و ایڈیٹر،اینکرجیسے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ 
اس موقع پر کے ایم سی شعبہ اردو سے وابستہ ڈاکٹر امتیاز وحید نے بھی ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی پر اپنے تاثرات مقالے کی صورت میں پیش کرتے ہوئے،ان کی شاعری،فکرو فن بالخصوص ان کی موضوعاتی غزل گوئی پرخصوصی گفتگو کی جس سے ان کی شاعری، فکر، فن، ملاحظات اور تجربات کا مکمل احاطہ کیا۔اس کے بعد برقی اعظمی نے غزل،فکرغزل،ماحول غزل،غزل نمائی،غزل راگ سے متعلق اپنا ہی کلام سنا کر گفتگو کی۔ جسے سامعین و حاضرین نے بے حد پسندکیا۔برقی اعظمی کی دلکش و فکر انگیز شاعری اور غزلوں پر سب نے دل کھول کر داد دی اور ان کے فکرو فن کو سراہا۔

اس موقع پر شعبے کے طلبا و طالبا ت کی ایک کثیرتعداد کے علاوہ شعبہ کے سینئر استاذڈاکٹر خالد اشرف، ڈاکٹر راکیش پانڈے، ڈاکٹر محمد محسن،ڈاکٹر امتیاز وحید،عمران عاکف خان،عبد الحفیظ خان خصوصی طور پر موجود تھے۔

ممتاز شاعر ظفر اقبال کی آج (27ستمبر)85 ویں سالگرہ ہے


ا ردو کے  صاحب ِ طرز ادیب اورممتاز شاعر ظفر اقبال کی آج (27ستمبر)سالگرہ ہے 
ظفر اقبال کا پہلا مجموعہ کلام ’’ آب رواں ‘‘ 1962 میں شائع ہوا تھا ۔
اس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ 
ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، جس کی ہر جلد میں پانچ پانچ سو غزلیں شامل ہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔

جمعرات، 21 ستمبر، 2017

میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں /تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے/حامد یزدانی

حامد یزدانی
روشنی تیری تھی جس نے رنگ سے چھانا مجھے
ورنہ کب قوسِ قزح کے بس میں تھا پانا مجھے
میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں
تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے
عہدِ رفتہ کے شکستہ عکس کی تکرار ہوں
تُم سمجھ بیٹھے ہو کوئی آئنہ خانہ مجھے
کھولتا ہوں شب کی جب کھڑکی تو نیلے صحن میں
چاند اک رکھا ہوا ملتا ہے ، روزانہ مجھے
تیری کڑواہٹ ہوں حامدؔ اور تِرے لہجے میں ہوں
اے مِرے شیریں سخن! تو ہی نہ پہچانا مجھے

بدھ، 20 ستمبر، 2017

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول ''ADRET'' کی تقریبِ اجراء

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے ''ADRET''لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول  
کی تقریبِ اجراء کاانعقادکیا گیا۔
تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست میں کتاب کا اجراء کیا گیا جس کی صدارت سوشل اایکٹیوسٹ  بشری ٰ اعتزاز احسن نے کی۔ 
مہمانِ خصوصی صاحبِ کتاب صائمہ اشرف  اورمہمانِ اعزازایم این اے (مسلم لیگ ن)شائستہ پرویز ملک تھیں۔
وسری نشست کی صدارت ڈائریکٹر" اخوت '' ڈاکٹر اظہار الحق ہاشمی نے کی۔مہمانِ اعزاز  اشرف جاوید تھے۔ مہمانوں کا بھر پور استقبال کیا گیا اور انہں پھول پیش کئے گئے۔ 
دونوں نشستوں کی نقابت ممتاز شاعرہ،ادیبہ،ماہرِ تعلیم،دانشور، چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، ایم زیڈ کنول اور ممتاز ماہرِ 
تعلیم اور سماجی کارکن عابدہ خاورنے اپنے خوبصورت،منفرد اندازمیں کی۔ 

اتوار، 10 ستمبر، 2017

سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی /مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے/انور زاہدی

محبت ہے تو یہ جور و ستم کا سلسلہ بھی ہے
جو ہم تم ہیں تو باقی زندگی کا مرحلہ بھی ہے
یہ کیا اسرار ہے کیسی کشش بے حال کرتی ہے
نہ میں سمجھا نہ تم سمجھیں عجب اک رابطہ بھی ہے
سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی
مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے
دریچوں سے صدائیں کس لئے مجھ کو بلاتی ہیں
شھر میرا ہے لیکن اک طرح سے بے وفا بھی ہے
رہا انور ہمیشہ میں رتوں کے دام میں گویا
مگر چہروں نے جیسے اپنے جادو میں کیا بھی ہے