ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعرات, اپریل 12, 2018

غلام فرید کاٹھیا کا افسانوی مجموعہ ،سرسوں کے پھولِ کا جائزہ

,,سرسوں کے پھول،، غلا م فرید کاٹھیہ کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔غلام فرید کاٹھیہ کا تعلق ساھیوال کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ اپنی کلاس کے رویوں کے برعکس احساس محرومی  کے شکار طبقے کے مسائل کو انہوں نے بڑے قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔
دیہی علاقے میں رہنے والے افراد کے مصائب کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ گاؤں کی ثقافت نے ان کے تخلیقی جوہر ابھار نے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایک کہانی کار ہونے کے ناطے غلام فرید کاٹھیہ کا کہنا ہے کہ ”میں زمیندار سیاست کار ہوں فقط ایک سیاسی کارکن۔ لکھنے کا شوق بچپن سے ہو گیا اور لکھتا رہا۔ چھپنے کے میدان میں زیادہ تر اجنبی رہا، 
پریم چند کے بعد احمد ندیم قاسمی کے دھرتی پسند ہونے کے تسلسل میں غلام فرید کاٹھیہ کے افسانوی مجموعے،،سرسوں کے پھولِِ،،کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہاں پریم چند، ہاجرہ مسرور، قراہ العین حیدر اور احمد ندیم قاسمی کے فن اور اسلوب کے لئے علیحٰدہ علیحٰدہ وجوہات کی بنا پر زور دار چاہت موجود ہے۔
غلام فرید کاٹھیہ کا افسانہ حقیقت نگاری اور دیہی پس منظر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اپنی دھرتی سے پیار ان کے خمیر میں شامل ہے
بنیادی طور پر غلام فرید کاٹھیہ دیہی زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہونے کی بنا پر ”سرسوں کے پھول“ کے کرداروں کی نفسیات کی جزئیات میں گم ہو جاتے ہیں۔گہرا مشاہدہ ان کی کہانیوں کا خاصہ ہے۔
سرسوں کے پھول،، جو مجموعے کا عنوان بھی ہے ایک بھرپور اور اس مجموعے کی سب سے جاندار کہانی ہے جس میں زمین سے پھوٹی ہوئی سرسوں تکمیل کا احساس دلاتی محسوس ہوتی ہے،وہیں زمین کے بارآور ہونے کا احساس کہانی کے مرکزی کردار ثمینہ میں احساسِ محرومی کو مزید اجا گر کر جاتا ہے۔سفیر جو کہانی کا دوسرا اہم کردار ہے وہ ثمینہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے,,ثمینہ تمہیں یاد ہے آج سے کچھ سال پہلے جب یونیورسٹی کی گود میں پھیلے پیلی سرسوں کے وسیع کھیتوں میں پہنچنے پر تم نے ایک خواہش کا اظہارکیا تھا۔وہ جو کئی دنوں بعد مجھ پر آشکار ہوئی تھی،،
ثمینہ متوجہ رہی منہ ہی منہ میں بولی،، جی  اچھی طرح یاد ہے اور میں نے اس لئے جلدی سے آپ کے ساتھ شادی بھی کر لی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔۔۔۔اور میری وہ خواہش آج تک ادھوری ہے آج تک پوری نہیں ہو سکی۔سفیر بڑی محبت سے ثمینہ کی پیش رفت سن رہا تھا،جھجکتے ہوئے بولا،، اور۔۔۔۔ شاید آپ کی یہ خواہچ کبھی پوری نہ ہو سکے،،
کہانیوں کا موضوعاتی جائزہ لیتے ہوئے ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ ”غلام فرید کاٹھیہ کے ہاں زندگی کے متنوع اشکال موجود ہیں۔ وہ کہانی کہتا ہی نہیں، کہانی میں سانس لیتا ہے۔ اس کی کہانیاں جیتی جاگتی زندگی پیش کرتی ہیں۔
اس مجموعہ میں تین کہانیاں،ویرانے کا پھول، میں انجینیئر بنوں گا،اور پتھر کی گرفت،،  کا پس منظر سن2005میں آنے والا وہ زلزلہ ہے جس میں ہزاروں افراد لقمہِ اجل بن گیئے تھے۔ان کہانیوں کی تکنیکی بنت  اوران ان کہی کہانیوں میں اپنے مشاہدے اور حساسیت کے بیان کے ذریعے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس سے وہ ایسے کہانی کار کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں جو اپنے گہرے مشاہدے کو کہانی میں بدلنے پرقادر ہیں۔
ان کے دیباچہ نگار حفیظ خان لکھتے ہیں:
،،میاں یارا،، ان سب کہانیوں سے مختلف کہانی ہے۔اسے پڑھتے ہوئے مجھے اپنی کہانی،، جاتی رت کی شام،، یاد آگئی کہ جس میں معاشرے کے دھتکارے ہوئے کردار،،اپاپیپ،، کو موضوع بنایا گیا تھا۔،،میاں یارا بھی ان ذلتوں کے مارے ہوئے  لوگوں میں سے ایک ہے جو خوداری کے نام پر اپنا تمسخر آپ اڑاتا ہے،،غلام فرید کاٹھیہ کی یہ کہانی بلاشبہ ایسے ہی تاثر کی حامل ہے، لیکن بعض الفاظ کی تکرار سے جو تاثر بنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ اس کہانی کے مجموعی تاثر کو خراب کرتی ہے۔
 منشا یاد مرحوم نے ان کی پہلی کتاب پر لکھا  تھاکہ غلام فرید کاٹھیہ کی اولین کہانیاں پڑھتے ہوئے کسی کچے پن کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے فکر اور اظہار و بیان میں پختگی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے وہ ایک عرصے سے کہانیاں لکھ رہے ہوں۔“
منشا یاد ذاتی طور پر غلام فرید کاٹھیہ کو نہ جانتے ہوں لیکن ان کے ایک واقف کار کی حیثیت سے اگر میں یہ کہوں کہ واقعی ان کی کہانی نویسی تین دھائیوں پر پھیلی ہوئی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کہانی لکھنا ان کا اوڑھنا بچھونا نہیں ہے کیوں کہ ان کی شخصیت میں زمینداری اور سیاست پہلے اور کہانی کاری بعد میں ہے۔
میں غلام فرید کاٹھیہ سے یہ ضرور کہوں گا کہ مشاہدہ اور مطالعہ آپ کا بہت وسیع ہے۔ سیاست کاری سے وقت نکال کر سرسوں کے پھول جیسے افسانے ضرور تخلیق کریں کہیں ایسا نہ ہوکہ ا ٓپ کے اندر کے کہانی کار کی موت واقع ہو جائے۔

أ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضاالحق صدیقی

جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام جگنو ماہانہ مشاعرہ


جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام تنظیم کی سربراہ  ایم زیڈ کنول کی میزبانی میں جگنو ماہانہ مشاعرہ بیاد راؤ قاسم علی شہزاد (جگنو) کا انعقاد الحمرا ادبی بیٹھک، مال روڈ، لاہور میں کیاگیا۔ تقریب کی صدارت فی البدیہہ، پر گو،استادشاعرمحترم اقبال راہی نے کی۔جبکہ مہمانانِ خصوصی معروف صحافی،شاعر،فرزندِ یزدانی جالندھری محترم خالدیزدانی اور میانوالی  کے ادبی حلقوں کی پہچان ڈاکٹر آصف مغل تھے۔مہمانِ اعزاز میں نوجوان شاعر،سٹوڈنٹ(کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج،لاہور) ڈاکٹر احمد طلال آصف تھے۔تقریب کا آغاززین علی ثاقیبی کی تلاوت اور ہدیہء نعت ِبحضور سرورِ کائنات،ختم المرتبت رسولِ مقبول ﷺسے ہوا۔
پروگرام کی نظامت  حسبِ دستور چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول نے کی اورمیزبان کی حیثیت سے سب سے پہلے اپنا کلام نذرِ سامعین کر کے خوب داد سمیٹی۔ پھر باقاعدہ مشاعرہ کاآغاز ہوا۔ 
اقبال راہی، خالد یزدانی، ڈاکٹر آصف مغل، ڈاکٹر احمد طلال مغل،اعجاز اللہ ناز، محترمہ وکٹوریہ پیٹرک، افضل پارس، حکیم محمد سلیم ملک، شیراز انجم، ڈاکٹر دانش عزیز،ندیم شیخ،فراست بخاری،علی صدف،،رانا کامل، زین علی،امجد علی اور دیگرشعراء کرام نے انتہائی خوبصورت اورروح میں اتر جانے والا کلام پیش کر کے ان ساعتوں کو امر بنا دیا۔ تقریب میں شاعروں، ادیبوں، طلبہ، اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیات نے شمولیت فرمائی۔ جن میں مقصود چغتائی،ڈاکٹر عبدالستار چوہدری اور کونپل حنیف نمایاں تھے۔ 
جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام تقاریب میں جہاں نئے شعرا کو متعارف کرایا جاتا ہے۔وہیں پابندی ئ وقت کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اس تقریب میں بھی اس روایت کو نبھایا گیا۔  ایم زیڈکنول نے معزز مہمانوں کاشکریہ ادا کیا۔ 

ہفتہ, مارچ 31, 2018

صابر ظفر کے مجموعہِ کلام ، روحِ قدیم کی قسم ، کی تقریبِ رونمائی

ادارہِ خیال و فن کے زیر اہتمام نامور شاعر صابر ظفرصاحب کی کتاب "رُوح قدیم کی قسم" کی تقریبِ رُونمائی کا اہتمام اکادمی ادبیات آفس گلبرگ لاہور میں کیا گیا ، تقریب کی صدارت ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے کہ جبکہ مہمانانِ خصوصی جناب اعجاز کنور راجہ، جناب غلام حسین ساجد اور جناب نجیب احمد تھے ۔ تقریب کی نظامت جناب انیس احمد نے کی۔ اظہارِ خیال کرنے والوں میں جناب نوید صادق، جناب ڈاکٹر جواز جعفری، جناب ڈاکٹر ضیاء الحسین، جناب ڈاکٹر غافر شہزاد، جناب ڈاکٹر عبدالکریم خالد اور جناب غلام حسین ساجد شامل تھے۔

پیر, مارچ 26, 2018

جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر، ادیب،ایوب اولیا کے اعزاز میں جگنو نویدِ بہاراں مشاعرہ، کتاب، "سنگیت کار" کا اجرا اور محفلِ موسیقی کا انعقاد

 جگنو انٹر نیشنل لاہور کے زیرِ اہتمام لندن سے تشریف لائے ہوئے ممتاز شاعر، ادیب،ایوب اولیا کے اعزاز میں جگنو نویدِ بہاراں مشاعرہ، ان کی کتاب، "سنگیت کار" کا اجرا اور محفلِ موسیقی کا انعقاد پلاک  میں کیا گیا۔
 تقریب تین نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست  میں ایوب اولیا کی کتاب سنگیت کار کا اجرا کیا گیا۔ تقریب کی صدارت ممتا ز شاعرہ،ادیبہ، ڈائریکٹرآرٹس کونسل، فیصل آباد،صوفیہ بیدار نے کی۔جبکہ مہمانِ خصوصی پروفیسر کلیم احسان بٹ(راولپنڈی) تھے۔مہمانِ اعزاز ڈاکٹراظہر اقبال(راولپنڈی) تھے۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف (ڈی  جی، پلاک)نے خصوصی شرکت فرمائی۔
تقریب کا آغاز محمد رضا جاوید نقشبندی نےتلاوت  ِ کلام پاک  سے کیابعد ازاں ہدیہء نعت ِبحضور سرورِ کائنات،ختم المرتبت رسولِ مقبول ﷺپیش کیا گیا۔
 بعد ازاں زین علی ثاقیبی نے بھی پنے انتہائی خوبصورت انداز میں ہدیہء نعت ِبحضور سرورِ کائنات،ختم المرتبت رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔پروگرام کی نظامت چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول نے کی۔ شگفتہ غزل ہاشمی نے حرفِ آغاز کرتے ہوئے جگنو انٹرنیشنل کا بھرپور تعارف نذرِ سامعین کیا۔سنگیت کا ر پر ایم زیڈکنول،پرویز پارس اور مقصود چغتائی نے اظہارِ خیال کیا۔  مقررین نے اس کتاب کوفروغِ فنِ موسیقی میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیا۔ ایم زیڈ کنول نے کہا کہ ایوب اولیا نے موسیقی کی دنیا میں ایک نئے سُر کا اضافہ کیا ہے اور وہ ہے  "اولیا سُر"اس ٹائٹل کو بہت پسند کیا گیا۔
   
دوسری نشست نویدِ بہاراں مشاعرہ کے حوالے سے تھی۔ جس میں ایم زیڈ کنول،،صوفیہ بیدار، صغریٰ صدف،اختر ہاشمی،، شگفتہ غزل ہاشمی، اعجاز اللہ ناز،ڈاکٹر ایم ابرار، مظہر حسین جعفری، شہزاد تابش، مختار حسین، صغیر احمد صغیر، شیراز انجم،میجر خالدنصر، فراست بخاری،ضیا حسین اور دیگرشعراء کرام نے خوبصورت کلام پیش کرکے محفل کو گرمایا۔ تقریب میں شاعروں، ادیبوں، طلبہ، اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیات، شائقینِ ادب و موسیقی نے  بھر پورشرکت کی جن میں سید عارف نوناری،شہناز علی، علی رضا یعقوب، محمد سلیم،عبدالسلام، شاہد بلوچ، عامر حمید،تابش محبوب،اویس صادق،جاوید صمظہر سلیم مجوکہ، صائمہ فاروق  (لندن)،عالیہ اظہر، جاوید سندھو اوردیگر شامل تھے۔ 
تیسری نشست میں محفلِ موسیقی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نوجوان کلاسیکل سنگر وحدت رمیز اور شام چوراسی گھرانے کے ہونہار سپوت شجاعت علی خان نے کلاسیکی و نیم کلاسیکی موسیقی کے مدھر سراور تان سے سماں باندھ دیا۔تینوں نشستوں کی نظامت  ایم زیڈ کنول نے اپنے مخصوص خوبصورت انداز میں کی۔ 

اتوار, مارچ 25, 2018

آداب سفر - محمد افتخار شفیع


حسیں لڑکیاں دف بجاتی ہوئی
کہیں دور پس منظروں میں کھجوروں کے باغات پھیلے ہوئے
وہ ابوالہول اور نیل تو سب بہت دور ہیں
ہم ہونق سے صحرا میں
صحرائیوں کے جلو میں سفر کررہے ہیں
سفر کی تھکن سے ہمارے قدم ڈگمگانے لگے ہیں
سفر ایک پانی کے پیالے میں یونہی سمٹ سا گیا ہے
ابھی نبض دوراں میں یونہی تری سانس کی دھونکنی چل پڑے گی
سنو! اس گھڑی بس یہی سوچ لینا
تعفن زدہ آب سادہ کی چھاگل
کسی شخص کی جان سے قیمتی ہے

منگل, مارچ 13, 2018

اکرم کنجاہی ۔ زندگی کے اثبات کا،انسان کے ارتقا کا شاعر

رضاالحق صدیقی

دامنِ صد چاک کے شاعر
          اکرم کنجاہی کا کہنا ہے کہ ان کا خمیر چناب کی رومان پرور مٹی سے اٹھا ہے۔ ان کی شاعری ان کی اسی بات کا پرتو نظر آتی ہے۔
     حسن بذات ِخود ایک صداقت ہے اور صداقت بذاتِ خود ایک حسن ہے۔دونوں کے ملاپ سے عشق کا خمیر اٹھا ہے۔
     دامنِ صد چاک، کا ایک ایک لفظ،ایک ایک مصرع گواہ ہے کہ شاعر نے بے پناہ ریاض اور تخلیقِ فن کے معاملے میں بے حد ذمہ داری اور دیانت داری سے کام لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکرم کنجاہی کی ہر نظم اور ہر غزل ہمیں تکمیل کا احساس دلاتی ہے۔یقیناََ فن میں تکمیل کا وجود ہوتا ہی نہیں،فن کائنات کی طرح مسلسل بدلنے اور بڑہنے کا نام ہے۔
                    جذبات اور خلوص،محبت سبھی ہیں سرد
                    سورج پہ گھر بناوں گا  اک روز جا کہ میں 
     چنانچہ تکمیل کے احساس سے میری مراد یہ ہے کہ وہ جو کسی فن پارے کے مطالعے کے بعد ایک آسودگی اور طنانیت کا احساس ہوتا ہے،اکرم کنجاہی کی نظموں اور غزلوں کی بنیادی خوبی ہے،نہ کہیں اظہار و ابلاغ میں تشنگی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی زبان و بیان میں۔ایسی نک سک سے درست شاعری کے معاملے میں یہ خدشہ عموماََ درپیش ہوتا ہے کہ شاعر ہیت کے حسن و آرائش کی طرف زیادہ متوجہ ہونے کے سبب سے موضوع کے ساتھ کماحقہ انصاف نہ کر پایا ہو گا، مگرباکرم کنجاہی کی شاعری نے اس خدشیکی نفی کر ڈالی ہے۔ چنانچہ یہ وہ نظمیں اور غزلیں ہیں جو اندر باہر سے خوبصورت ہیں۔ان کا خارجی حسن ان کے داخلی حسن کی آسودگی بخش تفہیم کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے، اور ان کے داخلی حسن پر خارج کا لباس جچتا  اور پھبتا ہے یوں اکرم کنجاہی کی شاعری نے موضوع اور ہیت  کی تفریق کا  جھگڑا ہی ختم کر دیا ہے کیونکہ اس شاعری میں سب کچھ یکجان ہے اوریہ شاعری ایک تخلیقی اکائی بن کر ہمارے سامنے آتی ہے۔
     اکرم کنجاہی ان شاعروں میں سے نہیں ہے جن کا عمر بھر خود اپنے آپ سے  ہی تعارف  مکمل نہیں ہوتا۔شاعری یقیناََ  شاعر کی ذات کا اظہار ہوتی ہے۔مگر شاعر جب تک اپنی ذات کی مکمل شناسائی حاصل نہیں کر پاتا، وہ ابلاغ کے معاملے میں مفلوج رہتا ہے، اور باقی زندگی اس مفلوج پن کے جواز ڈھونڈنے میں گذار دیتا ہے۔
     اکرم کنجاہی نے سب سے پہلے اپنی ذات کو جانچا،پرکھا اور برتا ہے۔ پھر جب اسے اپنی پہچان کی روشنی میسر آئی ہے،تو اس نے اس روشنی میں زندگی کو جانچا،پرکھا اور برتا ہے اور یوں سنیاس اختیار کرنے کی بجایئے زندگی اور اس کے مسائل اور ان مسائل کے مضمرات اور اسرار تک رسائی حاصل کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اجالے  کا،زندگی کا، زندگی کے اثبات کا،انسان کے ارتقا کا شاعر ہے۔
     میں نے اکرم کنجاہی کو اس لئے اثبات کا شاعر کہا ہے کہ اثبات کی شاعری یقین و اعتماد کے بغیر مشکل بلکہ نا ممکن ہے،یقین انسان کی قوتِ خیر و عدل کی آخری فتح پر اور اعتماد اس حقیقت پر کہ انسان کا مقدر آخر کار امن،محبت اور روحانی و مادی آسودگی ہے۔ اکرم کنجاہی کے ہاں یقین و اعتماد کی اس توانائی کی افراط ہے۔
   
ادب کے بعض عناصر کو یہ  ضد ہوتی ہے کہ کسی شاعر کے فن کو کسی قسم کے سیاسی اور سماجی تناظر میں رکھ کر نہیں دیکھنا چاہیئے۔ اگر ہم سیاسی اور سماجی تناظر کو نظرانداز کر کے کسی شاعر کا جائزہ لین گے تو یوں سمجھئے کہ ہم اس اس زندگی اور اس ماحول کو نظر انداز کر رہے ہیں جو شاعر کے کلام سے منعکس ہوا ہے،اور اسے منعکس ہونا چاہیئے کہ شاعر کے دل و دماغ اگر حساس نہیں ہوں گے تو وہ شعر ہی کیوں کہے گا،ایسا ہمارا ماننا ہے۔
     سیاست  اور معاشرت کا تناظر کسی فن پارے کو داغدار نہیں بناتا بلکہ اسے روشن کرتا ہے اور اکرم کنجاہی کے کلام کو سیاسی اور سماجی تناظر میں رکھ کر دیکھے بغیر ہم ان کے حسنِ کلام سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو سکتے  اس لئے کہ یہ وہ شاعر ہے جس نے اپنی ذات کے آئینے میں پوری طرح زندگی کا مشاہدہ کیا ہے اور اگر اس زندگی میں سے سیاست اور معاشرت کو خارج کر دیا جائے  تو تہذیب اور کلچر کے چہرے بھی اجنبی اجنبی سے معلوم ہونے لگتے ہیں،
اب تو یہ خوہشات کا ساماں اٹھا کے پھینک
اب بوجھ اپنی ذات پہ اپنا ہوا  وجود
     اکرم کنجاہی مزاجاََ ایک نرم گفتار شاعر ہیں مگر اس نرمی میں متاثر کرنے کی جو قوت ہے وہ انہیں کتنے ہی بلند بانگ شاعروں سے اونچا کر دیتی ہے،یہ نرمی صرف ان شاعروں کے ہاں ہوتی ہے جو اپنی ذات کے علاوہ گردو پیش کے حالات و مسائل کو پوری طرح سمجھ چکے ہوتے ہیں،ایسے شاعر کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے کیا کہنا ہے، کس زاوئے سے کہنا ہے اور کس کہجے میں کہنا ہے یہی وجہ ہے کہ زندگی کی نئی معنویتوں کا ادراک رکھنے کے باوجود  اور جدید ہیت کا ایک بلیغ ترجمان ہونے کے باوجود اکرم کنجاہی اظہار کے معاملے میں اتنا سادہ ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ  انہوں نے سامنے کی بات کہہ دی ہو مگر ذرا سا رکئے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سادگی کتنی تہہ دار ہے اور اس سنجیدگی میں کتنی شوخی ہے۔پھر الفاظ کے اندرونی اور بیرونی آہنگ کا رمز شناس ہونے کی وجہ سے اکرم کنجاہی شعر کی صورت میں دل و دماغ پر وار کرتا ہے  جو بڑا کٹیلا ہوتا ہے اور یہی کٹیلا پن ان کے لہجے کی پہچان اور انفرادیت ہے۔
ہمیشہ پا بہ گِل رہتے ہیں ہجرت کر نہیں سکتے
پرندے اڑ بھی جائیں  تو شجر رویا نہیں کرتے

منگل, فروری 20, 2018

اے مری آنکھ کے سُبک چشمے / تُو کناروں سے بہہ گیا کیسے / علی اکبر ناطق

دل ترے غم کو سہہ گیا کیسے 
آگ میں پھول رہ گیا کیسے
اے مری آنکھ کے سُبک چشمے 
تُو کناروں سے بہہ گیا کیسے
کعبہ دل کا تھا محترم تجھ کو 
تیرے ہاتھوں سے ڈھ گیا کیسے
قصہ گو ، داستاں محبت کی 
اُس کی مجلس میں کہہ گیا کیسے
دن کے نیزے کا سر پھرا سورج 
شب کے تیروں کی تہہ گیا کیسے
مَیں ،کہ شیعہ تھا حُسنِ اکبر کا 
پھر زیارت سے رہ گیا کیسے

علی اکبر ناطق

اتوار, فروری 11, 2018

جگنو انٹرنیشنل کی چوتھی سالگرہ کی تقریب

علمی، ادبی، ثقافتی اور ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل و راؤ قاسم علی شہزاد(جگنو) کی چوتھی سالگرہ  کاپلاک کے اشتراک سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ا ٓرٹ اینڈ کلچر، لاہور کے خوبصورت ہال نمبر ۱ میں ایم  زیڈکنول(چیف ایگزیکٹو)کی میزبانی میں کیا گیا۔ 
صدارت پرائیڈ آف پرفارمینس آرٹسٹ، ادیب اور شاعر محترم اسلم کمال نے کی۔
ماریشیس میں جگنو انٹر نیشنل کے کو آر ڈینیٹڑ، ممتاز شاعر دانشور اختر ہاشمی اور صداقت نقوی، میڈیا سیکرٹری جگنو انٹر نیشنل، میانوالی مہمان خصوصی تھے، امن ویلفیئر سوسائٹی، گوجرہ کے ڈائریکٹر روحیل خان مہمانِ اعزاز تھے۔ایم زیڈ کنول نے تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ایم زیڈ کنول نے تنظیم کا 


تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ آج ہی لیہ میں جگنو انٹر نیشنل کی برانچ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ اور وہاں بھی جگنو کی سالگرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ جس کے لئے شمشاد سرائی، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مہار، پروفیسر شعیب بخاری اور صابر جاذب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ شگفتہ غزل ہاشمی (صدر)نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔مقصود چغتائی (میڈیا سیکریٹری)نے چار سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔سید فردوس حسین نقوی نے جگنو  انٹر نیشنل کے پنج ریڈیو یو ایس اے سے الماس شبی کے تعاون سے ہفتہ واربراڈ کاسٹ ہونے والے عالمی مشاعروں کی روداد پیش کی۔ فاطمہ رضوی، ڈاکٹر ایم ابرار، شیراز انجم،نے مقالات پیش کئے۔ بابر ہاشمی،میاں

منگل, فروری 6, 2018

ایک ادھوری نظم ۔۔۔۔۔ زارا مظہر

زارا مظہر
بہت دنوں سے
 میری ایک ادھوری نظم 
بند وَرقَوں میں 
سو رہی ہے 
کبھی ڈائری الٹنے پلٹنے سے 
ہڑبڑا کر اٹھ جاتی ہے 
موندھی موندھی آ نکھوں سے
میری جانب ۔۔۔۔۔
تَکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ بس تَکتی ہے 
میرےاِرتکاز کا لمس 
اپنے بے ترتیب حلیے پر 
پا کر ۔۔۔۔۔
شرماتی ہے ۔۔۔۔ پھر جھنجھلاتی ہے 
اور انگڑائی لے کر جاگ جاتی ہے 
 لڑتی ہے ، جھگڑتی ہے ۔۔۔۔
  اپنی تکمیل چاہتی ہے ۔۔۔۔  
میرے من میں جوار بھاٹے ابلتے ہیں 
کشمکش کے کچھ رنگ مچلتے ہیں
مگر جو غم مجھے اسکے پَلّو میں باندھنا ہے 
میری جرآت کا دامن اس سے خالی ہے 
میرے دماغ میں حروف کی آ ندھی چلتی ہے 
گرد باد بنتے ہیں ، گھومتے ہیں 
  بگولہ ۔۔۔۔ بن کے بھاگتے ہیں
 ریگزاروں میں ، کہساروں  میں 
صحراؤں میں ، سرابوں میں ۔۔۔
بَن میں ، بیابانوں میں ۔۔۔۔ 
پہاڑ کی چوٹی پر ، کسی گھاٹی میں 
مگر تھک جاتی ہوں
تو لوٹ آ تی ہوں
وہ بھی تھک جاتی ہے 
میری انگلیوں میں دبے دبے ۔۔۔
نِراسی ، بے آ سی ہو جاتی ہے 
ناراض سی ۔۔۔ چپ  ورقوں کی رِدا اوڑھ لیتی ہے 
اور لرزتی پلکوں  سے
آ ب دار موتیوں کی 
لَو پھڑپھڑاتی ہے ، سایۂ دیوار بناتی ہے 
موم گرتی ہے رات بھر ۔۔۔۔
قطرہ قطرہ ۔۔۔۔

اتوار, جنوری 28, 2018

کون ہیں ؟ (نظم) اعجاز رضوی

اعجاز رضوی

گم ہوا راستہ گم ہوا
اس بھرے شہر میں
کون ہے جس سے پوچھیں کہ ہم کون ہیں
اور کہاں جا رہے تھے
کس سے پوچھیں کہ اب ہم کہاں ہیں
کون ہیں جو بتائے
کہ قدموں کے نیچے
ہری گھاس کی رہگزر کیسے چوری ہوئی
ہاتھ بھر فاصلے پر
درختوں کے سائے تھے۔۔سرسبز سائے
انہیں کس کی کالی نظر کھا گئی
کون ہے جو بتائے کہ ہم اجنبی ہیں
کہ اس شہر کے رہنے والے
کون ہے جو بتائے