ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ, دسمبر 16, 2017

جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام جشنِ پنج ریڈیو امریکہ کی چھٹی سالگر ہ اور الماس شبی کے اعزاز میں مشاعرہ کاانعقاد



جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام  جشنِ پنج ریڈیو امریکہ کی چھٹی سالگر ہ اور  الماس شبی کے اعزاز میں مشاعرہ کاانعقادالحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں کیا گیا۔اس موقع پرمحترمہ الماس شبی کوان کی فروغِ ادب کے لئے کی جانے والی خدمات کے اعتراف میں فروغِ عالمی ادب ایوارڈسے نوازا گیا جس کا اعلان گذشتہ جگنو انٹر نیشنل کی سالانہ شاندار اور پُر وقار تقریبِ ایوارڈ منعقدہ  پلاک،لاہور میں کیا گیا تھا۔

اس باوقار عالمی نوعیت کی تقریب کی صدارت ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا ٓآرٹس کونسل، کیپٹن(ر)عطا محمد خاں نے کی۔ 
اختر ہاشمی اوراخلاق عاطف (سرگودھا)نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ صداقت نقوی، میڈیا کوآرڈینیٹر،جگنو انٹر نیشنل میانوالی  اور جمیل ناز(منڈی بہاؤالدین) مہمانِ اعزاز تھے۔
نظامت کے فرائض معروف شاعرہ، ادیبہ،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔
 فردوس نقوی نے تلاوت کی۔ صائمہ اشرف نے  نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔فردوس نقوی نے تعارفی کلمات ادا کئے۔تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں جشنِ پنج ریڈیو کے سلسلے میں اس کی چھٹی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی غرض سے خصوصی اہتمام کیاگیا۔صداقت نقوی بھی میانوالی ونگ کی نمائندگی کرتے ہوئے سالگرہ کیک ساتھ لائے تھے۔ سوایک کے بعد دوسرا کیک بھی کاٹا گیا اور یوں بھرپور طریقے سے پنج ریڈیو امریکہ کی سالگرہ منائی گئی۔نشست کے دوسرے حصے 
میں 

الماس شبی کی پذیرائی میں جگنو مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ایم زیڈ کنول، الماس شبی، کیپٹن (ر)عطا محمد خاں،اختر ہاشمی، اخلاق عاطف،صداقت نقوی،جمیل ناز،شگفتہ غزل ہاشمی،  سیدہ فاطمہ رضوی،اشہزاد  تابش،ندیم شیخ،وکٹوریہ پیٹرک،ارشد شاہین،  ممتاز راشد لاہوری، انیس احمد، اعجاز اللہ ناز،  ریاض ا حمد ریاض ،مظہر جعفری ، حسنین بخاری،طفیل اعظمی، میاں صلاح الدین،گلِ رعنا شیریں، محمدشیرازانجم،افضل پارس،علی صدف، ڈاکٹر دانش عزیز،حمید راز،  ضیاء حسین،زاہدہ جبیں راؤ،سمیرا عابد، اعجاز فیروز اعجاز اور دیگر نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو گرمایا۔ تقریب میں شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی اور الماس شبی کو جشنِ پنج ریڈیو کی مبارکباد پیش کی .

جمعرات, دسمبر 14, 2017

بیاض کے زیرِ اہتمام احمد ندیم قاسمی کی ایک سو ایکویں سالگرہ

(رپورٹ: وسیم عباس)
ماہنامہ بیاض کے زیر اہتمام الحمرا ہال نمبر تین ، مال روڈ
میں احمد ندیم قاسمی مرحوم کی سالگرہ منائی گئی ۔
احمد ندیم قاسمی۔۔۔۔۔ ایک عہد ، ایک سایہ دار شجر، جن کی علمی و ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ، جناب عمران منظور ، جناب نعمان منظور اور ماہنامہ بیاض کی پوری ٹیم مرحوم احمد ندیم قاسمی کی سالگرہ ہر سال دھوم دھام سے مناتی ہے،انہوں نے اپنی محبت و عقیدت سےہمارے عہد کے اس معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگارکی یاد کو کبھی لوگوں کےدلوں سے محو نہیں ہونے دیا۔
   
تقریب کی صدارت قاسمی صاحب کی صاحبزادی محترمہ ناہید قاسمی نے کی ۔ مہمانانِ خصوصی میں جناب امجد اسلام امجد، جناب جلیل عالی ، جناب امیر حسین جعفری اور جناب جمشید چشتی تھے ۔نظامت کے فرائض  اعجاز رضوی  کے ذمہ تھے۔ 
تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعت ِ رسولِ مقبول ؐ کے بعدجناب ایوب خاور نے مکالماتی منظوم خراجِ تحسین پیش کیا ، اُس کے بعد مضامین کا سلسلہ شروع ہوا ۔
اظہارِ خیال کرنے والوں میں نعمان منظور، اسلام عظمی ، امیر حسین جعفری ، جمشید چشتی، جلیل عالی اور امجد اسلام امجد صاحب شامل تھے۔ محترمہ ناہید قاسمی صاحبہ نے اپنے بابا کے بارے میں گفتگو کی اور اُن کی دو نظمیں بھی سنائیں ، تقریب کے بعد احمد ندیم قاسمی مرحوم کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ۔ احباب کے لئے عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ 


ہفتہ, دسمبر 2, 2017

کون جانے وہ آ ہی جائے آج/ کھڑکیوں میں دیئے سجا دیکھو/ انور زاہدی

انور زاہدی
رات میں جب دیا جلا دیکھو
عشق کا باب اک کھلا دیکھو
رات آئی ہے سو گئے سب گھر
ایک کھڑکی کا در کھلا دیکھو
نیم شب شہر میں صدا گونجی
خواب میں شہر کو بسا دیکھو
ہو گیا شہر بھر میں سناٹا 
لعل کس گھر کا کھو گیا دیکھو
آسماں پہ ستارے جلتے ہیں
کوئی شاید بھٹک گیا دیکھو
کون جانے وہ آ ہی جائے آج
کھڑکیوں میں دیئے سجا دیکھو
انور زاہدی

جمعرات, نومبر 30, 2017

انجمن ترقی پسند مصنفین ضلع ساہیوال کے تحت معروف شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز کے ساتھ ایک شام

انجمن ترقی پسند مصنفین ضلع ساہیوال کے تحت معروف شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز کے ساتھ  ساہیوال آرٹس کونسل کے مجید امجد ہال میں شام منائ گئی .

اس تقریب کی صدارت پروفیسر اورنگ زیب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر جلیل بٹ نے انجام دیئے .
اوصاف شیخ اور ریاض ہمدانی مہمانانِ اعزاز تھے .
مقررین میں اللہ یار ثاقب ،مرتضی ساجد ،ریاض ہمدانی ،نعیم نقوی،مشتاق عادل کاٹهیہ اور پروفیسر اورنگ زیب شامل تھے.
تقریب میں پروفیسر اورنگ زیب نے رانا محمود افضل اور سلیم کاٹهیہ سے ان 
کے عہدوں کا حلف بھی لیا۔

جمعرات, نومبر 23, 2017

جگنو انٹرنیشنل کا ماہانہ مشاعرہ،صدارت معروف شاعر نذیر قیصر نے کی

جگنو انٹرنیشنل نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوءئج آرٹ اینڈکلچر لاہور کے اشتراک سے  ماہانہ مشاعرہ کی نشست  بیادِ راؤقاسم علی شہزاد(جگنو)منعقدکی۔تقریب کی صدارت   لیجنڈ شاعر نذیر قیصر نے کی۔
اعجاز اللہ ناز بحیثیت مہمانِ خصوصی جبکہ اعظم ملک(اسلام آباد)اور فاطمہ رضوی مہمانِ اعزاز تھے۔
نظامت کے فرائض معروف شاعرہ، ادیبہ جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔ ریاض احمد ریاض نے تلاوت کی۔
 نوجوان نعت خواں محمد عمران چشتی نے نذرانہِ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
مقصود چغتائی، میڈیا سیکریٹری نے راؤقاسم علی 
شہزاد(جگنو) کے حوالے سے تعارفی کلمات ادا کئے۔
شگفتہ غزل ہاشمی،محمد افضل پارس، احمد فہیم میو، مظہر 
جعفری، وکٹوریہ پیٹرک،ریاض احمد ریاض،شیریں گل رانا، ممتاز راشد لاہوری،ڈاکٹر عمران دانش،علی صدف،  محمد شیراز انجم،  مہ جبیں ملک،رضوان خوشی  اور دیگر نے اپنے 

خوبصورت کلام سے محفل کو گرمایا۔ ایم زیڈ کنول نے نقابت کے دوران اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ نذیر قیصر کی خوبصورت شاعری بھی نذرِ حاضرینِ محفل کی، جسے احباب نے بہت پسند فرمایا۔ تقریب میں ایوب کموکا،عابدہ نذیر قیصر، صفیہ،صابری، حاجی ارشاد قادری، اور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔چیف ایگزیکٹو ا تنظیم ایم زیڈ کنولؔ نے جگنو مشاعرہ کے انعقاد کے سلسلے میں خصوصی تعاون پر ڈائریکٹر جنرل پلاک محترمہ ڈاکٹر صغریٰ صدف اور تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

پیر, اکتوبر 30, 2017

کچھ اور بھی لفظوں کو معانی میں پروتی / کچھ شعر غزل میں اگر الہام کے ہوتے / صبیحہ صبا

قدرت کی طرف سے ہمیں انعام کے ہوتے
کچھ یاد نہیں ہم کو ترے نام کے ہوتے 
کیوں سارے ثمر غیر کا ہوتے ہیں مقدر
یاں اپنی زمیں اپنے دروبام کے ہوتے
جو دل پہ زمانے کا ہر اک درد اٹھا لیں 
آلام سے بیکل رہے آرام کے ہوتے
جو میرے لئے اہل محبت نے سجائی 
کچھ لمحے ترے نام بھی اس شام کے ہوتے

دوری کا تصور کسے ہوتا ہے گوارا
یہ فیصلے ایسے ہیں کہ دل تھام کے ہوتے
کچھ اور بھی لفظوں کو معانی میں پروتی 
کچھ شعر غزل میں اگر الہام کے ہوتے
صبیحہ صباؔ

اتوار, اکتوبر 29, 2017

پاکستان کے خلاف جاری الزامات اور پروپیگنڈے کے جواب میں مضبوط قومی بیانیے کی ضرورت ہے:رضا ربانی کا امجد پرویز ملک کی کتاب فوکس پاکستان کی تقریب رونمائی کے موقع پر پیغام

ملک کا مثبت تاثر اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے:رفیق رجوانہ

(رپورٹ: رمضان ساجد) 
چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ مغربی طاقتوں اور ان کے مشرقی اتحادیوں کی جانب سے دہشت گردی او ر انتہاپسندی کے ذریعے پیدا کی گئی افراتفری کے الزامات اْلٹا پاکستان پر لگانے کا موثر جواب دینے کے لئے مربوط قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ سیاسی، پارلیمانی اور سفارتی شعبوں میں حالیہ ادب اور تحریریں اس قومی بیانیے کو منظم بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک کی کتاب’’فوکس پاکستان’‘ کی تقریب رونمائی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔فوکس پاکستان کی تقریب رونمائی اقبال ہال، قائداعظم لائبریری باغ جناح لاہور میں منعقد ہوئی جس میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ مہمان خصوصی تھے۔اس تقریب کا اہتمام ڈائریکٹر جنرل لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے کیا تھا۔ چیئرمین سینٹ نے کتاب کے مصنف امجد پرویز ملک کو اس کتاب کے ذریعے پاکستان کے حوالے سے کئے جانے والے منفی پروپیگنڈے ، غلط فہمیوں اور منفی تاثر کو بھرپور انداز میں زائل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ لکھاری نے اپنی تحریر کے ذریعے پاکستان کے مضبوط قومی بیانیے کے خدوخال بیان کئے ہیں اور پاکستان کے معاشی طورپر ترقی یافتہ، جمہوری طور پر مضبوط ،امن دوست اور ذمہ دار جمہوری ملک کے طور پر پہلوؤں کو کامیابی سے اجاگر کیا ہے جوکہ اسے خطے کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتے ہیں۔
اِس موقع پر مہمان خصوصی گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ ملک کا مثبت تاثر کرنے کی ضرورت ہے ، ملک کو اِس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے جس میں آبادی میں بے پناہ اضافہ اور پانی کی کمی جیسے سنجیدہ مسائل شامل ہیں تاہم مثبت بات یہ ہے کہ آبادی میں نوجوانوں کی زیادہ تعداد مناسب مواقع ملنے پر ملک کی ترقی کا زینہ بن سکتی ہے ۔ جغرافیائی مرکزیت کی وجہ سے علاقائی امن کے لئے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ پاکستان اپنی مقبول قدروں کی وجہ سے ترقی پسند ملک ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت معاشی خوشحالی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ اہم منصوبوں کے ذریعے نا صرف ہم اپنی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کررہے ہیں بلکہ مختلف شعبوں میں ہونے والی خوشحالی کے ثمرا ت سے خطے کے ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن کے فروغ کے لئے پرعزم ہیں اور اس مقصد کیلئے ہم نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اس کے باوجود بعض طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں امجد پرویز ملک کی کتاب فوکس پاکستان اس تاثر کو زائل کرنے کی ایک موثر اور مربوط کوشش ہے۔ اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے کے مقابلے کیلئے ایک موثر قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی ، معاشی استحکام ، آزاد میڈیا اور ترقی پسند معاشرت نے پاکستان کو ایک مضبوط جمہوری ملک بنا دیا ہے۔ 
کتاب فوکس پاکستان کے مصنف سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک نے اکہا کہ یہ کتاب پاکستان کو در پیش چیلنجوں او ر مستقبل کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کی شاندار کامیابیوں کا احوال ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہادی کلچرکے فروغ سے پہلے پاکستان ایک ترقی پسند ملک تھا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں میں بھرپور ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور آمروں کی جانب سے پاکستانی میں جہادی کلچر کے فروغ سے پاکستانی ثقافت، سیاست اور معاشی شعبوں میں انحطاط وقوع پذیر ہوا، انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں بھرپور طور پر بتایاگیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ تاثر حقائق پر مبنی نہیں ہے اور منفی تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70برسوں کے دوران پاکستان نے زندگی کی مختلف شعبوں میں بھرپور ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہر اس پاکستانی کی آواز ہے جوپاکستان کو ترقی پسند مضبوط اور ثقافتی طور پر مربوط دیکھنا چاہتا ہے۔ملک میں صوفی کلچر جیسے خزانے سے استفادہ نہیں کیا گیاحالانکہ مثبت تاثر اُجاگر کرنے میں یہ ایک بہت اہم پہلو ہو سکتا تھا ۔اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم اپنے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کریں اور دُنیا کو بتائیں کے ہم اُس طرح انتہا پسند نہیں جس طرح کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان آنے والے غیر ملکی نہ صرف پاکستان کی مہمان نوازی سے بلکہ ملک کے کئی ایک شعبوں میں مثبت پہلوؤں سے اپنا تاثر تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔
تقریب سے معروف صحافی سہیل وڑائچ، سیاسی رہنما منیر احمد خان اور ڈائریکٹر جنرل لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے بھی خطاب کیا۔

جمعہ, اکتوبر 13, 2017

جگنو انٹرنیشنل کی تقریبِ محفلِ مسالمہ ۔صدارت،قائم نقوی،مہمانِ خصوصی۔شفیق سلیمی، مہمانانِ اعزاز۔جمیل ناز،مظہر جعفری

 (جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام نواسہِ رسولﷺ  امام عالی مقام ؑ شہیدِ کربلا سے محبت و عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے محفلِ مسالمہ انعقاد پذیر ہوئی۔ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست میں جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی ڈاکٹر فہیم کاظمی(پی ایچ ڈی، اقبالیات۔ اُچ شریف، ضلع بہاولپور) کی شہرہ آفاق کتاب''سلطان الہند'' کے تیسرے ایڈیشن کی تقریبِ تقسیم و تعارف کا اہتمام کیا گیا۔
جبکہ دوسری نشست میں محفل مسالمہ کا انتہائی عقیدت و احترام سے انعقاد کیا گیا۔دونوں نشستوں کی صدارت قائم نقوی نے کی۔ 
مہمانِ خصوصی شفیق سلیمی جبکہ مہمانِ اعزاز جمیل ناز(منڈی بہاؤالدین)اورمظہر جعفری تھے۔ نقابت چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، ایم زیڈ کنول نے اپنے خوبصورت،منفرد اندازمیں کی۔ 
تقریب کا آغاز حسبِ روایت تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعاد ت بابر ہاشمی کو حا صل ہوئی۔ بعد ازاں صائمہ اشرف نے انتہائی خوبصورت انداز میں نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔مقصود چغتائی نے  تعارفی کلمات ادا کئے۔اختر ہاشمی،اخلاق عاطف (سرگودھا)،فضل گیلانی، شگفتہ غزل ہاشمی، بابر ہاشمی،افضل پارس، ڈاکٹر دانش عزیز،علی صدف، خالد نصر، ڈاکٹر ایم ابرار،حسنین محسن، سمیرا عابد اور دیگر نے امام مظلوم سے محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے خوبصورت نذرانہئ عقیدت پیش کیا۔ مہمانانِ گرامی نے جگنو انٹر نیشنل کی فروغ، ادب کے ضمن میں کاوشوں کو سراہا۔ اس ضمن میں ایم زیڈ کنول (چیف ایگزیکٹو، جگنو انٹرنیشنل) کی بے لوث خدمات کا خاص طور پر ذکر کیا۔ تقریب میں تسنیم کوثر،کنول شہزادی، میثم عباس، اسلم جاوید ہاشمی اور ایم الطاف شا کے علاوہ شاعروں، ادیبوں، ،طلبہ، اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ایم زیڈ کنول نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں پُر تکلف تواضع کا اہتمام بھی کیا گیا۔ یوں یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

اتوار, اکتوبر 8, 2017

ساہیوال میں ادارہ تکوین کے زیرِ اہتمام پہلا ادبی ،علمی اور تہذیبی مکالمہ (شامِ افسانہ)


ساہیوال میں ادارہ تکوین ( ڈاکٹر افتخار شفیع کی رہائش گاہ )کے زیرِ اہتمام  پہلا  ادبی ،علمی اور تہذیبی مکالمہ (شامِ افسانہ)  پروفیسر اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ایزد عزیز (مہمان اعزاز) فائق احمد (مہمان اعزاز) تھے
پروفیسر ڈاکٹر رانی آکاش .پروفیسر عبدالقدیر مرزا. مقصود الحسن جعفری. پروفیسر رشید الظفر. عبدالخالق آرزو. کاشف حنیف  اور ندیم صادق
نے مکالمے میں حصہ لیا۔

ہفتہ, اکتوبر 7, 2017

کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر / کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا / سعود عثمانی

سعود عثمانی
یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا
جو نہیں ملے گا وہ جابجا نظر آئے گا
کبھی جھانک تو کسی برگِ زرد کی آنکھ میں 
کوئی آشنا تجھے دیکھتا نظر آئے گا
کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر
کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا
کہیں کائنات کے باغ میں گل ِ نیلگوں
کہیں سرخ پھول گلاب سا نظر آئے گا
نظر آئے گی تجھے سات رنگ کی روشنی
کوئی راستا تجھے دودھیا نظر آئے گا
ٰہے تری تلاش میں ' تو ہے جس کی تلاش میں 
مگر اس غبارِ سفر میں کیا نظر آئے گا