ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

بدھ، 27 ستمبر، 2017

ممتاز شاعر ظفر اقبال کی آج (27ستمبر)85 ویں سالگرہ ہے


ا ردو کے  صاحب ِ طرز ادیب اورممتاز شاعر ظفر اقبال کی آج (27ستمبر)سالگرہ ہے 
ظفر اقبال کا پہلا مجموعہ کلام ’’ آب رواں ‘‘ 1962 میں شائع ہوا تھا ۔
اس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ 
ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، جس کی ہر جلد میں پانچ پانچ سو غزلیں شامل ہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔

جمعرات، 21 ستمبر، 2017

میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں /تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے/حامد یزدانی

حامد یزدانی
روشنی تیری تھی جس نے رنگ سے چھانا مجھے
ورنہ کب قوسِ قزح کے بس میں تھا پانا مجھے
میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں
تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے
عہدِ رفتہ کے شکستہ عکس کی تکرار ہوں
تُم سمجھ بیٹھے ہو کوئی آئنہ خانہ مجھے
کھولتا ہوں شب کی جب کھڑکی تو نیلے صحن میں
چاند اک رکھا ہوا ملتا ہے ، روزانہ مجھے
تیری کڑواہٹ ہوں حامدؔ اور تِرے لہجے میں ہوں
اے مِرے شیریں سخن! تو ہی نہ پہچانا مجھے

بدھ، 20 ستمبر، 2017

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول ''ADRET'' کی تقریبِ اجراء

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے ''ADRET''لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول  
کی تقریبِ اجراء کاانعقادکیا گیا۔
تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست میں کتاب کا اجراء کیا گیا جس کی صدارت سوشل اایکٹیوسٹ  بشری ٰ اعتزاز احسن نے کی۔ 
مہمانِ خصوصی صاحبِ کتاب صائمہ اشرف  اورمہمانِ اعزازایم این اے (مسلم لیگ ن)شائستہ پرویز ملک تھیں۔
وسری نشست کی صدارت ڈائریکٹر" اخوت '' ڈاکٹر اظہار الحق ہاشمی نے کی۔مہمانِ اعزاز  اشرف جاوید تھے۔ مہمانوں کا بھر پور استقبال کیا گیا اور انہں پھول پیش کئے گئے۔ 
دونوں نشستوں کی نقابت ممتاز شاعرہ،ادیبہ،ماہرِ تعلیم،دانشور، چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، ایم زیڈ کنول اور ممتاز ماہرِ 
تعلیم اور سماجی کارکن عابدہ خاورنے اپنے خوبصورت،منفرد اندازمیں کی۔ 

اتوار، 10 ستمبر، 2017

سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی /مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے/انور زاہدی

محبت ہے تو یہ جور و ستم کا سلسلہ بھی ہے
جو ہم تم ہیں تو باقی زندگی کا مرحلہ بھی ہے
یہ کیا اسرار ہے کیسی کشش بے حال کرتی ہے
نہ میں سمجھا نہ تم سمجھیں عجب اک رابطہ بھی ہے
سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی
مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے
دریچوں سے صدائیں کس لئے مجھ کو بلاتی ہیں
شھر میرا ہے لیکن اک طرح سے بے وفا بھی ہے
رہا انور ہمیشہ میں رتوں کے دام میں گویا
مگر چہروں نے جیسے اپنے جادو میں کیا بھی ہے

منگل، 22 اگست، 2017

عُدو بھی دے خدایا , آن والا / بھلا کم ظرف سے کیا جوڑ کوئی / احمد رضا راجا

جدا کیسے کرے گا موڑ کوئی
محبت کا کہاں ہے توڑ کوئی
دمک اُٹھے ہمارا شیشۂ دل 
تُو اِس مِیں عکس ایسا چھوڑ کوئی
میسر کیوں نہیں ہے چیَن ، جانے 
لگی ہے کیوں نجانے دوڑ کوئی ؟
عُدو بھی دے خدایا , آن والا  
بھلا کم ظرف سے کیا جوڑ کوئی 
محبت میں سیاستدان مت بن 
تُو وعدہ وصل کا مت توڑ کوئی
ہوں بیٹھے رفتگاں ، دالان میں سب
وہ لمحہ ، وقت کا ، پِھر موڑ ، کوئی
بہت۔ مضبوط ہو جائے گا ، خود بھی
تُو ٹُوٹا دل کسی کا جوڑ کوئی
ترا دامن بھی بھر جائے گا راجا 
خدا کے ہاں نہیں ہے تھوڑ کوئی

بدھ، 26 جولائی، 2017

جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا / آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے / انور زاہدی

انور زاہدی
دل نے ہمارے خواب جو بوئے تھے کیا ہوئے 
شب روز اس فراق میں کھوئے تھے کیا ہوئے
وہ سحر خیز باد صبا کیسے گم ہوئی
لمحے گلے لگا کے جو روئے تھے کیا ہوئے
سنولائی ہوئی شاموں میں روشن ترے چراغ
ویران دریچوں میں سموئے تھے کیا ہوئے
قصے کہانیاں جو سناتے رہے تھے ہم
سب ہجر کی راتوں میں ڈبوئے تھے کیا ہوئے
جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا 
آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے

اتوار، 21 مئی، 2017

آج حسرت پر سکوں ہے زندگی / عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے/ حسرت بلال

حسرت بلال
قیدِ الفت سے رہا ہوتے ہوئے
وہ بھی کب خوش تھا جدا ہوتے ہوئے
میں نے دیکھے ہیں بہت سنسان شہر
راستوں سے آشنا ہوتے ہوئے
خود کشی کا ذائقہ چکھا گیا
مفلسی سے آشنا ہوتے ہوئے
کچھ نہیں دیکھا گیا حسب و نسب
خوبروں پر فدا ہوتے ہوئے
پھرمسافر کو بھٹکنے سے بچا
راستے کا اک دیا ہوتے ہوئے
آج حسرت پر سکوں ہے زندگی
عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے

جمعہ، 19 مئی، 2017

میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں / ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری / قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
غرور آیا نہ کام آئی خاکساری مری
ہر ایک شخص نے گردن یہاں اتاری مری
میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں
ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری
دھرا ہوا ہے مرے سر پہ اک شکستہ خواب
خدا کا شکر کہ گٹھڑی نہیں ہے بھاری مری
کوئی تو روشنی مجھ کو اڑائے پھرتی ہے
یہ ماہتاب نہیں ہے اگر سواری مری
میں آپ اپنے گناہوں کی ہوں سزا شہزاد
مرے وجود پہ ہوتی ہے۔ سنگ باری مری

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی

  
جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت معروف ترقی پسند شاعر،ادیب اور دانشور ڈاکٹر خالد جاوید جان نے کی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی  اور ممتاز راشد لاہوری تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف نوجوان شاعرمیجر احمد نواز  اور شاعرہ، ادیبہ وکالم نگار محترمہ عالیہ بخاری تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔

سید علی  گوہرنے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں مقررین نے ڈاکٹر عبدالغفار عزم کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی۔ دوسری نشست میں  ان کی یاد میں محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ان کی شہرہ آفاق کتا ب ''نقش اول'' کا بھر پور تعاف کرایا گیا اور صاحبِ صدر اور مہمانِ اعزاز کو یہ مایہ ناز ادب کا شہکار تصنیف پیش کی گئی۔ایم زیڈ کنولؔ نے ڈاکٹرصاحب کی کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''   آج کے طوائف الملوکی کے دور میں ڈاکٹر عبدالغفار عزم نہ صرف خود چمنِ ادب کو اپنے لہو سے سینچتے رہے بلکہ   اس کی بہار کو سدا بہار کرنے کے لئے دیارِ مغرب میں مشرقی روایتوں کے فروغ کے لئے ساری دنیا سے گوہرِ نایاب چُن چُن کر ایک ایسی منفرد بستی بسا ڈالی۔ جس کی آباد کاری جغرافیائی سرحدوں سے بے نیاز ہے۔ساکنانِ شعر وسخن دنیا کے جس گوشے میں بھی آباد ہیں اس بستی کی شہریت ان کیلئے اعزاز ہے۔ جس کا نہ کوئی رنگ ہے، نہ نسل، نہ مذہبی قد غن،اور نہ جغرافیائی حدود۔ جہاں گاگر اور ساگر میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کی بنیاد رکھنے سے لے کر آخر ی سانسوں تک سخنورانِ ادب کے لئے آپ ایک شجرِ سایہ دار بن کر سایہ بھی دیتے رہے اور ٹھنڈک بھی۔خوشبو بھی اور طراوت بھی اور ایک قطب ستارے کی طرح میرِ کارواں بن کر سر گرمِ عمل رہے۔'' 
 اختر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، فراست علی بخاری، ندا سرگودھوی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب روایتوں کے امین تھے۔9۔اپریل2016 کو جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام دوسری تقریبِ ایوارڈ کی صدارت فرمانے کے لئے وہ بیماری کے باوجود  لند ن سے لاہور تشریف لائے۔ یہاں سے بخیریت   واپس لندن پہنچنے کے بعد یکم مئی 2016 کو ہمتوں اور استقامت کا یہ ستارا، ''استعارا  '' بن گیا۔ جگنو انٹرنیشنل نے اس وقت بھی ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یہ یادیں ہمیشہ جاوداں رہیں گی۔ آج کی تقریب اس بات کا ثبوت ہے۔تقریب میں مظہر جعفری،بابر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، ظلِ ہما نقوی،شبانہ زیدی(اوکاڑہ)،محمد اکرم فریدی،پروفیسر نذر بھنڈر،ریاض احمد ریاض،فراست بخاری، رضون خوشی، اظہر اقبال مغل، اعجاز اللہ نازاور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔احباب نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر جگنو انٹرنیشنل کی تمام ٹیم کی کارکردگی کو سراہا  اور ایم زیڈ کنول، چیف ایگزیکٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ڈاکٹر عزم کی یادو ں کے چراغ روشن کر کے ڈاکٹر صاحب کی فروغ ِ اردو کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو امر  بنانے کا اہتمام کیا۔تقریب کے اختتام پر ملک کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں گئیں۔