ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


منگل, فروری 20, 2018

اے مری آنکھ کے سُبک چشمے / تُو کناروں سے بہہ گیا کیسے / علی اکبر ناطق

دل ترے غم کو سہہ گیا کیسے 
آگ میں پھول رہ گیا کیسے
اے مری آنکھ کے سُبک چشمے 
تُو کناروں سے بہہ گیا کیسے
کعبہ دل کا تھا محترم تجھ کو 
تیرے ہاتھوں سے ڈھ گیا کیسے
قصہ گو ، داستاں محبت کی 
اُس کی مجلس میں کہہ گیا کیسے
دن کے نیزے کا سر پھرا سورج 
شب کے تیروں کی تہہ گیا کیسے
مَیں ،کہ شیعہ تھا حُسنِ اکبر کا 
پھر زیارت سے رہ گیا کیسے

علی اکبر ناطق

اتوار, فروری 11, 2018

جگنو انٹرنیشنل کی چوتھی سالگرہ کی تقریب

علمی، ادبی، ثقافتی اور ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل و راؤ قاسم علی شہزاد(جگنو) کی چوتھی سالگرہ  کاپلاک کے اشتراک سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ا ٓرٹ اینڈ کلچر، لاہور کے خوبصورت ہال نمبر ۱ میں ایم  زیڈکنول(چیف ایگزیکٹو)کی میزبانی میں کیا گیا۔ 
صدارت پرائیڈ آف پرفارمینس آرٹسٹ، ادیب اور شاعر محترم اسلم کمال نے کی۔
ماریشیس میں جگنو انٹر نیشنل کے کو آر ڈینیٹڑ، ممتاز شاعر دانشور اختر ہاشمی اور صداقت نقوی، میڈیا سیکرٹری جگنو انٹر نیشنل، میانوالی مہمان خصوصی تھے، امن ویلفیئر سوسائٹی، گوجرہ کے ڈائریکٹر روحیل خان مہمانِ اعزاز تھے۔ایم زیڈ کنول نے تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ایم زیڈ کنول نے تنظیم کا 


تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ آج ہی لیہ میں جگنو انٹر نیشنل کی برانچ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ اور وہاں بھی جگنو کی سالگرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ جس کے لئے شمشاد سرائی، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مہار، پروفیسر شعیب بخاری اور صابر جاذب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ شگفتہ غزل ہاشمی (صدر)نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔مقصود چغتائی (میڈیا سیکریٹری)نے چار سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔سید فردوس حسین نقوی نے جگنو  انٹر نیشنل کے پنج ریڈیو یو ایس اے سے الماس شبی کے تعاون سے ہفتہ واربراڈ کاسٹ ہونے والے عالمی مشاعروں کی روداد پیش کی۔ فاطمہ رضوی، ڈاکٹر ایم ابرار، شیراز انجم،نے مقالات پیش کئے۔ بابر ہاشمی،میاں

منگل, فروری 6, 2018

ایک ادھوری نظم ۔۔۔۔۔ زارا مظہر

زارا مظہر
بہت دنوں سے
 میری ایک ادھوری نظم 
بند وَرقَوں میں 
سو رہی ہے 
کبھی ڈائری الٹنے پلٹنے سے 
ہڑبڑا کر اٹھ جاتی ہے 
موندھی موندھی آ نکھوں سے
میری جانب ۔۔۔۔۔
تَکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ بس تَکتی ہے 
میرےاِرتکاز کا لمس 
اپنے بے ترتیب حلیے پر 
پا کر ۔۔۔۔۔
شرماتی ہے ۔۔۔۔ پھر جھنجھلاتی ہے 
اور انگڑائی لے کر جاگ جاتی ہے 
 لڑتی ہے ، جھگڑتی ہے ۔۔۔۔
  اپنی تکمیل چاہتی ہے ۔۔۔۔  
میرے من میں جوار بھاٹے ابلتے ہیں 
کشمکش کے کچھ رنگ مچلتے ہیں
مگر جو غم مجھے اسکے پَلّو میں باندھنا ہے 
میری جرآت کا دامن اس سے خالی ہے 
میرے دماغ میں حروف کی آ ندھی چلتی ہے 
گرد باد بنتے ہیں ، گھومتے ہیں 
  بگولہ ۔۔۔۔ بن کے بھاگتے ہیں
 ریگزاروں میں ، کہساروں  میں 
صحراؤں میں ، سرابوں میں ۔۔۔
بَن میں ، بیابانوں میں ۔۔۔۔ 
پہاڑ کی چوٹی پر ، کسی گھاٹی میں 
مگر تھک جاتی ہوں
تو لوٹ آ تی ہوں
وہ بھی تھک جاتی ہے 
میری انگلیوں میں دبے دبے ۔۔۔
نِراسی ، بے آ سی ہو جاتی ہے 
ناراض سی ۔۔۔ چپ  ورقوں کی رِدا اوڑھ لیتی ہے 
اور لرزتی پلکوں  سے
آ ب دار موتیوں کی 
لَو پھڑپھڑاتی ہے ، سایۂ دیوار بناتی ہے 
موم گرتی ہے رات بھر ۔۔۔۔
قطرہ قطرہ ۔۔۔۔

اتوار, جنوری 28, 2018

کون ہیں ؟ (نظم) اعجاز رضوی

اعجاز رضوی

گم ہوا راستہ گم ہوا
اس بھرے شہر میں
کون ہے جس سے پوچھیں کہ ہم کون ہیں
اور کہاں جا رہے تھے
کس سے پوچھیں کہ اب ہم کہاں ہیں
کون ہیں جو بتائے
کہ قدموں کے نیچے
ہری گھاس کی رہگزر کیسے چوری ہوئی
ہاتھ بھر فاصلے پر
درختوں کے سائے تھے۔۔سرسبز سائے
انہیں کس کی کالی نظر کھا گئی
کون ہے جو بتائے کہ ہم اجنبی ہیں
کہ اس شہر کے رہنے والے
کون ہے جو بتائے

منگل, جنوری 23, 2018

وہ خوف جو اِک عمر سے سینے میں چھپا تھا / اُس خوف کو ڈھونڈا اُسے آواز بنایا / وسیم عباس

دورانِ سفر ہم نے یہ انداز بنایا
ہر گام پہ اشجار کو ہمراز بنایا
اسرار کے در کھلنے لگے ہم پہ یکایک 
اِک اِسم کو ہر باب کا آغاز بنایا
وہ خوف جو اِک عمر سے سینے میں چھپا تھا
اُس خوف کو ڈھونڈا اُسے آواز بنایا
گایا ہے ترے پیار کا جس وقت بھی نغمہ
اِس دل کے دھڑکنے کو سدا ساز بنایا
لوگوں سے رہے دور بہت دور ہمیشہ
اِک تجھ کو فقط اپنا ہے غماز بنایا

ہفتہ, جنوری 20, 2018

شعری مجموعے ’’ترا آئینہ ہوں میں ‘‘کی تقریبِ پذیرائی


سیوا آرٹ سوسائٹی کے زیر اہتمام  نامور شاعر جناب خالد سجاد احمد کے نئے شعری مجموعے ’’ترا آئینہ ہوں میں ‘‘کی تقریبِ پذیرائی کا اہتمام ایمبیسیڈر ہوٹل میں کیا گیا ۔ تقریب کی صدارت سینئر شاعر نذیر قیصر صاحب نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی جناب عباس تابش اور راشدہ ماہین ملک تھے،نظامت کے فرائض عرفان صادق نے سر انجام دئیے، 
تقریب کے پہلے حصہ میں محترمہ فرحت زاہد، جناب محمد ظہیر بدر(ان کا مضمون عرفان صادق نے پڑھا) ، ڈاکٹرغافر شہزاد ،ڈاکٹرضیاءالحسن، جناب حسین مجروح ، جناب عباس تابش اورجناب نذیر قیصر نےمحترم خالد سجاد احمد کے فن اور شخصیت پر روشی ڈالی اور کتاب کے حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کیا۔ خالد سجاد احمد نے اپنے ادبی سفر کے بارے میں بتایا اور اپنا کلام اور خوب داد سمیٹی ۔ 
تقریب کے دوسرے حصہ میں محفلِ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں نامور شعراءنے اپنا کلام سنایا ، شعراء میں ثمینہ سید، ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ، کائنات احمد، عینی راز، ثانیہ شیخ، خالد خواجہ، تجدید قیصر، فاروق احمد، منور امتیاز احمد، صائمہ آفتاب ، رابعہ رحمان، رحمان فارس ، وسیم عباس، سید عابد بخاری، ریاض شاہد، شوکت فہمی، شاہد رضا،زاہد سعید زاہد، ڈاکٹر ضیاالحسن ، نائلہ انجم، فاخرہ انجم ، ڈاکٹر غافر شہزاد ، حمیدہ شاہین اور فرحت زاہد شامل تھے

بدھ, جنوری 17, 2018

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام شمشاد سرائی کی تصنیف حرف حرف خوشبو کی تقریبِ پذیرائی

 لیہ میں مقیم ممتاز شاعر،ادیب و دانشور شمشاد سرائی کے اعزاز میں جگنو امن مشاعرہ  اور ان کی  تصنیف حرف حرف خوشبو کی تقریبِ پذیرائی کا انعقاداکادمی ادبیات پاکستان، لاہور میں کیا گیا۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف شاعرہ، ادیبہ، جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔ 
صدارت معروف علمی، ادبی، شخصیت سابقہ ریذیڈنٹ ڈائریکٹرمحترم آغا نور محمدنے کی۔ 
شمشاد سرائی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
مہما نانِ محتشم اختر ہاشمی، اور آئینہ مثال (دخترِ لیہ)  تھے۔ 
صابر جاذب (لیہ) اور عابد چوہدری (کوریا) نے مہمانِ اعزازشرکت فرمائی۔ 
مہمانوں کا بھر پور استقبال کرتے ہوئے انہیں پھولوں کے تحائف پیش کئے گئے۔
 نوجوان قاری حافظ عرفان کٹھانہ (سعودی عرب)نے تلاوت کی۔ 
ریاض احمد ریاض نے  نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
مقصود چغتائی، میڈیا سیکریٹری نے تقریب کے حوالے سے تعار فی کلمات ادا کئے۔ 
تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں "حرف حرف خوشبو" کی تقریبِ پذیرائی کے سلسلے میں شمشاد سرائی کے فن اور شخصیت پر بھر پور مقالہ جات پیش کئے گئے۔آغا نور محمد خان پٹھان،ایم زیڈ کنول، شگفتہ غزل ہاشمی،صابر جاذب،آئینہ مثال،اکادمی ادبیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد جمیل اور ندیم اسلم نے حرف حرف خوشبو کو دبستانِ ادب میں خوبصورت اضافہ قرار دیا۔ا حباب نے صاحبِ کتاب کو مبارک باد پیش کی۔شمشاد سرائی سے ان کا بہت سا کلام سنا گیا۔ دوسری نشست میں جگنو امن مشاعرہ کا اہتما م کیا گیاتھا۔ایم زیڈکنول، اختر ہاشمی، نذیر قیصر، اقبال راہی،شگفتہ غزل ہاشمی، بابرشکیل ہاشمی، شہزاد تابش، اعجازاللہ ناز، احمد فہیم میو،شیراز انجم، ریاض احمد ریاض،مظہر جعفری،گلشن عزیز،محمد جمیل، عالیہ بخاری ہالہ،وکٹوریہ پیٹرک،ریحانہ اشرف ا ور دیگرنے خوبصورت کلام سے بزم کو گرمایا۔ شمشاد سرائی نے ایک بار پھراحباب کی فرمائش پر اپنا خوبصورت کلام نذرِ احباب کیا۔
 تقریب میں شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی اور شمشاد سرائی کو اس باوقار تقریب کے کامیاب انعقاد  پرمبارکباد پیش کی۔اس کے ساتھ ہی جگنو انٹر نیشنل کی تمام ٹیم خصوصا  " چیف ایگزیکٹو تنظیم ایم زیڈ کنول کی فروغِ ادب کے لئے کی جانے والی خدمات کو سراہا۔ مقصود چغتائی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اور پھر پُر تکلف چائے کے اہتمام کے ساتھ یہ یادگارتقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

جمعہ, جنوری 5, 2018

پنج ریڈیو (امریکہ) کی چھٹی سالگرہ ، رخسانہ نور کے لئے دعاِ مغفرت

پنج ریڈیو (امریکہ) کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر گولڈن مائیک سیلیبریشن کا انعقاد  لاھور کےمقامی ہوٹل کیا گیا۔جس میں معروف شاعرہ، ادیبہ، صحافی اور سماجی شخصیت محترمہ رخسانہ نور کی یادوں کو امر بنانے کا اہتمام تھا۔ 
متعدد ادبی تنظیموں نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس بھرپور تقریب میں شرکت کر کے اسے پذ یرائی بخشی۔ جن میں جگنو انٹرنیشنل، روش انٹرنیشنل، نقش ہاشمی فاؤنڈیشن، بزمِ فکروفن،سوچ، تفکر ادبی فورم نمایاں ہیں۔ 
سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔بیاد رخسانہ نور ایورڈز سے نوازا گیا۔
روش ادبی فورم کی طرف سے رخسانہ نور کے ڈیزائنڈ سوٹ تحائف کے طور پر دئیے گئے۔  م
ممتاز شاعراختر ہاشمی، خالد شریف، مظہر جعفری‘ شگفتہ‘ غزل ہاشمی‘توقیر احمد شریفی، حسین مجروح،ڈاکٹرثروت زہرا سنبل‘ فردوس نقوی،شفیق احمدخان‘  ممتاز‘ راشدلاہوری‘زاہد حسین، شہزاد فراموش‘ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق‘ شگفتہ‘ غزل ہاشمی‘توقیر احمد شریفی، ڈاکٹر زہرا سنبل‘ فردوس نقوی، مقصود چغتائی،مبشر سلیم، جمیل احمد،اویس ندیم، شہزادہ علی ذوالقرنین،انیس احمد،عمر ندیم، انمول گوہر، فاخرہ انجم،صفیہ  صابری،‘  غنا جعفری، نرمل شاہ‘ذرا عدیل کے علاوہ ریڈیو ٹی وی فنکاراور ملک کی اہم  ادبی اور صحافتی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ الماس شبی کی بہن بھابی اور بھتیجے نے بھی خصوصی طور پر شمولیت فرمائی۔
ایم زیڈ کنول‘ مقصود چغتائی‘ فردوس نقوی اور دیگر مداحوں نے ممتاز براڈ کاسٹر الماس شبی کو پھولوں کے تحائف پیش 

کئے۔ 
آخر میں حافظ عرفان(سعودی عرب) نے مرحومہ رخسانہ نور کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔

جمعہ, دسمبر 22, 2017

ﻭﮦ ﻋﮑﺲ ﺑﻦ ﮐﮯ ﻣﺮﯼ ﭼﺸﻢِ ﺗﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ / ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ / بسمل صابری

بسمل صابری
ﻭﮦ ﻋﮑﺲ ﺑﻦ ﮐﮯ ﻣﺮﯼ ﭼﺸﻢِ ﺗﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ شبِ ﻏﻢ ﮐﺎ ﺍﮎ ستاﺭﮦ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﮎ ستارہ ﺟﻮ چشمِ سحر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ پہ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅﮞ ﺍﺳﮯ
ﻭﮦ ﺷﻌﺮ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﺽِ نظر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮔﺰﺭﺗﺎ ﻭﻗﺖ ﻣﺮﺍ ﻏﻢ گسار ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ
یہ ﺧﻮﺩ ﺗﻌﺎﻗﺐِ شام و سحر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺮﺍ ﮨﯽ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ
بگولہ سا ﺟﻮ ﺗﺮﯼ ﺭﮦ گزر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
نہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ بسمل
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ سانس ﻣﺮﺍ ﺍﺏ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ہے


منگل, دسمبر 19, 2017

سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے / انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے / صبیحہ صبا(مدیراعلیٰ اردو منزل ڈاٹ کام)

سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے
انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے
اپنی سوچ سے کام نہ لینے والوں کو
پستی میں کچھ اور دھکیلا جاتا ہے
لوگ زرا سی ہمدردی کر جاتے ہیں
کرب تو اپنی ذات پہ جھیلا جاتا ہے 
اپنی منزل پر کب نظریں ان کی ہیں
چل پڑتے ہیں جدھر کو ریلا جاتا ہے
شہروں والی خوب ترقی کرتے ہیں
کچلا اس میں جنگل بیلہ جاتا ہے
دنیا بھر میں خوب تماشے ہوتے ہیں
دیکھنے والا دیکھ کے میلہ جاتا ہے