ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 13 اکتوبر، 2014

افکارِ جدید کی شاعری

یہ کیوں اندر کا موسم اور ہے باہر کے موسم سے
کہ جب رونق ہے ہر جانب تو ہم بیزار ملتے ہیں 
 صبیحہ صبا کا یہ شعر اعلان ہے کہ شاعری کی واحد اساس دکھ ہے۔دکھ ہی وہ مظہر ہے جو انسانوں کے مابین قابل عمل رشتوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ رشتے ذات کے دکھ کے حوالے سے سماجی دکھ کی تفہیم میں معاون بنتے ہیں۔
شاعری کا موسم لکھنے والے کے اندر کا موسم ہے۔ جب  کبھی انسان کے اندر کا موسم معروضی  حالات کے تحت جسم و جاں میں شورش بپا کرتا ہے تو یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب شاعری جنم لیتی ہے اور یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب انسان کے اندر سے ایک  چیخ برآمد ہوتی ہے اور یہ لمحات ہوتے ہیں دکھ کے، اداسی کے۔

چہرے کا ہر کرب دکھائی دیتا ہے 
خاموشی کا شور سنائی دیتا ہے
چہرے پر ابھرنے  والی درد و کرب کی لکیروں کا اظہا تو کلاسک فارسی اور  اردو شاعری میں کئی انداز میں پہلے بھی استعمال ہوا ہے لیکن اس شعر کے مصرعِِ ثانی میں بالکل تازہ اور نئی بات آئی اور بہت سلیقے اور جمال کے ساتھ آئی،خاموشی کا شورمعنویت کے اعتبار سے وارداتِ  نو ہے،ایسا شعر کہنے والا اردو غزل کی پہلی صف میں بڑی قامت کا شاعر ہونے کا حق رکھتا ہے۔
میں نے صبیحہ صبا کے گذشتہ شائع شدہ مجموعوں کی غزلیں بہت شوق سے پڑھی ہیں۔اپنے بولتا کالم کے سلسلہ میں ڈیڑھ دو سو کے قریب شعرا۴ کا کلام میری نظر سے گذرا ہے۔ان میں اچھے اشعار بھی تھے لیکن ایسے افکارِ تازہ  اور ضرب  المثل بن جانے والے اشعار نظر نہیں آئے۔
خاموشی کا شور سننے کی کیفیت کا سچا باطنی تجربہ ایک پوری محسوس کیفیت بن کر سامنے آتا ہے اس میں جذب اور احساس کی صداقت بھی ہے اور بیان کی تازہ کاری بھی۔

وہی میری وجہِ عروج تھا وہی میری وجہِ زوال تھا
وہی وجہِ رنگِ طرب رہا، وہی وجہِ حزن و ملال تھا
چلے جب بھی درد کے قافلے میرے چارہ گر میرے دیدہ ور
وہ جو درد سہنا محال تھا وہ جو سہہ گئے تو کمال تھا  
کوئی بے حسی کے جہان میں کوئی درد ِدل کی اٹھان میں 
کوئی اپنی دھن میں مگن رہا کوئی اپنے غم سے نڈھال تھا
کسی سانحے سے گذر ہوا سبھی وحشتوں کا اثر ہوا
ذرا نسل نو کا خیال کر، دل غم زدہ کا سوال تھا
صبیحہ صبا کی شاعری کا ایک رنگ تو یہ ہے جس کا ذکر میں نے کیا لیکن ان کی شاعری کا دوسرا رخ اس حزن و یاس کے برعکس ہے جہان وہ انقلابی فضا کی عکاس نظر آتی ہیں،یہ وہی فضا ہے جسے فیض احمد فیض کی شاعری نے نمایاں تبدیل شدہ ادبی رحجان دیا جس کی تقلید اس وقت کے نوجوان شعراء نے کی لیکن اہم بات یہ ہے کہ کہ اس رحجان کی تقلید میں خواتین شعراء نظر نہیں آتیں ان کے ہاں رومانی شاعری کا عنصر زیادہ  ہوتاہے۔صبیحہ صبا جب یہ کہتی ہیں کہ

میرے لفظوں کی وہ گرفت میں ہے
اس کو اندر غزل کے دیکھ لیا
میرا چہرہ ہے آئینہ میرا
میں نے خود سے نکل کے دیکھ لیا

جب وہ خود  سے نکل کر دیکھتی ہیں تو معاشرے کے دکھ درد اور آلام انہیں بغاوت پر مجبور کر دیتے ہیں اور یہ وہی رحجان ہے  جو فیٖض احمد فیض،احسان دانش اور حبیب جالب کے ہاں پایا جاتا ہے۔
صرف ریشم نہیں تلوار بھی ہو سکتے ہیں 
یہ جو مظلوم ہیں خونخوار بھی ہو سکتے ہیں 
میرے شہروں میں قیامت سی مچانے والے
ہاتھ باندھے پسِ دیوار بھی ہو سکتے ہیں 
آج بے وقعت و بے در ہیں پریشان سے لوگ
کل یہی وقت کے سردار بھی ہو سکتے ہیں 
سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے
انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے
اپنی سوچ سے کام نہ لینے والوں کو
پستی میں کچھ اور دھکیلا جاتا ہے
شاعری کے لئے بہت ہی متنوع خیالات اور معتدل نظریات کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعری خاص طور پرغزل ایک انتہائی لطیف صنفِ سخن ہے۔ تجربات و مشاہدات کے لئے ایک بہت پیارے اور غیر معمولی حد تک معتدل لسانی عمل کی ضرورت ہے۔ زندگی کی رعنائیوں، رنگینیوں اور شادمانیوں کو اپنے من میں ڈوب کر ان کو حقیقت کا سراغ پانے کی حد تک تلاش کرنا پڑتا ہے۔
شاعری پر کسی قوم یا علاقے کے اجتماعی مزاج کے اثرات چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی مرتب ہوتے ہیں۔تقسیمِ ہند سے پہلے کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو ساری شاعری کا آہنگ ایک جیسا نظر آتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر قوم اور ہر علاقے کے اجتماعی مزاج کا پرَتو اس علاقے کی شاعری میں نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندی شاعری گیت کی مدھرتا کی لے پر رقص کرتی نظر آتی ہے جبکہ پاکستان میں شامل علاقوں میں عجز و انکسار، پیار اور محبت کی کھلی فضا کا رنگ ہے کشمیر اور سرحد کے پہاڑوں کا ترفع، پنجاب اور سندھ کے ریگستانوں کی وسعت کا عکس بھی ہے۔ دریاؤں کا ٹھاٹھیں مارتا جوش بھی ہے اورمیدانی علاقوں میں ان کا سست ر و ٹھہراؤ بھی۔پاکستان کی اردو شاعری مشاہدے، احساسات، تجربات اور کیفیات کو زبان کی ترتیب و تنظیم ایک جمالیاتی نظام کی ترکیب کا عنصر بنی دکھائی دیتی ہے۔
صبیحہ صبا کی شاعری کی اٹھان پنجاب کے شہر ساھیوال سے ہوئی۔ پنجاب کا خاص کلچر اور گھر کے ادب دوست اردو ماحول نے ان کی شاعری کو جہاں لطیف نازکی بخشی وہیں تجربات و مشاہدات کے معتدلانہ عمل نے پنجاب کے اجتماعی مزاج کی خوشبو کے رنگ ان کی شاعری میں بکھیر دئیے۔ان کے شریک حیات سید صغیر احمد جعفری کی ادب دوستی نے بھی ان کی شاعری کو جلا بخشی۔صبیحہ صبا آج کے دور کی حساس شاعرہ ہیں ان کی یہ حساسیت ان کی شخصیت اور شاعری دونوں میں جھلکتی ہے۔ان کی شاعری کے پس منظر میں ان کے ذھنی رویوں کا عکس نمایاں ہے۔

چپ چاپ فضا ہے کوئی ہلچل بھی نہیں ہے
کیا کوئی یہاں درد سے بے کل بھی نہیں ہے
بے حس ہیں یا ظالم کی حمایت میں کھڑے ہیں 
پیشانی پہ حیرت ہے کہ اک بل بھی نہیں ہے
سانسوں کو بھی چلنے کی اجازت نہیں دیتے
کیا جبرِ مسلسل کا کوئی حل بھی نہیں ہے
 صبیحہ صبا بات کرنے کا ہنر جانتی ہیں لیکن کبھی کبھی ان کا لب و لہجہ ان کے اندرونی کرب کی غمازی کرتا ہے
سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے
انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے
اپنی سوچ سے کام نہ لینے والوں کو
پستی میں کچھ اور دھکیلا جاتا ہے
لوگ ذرا سی ہمدردی کر جاتے ہیں 
کرب کو اپنے خود ہی جھیلا جاتا ہے
اڑان خوب تر ہوئی جو پنچھیوں کی ڈار کی
تو گھیر گھار کر کسی نے زیر دام کر دیا
انتظارِ  محشر کیا  کیجئے یہاں   ورنہ
صبیحہ صبا کی شاعری میں ایک ایسی جاذبیت اور کشش ہے کہ پڑھنے والا اپنے من میں جہاں ایک کسک محسوس کرتا ہے وہیں اس دھرتی کی مٹی سے اٹھنے والی سوندھی سوندھی خوشبو کو بھی محسوس کرتا ہے۔ صبیحہ صبا نے اپنے اسلوبِ شعر کی تشکیل میں اپنے عہد کے مزاج کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔
صبیحہ صبا کی شاعری کا ایک موضوع وطن سے اظہارِ محبت بھی ہے جس کا اظہار وہ شاعرانہ حسن سے کرتی ہیں اور کہیں وہ محبت کے جذبات میں ڈوب جاتی ہیں۔
وطن سے مہر و وفا جسم و جاں کا رشتہ ہے
وطن ہے باغ تو پھر باغباں کا رشتہ ہے
وطن سے دور رہیں یا وطن میں بس جائیں 
یہ مہر باں سے کسی مہر باں کا رشتہ ہے
صبیحہ صبا کا سب سے اہم موضوع ہماری سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی، اس کے مسائل و مصائب کے حوالے سے ہے یہاں بھی ان کا انداز ایک درد مند دل رکھنے والے ذی روح کا سا ہے۔
یقین رکھ سبھی منظر بدلنے والے ہیں 
قدم ملا کے سبھی ساتھ چلنے والے ہیں 
ستم کو سہہ کے کہاں تک رہے گی خاموشی 
یہی وہ لوگ جو طوفاں میں ڈھلنے والے ہیں 
انہیں تو دھوپ بھی پگھلا نہیں سکتی
کسی کی یاد کے صحرا میں جلنے والے ہیں 
ذرا سی ہمت و جرأت سے کام لینا ہے
ہمارے سر سے یہ طوفان ٹلنے والے ہیں 
صبیحہ صبا الفاظ سے تصویر کشی کرتی ہیں اور جس ماحول میں سانس لے رہی ہیں اور معاشرے کی جو تصویر دیکھتی ہیں اسے اپنے داخلی جذبات اور احساسات کی روشنی میں جلا دے کر قرطاس پر بکھیر دیتی ہیں۔
کسی بھی شاعر کا مطالعہ کیجئے اس کے ہاں ذات ہے یا کائنات، ہر شاعر نے اپنا کینوس خود بنایا ہے جو کہیں چھوٹا ہے کہیں بڑا۔اس قدر و قیمت کا انحصار شاعر کی فکر اور اس کے علم پر ہے۔صبیحہ صبا کو شروع سے ایک استوار فکر ملی۔مرد شاعری کرتے ہیں تو ان کو بھی اپنی ذات میں جھانکنا پڑتا ہے۔ صبیحہ صبا نے بھی من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں