ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 11 ستمبر، 2014

بابا دینہ ..افسانہ ۔۔ رضاالحق صدیقی

رضاالحق صدیقی
وہ سب سامنے سے بابا دینہ کو آتا دیکھ کرخاموش ہو گئے تھے۔جب وہ ان کے قریب سے گذرا تو سب نے اس کو سلام کیا۔بابا
دینہ کندھے لٹکائے،سر کو جھکائے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے  آ گے بڑھ گیا۔نجانے وہ گالیاں دے رہا تھا یا سب کے سلام کا جواب۔
بابا دینہ کو  وہاں رہتے ہوئے نجانے کتنا عرصہ ہو گیا تھا۔اپنے حلئیے سے پاگل سا  لگتا تھا،سر اور داڑھی کے بال لمبے لیکن الجھے ہوئے،میلا کچیلا لباس،کندھے جھکے ہوئے،چلتے ہوئے الٹے ہاتھ کو بار بار جھٹکنا،ایک پیر پر وزن ڈال کر اس طرح چلتا تھا جیسے پنجوں کے نیچے زخم ہوں،چلتے چلتے رک کر آسمان کی جانب سر اٹھا کر دیکھنا کچھ بڑبڑانا جیسے شکوہ کر رہا ہو پھر آگے بڑھ جاتا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جب وہ اس بستی میں آیا تھا تو بڑا بانکا سجیلا جوان تھا، یہ پھولا ہوا سینہ،یہ پھڑکتی ہوئی مچھلیوں والے بازو،یہ لمبا قدچھلکتے خون رنگت چہرہ،جدھر نکل جاتا جوان جہان لڑکی بالیوں کے منہ سے حسرت بھری آہ نکل جاتی لیکن وہ تھا کہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا بھی نہیں تھا۔
یہ بابا دینہ کون ہے ابو،آج جب میں گھر آیا تو اپنے والد سے پوچھا۔
،،کیوں کیا ہوا،تمہیں آج بابا دینہ کا خیال کہاں سے آ گیا،، انہوں نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا۔
کچھ نہیں بس ایسے ہی،میں دوستوں کے ساتھ آصف چوہدری کے گھر کے باہر  بیٹھا تھا کہ اتنے میں بابا دینہ وہاں سے گذرا، ہم نے سلام کیا تو کوئی جواب دئیے بغیر ہماری  طرف نظر ڈالنے کی زحمت کئے بغیربڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔
،، تم نے یا تمہارے دوستوں نے کوئی بدتمیزی تو نہیں کی اس سے یا کوئی پھبتی تو نہیں کسی اس پر،،ابو نے پوچھا۔
نہیں ابو،لیکن بڑی عجیب سی شخصیت ہے اس کی۔
ابو نے اس کے بارے میں بتانا شروع کیا،تمہیں پتا ہے لیکن تمہیں کیا یاد ہو گا  بہت چھوٹے تھے تم جب دین محمد تمہیں اٹھائے اٹھائے پھرتا تھا،بہت پیار تھا اسے تم سے،کسی روز وہ نا آتا تو تم اس کے پاس جانے کی ضد کرتے تھے،یہ جو گلی کے نکڑپر آخری مکان ہے جس میں بابا دینہ رہتا ہے یہی دین محمد کا مکان تھا،آج یہ مکان بھوت بنگلہ سا نظر آتا ہے اس وقت گلی کا سب سے خوبصورت مکان تھا۔دین محمد بہت محنت کرتا تھا اس کی دیکھ بھال میں،اپنی طرح سجا کر رکھتا تھا،ابھی ابو بتا ہی رہے تھے کہ نظام دین صاحب ملنے آ گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     
بابا دینہ کا اصل نام دین محمد تھا،گھر سے نکلتا تو اپنی دھن میں سینہ پھلائے چلتا  جاتا تھا ادھر ادھر دیکھنا اس کی عادت نا تھی۔اس دن دین محمد تیار ہو کر اپنے کام کے لئے نکلا،حسبِ عادت کچھ سوچتا ہوا پنی ہی دھن میں چلا جا رہا تھا کہ کوئی اس سے ٹکرا گیا۔معاف کرنا کہہ کر اس نے بے دھیانی میں ٹکرا کر گرنے والے کوکندھوں سے پکڑ کر اٹھا تو لیا لیکن پھر وہ بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا،وہ پچھلی گلی کے ملک ریاض کی بیٹی رانو تھی،کیا جوانی پائی تھی اس نے، کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھی لیکن اس ٹکر نے اسے بھی بھونچکا کر دیا تھا،ادھر دین محمد بھی بے خود اسے دیکھتا جا رہا تھا پھر رانو کو جیسے ہوش آ گیا ہو۔
،، چھوڑ مجھے، شرم نہیں آتی،اگر کوئی دیکھ لیتا تو کتنی بدنامی ہوتی میری،رانو ایک سانس میں بولتی چلی گئی۔دین محمد نے ہڑبڑا کر اس کے کندھے چھوڑ دئیے اور شرمندہ سا ہو کر اپنی راہ پر چل دیا۔
جانے کو وہ دونوں اپنے اپنے رستے پر چلے گئے تھے لیکن کیوپڈ اپنا تیر چھوڑ چکا تھا جس نے دونوں کو شکار کر لیا تھا۔دین محمد کی تو دنیا ہی بدل گئی تھی رانو اس کے دل میں اترتی چلی گٗی تھی،لڑکیوں پر دھیان نہ دینے والا دین محمد اب پچھلی گلی سے گذرنا شروع ہو گیا تھا کہ شاید رانو کی ایک جھلک ہی نظر آ جائے،دوسری جانب رانو کی بے تابی بھی دیدنی تھی پسند تووہ دین  محمد کو پہلے بھی کرتی تھی لیکن جب سے دین محمد نے اس کے جسم کو چھوا تھا اس کی بے تابی اور بڑھ گئی تھی۔گھر کے اندر کتابوں میں گم رہنے والی رانو اب اکثر گھر کے دروازے سے باہر جھانکتی رہتی تھی،ایک روز جب وہ دروازے میں کھڑی تھی اسی وقت گلی میں دین محمد داخل ہوا،دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا،مسکرائے اور دین محمد چند لمحوں کو ان کے دروازے کے سامنے رکا لیکن دور سے رانو کے بھائیوں کو آتا دیکھ کر گذرتا چلا گیا۔پھر وہ باہر روز ملنے لگے،کبھی کالج کے باہر،کبھی کسی پارک میں،دونوں کی سرگرمیاں رانو کے گھر والوں سے پوشیدہ نہ رہ سکیں اور ایک روز رانو کے بھائیوں نے دین محمد کو روک لیا بات تلخ کلامی تک ہی پہنچی تھی کہ محلے کے کچھ افراد نے جھگڑے کو پڑھنے سے روک دیا،دین محمد وہاں سے چلا گیا،محلے کے لوگوں نے رانوں کے بھائیوں سے جھگڑے کی و جہ در یافت کرنے کی کوشش کی لیکن وہ  کوئی  جواب دئیے بغیر گھر کے اندر چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکشن کا زمانہ تھا پیپلز پارٹی الیکشن کی تیاریوں  میں مصروف تھی،دین محمد الیکشن مہم میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لے رہا تھا مختلف جلسوں میں اس کی شعلہ بیانی  اسے نمایاں رکھتی تھی،اس کی تقریریں حسبِ اختلاف  کی دکھتی رگ پر  ہاتھ رکھتی تھیں اس لئے اپنی پارٹی میں وہ نمایاں  تھا،پارٹی لیڈر اسے عزیز رکھتے تھے جبکہ وہ حسبِ اختلاف کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے الیکشن کا دن آ پہنچا،دین محمد کئی دنوں کا تھکا ہوا تھا لیکن آج اس کی اور پارٹی کی محنت کا پھل ملنے والا تھا،پارٹی کے مرکزی دفتر میں رزلٹ آتے جا رہے تھے،پارٹی نے بھاری اکثریت  حاصل کر لی  تھی۔اگلے ہی روز حسبِ اختلاف کی پارٹیوں نے دھاندلی کا بہانہ بنا کر  ہنگامہ آرائی شروع کر دی،تمام پارٹیاں اکھٹی ہو چکی تھیں۔حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے،ان مذاکرات کا آخری دور تھا اور رات گئے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کے تمام مطالبات مان لئے ہیں اور صبح معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے،یہ صبح طلوع تو ہوئی لیکن بوٹوں کی دھمک چار سو تھی،منتخب وزیراعظم کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا اور سہالہ ریسٹ ہاوس میں نظر بند کر دیا گیا،اسی دوران ایک قتل کے مقدمے  میں بھٹو کے خلاف کاروائی شروع کر دی گئی،پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے کارکنوں نیاحتجاجی جلسے جلوس شروع کر دئیے،دین محمد اس جلسوں میں آگ لگائے ہوئے تھا،اس سارے عرصے میں پکڑ دھکڑ ہوتی رہی لوگوں کو شاھی قلعے میں اذیتیں دی جاتی رہیں کوڑے برستے رہے،لیکن دین محمد کسی نا کسی طرح بچتا رہا۔  
بھٹو پر قتل کا مقدمہ اپنے عروج پر تھا،ہائی کورٹ میں مولوی مشتاق نے سزائے موت سنا دی تھی۔بھٹو کے وکلاء  نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی،پیپلز پارٹی کی جانب سے جلسے جلوسوں کا پروگرام تھا،لیاقت چوک میں ہونے والے جلسے میں دین محمد دھواں دار تقریر کر رہا تھا،جنرل ضیاالحق اس کی تنقید کی رد پر تھا،اچانک جلسے پر پولیس نے دھاوا بول دیا،لاٹھی چارج ہونے لگا،بہت سوں کے سر کھل گئے اسی بھگڈر میں پولیس نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر پولیس کی لاری بھرنی شروع کر دی،پھرلاری پکڑے جانے والوں کو لے کر روانہ ہو گئی۔دیکھنے والوں نے حلفاََ کہا کہ ہم نے دین محمد کو تیزی سے سٹیج کے پیچھے  سے نکل کر گھر کی جانب جاتے دیکھا تھا،کچھ کا کہنا تھا کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے پولیس کو دین محمد کو گرفتار کرتے دیکھا تھا۔
رانو کے گھر کہرام مچا ہوا تھا،اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ رانو بھی دین محمد کو سننے جلسہ گاہ میں گئی تھی لیکن گھر واپس نہیں آئی،رانو کے بھائیوں کا خیال تھا کہ رانو کو دین محمد ورغلا کر لے گیا ہے، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو ابو کیا واقعی دین محمد نے ایسا کیا تھا،میں نے پوچھا
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا ہوا تھا،ایک روز شور مچا کہ دین محمد واپس آ گیا ہے،میں بھی اسے ملنے گیا،میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ وہ دین محمد تو نا تھا  اپنی عمر سے کئی گنا بڑا لگ رہا تھا،اپنے حواسوں میں نا تھا، بخار میں تپ رہا تھا،اس کی گمشدگی کے چند سالوں میں اس کے سر کے بالوں میں سفیدی آ گئی تھی،نجانے کیا  بڑبڑا رہا تھا،میں نے اس کا علاج کرایا،ویسے تو وہ ٹھیک ہو گیا لیکن ذھنی حالت ٹھیک نہ ہو سکی۔اس وقت سے یہ ویسا ہی ہے۔ ابو یہ بتا کر اپنے کمرے میں 
 چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر ہم سب دوست باہر موجود تھے میں نے ابو کے کہنے کے بموجب سب دوستوں کو منع کر دیا تھا کہ کوئی بابا دینہ سے نہ الجھے،نجانے  بچارا اس حال کو کیسے پہنچا۔سب دوست مان گئے،اب جب بھی وہ سامنے سے آتا  ہم ایک طرف ہو جاتے،آج نجانے ریاض کس لئے غصے میں تھا کہ اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ڈنڈے کو زور زور سے کھمبے پر مارنا شروع کر دیا شاید گھر سے پڑنے والی ڈانٹ کا غصہ کھمبے پر نکال رہا تھا اتنے میں بابا دینہ گھر سے نکل کرسڑک پر آ گیا،ریاض کو کھمبے پر  ڈنڈے برساتا دیکھ کر آپے سے باہر ہو گیا۔برسوں کی خاموشی ٹوٹ گئی۔
:کتو
باندھ کر  مارتے ہو،میرے  ہاتھ کھول کر دیکھو۔لعنت ہے تم پر۔
بابا دینہ نے نادیدہ عناصر کو خلاؤں میں للکارتے ہوئے حقارت سے زمین پر تھوک دیا،تنا ہوا جسم ایک بار پھرجھک گیا اور آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔نجانے یہ آنسو ریاستی جبر کا نتیجہ تھے یا معاشرتی جبر کے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں