ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعہ، 30 ستمبر، 2016

اک مصّور ہے کہ صدیوں سے مسلسل / تیری تصویر بنانے پہ لگا ہے / سحرتاب رومانی

سحرتاب رومانی
چار سو خاک اڑانے پہ لگا ہے
دل نیا جشن منانے پہ لگا ہے
میرے اشکوں کا سمندر ہے کہ اب بھی 
دشت کی پیاس بجھانے پہ لگا ہے
بات اب بات بنانے سے بنے گی 
تیر تو ٹھیک نشانے پہ لگا ہے
مہربانی ہے چراغوں پہ ہوا کی 
حبس تو دیپ بجھانے پہ لگا ہے
وقت رکتا ہی چلا جاتا ہے لیکن 
انساں رفتار بڑھانے پہ لگا ہے
سامنے اندھے سپاہی بھی کھڑے ہیں 
چور بھی شور مچانے پہ لگا ہے
اک مصّور ہے کہ صدیوں سے مسلسل 
تیری تصویر بنانے پہ لگا ہے
وہ سحر ساری شرارت ہی مری تھی 
جس کا الزام زمانے پہ لگا ہے
-

جمعرات، 29 ستمبر، 2016

پرتو روہیلہ انتقال کر گئے،انا للہ و انا الیہ راجعون


انا للہ و انا الیہ راجعون
معروف شاعر، ادیب، مترجم، محقق، دانش ور، ماہر غالبیات، جناب پرتو روہیلہ (مختار علی خان)عارضہِ سرطان کے باعث ا آج رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئے۔ ان کی نماز جنازہ آج شام پانچ بجے ایچ الیون ، اسلام آباد قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے ، تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت

محمد سلیم طاہر

معمول نہیں بدلا کرتے

محمد سلیم طاہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے رنگ ، بادل اور پرندے لوٹ جاتے ہیں
کئی موسم بہت تاخیر کر دیتے ہیں ، آنے میں
٭
مشاہدہ یہ کہتا ہے
کہ دنیا میں ، 
جن علاقوں میں موسم بہت بے رحم ہو جاتا ہے
سخت سردی پڑتی ہے 
وہاں زندگی کا تسلسل
برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے
انسانوں کو بھی 
پرندوں کو بھی 
اور 
اس خطے کے دوسرے حشرات الارض کو بھی
انسانی شعور اور زندگی کو درپیش خطرات 
اپنی زندگیاں محفوظ رکھنے کے لیۓ محفوظ پناہ گاہوں کی طرف
عارضی ہجرت کا سبق دیتے ہیں 
اور 
بلندیوں پر رہنے والے شاید
میدانی علاقوں کا رخ کرتے ہوں ۔ 
موسم کی سختیوں سے بچنے اور زندہ رہنے کے لیۓ ۔
خوراک حاصل کرنے کے لیۓ 
وہاں کی مقامی حکومتیں بھی ، ان کے ذاتی اور اجتماعی وسایٰل بھی اس سلسلے میں ان کے ممد و معاون بنتے ہیں
مگر
پرندوں کو اپنا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے
صدیوں سے
ان کی نسلوں سے پیڑھی در ہیڑھی منتقل ہوتا ہوا شعور ان پرندون کی رہنمایء کرتا ہے
اور وہ سب اپنی زندگیوں اور آنی والی نسلوں کے تسلسل کو پیش ِ نظر رکھ کر
اپنی ہلاکت کے اندیشوں کے مدٰ ِ نظر رکھے ،
موسم کے مزید بے رحم ہونے سے پیشتر ہی
گرم علاقوں کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں
پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ
غول کے غول 
گرم علاقوں کی جھیلوں کے پانیوں میں اور ان کے کناروں پر اتر جاتے ہیں
روس سے ، سایٰبیریا سے اڑنے والے پرندے
سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میلوں کے سفر کے بعد پاکستان کے صوبہ سندھ میں پہنچ جاتے ہیں
صوبہ سندھ کے موسم میں ان کی زندگیوں کو وہ خطرہ جو ان کے آبایء وطن میں لاحق ہوتا ہے ، ٹل جاتا ہے انہیں کھانے کو بھی میسر ہوتا ہے اور وہ موسم کی سختیوں سے بھی بچ جاتے ہیں ـ
یہاں کچھ اور خطرات ان کی زندگیوں کو لاحق ہو جاتے ہیں اور وہ ہیں مقامی اور غیر مقامی شکاری ـــ مگر یہ خطرہ اس سے کم شدت کا ہوتا ہے جو ان کو اپنے وطن میں لاحق ہوتا ہے مگر انہیں اتنا عرصہ یہاں گزارنا ہوتا ہے جب تک ان کے اپنے وطن میں موسم معمول پر نہیں آ جاتا ــ
یہاں کے موسم کے اپنے مسائل ہیں ــ یہاں اکثر موسم اپنے وقت پر نہیں بدلتا ـ دیر ہوجاتی ہے موسمی تبدیلیوں میں تاخیر ہو جاتی ہے - یہ پردیسی پرندے ہمارے موسم کی پناہ میں 
صرف اپنے تحفظ کے لیۓ آتے ہیں انہیں اس سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا کہ مقامی موسم تبدیل ہوا ہے یا نہیں ۔انہوں نے صرف یہ اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ ان کے ہاں، ان کے وطن میں موسم بدل چکا ہو گا 
اور پھر سارے کے سارے
اپنے وقت پر ، اپنے وطن کی طرف پرواز کرجاتے ہیں
یہاں کا موسم بھلے بعد میں بدلتا رہے وہ نہیں رکتے ، ان کا معمول ہے
معمول نہیں بدلا کرتے
یہی حال انسانی زندگی کا ہے
جب اسے کسی شے کی طلب ہوتی ہے تو وہ اس کے لیۓ کوشش کرتا ہے
تگ ودو کرتا ہے ، ہر ذریعہ حصول کا استعمال کرتا ہے
مگر کامیابی نہ ہو تو فطری طور پر مایوسی کا بھی شکار ہو جاتا ہے
مگر جب وقت اس کو متبادل مہیٰا کر دیتا ہے تو وہ مطلوبہ شے کی طلب سے پیچھے ہٹ جاتا ہے - اور شے کی اہمیٰت اس کے نزدیک کم ہو جاتی ہے ــ وہ اس کی ضرورتوں سے نکل جاتی ہے اور اپنی اہمیت کھو دیتی ہے - بعد میں چاہے لاکھوں اس طرح کی چیزیں لا کر قدموں میں رکھ دی جایٰیں ـــ کوئی وقعت نہیں رکھتیں

سوموار، 26 ستمبر، 2016

بے ثمر زمانے سے / بے ثمر گئے تم بھی / ناصر ملک

ناصر ملک
اُس نگر گئے تم بھی
یار مر گئے تم بھی
ہجر کے تماشے میں
بھول کر گئے تم بھی
چارسُو اداسی ہے
اور گھر گئے تم بھی
بے ثمر زمانے سے
بے ثمر گئے تم بھی
فاصلے ڈراتے ہیں
اور ڈر گئے تم بھی
اِک طلسمِ شب جاگا
اِک گزر گئے تم بھی
(ناصر ملک)

جمعرات، 22 ستمبر، 2016

ہونا پڑا جو منتقل ، مجنوں کو شہر میں / یہ دشت یہ سراب مجھے دینا پڑ گیا / محمد سلیم طاہر

محمد سلیم طاہر
اک شخص کو جواب ، مجھے دینا پڑ گیا
تحفے میں اک گلاب ، مجھے دینا پر گیا
کرنا پڑی ادایٰیگی ، وعدوں کی ذیل میں
پچھلا بھی کچھ حساب مجھے دینا پڑ گیا
رکھ رکھ کے تنگ آ گیا تھا اپنے پاس میں
دل ، خانماں خراب مجھے دینا پڑ گیا
اپنے دل ِتباہ سے وہ بھی نہیں تھا خوش
اس کو بھی یہ عزاب مجھے دینا پڑ گیا
ہونا پڑا جو منتقل ، مجنوں کو شہر میں
یہ دشت یہ سراب مجھے دینا پڑ گیا
مدہوش دیکھتا رہا ساقی کی سمت میں
ہر جام کا حساب ، مجھے دینا پڑ گیا
یک لخت آ گیا وہ ، نگاہوں کے سامنے
آنکھوں کو اک حجاب مجھے دینا پڑ گیا


رّکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی / ملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہی / سبیلہ انعام صدیقی

سبیلہ انعام صدیقی
رّکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی
ملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہی
سیکھا ہے آدمی نے کئی تجربوں کے بعد
طو فان سے ہی ملتی ہے سا حل کی آگہی
اس کا خدا سے رابطہ ہی کچھ عجیب ہے
دنیا کہاں سمجھتی ہے سائل کی آگہی
نظروں کا اعتبار تو ہے پھر بھی میرا دل
ہے اک صحیفہ جس میں مسائل کی آگہی
دن رات جس کے پیار میں رہتی ہوں بے قرار
اس کو نہیں ہے کیوں دِلِ بسمل کی آگہی؟
یا دو ں کے اک ہجوم میں رہ کر پتہ چلا
تنہائی بھی تو رکھتی ہے محفل کی آگہی
خنجر کا اعتبار نہیں ، وہ تو صاف ہے
لیکن ملے گی خون سے قا تل کی آگہی
مشق ِ سُخنَ سبیلہؔ نکھارے گی فن کو اور
مطلوب ہے کچھ اور ابھی دل کی آگہی

بدھ، 21 ستمبر، 2016

کراچی میں آرٹس کونسل کا عید ملن مشاعرہ


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی لائبریری کمیٹی نے گذشتہ روز بزمِ سائبان اور بزمِ ظرافت کے تعاون سے عید ملن مشاعرے کا اہتمام کیا۔جس کی صدارت ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی،پروفیسر عنایت علی خان مہمانِ خصوصی تھے۔مہمانانِ اعزازی میں سید صغیر احمد جعفری،معروف شاعرہ صبیحہ صبا اور راشد نور شامل تھے۔محفلِ مشاعرہ میں  سحرحسن ، حمیدہ کشش ، صبیحہ صبا ، راشد نور ، سائل آزاد ، غلام علی وفا ، صغیراحمدجعفری ، سہیل احمد ، ڈاکٹرشاداب احسانی ، وقارزیدی ، مہتاب شاہ جی اورہدایت سائرنے اپنا کلام پیش کیا۔
دائیں سے سحرحسن ، حمیدہ کشش ، صبیحہ صبا ، راشد نور ، سائل آزاد ، غلام علی وفا ، صغیراحمدجعفری ، سہیل احمد ، ڈاکٹرشاداب احسانی ، وقارزیدی ، مہتاب شاہ جی اورہدایت سائر

منگل، 20 ستمبر، 2016

شہر کا شہر سوگیا کب کا / چاندنی شہر میں نکھر آئی/انور زاہدی

انور زاہدی
شام پھر صحن میں اتر آئی 
بام و در سے اداسی گھر آئی
کیسے گزرا تھا سوچ کے یہ دن 
کس طرح چھپ کے شب سنور آئی
گم ہوئے کیسے دن میں خد و خال 
رات میں نکھرے جب وہ در آئی
شہر کا شہر سوگیا کب کا 
چاندنی شہر میں نکھر آئی
آو انور ہو چاندنی سے وصال 
وہ گھٹا دیکھو فلک پر آئی 

منگل، 13 ستمبر، 2016

رات کی کہانی ہے (عارفہ شہزاد )

کوئی وہم ہے
دن کے کاندھوں کی
ساری رگیں کھینچتا جارہا ہے
مگر رات دوہری ہوئی ہے ہنسی سے
ہتھیلی پہ دھر کے
کوئی خواب آور سی ٹکیہ
بھرے جارہی ہے
یہ پھولا ہوا ایک تھیلا
فقط نیند کی دل لگی سے
مگر نیند کی کوکھ نیلی ہوئی ہے
کوئی زہر آلود ہے خواب
اعصاب میں بھر گیا ہے
کہو رات سے 
پھر ہنسے اور ہنستی چلی جائے
اپنے ہی ہذیان میں
دل مرا خواب میں،خواب سے ڈر گیا ہے
مگر آنکھ کھلتی نہیں ہے
عجب کپکپی ہے
کئی پوریں بھیگی ہوئی آنسووں میں
شناسا بھی ہیں اور کچھ اجنبی بھی۔۔۔
نہیں، ان میں چھونے کی سکت نہیں ہے
کسے چھو کے دیکھیں ؟
ہےعفریت کوئی
کوئی ہشت پا ہے
مرا جسم جکڑا ہو ا ہے
پسینے میں ڈوبا ہوا ہے 
اٹکتی ہیں سینے میں سانسیں
کرہ کوئی تاریک
یوں دائرہ اپنا پھیلائے جاتا ہے جیسے
ازل سے ابد کے
ہر اک راستے کو نگل جائے گا!
سب پگھل جائے گا 
اک تپش سے۔۔۔
جگاو
 مجھے کوئی جھنجوڑ کے
میری آنکھوں کی درزوں کو چیرو
اٹھا کے پٹخ دو زمیں پر
کھلے آنکھ میری
دنوں اور راتوں کا
ٹوٹا سرا جوڑنا ہے
مجھے آخری رات کی 
اس کہانی کا رخ موڑنا ہے
عارفہ شہزاد

اتوار، 11 ستمبر، 2016

عید قرباں جذبہِ ایثار کا اظہار ہے / ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی

عید قرباں جذبہِ ایثار کا اظہار ہے
یہ اطاعت کا خلیل اللہ کی معیار ہے
ہے یہ تسلیم و رضا کی ایک لافانی مثال
جان دینے کے لئے فرزند بھی تیار ہے
باپ کا حسنِ عمل بیٹے کا ذوقِ اتباع
اِس مثالی داستاں کا مرکزی کردار ہے
خانہئ کعبہ جہاں ہے اہلِ ایماں کا ہجوم
وہ مقدس سرزمیں اک مطلعِ انوار ہے
حجِ بیت اللہ کی جس کو سعادت ہے نصیب
فضلِ حق سے اُس کی راہِ مغفرت ہموار ہے
ہے یہ تاریخی حقیقت زیبِ تاریخ جہاں 
آگ بھی معمارِ کعبہ کے لئے گُلزار ہے
روح پرور ہیں سبھی ارکان برقیؔ اعظمی
اس حقیقت سے بھلا کس شخص کو انکار ہے

جمعرات، 8 ستمبر، 2016

مجھ کو درکار آسرا ہے تِرا / پار کشتی مرِی لگانے میں / درخشاں صدیقی (کینیڈا)

درخشاں صدیقی
عمر کٹ جائے آستانے میں
ذِکر کی محفلیں سجانے میں
یوں ہی ہوتا رہے کرم مولا
اپنے در پر ہمیں بلانے میں
مجھ کو درکار آسرا ہے تِرا
پار کشتی مرِی لگانے میں
حوصلہ بھی بڑھا دیا تونے
شمع بھی اِک نئی جلانے میں
شاملِ حال ہو کرم تیرا
بات بگڑی مرِی بنانے میں
مجھ پہ مولا رہے کرم کی نظر
بخش دینا تو آزمانے میں
ہر ثنا تیری میرے دل پہ رقم
میرے دل کے کتاب خانے میں
مانگتی تجھ سے ہے درخشاںؔ وہ 
ہے جو سب کچھ تِرے خزانے میں

ہفتہ، 3 ستمبر، 2016

روحزن ۔۔ رحمنٰ عباس کے قلم کی بیباکی میں ہی ان کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے

روحزن

ناول زندگی کے ان معنی کا ابلاغ کراتا ہے جو الفاظ، فقروں اور جملوں کی بجائے واقعات، کرداروں اور ان کی ترتیب اور آہنگ سے ادا ہوتے ہیں۔ناول کے واقعات میں گہرے معنی پنہاں ہوتے ہیں، ان کا انتخاب، ان کا دوسرے واقعات سے آہنگ اور تضاد،ان کا ایک ترتیبی مقام، ایک نظریہ یا فلسفہِ حیات یا زندگی کے بے پناہ معنی سامنے لا سکتا ہے۔اسی طرح کردار نگاری کا فن برصغیر میں پریم چند سے پہلے ناپید تھا۔پھر پڑھنے  والے کو معلوم ہوا کہ جہاں جس مرد کا بھی ذکر نام کے ساتھ آجائے وہ کردار ہو جاتا ہے۔کردار کس طرح زندگی کے اہم معنی ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:
مری صدائے دو رنگی کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم راز درونِ مے خانہ

ان کے الفاظ، فقرے اور جملے ہمیں لطف دینے کے علاؤہ ایک فکر کے عالم میں لے جاتے ہیں جہاں ہمیں رازِ دروں سے آگاہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ناول نگار بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا قصہ محض دلچسپ ہی  نہیں ہے  بلکہ اس نے اس کے ذریعے زندگی کے معنی کا ابلاغ کرایا ہے۔ انیسویں صدی کے آخری دس سال میں یورپ میں سوشل ناول کی ایک قسم ابھری اور اس کی پیروی برصغیر میں پریم چند نے کی۔گوئٹے جو ادب کی ہر صنف میں معنی خیزی کا نمائندہ ہے اور دو معنی خیز ناولوں کا مصنف بھی، وہ کہتا ہے کہ ادب سے فلسفہ بالکل غائب ہو جانا چاہیئے اور وہ اگر ملے بھی تو صرف انہیں جو فلسفہ ڈھونڈنے کے متلاشی ہوں۔
ناول نگارکے ذھن کی فطری سطح کو بلند ہونا چاہئیے۔یہ بلندی شرافتِ نفس، پیدائشی ذہانت اور قوتِ تخیل، بچپن کے ماحول اور اس کی تہذیبی بلندی اور تعلیم (جس کے معنی محض ڈگریوں کا حصول نہیں بلکہ ہر قسم کا علم اپنے دل کی تسلی کے لئے حاصل کرنا ہے) اور مخصوص فکری رحجان سے حاصل ہوتی ہے۔اگر ہم اسے ناول کی بنیاد قرار دیں تو ایسا ناول نگار جو قصہ بیان کرے گا اور جو کردار سامنے لائے گا ان میں دلچسپی کے علاوہ بڑے معنی پوشیدہ ہوں گے۔
اس وقت ہمارے  پیشِ نظر ہندوستان کے نوعمر ناولسٹ رحمنٰ عباس کا چوتھا ناول،،روحزن،، ہے۔ناول کے اختتام پر ایک نوٹ کے ذریعے رحمنٰ عباس  نے وضاحت کی ہے کہ،،روح اورحزن کی آواز نیز ان الفاظ کے معنی، لفظ،، روحزن کی تشکیل کے وقت میرے ذہن میں تھے لیکن اس لفظ کو روح اور حزن کا مرکب نہ سمجھا جائے۔روحزن بطور سالم لفظ ایک ذہنی،جذباتی اور نفسیاتی صورت حال کو پیش کرتا ہے۔ناول اس کیفیت کی پیش کش کے ساتھ ایک نئے لفظ کو صورت عطا کرنے کی کوشش ہے۔،،
ناول فلیش بیک تکنیک میں لکھا گیا ہے۔ناول کا آغازاس فقرے سے کیا گیا ہے،،اسرار اور حنا کی زندگی کا وہ آخری دن تھا،،یہی ناول کا اختتام ہے۔ اس اختتامیے کے اول و آخر اندراج کے درمیان ناول کی پوری کہانی بکھری پڑی ہے،ناول نگار اسرار کے مضبوط کردار کے ذریعے کہانی کو لے کر آگے بڑھتا ہے۔ناول میں سمندر دوسرا اہم کردار ہے جس  کے جوار بھاٹا کے اثرات ناول کے مرکزی کردار پر سارے ناول میں دیکھے جا سکتے ہیں۔سمندر کی یہی جوالا مکھی اسرار کی ذات میں بچپن سے راسخ ہو جاتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سمندر کا اتار چڑہاؤ،اسرار دیشمکھ میں ساری زندگی موجزن رہتا ہے۔رحمنٰ عباس نے اس کردار کو ایسا ہی تخلیق کیا ہے۔اس کردار کے ساتھ زندگی میں دوسرے کردار آتے ہی بچھڑنے کیلئے ہیں یا سیکس کرنے کے لئے،اسرار شاید راسپوٹین ہے  یا شاید رحمنٰ عباس  ممبئی  کا ماحول ایسا ہی دکھانا چاہ رہا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا اس لئے ہو کہ جس ماحول میں یہ ناول تخلیق پایا ہے وہاں کے قاری ریشم میں لپٹی سیکس سے حز اٹھاتے ہوں۔شاید منٹو بھی اس لئے بکتا ہے کہ وہ انسانی نفسیات کی گتھیاں سیکس میں سلجھاتا ہے۔روحزن کا یہ کردار،کبھی مس جمیلہ پر اپنے نفس کا اظہار کرتا ہے کہ رحمنٰ عباس کے نزدیک،،خواہش آدم کی مٹی کا کلیدی عنصر ہے، یہی کردار انسانی جسموں کی منڈی کماٹی پورہ میں پہلی بار جنس آشنا ہوتا ہے۔اس جیسی صورتحال کا اظہاریہ بہت  خوبصور ت  ہے،،محمد علی اسرار کی کیفیت سمجھ رہا تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کھولی میں شام گئے اگر کوئی دو ڈھائی گھنٹے لیٹ ہو جاتا ہے تو عموماََ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کماٹی پورہ کی نیم تاریک کھولیوں میں اپنی رگوں کا لاوا تھوک  کر آ رہا ہے۔،،
ناول،جیسا کہ میں نے کہا آدمی کی زندگی،ثقافت،معاشرت اور نفسیات کے پس منظر میں اس کی جذباتی گتھیوں کی تہہ در تہہ پھیلی دنیا اور اس کے رشتوں کی پیچیدہ اور مبہم کیفیتوں کو گرفت میں لانے سے عبارت ہے۔رحمن عباس  نے روحزن میں انسانی جذباتی گتھیوں کو صرف اور صرف جنس سے تعبیر کیا ہے۔                              
رحمن عباس اس سے پہلے تین ناول دے چکے ہیں۔ ان کا پہلا ناول نخلستان تھا جو سن 2004 میں شائع ہوا دوسرا، ایک ممنوعہ محبت کی کہانی تھا جو 2009ء میں چھپاجبکہ تیسرا ناول،خدا کے سائے میں آنکھ مچولی تھا۔ اایک ممنوعہ محبت کی کہانی نامی ناول کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ رحمن عباس کے اس ناول میں منٹو کی طرح انسانی نفسیات کا گہرا شعور پایا جاتا ہے۔انہیں الجھنوں سے زیادہ دلچسپی ہے۔عام انسان کی فطری کمزوریوں اور پستیوں کارحمنٰ عباس  خوب علم رکھتے ہیں۔اس ناول میں انسانی نا آسودگیوں کے معاملات و مسائل اور ان کے پسِ ِپردہ عمل اور ردِعمل کے طور پر فطری آسودگی کے لئے سیاہ کاریوں میں ہوتے عوامل کی آگہی  ملتی ہے۔
 رحمن عباس کے نئے  ناو ل،، روحزن،، میں لکھنے کاسابقہ ناولوں کا سا بے ساختہ پن پایا جاتا ہے روانی اور سلاست اتنی ہے کہ انسان بس پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔کردار و واقعات کی ترتیب ایسی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول زندگی کے ان معنی کا ابلاغ کراتا ہے جو الفاظ، فقروں اور جملوں کی بجائے واقعات، کردار اور ان کی ترتیب اور آہنگ سے ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ناول کے واقعات میں گہرے معنی پنہاں ہیں، ان کا انتخاب، ان کا دوسرے واقعات سے آہنگ اور تضاد،ان کا ایک ترتیبی مقام،ایک نظریہ یا فلسفہِ حیات یا زندگی کے بے پناہ معنی سامنے لا سکتا ہے۔ہم نے کہا نا کہ نا آسودگی  اور تشنہ جذبات جو اثر دکھاتے ہیں رحمنٰ عباس نے بڑے دحیمے سے انداز میں میں ان کا اپنے کرداروں کے ذریعے ابلاغ کرایا ہے۔ اس نے اگر چہ تشبہ استعارے سے کام نہیں لیا لیکن صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق کرداروں اور واقعات کے ذریعے معنی کا ایک وسیع سمندر پیش کر دیا۔
 اگرچہ ناول میں بے شمار کردار ہیں لیکن اسرار،حنا،شانتی اور مس جمیلہ کے کرداروں کے ذریعے وہ نا آسودہ جنس کی کہانی بیان کرگئے ہیں۔ رحمنٰ عباس کو ایک متنازعہ قلم کار کہا جاتا ہے لیکن ان کے قلم کی بیباکی میں ہی ان کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ ہمیں ایک بات پر تعجب ہے کہ جتنے بھی نامور بولڈ قلمکار اردو ادب میں سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب مسلمان ہیں، مثال کے طور پر عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، مشرف عالم ذوقی، ڈاکٹر بلند اقبال اوراب رحمنٰ عباس۔ کیا وجہ ہے اردو ادب میں کسی دوسرے مذہب کے لکھاری اس قدر معاشرت سدھار پیدا نہیں ہوئے؟۔ ناول کا اسلوب سابقہ ناولوں کا سا ہی ہے،تحریر رواں اور جاندار ہے لیکن مذہب کے بارے میں رحمنٰ عباس کو لکھتے ہوئے کچھ سوچنا چاہیئے۔ان کے ہندو معاشرے میں رہتے ہوئے مذہب سے ایسا برتاؤ یہ کہتا محسوس ہوتا ہے کہ رحمنٰ عباس ہندو معاشرے کے زیرِ اثر لکھنے والا قلمکار ہے۔