ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 24 نومبر، 2013

نوید ملک کی کامنی


نوید ملک جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان شاعر ہے جو کامنی کے عنوان سے اپنے دوسرے نظمیہ شاعری کےمجموعے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ نوید ملک کے پہلے مجموعہ شاعری،اک سفر اندھ امریکہ کے تخیل پرست شاعر،ایڈگر ایلن پو، کی طرح دکھائی دیا تھا۔ کامنی میں،نفس، ذھن اور ادراک وہ زمین ہے جس میں نوید ملک کے فن کے پھول کھلتے ہیں۔
قلم اداس تھا الفاظ بھی پریشاں تھے
دیارِ حرف میں کوئی دیا، جلا نہیں تھا
یہ تب کی بات ہے کوئی غزل ہوئی نہیں تھی
ترا جمال کسی شعر میں ڈھلا نہیں تھا
شاعری میں پہلی ترجیح غزل ہوتی ہے،لیکن نوید ملک کی کامنی نے اس کے دل و ذھن پر اس سایہ کیا تھا جب ابھی ابتدائے



عشق تھی،اس کا حسن و جمال کا پیکر کھینچتے ہوئے الفاظ ابھی پریشان تھے،کوئی غزل نہیں کہی تھی۔ کامنی کا پیکر اتنا وسیع تھا کہ غزل کے دو مصرعے اس کا سراپا کھینچنے سے قاصر تھے،یہی وجہ ہے کہ کامنی کو سامنے لانے کے لئے نوید ملک کو ریاضت کی چکی میں پسنا پڑا اور اس نے روایت کے مطابق غزل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ایک سفر اندھیرے میں کیا جس نے اس کی لفظیات میں ناصرف اضافہ کیا بلکہ اسے کامنی کا پیکر تراشنے کا ہنر سکھایا۔ کامنی نوید ملک کے اندر بسنے والی دنیا کی رانی ہے جو اس کی محبتوں،نفرتوں،پسند نا پسند کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ نظم تخصیص کا عمل ہے۔جہاں معنی اور گرداب کی تلاش ہے،نظم،دریافت،بازیافت اور طویل فکری مسافت کی ایسی تخلیقی سرگرمی ہے جس میں مقامیت سے آفاقیت کے تحت تمام زاویے سمٹ آتے ہیں۔نظم ہر عہد میں موضوع اور اظہار دونوں سطح پر اپنا پیرہن بدلتی رہی ہے، اپنی خاص ہیت کی بندش کے برعکس نظم سرعت سے نئے آفاق اور جہات کی طرف سرگرمِ عمل ہے۔اٹھارویں صدی کے آغاز سے انیسویں صدی کے وسط تک تقریباَ ڈیڑھ سو سال کا عرصہ اردو شاعری کے ارتقا کا زمانہ ہے، غالب کا عہد گذشتہ ڈیڑھ سو سال کی شاعری کا حرفِ اختتام ہے۔اس کے بعد اردو شاعری نئی جہتوں اور نئے سانچوں کی دریافت کے ساتھ بیسویں صدی تک پہنچ رہی ہے۔جب نظم کا لفظ شاعری کی مخصوص صنف کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد اشعار کا ایسا مجموعہ ہے جو مرکزی موضوع اور ارتقائے خیال کے سبب تسلسل کا احساس پیدا کرے۔نظیر اکبرآبادی نظم کے اسی تصور کو لے کر اٹھے یعنی غزل سے نظم کی جانب بدلاؤ کا عمل تو شروع ہو گیا تھا ان کے بعد حالی اور آزاد نے شعراء کو باقاعدہ نظم کہنے پر اکسایا،ان کے علاعہ مولوی نذیر احمد،اسماعیل میرٹھی،شبلی نعمانی،اکبرالہآبادی،نظم طباطبائی،ظفرعلی خاں،جوش ملیح آبادی،اختر شیرانی،حفیظ جالندھری،مجید امجد،ن م راشد،میرا جی،افتخار جالب، جیلانی کامران کے بعد 90 کی دہائی میں نظم کا چوتھا دور شروع ہوا اسی دور کے جن شعرا نے نظم کی جانب توجہ دی ان میں نوید ملک بھی شامل ہیں، ان کی نظموں میں اظہار کا لہجہ ایسا آہنگ لئے ہوئے ہے جو حسنِ فطرت سے تشکیل پاتا ہے۔ تخلیقی عمل اپنی ہر اظہاری صورت میں اظہارِ ذات ہے۔ شاعر تخلیقی عمل کے ساتھ کلی طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے یا تو اس نے شعوری احساس سے تخلیقی عمل کے تحرک میں خود کو ملفوف کر لیا ہوتا ہے ورنہ یہ اس پر حاوی ہو کر اسے یوں آلہ کار بناتا ہے کہ تخلیق کا شعوری احساس بھی نہیں رہتا اس صورت میں وہ خود ہی تخلیقی عمل بن جاتا ہے۔ نوید ملک اپنی نظم، کبھی انسان بدلے گا، میں کہتا ہے:
سنا ہے کوئی تبدیلی زمیں پر آنے والی ہے
ستارے ٹوٹ کر ماتم کریں گے
زمیں طوفان اگلے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری عقل گردش کر رہی ہے جن مداروں میں
وہ سارے ٹوٹ جائیں گے
مگر انسان۔۔۔۔یہ انسان بدلے گا؟ اپنی معنویت کے اعتبار سے یہ نظم آج کے حالات کا قطب نما ہے سمندر نے کئی سونامی اگل دئیے ہیں،بہت سے دائرے اپنی جگہ تبدیل کر کے نئے منظر بنا چکے،جب کوئی ادیب اپنے ادردگرد کے حالات کو محسوس کرتا ہے تو انہیں اپنی تخلیق میں سمو دیتا ہے،یہی تخلیقی عمل اظہارِذات ہے یا اسے ایسا کہہ سکتے ہیں کے وہ خود تخلیقی عمل بن گیا ہے اور اسے اس کا ادراک نہیں ہے۔نوید ملک کی یہ نظم دیکھا جائے تو پاکستان کے انتخابی عمل کا احاطہ بھی کر رہی ہے اور دنیا میں وقوع پذیر واقعات کی غماز بھی ہے۔شاعر کو شاید یہ خود بھی احساس نہ ہو کہ وہ کس طرح تخلیقی عمل کا حصہ بن گیا ہے۔ نوید ملک کی شاعری کی اساس، اندھیرے، خوشبو اور وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ سے عبارت ہے۔ نوید ملک کہتا ہے:
یہ دنیا ایک لڑکی ہے
کہ جس کے حسن پر ہر ایک مرتا ہے
اور اس کی جستجو میں
لوگ سارے ہو گئے اندھے
زمانے کتنے مدفن ہیں
نہ جانے اس کی سانسوں میں
نہ جانے کتنے خوابوں کی ہیں
لاشیں اس کی باہوں میں۔۔۔۔۔۔ کیا کامنی نوید ملک کے من مندر کی رانی ہے، یا جس دنیا میں نوید ملک سانس لے رہا ہے جہاں ہر طرف آہ و بکا ہے اسے اس نے کامنی کا نام دیا ہے۔یہ فقط ذات کا تجربہ ہے یا کائنات کو نوید ملک نے کامنی کا نام دے دیا ہے۔یہ سوچنا تو نوید ملک کے قاری کا کام ہے ہم تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ کامنی کی شاعری پڑھتے ہوئے نوید ملک ایک مختلف انسان اور ایک منفرد شاعر نظر آیا جو ہمیں ایک سفر اندھیرے میں نظر نہیں آتا۔ نوید ملک کی شاعری کا بدلاؤ یہ بھی ظاہر کر رہا ہے کہ نوے کی دہائی میں اردو نظم کو جو چوتھا قافلہ ہمارے ادب میں چلا اس قافلے کا ایک فرد نوید ملک بھی ہے۔جیسا کہ ہم نے پہلے کہا نوید ملک کے پہلے مجموعہ کلام کی طرح کامنی میں بھی ایڈگر ایلن پو کے تخیل کی عملی تصویر کی جھلک نظر آتی ہے لیکن ذرا پختگی کے ساتھ۔شاعری اسے ودیعت ہوئی ہے۔ وہ سچا اور کھرا اوریجنل شاعر ہے۔ نوید ملک آج کے دور کا شاعر ہے وہ روایت پسند نہیں ہے۔وہ من کا سچا،ہے اس لئے جو محسوس کرتا ہے اسے خلوص، محبت اور اپنائیت سے آپ کے سامنے کھول کر بیان کر دیتا ہے۔اس کی بعض نظمیں حالاتِ حاضرہ کا پرتو محسوس ہوتی ہیں۔لیکن آئیئے اس کی نظم کامنی کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں:
ریگِ صحرا کا جب تھا ہمیں سامنا
میں بھی تنہا تھا تم بھی اکیلی ہی تھی
ہم بگولوں میں الجھے ہوئے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم سفر
ایک دوجے کی باہوں میں آ کر گرے
ایک اوی ایک دو ہو گئے
کیا تمہیں یاد ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو اگنور کر دو پرانی کتھا
اب بگولوں کی زد میں نہیں
یک دوجے کو تفریق کرنے کا وقت آگیا
تم جہاں بھی رہو۔۔۔کامنی۔۔خوش رہو Share This ... Share This

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں