ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 21 نومبر، 2016

ناز بٹ کی نظم،سوال

ناز بٹ
 خُداوندا ! تری مرضی ۔۔
تُو جب چاہے ۔۔ جسے چاہے
اُسے صحرا کی جلتی ریت پر لا کر کھڑا کر دے
لب ِ دریا کسی کی پیاس کا تُو امتحاں لےلے
کہیں پتھر کا سینہ چیر کر چشمے نکالے تو کسی کی پیاس کی خاطر زمیں دریا بہا ڈالے
کئی میلوں مسافت پر یہ پھیلی بستیاں اپنی
زمانے لگ گئے جن کو بسانے میں۔۔ سجانے میں
وہ اِک پل میں مٹا ڈالے
خداوندا! تری مرضی!
تو قرنوں بعد بھی ملبے تلے سوئی ہوئی بے جان سانسوں کو رواں کر دے
انہیں زندہ نشاں کر دے
بپھر جائیں اگر موجیں
سمندر بُرد ہوجائیں سفینوں پر سفینے 
۔۔۔۔۔۔پانیوں میں جب اُچھال آئے
جسے چاہے بچانا تُو
اُسے ساحل پہ صدیوں بعد اِک مچھلی اُگل جائے !
کبھی چھوٹی سی چنگاری کو شعلوں میں بدل کر تُو جلا ڈالے سبھی آنگن!
جو تو چاہے تو شعلوں کو گُل و گلزار بھی کر دے!
کسی کا چاک ہو سینہ ، کلیجہ چیر کر دانتوں سے وحشت رقص میں آئے
خُدا ونداتری مرضی !
جسے تونے بچانا ہو ،اسے صحرا سے نخلستان کے سائے میں لے آئے
خداوندا ! دُھائی ہے ۔۔۔!!
بدن اب بھی اُدھڑتے ہیں۔۔۔۔ سسکتے ہیں۔۔۔۔! بلکتے ہیں!
سُلگتی بے کفن لاشیں فضا میں بین کرتی ہیں
کلیجہ منہ کو آتا ہے۔۔۔
یہ خُون آلود منظر آنکھ سے دیکھے نہیں جاتے
مرے مالک۔۔۔مرے داتا! نہیں شکوہ مجھے تجھ سے
مگر اتنا تو بتلا دے
تنے میں اب درختوں کے پناھیں کیوں نہیں ملتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
سہارا دینے والی نرم بانہیں کیوں نہیں ملتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ "
( ناز بٹ 

2 تبصرے: