ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

منگل، 1 نومبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (چوتھی قسط) / رضاالحق صدیقی

تاریخ اور سائنس کی دنیا میں


واشنگٹن ڈی سی میں سے گزر کر ورجینیا جانا کئی بار ہوچکا تھا اور ایسا شام کے وقت عدیل کے آفس سے آنے پر ہوتا تھا۔ رات کے وقت جگمگاتی روشنیوں میں امریکہ کا دارالحکومت بڑا خوش رنگ نظر آتا لیکن کوئی قابل دید چیز اندر سے نہیں دیکھی جاسکتی تھی۔ عدیل ہمیں وہاں کے بہت سے مقامات کی سیر کراچکا تھا۔ عید کے روز ہمیں نماز کی ادائیگی کے لئے پھر ورجینیا جانا تھا۔ وہاں سارا امریکہ کھلا ہوتا ہے کہ عید ان کا تہوار نہیں ہے لیکن مسلمان ملازمین اپنے تہواروں پر چھٹی کرسکتے ہیں۔ عید کے لئے عدیل نے بھی چھٹی کی ہوئی تھی۔ چاند رات کو بھی ہم واشنگٹن گئے تھے، بہت سے مقامات اس روز دیکھ لئے تھے۔ اب پروگرام یہ بنا کہ ورجینیا میں نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا وہیں کھانے کے بعد واپسی پر واشنگٹن کے باقی ماندہ مقامات کی سیر کرلی جائے۔
نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم تاریخی ایئر کرافٹ اینڈ اسپیس کرافٹ کا دنیا بھر میں سب سے بڑا اور نادر نمونہ ہے۔ اسے ہسٹری اور سائنس آف ایوی ایشن اور اسپیس فلائیٹ کے علاوہ پلینٹری سائنس کی تحقیق کے مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔ اسے سن 1946ء میں قائم کیا گیا اور اس کی مرکزی بلڈنگ کو 30 سال بعد سن 1976ء میں عوام کے لئے کھولا گیا۔ سن 2014ء میں اس میوزیم کو 67 لاکھ افراد نے دیکھا جس نے اسے دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پانچواں میوزیم بنا دیا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے تاریخ اور سائنس میں کبھی دلچسپی نہیں رہی اور ناں میں سائنس کا طالب علم رہا ہوں۔ مجھے آثار قدیمہ اور عجائب گھروں میں بھی دلچسپی نہیں رہی۔ عدم دلچسپی کی وجہ تو شاید نوعمری میں ہڑپہ کے تاریخ ساز کھنڈرات سے کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی اشیاء پر مشتمل میوزیم کی بے ثباتی دیکھ کر ہوئی۔ اس میوزیم میں کھدائی کے وقت جو کچھ دریافت ہوا، وہ موجود رہا ہوگا لیکن جب ہم نے اسے دیکھا تو وہ اجڑی ہوئی دلی کی مانند نظر آیا۔
یہ امریکہ ہے، یہاں کے لوگ اپنی تاریخ بنانا بھی جانتے ہیں اور سنبھالنا بھی، اسی چیز نے مجھے نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم دیکھنے پر اکسایا۔ میوزیم کے باہر میں نے عدیل سے کہا بھی کہ کہیں اور چلتے ہیں، یہاں کیا دھرا ہوگا؟ لیکن وہ کہنے لگا آپ چلیں تو سہی اور ہم میوزیم میں داخل ہوگئے۔ اندر کی دنیا ہی عجیب تھی، ایک جانب چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان اور چاند پر جانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تاریخ مجسم کی گئی تھی اور ایک حصہ آسمان پر چمکنے والے سیاروں اور ستاروں کے بارے میں تھا۔
ارے یہ کیا؟ سائیکل کی ایجاد اور اس کے موجد کی سائیکل کمپنی کا حصہ؟ ہمیں ہنسی آگئی کہ بھلا اس کا حصہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ عدیل کہنے لگا یہی تو اس میوزیم کی خاص چیز ہے۔ رائیٹ برادران کی سائیکل کمپنی۔ جس نے انسانی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ رائیٹ برادران؟
وہی جنہوں نے جہاز بنایا لیکن سائیکل کمپنی؟
میں نے خود سے با آواز بلند سوال کیا؟
یہ شاید زمانہِ طالب علمی میں سطحی طور پڑھی ہوئی باتوں کا لاشعور سے شعور میں آنے کا عمل تھا جس نے مجھے سوال کرنے پر اکسایا۔
جی پاپا، وہی رائیٹ برادران، عدیل کا تازہ علم میرے لاشعور کی تائید کرگیا۔
اورول رائیٹ اور ولبر رائیٹ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے پہلی بار زمین کی بیڑیوں کو اتار پھینکا اور ستاروں کی جانب چھلانگ لگائی تھی۔ انہوں نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا تھا، تہذیب انسانی اس کارنامے کے بعد ایک انقلاب سے گزری۔
وہ تاریخ کا ایک عظیم دن تھا جب اورول رائیٹ نے اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں واقع ایک لائبریری میں قدم رکھا۔ کتابوں کی الماری کی جانب بڑھا اور ایک کتاب اٹھائی۔ یہ کتاب ایک جرمن باشندے لیلیئن تھل کی داستان حیات تھی جس نے ایک بڑی پتنگ کے ذریعے اڑنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ میں شیشے کے فریم میں لکھی یہ داستاں عظیم پڑھ رہا تھا جس میں آگے ان بھائیوں کے کارنامے کی مزید تفصیلات درج تھیں۔
عدیل کہنے لگا، پہلے اندر آنہیں رہے تھے اب یہاں سے ہل نہیں رہے ہیں۔ آپ آرام سے پڑھیں ساری چیزوں کو دیکھیں۔ ہم یہیں میوزیم میں ہی ہیں لیکن اتنی دیر بھی نہ لگا دینا کہ باقی چیزیں دیکھنے سے رہ جائیں۔ میوزیم 6 بجے بند ہوجاتا ہے۔
میں ہنس دیا اور پھر پڑھنے لگا، مجھے پھر پتہ نہیں لگا کہ وہ کس وقت وہاں سے چلے گئے۔ اس داستانِ عظیم میں درج تھا کہ اس جرمن باشندے نے انجن استعمال نہیں کیا تھا لیکن اُڑا ضرور تھا۔ وہ ایک تاریخ ساز رات تھی جس میں اورول رائیٹ، لیلیئن تھل کی داستان میں کھویا اس بات پر غور کرتا رہا کہ وہ اُڑا کیسے تھا۔ اُس رات کے غور و فکر نے تہذیبِ انسانی میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔ اورول نے اپنے بھائی ولبر رائٹ کے دل میں بھی شوق کی چنگاری جگا دی تھی اور پھر رائیٹ برادران ایک ایسے کام میں جت گئے جو ہوائی جہاز کی ایجاد پر منتج ہوا اور ان کا نام لافانی کرگیا۔
اوہائیو میں اُس وقت اِسے ایک چھوٹا سا کام سمجھا گیا، بلکہ اُن کی کوششوں کو ناممکن بتایا گیا لیکن ساتھ ہی ساتھ لوگوں میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ رائیٹ برادران نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان اُڑ سکتا ہے۔ پھر وہ دن آگیا۔ لوگ اُن کے دعویٰ کو ناممکن ہوتا دیکھنے اور پھر اُن کا مذاق اڑانے کے لئے جمع ہوچکے تھے لیکن یہ کچھ زیادہ لوگ نہیں تھے۔ صرف پانچ افراد تھے جن میں ایک فوٹو گرافر بھی تھا جس نے انسان کی پہلی اُڑان کی تصویر بنائی تھی۔ یہ واقعہ 17 دسمبر 1903ء کی صبح کے 10 بج کر 35 منٹ پر اورول رائیٹ گرجتے جہاز پر سوار ہوا اور پیٹ کے بل لیٹ گیا اور تار کھیچ کر اس نے اپنے فلائر کی بریکیں اٹھا دیں۔ اُن کی یہ فلائنگ مشین غرائی اور کھانستی ہوئی ہوا میں بلند ہوئی۔ انجن کے ایگزاسٹ سے شعلے لپک رہے تھے، مشین صرف بارہ سیکنڈ کے لئے نیچے، اوپر ہچکولے کھاتے آگے بڑھی اور 120 فٹ تک اڑنے کے بعد زمیں پر گرگئی۔ اِس پرواز کی رفتار صرف 6.8 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ اس تجربے کے بعد اگلی دو پروازوں میں فاصلہ بالترتیب 175 فٹ اور200 فٹ رہا اور ان کی سطح زمین سے بلندی 10 فٹ رہی۔ اُن کی چوتھی پرواز 852 فٹ تک گئی اور یہ 59 سیکنڈز تک اڑتی رہی۔
سن 1903ء کی پہلی کامیاب پرواز کے بعد رائیٹ برادران کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے اور ان کی جدوجہد جاری رہی۔ سن 1905ء میں وہ ایسا جہاز بنانے میں کامیاب ہوئے جو ایک وقت میں آدھے گھنٹے تک اڑسکتا تھا۔ سن 1908ء میں اورول رائیٹ نے دنیا کی پہلی پرواز ورجینیا کے فورٹ میئر میں امریکن آرمی کو دکھانے کے لئے کی۔ امریکن آرمی نے رائیٹ برادران کے جہاز کو دنیا کا پہلا فوجی جہاز قرار دے دیا۔ اُسی سال رائیٹ برادران نے لی منز، فرانس کے نزدیک سو پروازیں کیں جس میں سب سے لمبی پرواز نے 31 دسمبر کو اڑان بھری جس کا دورانیہ 2 گھنٹے اور19منٹ تھا۔
ابھی میں نوٹس لے ہی رہا تھا کہ عدیل نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے اس محویت سے نکالا اور کہنے لگا، آپ نے ابھی تک میوزیم کا یہ حصہ بھی مکمل نہیں دکھا ہم پورا میوزیم گھوم آئے۔ میں نے انہیں کہا بس تھوڑی دیر اور۔۔۔
میں پلٹ تو گیا ہی تھا، میں نے دیکھا کہ اس جہاز کا ریپلیکا سامنے رکھا ہوا تھا اس میں اورول رائیٹ اسی طرح لیٹا دکھایا گیا تھا جیسا کہ تاریخ میں بتایا جاتا ہے۔ میں جہاز کے ریپلیکا کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اب اورول رائیٹ میرے سامنے تھا، میں نے اسے اُس کے کارنامے پر سیلیوٹ کیا۔ اگر اس نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو میں پاکستان سے 8 ہزار میل کا سفر طے کرکے امریکہ کیسے پہنچتا؟
وہاں سے نکلے تو ساتھ ہی سیاروں اور ستاروں کی دنیا آباد تھی۔ اِس دنیا میں داخل ہوئے تو ایک گلیکسی ہمارے سامنے تھی۔ ہر سیارے کو اِس کی جسامت کے مطابق دکھایا گیا تھا۔ ان سیاروں کی ترتیب میں ہماری چھوٹی سی دنیا بھی نظر آرہی تھی جو غالباََ اپنی جسامت کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے۔ یہاں بھی چاند پر جانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ریکارڈ بتایا گیا تھا۔ خلا بازوں کے لباس بھی سجے ہوئے تھے۔ میں میوزیم کے اس حصے میں آکر سوچ رہا تھا کہ اس حصے کا مطالعہ تو مریم کو کرنا چاہیئے تھا۔
مریم سلطانہ ہماری بھانجی ہے۔ کراچی میں اردو یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔ ابھی گزشتہ سال ہی اُس نے ایڈوانس اسٹرو فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہے اور وہ پہلی خاتون ہے جس نے یہ ڈگری حاصل کی۔ میوزیم کا یہ حصہ اس کے بڑے کام کا تھا۔ ہمیں اسٹرو فزکس کا تو کوئی اتنا خاص علم نہیں ہے، ہاں اسٹرالوجی میں کچھ شدبد کی وجہ سے یہ حصہ بھی ہماری دلچسپی کا مرکز تھا۔ کبھی کبھی ستاروں کی چال دیکھ کر ملکی سیاست کا جائزہ ضرور لے لیا کرتے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات سے پہلے ہمارا اسی حوالے سے جائزہ تھا جو ایک کالم کی شکل میں ایک اخبار میں شائع بھی ہوا تھا کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے ستارے جون 2017ء کے بعد عروج پر ہوں گے۔ اس سے پہلے ان کی تمام کوششیں سعی لاحاصل ثابت ہوں گی اور وقت نے ہماری بات کو درست ثابت کیا ہے۔
وہاں سے نکلے تو سامنے ہی شہرہ آفاق ڈرون کا سامنا ہوگیا۔ ڈرون طیارہ اِس وقت بڑی معصومیت سے لٹکا ہوا تھا۔ اُسے دیکھتے ہوئے ہم نے دل ہی دل میں کہا اچھا یہ ہے وہ ڈرون جس نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اس ڈرون نے جو تباہی مچائی اس سے پاکستانی قوم شدید نالاں رہی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2004ء سے اب تک پاکستان میں 330 ڈرون حملے کئے گئے جن میں 2200ء سے زائد افراد جان بحق ہوئے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کا آغاز سن 2004ء میں ہوا۔ اُس سال صرف ایک حملہ ہوا جس میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔ سن 2005ء میں تین حملے، 13 افراد ہلاک، سن 2006ء میں چار حملے 7 جاں بحق، سن 2007ء میں چار حملے ہوئے جن میں 48 افراد، سن 2008ء میں ڈرون حملوں میں اضافہ ہوگیا اور 36 حملوں میں 219 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2009ء میں54 حملوں میں 350 افراد جبکہ سن 2010ء میں سب سے زیادہ یعنی 122 ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 608 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ سن 2011ء میں 72 حملوں میں 256 افراد، سن 2012ء میں 48 حملے 222 ہلاکتیں ہوئیں۔ صدر بش کے زمانے میں پاکستان میں 52 ڈرون حملے ہوئے جبکہ اوباما کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد 314 ڈرون حملے ہوئے۔
اب تو ہم خود ڈرون کے معاملے میں خود کفیل ہوچکے ہیں۔ فوج دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے جس میں پاکستانی ڈرون بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم نے ابھی کچھ دیر پہلے رائیٹ برادران کو سیلیوٹ پیش کیا تھا کہ اگر انہوں نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو ہم تاریخ میں آج کس مقام پر کھڑے ہوتے۔ لیکن ڈرون بھی تو ایک طیارہ ہی ہے، اگر طیارہ مسافروں اور سامان کو اِدھر سے اُدھر لے جانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا مثبت استعمال ہے اور اگر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر اٹیم بم گرانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا منفی استعمال ہے۔ ڈرون دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیا طیارے کو ڈرون کی شکل دینے پر رائیٹ برادران کو کیا جانے والا سیلیوٹ واپس لے لینا چاہیئے؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں