ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 23 اکتوبر، 2016

احمد رضا راجا ۔۔ ایک تعارف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :ارشد محمود راشد

مجھ پہ تحقیق مرے بعد کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے مرے بعد زمانے والے
.احمد رضا راجا منفرد شاعر ہیں جو قاری کے دل میں اترنے کا فن جانتے ہیں.ان  کا اولین شعری مجموعہ ،،محبت ہمسفر میری ، 2004ء میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ایک شعری انتخاب ،، بھلے دنوں کی بات ہے ،، 2007ء میں شائع ہوا۔
.احمدرضا راجا25دسمبر1977ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور دھمیال گاؤں ،راولپنڈی میں ہی سکونت پزیر ہیں
شاعری کا آغاز 1997ء سے کیا
راجا ہاؤس کو پنڈی کی ادبی سرگرمیوں میں مرکز کی حیثیت حاصل ہے شہر بھر کی ادبی تنظیمیں یہاں مشاعروں کے اہتمام کو اعزاز سمجھتی ہیں وہ کئی ادبی تنظیموں سے منسلک ہیں سابق جنرل سیکرٹری حلقۂ ارباب ِ ذوق راولپنڈی ،سابق وائس چیرمین ملک گیر ادبی تنظیم سخنور ،سابق جنرل سیکرٹری حرف اکادمی پاکستان،
چیئرمین ادبی تنظیم شغف ،راولپنڈی،جنرل سیکرٹری عالمی ادبی تنظیم ارتقا،پاکستان 
آئیے ان کے کلام سے کچھ اشعار دیکھتے ہیں
مجھ پہ تحقیق مرے بعد کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے مرے بعد زمانے والے
مصلوب کر دیا گیا اس جرم پر مجھے
انسانیت پہ جبر نہیں تھا قبول بس
نجانے شوق ہے کیوں ہر کسی کو کج کلاہی کا
بھلا دستار کے اندر بھی کوئی سر بدلتا ہے
لوگوں نے اس کو میری محبت سمجھ لیا
راجا وہ مجھ کو جان سے پیارا تھا اور بس
کیا ہے جو ایک شخص ہمارا نہیں ہوا
ایسا جنوں میں کس کو خسارا نہیں ہوا 
جو چھوڑ گیا دیدۂِ پرنم میں اندھیرے
وہ شخص کبھی آنکھ کا تارا تھا ہمارا
تم اپنی پیار کہانی کو عام مت کرنا
زمانہ ایسے فسانے بہت اچھالتا ہے
جب اس کی یاد رگ و پے میں دوڑتی ہے میاں
فشارِ خون سے دل پر دباؤ آتا ہے
بس اتنا جانتا ہوں کہ آواز اس کی تھی
اتنا پتہ ہے اس نے پکارا تھا اور بس
جدا ہو کر بھی دونوں جی رہے ہیں
کوئی تو ایک مرنا چاہئیے تھا
وہی مجھے بھی وسیلے حیات کے دے گا
جو پتھروں میں چھپی زندگی کو پالتا ہے
ستم سرشت میں اس کی شدید رکھا ہے
سو نام ہجر کا ہم نے یذید رکھا ہے
مجھ سے اب پوچھتی ہے روز مری بینائی
کوئی تعبیر بھی ہے خواب دکھانے والے 
یہ کون آیا ہے دل کے مدینے میں،احمد
درود پڑھتے ہیں پتھر ، درخت جھومتے ہیں
کسی دلیل سے قائل وہ ہو نہیں سکتا
کسی نتیجے پہ وہ نکتہ چیں نہیں آتا
عشق کے امتحان میں سب نے
نقل کی ، نقل بھی ہماری کی
جسے ہوا کے مخالف اڑان بھرنی ہو
وہ پنچھی اڑتے ہوئے پر کہاں سنبھالتا ہے
عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جانِ احمد
ٹھنڈی ہو جائے تو پڑ جاتی ہے کالی چائے
میری طرف سے خیر ہے لیکن دعا کرو
تم کو معاف کر دے مرا ذوالجلال بھی
طلب جو کرتے مسلسل مراد بر آتی
چٹان میں بھی تو آخر کٹاؤ آتا ہے

1 تبصرہ: