ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 22 ستمبر، 2016

رّکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی / ملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہی / سبیلہ انعام صدیقی

سبیلہ انعام صدیقی
رّکھے ہر اک قدم پہ جو مشکل کی آگہی
ملتی ہے اس کو راہ سے منزل کی آگہی
سیکھا ہے آدمی نے کئی تجربوں کے بعد
طو فان سے ہی ملتی ہے سا حل کی آگہی
اس کا خدا سے رابطہ ہی کچھ عجیب ہے
دنیا کہاں سمجھتی ہے سائل کی آگہی
نظروں کا اعتبار تو ہے پھر بھی میرا دل
ہے اک صحیفہ جس میں مسائل کی آگہی
دن رات جس کے پیار میں رہتی ہوں بے قرار
اس کو نہیں ہے کیوں دِلِ بسمل کی آگہی؟
یا دو ں کے اک ہجوم میں رہ کر پتہ چلا
تنہائی بھی تو رکھتی ہے محفل کی آگہی
خنجر کا اعتبار نہیں ، وہ تو صاف ہے
لیکن ملے گی خون سے قا تل کی آگہی
مشق ِ سُخنَ سبیلہؔ نکھارے گی فن کو اور
مطلوب ہے کچھ اور ابھی دل کی آگہی

1 تبصرہ:

  1. بہت اچھی غزل ہے۔ آگہی جیسی مشکل ردیف میں بڑے اچھے شعر نکالے ہیں

    جواب دیںحذف کریں