ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 24 دسمبر، 2015

اس کے معصوم سے چہرے پر خوبصور ت آنکھوں میں بے حیا سی چمک تھی۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔ قسط ۔21


ٹائمز سکوئر کی جھلمل روشنیاں 


نیویارک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 
The City which never sleeps
ٹائمز سکوئر پر دن سے رات کرتے ہوئے اس بات کا احساس کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔کھوے سے کھوا چھلتا دیکھنا اور محسوس کرنا ہو تو اس علاقے میں سیر کیجئے۔
ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں کافی وقت لگ گیا تھا شام کے جھٹ پٹے میں ہم باہر آئے۔عدیل کہنے لگا دوپہر کا کھانا تو ایمپائر اسٹیٹ کی نظر ہو گیااب کہیں کھانا کھاتے ہیں،یہاں ہلٹن ہوٹل کی ناک کے نیچے حلال برادرز کی ریڑھی ہے،وہاں سے پلیٹر کھاتے ہیں۔کہنے کو تو یہ ریڑھی ہے لیکن خریداروں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ہلٹن ہوٹل والوں نے انہیں وہاں سے ہٹانے کی بڑی کوشش کی لیکن یہ وہیں کے وہیں ہیں بلکہ ان پر رش اور بڑھ گیا ہے۔وہاں کھانا کھانے کے بعد آج ہی ٹائمز سکوئر بھی گھوم لیتے ہیں۔آپ یہ نا کہیں کہ عدیل نے نیویارک کی بتیاں نہیں دکھائیں۔
حلال برادرز کی ریڑھی پر واقعی اتنا ہی رش تھا جتنا کہ عدیل نے بتایاتھا۔ہم نے چار پلیٹر لئے جن میں دو رول کی شکل میں اور دو پیالے کی شکل میں تھے۔یہ عجیب سا ملغوبہ تھا،کچھ چاول تھے،کچھ چکن کی باریک باریک بوٹیاں تھیں،کچھ سلاد تھا،کچھ ابلے ہوئے مسلے ہوئے چنے تھے اور مختلف قسم کی ساسز تھیں۔وہیں سڑک کے کنارے ایک بینک کے باہر اڑتے ہوئے باز کی شکل کے مجسمے کے اردگرد بنی ہوئی پتھر کی منڈیر پر بیٹھ کر اس کھانے نے بڑا مزا دیا۔

ٹائمز سکوئر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ انٹرٹینمنٹ کی دنیا ہی یہاں روشنیوں کی چکاچوند ہے۔متحرک نیون سائن آنکھوں میں منعکس ہو کر ایک تھری ڈی تصویر بنائے چلے جاتے ہیں۔میں ایسے دیس سے آیا تھا جہاں بجلی کی کفائت شعاری پر زور دیا  جاتا ہے جہاں نیون سائن لگے تو ہوئے ہیں لیکن انہیں جلنے کی اجازت نہیں،ایسے میں میری مثال اس شخص کی سی تھی جسے اندھیرے کمرے سے ایکدم روشنیوں کے سیلاب میں چھوڑ دیا گیا ہو۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ روشنیوں کی بھی کوئی زبان ہوتی ہے،میوزک اور روشنی کے باہم اتصال سے جو تھل پیدا ہوتی ہے وہ کتنی ہیجان خیز ہوتی ہے۔
میں اپنے دیس میں جوہر ٹاؤن میں سے گذر کر ڈاکٹرز ہسپتال کے سگنل پر رکتا تھا تو سامنے سڑک کی دوسرے جانب ایک بل بورڈ نظر آتا تھا جس پر نیا نیا ڈٹرجنٹ پوڈر کے ڈبے کی تصویر کے ساتھ اسی پر کپڑے لٹکاتی عورت کے سائڈ پوز کی تصویر  کا اشتہار نظر آیا،اشتہار قابلِ توجہ تھا،دو تین دن تو بورڈ سلامت رہا تیسرے دن واپڈا ہاؤس جاتے ہوئے دیکھا تو اس بورڈ پر سیاہی پھینک کر لکھ دیا گیا تھا کہ عریانی فحاشی بند کرو کہ نسوانی چہرہ خواہ ماں کا ہی کیوں نا ہو فحاشی قرار پاتا ہے۔صرف نظر آتی زندگی سے بھرپورآزادی پر بھی خاموشی کے پہرے دیکھتے جوانی سے بڑھاپا آ گیا تھا۔
اپنے دیس کی ایسی زندگی سے ٹائمز سکوئر کی ان روشنیوں میں جہاں رات کو بھی سب کچھ  صاف صاف نظر آتا ہے کچھ ایسے مقامات بھی آئیکہ میں جھینپ کر رہ گیاخاص طور پر بچہ لوگ کے ساتھ چلتے ہوئے لیکن بچہ لوگ ایسے مناظر پر توجہ دئیے بغیر چلے جا رہے تھے عیسے بھی ان کی عینکوں میں جھانکنے سے بھی کوئی تاثر نظر نا آ پاتا کہ ان کی آنکھوں کو کچھ شیشوں اور کچھ عینک کے شیشوں پر پڑنے والے اشتہاروں کے عکس نے چھپا رکھا تھا۔ایک میں ہی تھا جو عینک کے بغیر تھا اور میرے لئے اپنے تاثرات چھپانا خاصا دشوار ہو رہا تھا۔یہ درست ہے کہ عمر خواہ کتنی ہی  کیوں نا ہو گئی ہو۔مرد کا دل راکھ میں دبی اس سلگتی چنگاری کی مانند ہوتا ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے،ایک دوسری بات کا بھی تجربہ ہوا کہ شوبز کے لوگ اور ہماری نئی نسل ہر وقت عینک کیوں پہنے پھرتی ہے کہ دل کی زباں آنکھ ہوتی ہے جس سے اندر کے جذبات جھلک سکتے ہیں۔بچہ لوگ نے اگر کچھ محسوس کیا بھی ہو گا تو کسی کو نظر نہیں آیا،ویسے بھی وہاں یہ باتیں اتنی عام ہیں کہ کوئی کسی کی طرف آنکھ اٹھا نہیں دیکھتا،یہ شاید میرا ہی احساس تھا۔مجھے البتہ اپنی بزرگی اور سنجیدگی کا احساس دلائے رکھنا تھا کیونکہ میری آنکھ کی پتلیوں میں منجمد عکس تو ہر وقت منعکس ہونے کو تیار رہتا تھا۔
ٹائمز سکوئر،ایک زمانہ تھا کہ معززین کے جانے کی جگہ نا تھا،فحاشی اور عریانی کا مرکز تھا۔مختلف مافیا یہاں دنداناتے پھرتے تھے۔پھر یوں ہوا کہ سن1904کے لگ بھگ نیویارک کے دبنگ گورنر کی کاروائیوں اور  نیویارک ٹائمز کے ہیڈ کوارٹرز کی یہاں منتقلی نے ایک تبدیلی تو یہ کی کہ اس جگہ کا نام،،لونگ ایکر سکوئر سے ٹائمز سکوائر ہو گیا،دوسرے یہاں سے مافیا کا خاتمہ ہوا،اور شرفاء کی یہاں آمد و رفت شروع ہوئی۔
نیو ایئر کی آمد پر دنیا میں سب سے بڑا جشن ٹائمز سکوئر میں برپا ہوتا ہے جس میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔اس جشن کا اہم ترین جزو،،بال ڈراپِِ ہے جوسن1907سے جاری ہے۔31 دسمبر کو رات گیارہ بج کر 59منٹ ٹائمز ٹاور یا ون ٹائمز سکوئر پر نصب 141فٹ بلند فلیگ پول سے ایک بہت بڑا گیند روشنیوں میں نہایا ہوا 60سیکنڈ میں نیچے کی طرف آتا ہے یہ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کا سگنل ہوتا ہے۔اس گیند کے نیچے پہنچتے ہی رنگ و نور کی بارش کرتا ہوا فائیر ورکس شروع ہوجاتا ہے۔
یہ تو تھا ایک سرسری سا تعارف ٹائمز سکوئر کا۔
خیر
ٹائمز سکوئر میں اس وقت ایک خوبصورت جوڑا میرے آگے آگے چل رہا تھا اور ہمیں ان کو فالو کرنا تھا کیونکہ اجنبی جگہ پر جہاں کھوے سے کھوا چھل رہا ہو،وہاں گم ہو جانے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔کچھ ہی دور چلے ہوں گے کہ سڑک کے کنارے مجسمہِ آزادی کھڑا نظر آیا اور مزے کی بات یہ تھی کہ یہ مجسمہ ہل بھی رہا تھا اور دائیں بائیں جھک بھی رہا تھا اور وگ اسے گھیرے ہوئے تھے۔اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصاویر کھنچوا رہے تھے۔میرا حسین جوڑا،رابعہ اور عدیل اس کے پاس جا کر رک گیا تھا،بس پھر کیا تھا بچہ لوگ کے پرزور اصرار پر ہم نے اس ہلتے جھلتے مجسمہِ آزادی کے ساتھ 

تصاویر 
بنوائیں لیکن یہ بلا معاوضہ نا تھیں اس کے لئے مجسمے کو معاوضہ دیا گیا۔ کیونکہ وہ اس کے بغیر تصویر کھنچوانے پر تیار ہی نا تھا جبکہ بچہ لوگ ماما پاپا کی ایک فنی سی تصویر بنانے پر مصر تھے۔
جس جگہ وہ مجسمہ کھڑا تھا اس کے دائیں جانب ڈزنی سٹور تھا،عنایہ ساتھ ہو اور ایسے سٹور میں نا جایا جائے یہ ممکن ہی نہیں تھا اس لئے سٹولر کا رخ اس سٹور کی جانب تھا یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں ہے کہ ہم بھی ساتھ تھے۔
یہ سٹور کئی منزلہ ہے جو کھلونوں اور لباسوں سے بھرا ہوا تھا،اوپری منزل بھی اسی طرح بھری ہوئی تھی فرق یہ تھا کہ وہاں بچوں کے کھیلنے کی بھی قابلِ توجہ کئی چیزیں تھیں۔اب مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس سٹولر تھا جو دوسری منزل پر نہیں جا سکتا تھا اور کسی نا کسی کو وہاں ٹھہرنا تھا۔عنایہ کی دادی کا خیال تھا کہ وہ  سٹولر کے پاس کحڑی ہوتی ہیں جبکہ میرا خیال تھا کہ دادی کو بچوں کے ساتھ اوپر کا چکر لگا لینا چاہئیے۔
میں دروازے کے بائیں جانب سٹولر کو دیوار سے لگا کر وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا،وہاں کئی دوسرے افراد بھی کھڑے تھے،ابھی مجھے وہاں کھڑے اور بچہ لوگ کو اوپر گئے چند ہی لمحے گذرے ہوں گے کہ میرے کندھے پرکسی نے بے تکلفی سے ہاتھ رکھ دیا۔میں نے چونک کر ادھر دیکھا ایک نوخیز سا، خوبصورت سا گورا چٹا سفید فام لڑکا میرے ساتھ چپک کر کھڑا تھا اور اس نے ہاتھ بی میرے کندھے پر ٹکا دیا تھا وہاں اور بھی لوگ کھڑے تھے لیکن کسی کی توجہ ہماری جانب نہیں تھی،اب اس لڑکے نے بڑی بے تکلفی سے پوچھا 
،،ایشین،،
،،یس،ایشین،،
اس نے پھر پوچھا
,,where you from,,
میں نے جواب دیا،،پاکستان سے،،
,,wow,do you want company of a young chap like me?i will entertain you batter than a girl,,
میں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی دیکھ یا سن تو نہیں رہالیکن وہاں ہر کوئی اپنی دھن میں مگن تھا۔میں نے اپنے پسینے بھری پیشانی کے ساتھ اس کی جانب دیکھا،اس کے معصوم سے چہرے پر خوبصور ت آنکھوں میں بے حیا سی چمک تھی، میں نے کندھے پر آئے اس کے ہاتھ کو جھٹک کر پرے کیا اور اپنے اور اس کے درمیان سٹولر کھڑا کر لیا۔
امریکی قانون کے مطابق ہر شخص کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہے،جس طرح چاہے زندگی بسر کرے۔مرد عورت میں آزادانہ میل جول یا لڑکی لڑکے میں جنسی آزادی ہمارے معاشرے میں بری بات ہے لیکن امریکن معاشرے میں اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔کوئی جوڑا شادی کر کے گھر بسائے،بچے پیدا کرے یا شادی کے بگیر شوہر و شن کی طرح رہیں،بچے بھی پیدا کر لیں،تعلقات بھی نبھائیں یا توڑ دیں،حکومت کی طرف سے اس بات پر کوئی پابندی نہیں،چودہ،پندرہ سال کی عمر میں بچے ماؤں یا والدین سے الگ ہو جاتے ہیں۔ خود کماے ہیں،خود زندگی کا بوجھ اٹھاتے ہیں،لڑکے لڑکیاں جنسی بے راہ روی کااسی عمر میں شکار ہوجاتے ہیں ابھی حال ہی میں امریکی صدر نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے بل ہر سائن کرکے اس شخصی آزادی کو اور بڑھاوا دیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ خوب رو لڑکا اپنی اسی شخصی آزادی کا اظہار کر رہا تھا۔
میں دعا کر رہا تھا کہ بچہ لوگ اوپری منزل سے جلدی نیچے آ جائیں لیکن عنایہ اوپر شاید کسی کھیل میں اٹک گئی تھی کہ وہ نیچے نہیں آ رہے تھے۔میں نے کن انکھیوں سے اس لڑک کی جانب دیکھا لیکن وہ اب اوپر جاتی سیڑھیوں کے پاس جا کر ایک ادھیڑ عمر اپنی نسل کے پاس کھڑا ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا پھر دونوں میرے سامنے سے ہوتے ہوئے سٹور سے باہر نکل گئے،شاید ان کے مابین سودا پٹ گیا تھا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ جب امریکہ میں ہم جنس پرستی کو ایک لعنت اور غیر اخلاقی رویہ سمجھا جاتا تھا تو ہمارے مشرق میں اسی عطار کے لونڈے سے دوا لی جاتی تھی۔اردو شاعری لڑکوں کے گیتوں سے بھری پڑی ہے اور ہم اسے،،علتِ مشائخ،،کا نام دیتے تھے۔میں تو عطار کے انگریز لونڈے کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے ہی گھبرا گیا تھا لیکن پاکستان کے شمال مشرقی حصوں میں یہ سرگرمی تہذیب کا ایک حصہ ہے وہاں کے شرفا اس دھج کے ساتھ نکلتے ہیں کے ان کے ساتھ ان کا  محبوب بہت بنا ٹھنا ساتھ ہوتا ہے۔بندوق اور،،نڈا،، ان کی شان اور پہچان ہے،
بچہ لوگ کے نیچے آتے ہی ہم ڈزنی سٹور سے باہر آ گئے۔
ہماری بیگم کہا کرتی ہیں کہ آپ جھوٹ نہیں بول سکتے،آپ کا چہرہ آپ کا ساتھ نہیں  دیتا۔ڈزنی سٹور  سے تھوڑا آگے آ کر دائیں مڑتی سڑک کو پار کرنے کے لئے  ہم رک گئے کہ پیدل چلنے کا اشارہ بند تھا۔میرے  چہرے پر دھنک رنگ تھے اور بچہ لوگ میرے چہرے کو دیکھ رہے تھے جس پر سامنے لگے کوکا کولا کی بوتل کے  نیون سائن کی سرخ روشنی  دیارِ غیر میں اس غیر متوقع واقعہ کی بنا پر میرے پہلے  سے سرخ ہوتے چہرے کے راز کو افشا کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ایسا  راز جو بن چکھی مے کی مانند تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں