ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 17 دسمبر، 2015

سنٹرل پارک ۔ بچہ لوگ نے میری طرف دیکھا پھر دور جاتی لڑکی کو اور کہا،،پاگل ۔۔ دیکھا تیرا امریکہ ۔ قسط ۔ 19

سکوٹی والی لڑ کی

سنٹرل پارک نیویارک میں



خاموشی کی آواز ہوا کے دوش پر سوار میرے کانوں سے ٹکرائی تو احساس ہوا کہ میں کسی اجنبی جگہ آ گیا ہوں۔یہاں نیویارک کی گہماگہمی اور ہجوم نہیں تھا،درختوں کی بہتات نے اس جگہ کو ساؤنڈ پروف بنا دیا تھا،یہاں کی ہوا بھی کثافت سے پاک اور ہلکی ہلکی محسوس ہو رہی تھی جس نے مجھے ایک لمبی سی سانس کھینچنے پر مجبور کر دیا اور میرے رگ و پے میں فرحت کی ایک لہر دوڑ گئی۔مین ہاٹن کے جزیرے کے اندر اونچی اونچی عمارتوں میں گھرے سرسبز جزیرے میں کھڑا تھا جسے امریکانوز سنٹرل پارک کہتے ہیں۔
مجھے انتہائیں بے چین کر دیتی ہیں،وہ چاہے میری لینڈ میں عدیل کے فلیٹ میں آتی فائر بریگیڈ کی کرخت آواز ہو یا سنٹرل پارک کا سناٹا۔
عدیل نے کہا یہ درخت اور یہاں کا ماحول کتنا سرسبز لگ رہا ہے،ذرا ایک دو ماہ گذر جانے دیں پھر یہی  منظر خزاں کے تکلیف دہ منظر میں بدل جائے گا۔پتے جب رنگ بدلتے ہیں تو وہ منظر بھی بڑا خوبصورت ہوتا ہے،یہی سبزرنگ پتے جب
جون بدل کر سرخ ہوتے ہیں تو منظر بڑا ہی دلکش ہو جاتا ہے۔

میں ہنس دیا کہ یہی سرخی،جوانی کی جوالا مکھی ہوتی ہے اور جب زردی پتوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو ا ناََ فاناََ موت پتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پتے ڈالی سے ٹوٹ کر مٹی پہ آ گرتے ہیں،پھر یہی مٹی پتوں کو چاٹ جاتی ہے۔
آپ بہت مشکل مشکل باتیں کرنے لگتے ہیں کبھی کبھی ہم ذرا جھیل کی طرف جا رہے ہیں آپ آ جائیے گا آہستہ آہتہ۔
انسان جب پت جھڑ کے موسم میں پہنچ جاتا ہے تو گویا اکھاڑے سے باہر بیٹھا پہلوان ہو جاتا ہے۔اکھاڑے میں لڑتے،کسرت کرتے،بازوں کی مچھلیاں پھڑپھڑاتے نوجوان  پہلوانوں کو دیکھ کر استاد پہلوان کے ڈھلکے ہوئے تمام اعضاء بھی پھڑ پھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
میں بھی اب اکھاڑے سے باہر بیٹھا ہوا پہلوان تھا جس کے گالوں کی سرخی میں تھوڑی تھوڑی زردی نظر آنے لگی تھی۔امریکہ میں جب درختوں پر خزاں اترتی ہے تو پہلے وہ سرخ ہوتے ہیں پھر زردی مائل اور پھر ہوا کا ایک جھونکا انہیں درختوں سے کہیں دور اڑا لے جاتا ہے۔
ہمارے ہاں نجانے درختوں کے پتوں میں سرخی کیوں نہیں دوڑتی؟
سنٹرل پارک بھی اتنا ہی سر سبز ہے جتنا سارا امریکہ۔میں اسی سبزے سے آنکھوں کو تروتازگی بخشتا دھیرے دھیرے جھیل کی جانب پڑھ رہا تھا،اچانک درمیانی راستے پر چلتے چلتے ایک جانب استادہ ایک مجسمہ دیکھ کر میں ٹھٹھک سا گیا کہ یہ ویسا ہی تھا جیسا نیویارک پبلک لائبریری سے ملحقہ یاد گار میں دیکھا تھا۔ میری یاداشت نے دھوکا نہیں کھایا تھایہ امریکہ کے معروف رومانوی شاعر اور ایوننگ پوسٹ(اب نیویارک پوسٹ)  کے ایڈیٹر ولیم کیولن برئینٹ کا ہی مجسمہ تھاجس نے امریکہ کے پہلے لینڈ سکیپ آرکیٹیکٹ انڈریو جیکسن کے ساتھ مل کر آواز بلند کی تھی کہ نیویارک کی آبادی کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیشِ نظر ایک پبلک پارک کی ضرورت ہے،ایک ایسی خوبصورت جگہ جہاں کھلی فضا میں سانس لے سکیں۔بالکل لندن کے ہائیڈ پارک کی مانند۔ ولیم کیولن برئینٹ کے اس مطالبے کی گونج تا دیر سنائی دیتی رہی حتیٰ کہ 1853میں نیویارک کے قانون سازوں نے سٹریٹ59سے سٹریٹ106کے درمیانی علاقے پر پارک کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ان سڑکوں کا درمیانی علاقہ 3.41کلومیٹر یعنی843ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔اس زمانے میں یہ ایک ایسا علاقہ تھا جہاں دلدلیں اور جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی۔اس علاقے کو پارک میں تبدیل کرنے کے لئے پارک کا تھیم پیش کرنے کا مقابلہ کرایا گیا۔یہ مقابلہ جیتنے پر حکومت نے فریڈرک اور کلورٹ نامی فرموں کو اس پارک کا آرکیٹیکٹ مقرر کیا۔ جنہوں نے اس علاقے کو ایک عظیم سیر گاہ میں تبدیل کر دیا جہاں پہاڑیاں ہیں کہ دلدلی زمین کو پتھر ڈال کر پرگیا گیا،مصنوعی جھلیں ہیں،جنگل نما علاقہ بھی ہے کہ امریکہ میں جتنے بھی پارک ہیں،وہ چھانگا مانگا کی طرز کے فارسٹ پارک ہیں،جہاں ندیاں اور گھنے جھنڈ ہیں۔جہاں چڑیا گھر ہے،مصنوعی قلعے  بنائے گئے ہیں،خوبصور ت پل بنے ہوئے ہیں کہتے ہیں 36پل بنائے گئے ہیں اس علاقے میں ربط رکھنے کے لئے۔رب نے دنیا بنائی اور پھر اس پر سب کچھ رکھ دیا۔یہاں بھی وہ سب کچھ ہے جو قدرت تخلیق کرتی ہے۔

عنایہ کی پریم دھکیلتے ہوئے  عدیل اور رابعہ دور چلے گئے تھے،ہماری بیگم بھی ان کے ہم رکاب تھیں کہ میں تھا جو ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دھیرے دھیرے چل رہا تھا،اور بھی جوڑے تھے جو بچوں کو پریم میں ڈالے ادھر ادھر چل رہے تھے۔
اس درمیانی راست کے دونوں جانب خوانچہ فروشوں نے اپنے سٹال سجا رکھے تھے۔ایک صاحب پورٹریٹ بنا رہے تھے،یہ بول کچھ نہیں رہے تھے کیونکہ تصویر بنانے میں مصروف تھے،لیکن لکھ کر بورڈ لگایا ہوا تھا 
،، آپ کا پورٹریٹ صرف دس ڈالر میں،،
اس نے کچھ تصویریں،چند تصویرِ بتاں اپنے سٹال پر آویزاں کر رکھی تھیں یہ تصاویر اس کے فن،اس کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھیں کہ یہ بوڑھا تصویروں کو بھی زبان دے سکتا ہے۔ایسی تصاویر کہ لگتا تھا ابھی بول اٹھیں گیئں،یہ تو نصیب نصیب کی بات ہے کے وہ اسٹوڈیو بنا کر مہنگے داموں نہیں بک رہا تھا  حالانکہ اس کی تصاویر کسی شاہکار سے کم نا تھیں۔ایسا لگتا تھا کی اس کے نصیب نے یاوری نہیں کی اور وہ سنٹرل پارک کی ایک سڑک کنارے سوت کی اٹی کے عوض اپنا آرٹ بیچ رہا تھا۔
ارے یہ کون ہے؟ یہ بھی آرٹسٹ ہی ہے لوگوں کی جانب دیکھ رہا ہے،کوئی اس کی جانب دیکھ لے تو کہنے لگتاہے۔،،اپنا کیری کیچر بنوائیے اور جان جائیے کہ آپ کتنے مخولیئے لگتے ہیں،ویسے کہا اس نے کارٹون تھا،اس سے کارٹون بنوانے سے بہتر تھا کہ ہم بھاگ لیتے،سو ہم نے اس سے آنکھیں چار کرنا مناسب نا سمجھا اور وہاں سے آگے چل دئیے۔
میری کوشش تھی کہ سڑک کے انتہائی کنارے پر چلوں اور اس میں کامیاب بھی تھا۔چلتے چلتے اچانک میرے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا،میرے پیر میں درد کی ایک ٹیس سی اٹھی اور میں گرتے گرتے بچ گیا کہ میرے دونوں ہاتھ ایک درخت سے ٹکرا چکے تھے۔اس ساری صورتحال میں جب میرے ہوش کچھ ٹھکانے آئے تو میں نے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے پیروں سے ایک عدد سکوٹی اپنے مالک سمیت ٹکرائی تھی۔اس سے پہلے کہ میں اپنے پاکستانی سٹائل میں اپنے غصے کا اظہار کرتا،وہ نوخیز سی لڑکی  سوری سوری کرتی ہوئی اپنی گرنے والی سکوٹی کوسنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک بار پھر مجھ سے ٹکرا گئی۔پاس سے گذرتے ہوئے ایک لڑکے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے سیدھا کیا۔اس حسین ٹکراؤ کے پے در پے ٹکراؤمیں اپنی  زبان کی گالیاں بھول گیا اور انگریزی کی گالیاں مجھے آتی نہیں تھیں۔
میں لنگڑاتا ہوا تھوڑی دور چلا تو پیر کے کھنچاؤ میں کچھ کمی آگئی لیکن چلنے میں ابھی بھی تکلیف باقی تھی۔جھیل تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں،اس لئے بچہ لوگ اوپر ہی میرا انتظار کر رہے تھے۔مجھے دور سے تھوڑا لنگڑا کر آتا دیکھ کر عدیل نے پوچھا کیا ہوا،میں نے کہا کچھ نہیں ایک سکوٹی مجھ سے ٹکرا گئی تھی۔
جھیل تک پہنچنے کے لئے دس،پندرہ سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں جہاں ایک خوبصورت فوارہ ہے اور اس کے بعد جھیل کا خوبصورت نظارہ ہے۔ہم سیڑھیاں اتر کر جھیل کنارے جا بیٹھے۔
جھیل کی گہرائیوں میں جھانکنے،اس کے پانیوں میں پیر مارتے،ان سے بنتے بھنوروں کو دور تک پھیلتے اورپھر پھر سامنے سے آتی کشتیوں سے ٹکرا کر ٹوٹتے دیکھتے خاصی دیر ہو گئی تو عدیل نے واپسی کا بگل بجا دیا۔
جھیل کنارے سے نکل کر سنٹرل پارک کے باہر سٹریٹ59کے قرب جوار میں پارک کی ہوئی گاڑی تک جانے کے لئے بالکل وہی رستہ اپنانا تھا جس سے آئے تھے۔
اچانک وہی نوخیز سی لڑکی ایک بار پھر ہمارے بہت قریب سے سکوٹی پر گذری،میری طرف دیکھ کر مسکرائیاور سوری کہتی ہوئی گذر گئی۔بچہ لوگ نے میری طرف دیکھا پھر دور جاتی لڑکی کو اور کہا،،پاگل،،

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں