ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

اتوار، 21 جون، 2015

کتابیں بولتی ہیں ۔۔ متن سے قبل کتاب کا سرورق بولتا ہے۔ آپ اُسے آنکھوں سے سنتے ہیں۔ اور ایسی کتاب جس کا عنوان ہی ’’ کتابیں بولتی ہیں‘‘ ہو، چونکا دیتی ہے۔۔۔۔۔۔اقبال خورشید

(کتابیں بولتی ہیں (مضامین
مصنف: رضا الحق صدیقی، صفحات: 224، قیمت: 600 روپے، ناشر: بک کارنر، جہلم
(مصنف سے دستخط شدہ کتاب کے حصول کے لئے ان بکس میں رابطہ کیجئے
https://www.facebook.com/siddiqiraza)
تبصرہ : اقبال خورشید
متن سے قبل کتاب کا سرورق بولتا ہے۔ آپ اُسے آنکھوں سے سنتے ہیں۔ اور ایسی کتاب جس کا عنوان ہی ’’
کتابیں بولتی ہیں‘‘ ہو، چونکا دیتی ہے۔ تیار رہنے کا پیغام دیتی کہ وہ ضرور کچھ ایسا کہے گی، جو آپ کی سماعت پر خوش گوار اثرات چھوڑے گا۔
تو جاذب نظر ٹائٹل اور عمدہ کاغذ پر چھپی رضا الحق صدیقی کی یہ کتاب بہت کچھ کہتی ہے۔ بہ ظاہر دیکھیں، تو یہ نثری اور شعری تخلیقات پر اُن کے مضامین پر مشتمل ہے، مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ رضا صاحب بڑے دل چسپ آدمی ہیں۔
سمجھ لیجیے جدت پسند۔ انٹرنیٹ پر فروغ ادب کے لیے جو کام اُنھوں نے کیا، وہ قابل تقلید۔ اردو میں ویڈیو کالمز کا سلسلہ شروع کیا۔ نام دیا؛ بولتے کالم۔ یہ کوشش سوشل میڈیا پر بڑی مقبول ہوئی۔ سمعی اور بصری مواد میسر آیا، تو یار لوگوں کی توجہ بڑھی۔ کتابوں پر بات ہونے لگی۔ تو ایک معنی میں وہ ادبی منظر میں نئے اوزاروں کے ساتھ وارد ہوئے۔
ہمارے مانند رضا صاحب بھی والٹیر کے اس خیال سے متفق کہ جب سے دنیا بنی ہے، وحشی نسلوں کو چھوڑ کر دنیا پر کتابوں نے حکم رانی کی ہے۔ مطالعہ اُن کا وسیع۔ تنقیدی فلسفے کا بھی علم۔ مگر ادبی ویب سائٹ کے صارفین کا مزاج بھی خوب سمجھتے ہیں۔ ان کے بولتے کالم گاڑھے نہیں ہوتے، بھاری بھرکم نظریات سے آزاد، تاثراتی یا تعارفی نوعیت کے جائزے ہوتے ہیں۔
ادبی کتب کے فنی محاسن اجاگر کرتے یہ مضامین ایک روزنامے کے ادارتی صفحے پر بھی شایع ہو کر قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ رضا صاحب شستہ زبان لکھتے ہیں، جمالیاتی تقاضوں کی خبر رکھتے ہیں، بات کہنے کا ڈھب جانتے ہیں۔ اور ان جیسے سنیئر آدمی سے اسی کی توقع کی جانی چاہیے۔ کتاب کی فہرست پر نظر ڈالیں، تو جی خوش ہوتا ہے۔
احمد ندیم قاسمی، گلزار، زاہدہ حنا، محمد حمید شاہد، مشرف عالم ذوقی جیسے فکشن نگاروں کا تذکرہ، ادھر مجید امجد، خالد احمد، شہزاد احمد جیسے شعرا کا ذکر۔ جہاں پختہ لکھنے والوں پر مضامین، وہیں نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی۔ کتاب کی خوبی یہ کہ اسے پڑھ کر زیربحث آنے والی تخلیقات پڑھنے کو من کرتا ہے۔ کتاب کے فلیپ پر درج مختلف حکما کے اقوال بھی بھلے لگتے ہیں کہ وہ کتاب کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
ڈسٹ کور کے ساتھ شایع ہونے والی کتاب میں معیاری کاغذ استعمال ہوا ہے، چھپائی اور قیمت، دونوں مناسب۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں