ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 1 جون، 2015

کتابیں بولتی ہیں سے ایک کالم ۔۔۔۔رضا صدیقی کا بولتا کالم

)آرزو ے وصال (ساجد پیرزادہ کا شعری مجموعہ
کہتے ہیں ہر تیسری نسل میں جنیاتی صفات کا کچھ نا کچھ حصہ منتقل ہو گیا ہوتا ہے،دادا سے پوتے تک جنیاتی صفات واضح طور منتقل شدہ نظر آتی ہیں۔ساجد پیرزادہ کی کتاب آرزوئے وصال کا مطالعہ کرتے ہوئے  اس بات کا شدت سے اندازہ ہوا۔ ساجد پیرزادہ نے لکھا ہے کہ ان کے دادا پیر حکیم غلام قادر اثر نوشاھی جالندھری اردو اور فارسی کے بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انہوں نے 1929میں اسلامیہ ہائی سکول جالندھر میں علامہ اقبال کی آمد پر استقبالیہ کچھ یوں پیش کیا۔
مثردہ ایدل کہ ثنا گوئے نبی مے آید
عاشق زار رسول عربی مے آید
میرسد حضرت اقبال و باستقبالش
یک جہاں بیں کہ بصد مضطربی مے آید
علامہ اقبال نے شاعری میں میر کارواں کی جو صفات بیاں کی ہیں وہ ضرب المثل ہیں۔
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
ساجد پیرزادہ کے نزدیک میر کارواں سے زیادہ انسان کا باوصف ہونا ضروری ہے۔
نظر عمیق، خرد ہوشمند،با اخلاق
صفات بالا ضروری ہیں آدمی کے لئے
عمل درست اگر ہونگاہ ہستی میں 
تو فکر ہوتی ہے تریاق زندگی کے لئے
ساجد پیرزادہ کہتے ہیں۔
ناز ہم کیوں نہ کریں اپنے سخن پر ساجد
اپنا ہر شعر لب یار تک آ پہنچا ہے
یہ لہجہ روایت پسندوں کا مخصوص لہجہ ہے۔ ان کی شاعری احساس کی سطح پر روایت کے ساتھ ساتھ طریق حیات بھی ہے۔
ساجد پیرزادہ کی شاعری میں عشق تصوف کا دوسرا نام ہے۔عشق مجازی میں تصور کی آنکھ کیا جلوے دکھاتی ہے۔نشہ عشق خدا میں انسان کس طرح جھوم اٹھتا ہے،آئیے دیکھتے ہیں۔
آنکھیں ہیں مخمور نشے میں 
جھوم رہے ہیں چور نشے میں 
کعبہ اور بت خانہ ہم نے 
دیکھا ہے معمور نشے میں 
جلووں میں سرشار تھے موسی
جھوم رہا تھا طور نشے میں 
دیکھے ہیں فردوس میں ہم نے
جن و ملائک حور نشے ہیں 
ساجد پیرزادہ نے اپنی توانائیوں کا محور اپنے عشق کو قرار دیا ہے اور یہ وہ جذبہ ہے جو 
انسان کو عزم کا پیکر بنا دیتا ہے۔ان کی شاعری  کی ایک اور خصوصیت  غالب کی طرح تکرارِِلفظی سے شعر میں حسن پیدا کرناہے۔
ہم تو ہیں ساجدِ بقا،ہم سے بقا ہے جاوداں 
ہم ہیں وقار انجمن، ہم کویونہی یونہی نہ دیکھ
ساجد پیرزادہ کی شاعری کی ایک اور خوبصورتی یہ بھی ہے کہ کہ وہ اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی روشنی میں دنیا کو دیکھ کر اس کی تصویر بناتے ہیں اور جب یہ دنیا ان کے قاری کی دنیا بن جاتی ہے تو وہ حیرت سے تکنے لگتے ہیں۔
کراچی میں رہنے والے خارجی عناصر سے جو اثرات اخذکرتے ہیں اس سے ان کے ہاں، ان کی شاعری میں احساس جنوں حقیقت نگاری کے روپ میں نظر آتا ہے۔ساجد پیرزادہ کے ہاں حقیقت نگاری کچھ یوں نظر آتی ہے۔
یہ کیسے لوگ ہیں کیا دیس ہے یہ
ہے نفرت آدمی کو آدمی سے
اے ساجد انسان کے ہاتھوں 
مرتے ہیں انسان ابھی تک
........................
رضا صدیقی کا بولتا کالم
https://www.facebook.com/siddiqiraza/videos/vb.1436527629/10200406949483093/?type=3&theater


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں