ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 27 اپریل، 2015

اپنی اَنا پہ تجهہ کو مان بہت تها وقار ۔۔ وقار زیدی

وقار زیدی
گل برسائے میں نے مِہر، وفائوں کے
اُس نے تیر چلائے جَور، جفائوں کے
دنیا کی دولت سے ہم کو غرض نہیں
طالب ہیں ہم صرف تمھاری دعا ئوں کے
راہِ طلب میں زخمی ہوں ، واری جائیں
پھول کھلیں یارب اپنی آشائوں کے 
قید ہیں میری آنکهوں میں اک مدت سے
دلکش دل کش منظر میرے گائوں کے
دل میں ہے میرے ٹم ٹم کرتا ایک چراغ 
رخ پهیرے اِس نے ہیں تند ہوائوں کے
سایہ دار درخت تهے ماں اور باپ مر ے
زندہ ہوں میں صدقے اُن کی دعائوں کے
اُس کی زلف نے مجهہ کو بهی زنجیر کیا
چُنگل سے نکلا ہے کون بلائوں کے
اپنی اَنا پہ تجهہ کو مان بہت تها وقار
لُوٹا کس نے بل بوتے پہ ادائوں کے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں