ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 5 نومبر، 2014

یہ رہگذارِ گذشتہ بھی اک تحیر ہے ۔۔ علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
یہ رہگذار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
زماں دیار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
طلوع_ فردا کی ترقیم_ آفرینش میں 
ظہور_ کار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
حیات و موت کا یہ فلسفہ سمجھنے کو
صلیب_ دار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
جو باغبان_ ازل کا ہے بوستان_ ابد
یہاں بہار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے

میں رُوبروئے زمانہ ہُوا تو جان لیا
کہ شاہکار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
میں انحراف سے نکلا ثبات یافتہ ہوں
سو اعتبار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
منادی عرصہء آئیندہ نے یہ حال میں کی
کہ در کنار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
وقوع پذیر ہوا حادثہء رفتہ سے آج
یہ کاروبار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
مسافران_ تغیر نے اوج دیکھ لیا
کھُلا فشار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
نکل کے بھاگ لیا میں حصار_ امکاں سے
مرا فرار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
ازل کے پیڑ سے قرنوں کے پات جھڑتے ہیں
صدی نگار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
بھڑک رہی ہے جو اندر ہزار صدیوں
شرار_ نار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
شگاف ڈال کے گذرا ہوں آب_ دریا میں
فسوں شعار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
یہ اشک آنکھ میں حیرت چبھونے آئے ہیں
کہ یادگار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
جو ہولے ہولے یہ زندہ نگل رہا ہے مجھے
سیاہ مار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
گذار آیا ہوں جو عمر_ مختصر اصغر
یہ اختصار_ گذشتہ بھی اک تحیر ہے
(علی اصغر عباس)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں