ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 2 اکتوبر، 2014

کنول کی کائنات مٹھی میں

میں تو خود کو تھی ڈھونڈنے نکلی
آ گئی کائنات مٹھی میں 
ربِ بزرگ و برتر نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے تو اس نے کہا کن اور  فیکون ہو گیا، کائنات معرضِ  وجود میں آگئی لیکن یہ بے جان تھی،زمین تھی،اس پر سبزہ تھا،پہاڑ تھے،درخت تھے،ربِ کائنات کے فن کی خوبصورت تصویر،رنگ و نور سے بھری خوبصورت تصویر کی مانند لیکن بے نطق دنیا۔ پھر رب نے اس بے نطق دنیا کو زبان دی کہ انسان پیدا کیا،ساتھ ہی کائنات میں رنگ بھرنے کے لئے عورت کو پیدا کیا،ایک الجھی ہوئی جنس۔ یہی الجھی ہوئی جنس جب اپنی تلاش میں نکلتی ہے تو کائنات اس کی مٹھی میں آ جاتی ہے،وہی کائنات جسے ربِ بزرگ و برتر نے اپنی پہچان کے لئے تخلیق کیا۔ 
عورت نے تخلیق کے کرب سے تخلیق کار کو پہچان لیا۔
صحیفوں کی نظارت آب میں دیکھی نہ جاتی تھی
دیا ہے پھر کنول نے آبیانہ کن فیکن
،،کائنات مٹھی میں،، ایم زیذ کنول(مسرت زہرا کنول) کا شعری مجموعہ ہے جس کی شاعری استعارہ ہی استعارہ ہے،کہیں نام کا استعارہ کنول ہے جو اظہارِ ذات کا استعارہ ہے، کہیں کائنات ہے جو وسعت پذیری کا استعارہ ہے،خواب ہے جو افشا اور اشکار ہونے کا استعارہ ہے، ایم زیڈ کنول کہتی ہیں۔
کشتیاں ساری جلا آئی
لے کے اپنی ہی ذات مٹھی میں 


عورت جب اپنی تلاش میں نکلتی ہے عو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی، اپنی ذھنی الجھنوں کو ختم کرنے اور تسخیرِ کائنات کے لئے نکلتی ہے مرد کت شانہ بشانہ یہ جانتے ہوٗے بھی کہ یہ پدر سری سماج ہے لیکن ربِ بزرگ و برتر نے اپنا تخلیق کرنے کا وصف اور پرتو صرف اور صرف عورت کو عطا کیا ہے۔
دہکتی آگ میں کندن ہوئے تو بول اٹھے
یزیدِ وقت کے آگے یہ محنتوں کے بدن
نطق میں الفاظ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ان کا  استعمال ا؛ہامی ہونا چاہیئے کیونکہ ا؛فاظ اور ان کا شعور  خود ربِ عظیم کی دین ہے۔ کنول کے اشعار خود اپنی تشریح ہیں،ان کی زبان سادہ، لہجہ نرم اور اسلوب اپنا ہے۔انہوں نے کسی کی اتباع نہیں کی،چند اشعار دیکھئیے۔
چشمِ مشکیزہ میں چھپا لائی
لے کے اذن ِ فرات مٹھی میں 
صبر مجھ کو پکارتا ہی رہا
جبر کے میں سامنے نکلی تھی
یہ میرا عشق ہے جو کر رہا تلاوت تھا
سحاب رات میں لکھ لکھ کے اسمِ نورانی
آپ خود منصفی کریں کہ کیا ایم زیڈ کنول کے اشعار وسعتِ معنی کا خود بیان  نہیں ہیں؟
خواب، کنول کی شاعری  کا ایک استعارہ ہے جیسا کہ میں نے پہلے لکھا، خواب جو اشارہ ہے چھپے ہوئے راز کے افشا ہونے کا، اس کا ایک ذریعہ تو بشارت ہے کہ اب جب کہ ربِ کائنات نے سلسلہ ِ نبوت ختم کر دیا ہے صرف بشارتوں کے ذریعے راز افشا کئے جاتے ہیں،کنول کے ہاں خواب اشارہ بھی ہے بشارت بھی چھپے ہوئے راز کے افشا ہونے کا۔
کنول کہتی ہیں،
کس نے کہا تھا گروی رکھ دو خواب نگر کی دیواریں 
ہر دروازے کھڑکی پر اب  راز کی باتیں لکھی ہیں 
خواب کی طرح استخارہ بھی ایک استعارہ ہے کنول کی شاعری کا جسے کنول نے بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔
شکستہ ماتھے کی شکنیں یہ سب سے کہتی ہیں 
ریاضتوں  کا ستارا  ہے استخارہ  ابھی
ابھی سے کٹ گئیں پاؤں کی بیڑیاں کیوں کر
ہوا کے دوش پہ رکھا ہے استخارہ ابھی
تمام خاروں کو بھر کے کنول کی آنکھوں میں 
یہ کس نے آپ کا لکھا  ہے استخارہ ابھی
آخر میں یہی کہوں گا کہ کنول کی شاعری لطافتوں کا لطفِ سخن ہے جسے سب سے بڑے تخلیق کار نے کنول کے ذھن میں تخلیق کیا ہے۔

زمین زادوں کو خوشبو کا بانکپن دے کر
کنول کی آب میں اترے ہیں پانیوں کے بدن




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں