ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 17 جولائی، 2014

امجد جاوید کی امرت کور ۔تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھا گیا ایک خوبصورت ناول

کیا یہ ضروری ہے کہ وہی ادیب مسلمہ ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو گا یا ہو سکتا ہے جو میڈیا سنٹروں کی حدود میں قیام پذیر ہو،ہمارے ہاں جب بھی کسی تصنیف کا تذکرہ ہوتا ہے تو چند گنے چنے نام ہی لئے جاتے ہیں خاص طور پر ناول نگاری میں۔اس صنف کا ذکر آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ناول لکھا ہی نہیں جا رہا اور اگر لیا بھی جاتا ہے تولے دے کر ایک انتظار حسین کا نام سامنے آتا ہے یا عبداللہ حسین ہیں،خواتین میں بانو قدسیہ ہیں،جمیلہ ہاشمی ہیں،اور بس لیکن کیا یہ درست ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا میں لکھنے والوں کی اپنی اپنی لابی ہے چند ناموں کی مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ ہمارے نقاد کی ناک کے نیچے اورنام نہیں آتے اور یہ نام بھی لکھنا ان کی مجبوری ہے کہ جب ناول کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو یہ نام آتے ہی ہیں حالانکہ بے شمار نام لئے جا سکتے ہیں مثلاََ محمد حمید شاہد کا نام ہے مستنصر حسین تارڑ کا نام ہے  انیس ناگی کا نام ہے اور بہت سے نا م ہیں، میرا سوال تھوڑا مختلف ہے میڈیا سنٹرز سے دور ادب تخلیق ہو رہا ہے لیکن میڈیا سنٹرز کی حدود میں،کسی فورم پر کسی لیہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،ساھیوال،حاصل پور وغیرہ کے کسی ادیب کی تصنیف کا ذکر کیا نام لینا بھی پسند نہیں کیا جاتا،
وہ عکس بن کے میری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
ساھیوال جسے میڈیا سنٹر سے دور شہر میں مقیم  شاعرہ بسمل صابری کا یہ شعر جب سے میں نے ہوش  سنبھالا ہے انہی کی زبانی سنتا آیا ہوں لیکن ہوتے ہوتے یہ شعر بھی کسی اور شخص سے منسوب ہو گیا ہوا ہے،اس کا تو کیا کہنا مجید امجد کی معروف نظم کا چربہ جب میڈیا سنٹر کی حدود میں رہنے والا ایک نوجوان شاعر پیش کرتا ہے تو میڈیا سنٹروں کے بنائے ہوئے نقادوں نے خاموشی اختیار کرلی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا اگر میڈیا سنٹرز کی حدود میں رہنے والا ناول لکھے تو وہ ناول ہوتا ہے ورنہ کہا جاتا ہے کہ ناول نہیں لکھا جا رہا۔مجھے یہ  سب کچھ لکھنے پر مجبور کیا حاصل پور میں مقیم امجد جاوید نے جن کے دو ناول،،امرت کور،، اور،،فیضِ عشق،، میرے زیرِمطالعہ ہیں،یہی  نہیں وہ اس کے علاوہ،،ذات کا قرض،،چہرہ،،جب عشق سمندر اوڑھ لیا،،عشق کا قاف،،عشق فنا ہے عشق بقا،،عشق کسی کی ذات نہیں،،عشق کا شین-2.عشق کا شین۔3،عشق سیڑھی کانچ کی،تاج محل،،روشن اندھیرے،، اس کے علاوہ ایک آپ بیتی اور چند شعری مجموعوں کے خالق امجد جاوید کا نام میں نے کسی نقاد کی فہرست میں نہیں دیکھا،اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیئیے کہ ہم آنکھوں پر پٹی بندھے بیل کی مانند ایک دائرے میں گھومے چلے جا رہے ہیں یا شمیم حنفی کے بقول بہت کچھ لکھا جا رہا ہے،میرے پاس بوریوں کے حساب سے ڈاک آتی ہے اب کسے اتنی فرصت ہے کہ ان پیکٹوں کو کھولے،ہمارے سرہانے تو حوالے کے چند ادیبوں کی کتابیں پڑی رہتی ہیں جن سے ہم بوقت ضرورت استفادہ کر لیتے ہیں۔ نقاد کے اسی رویے کو محسوس کرتے ہوئے امجد جاوید جید نقادوں کا رخ نہیں کرتا،اس نے کالم نگار جاوید  چوہدری کی طرح  پبلیشر پکڑا ہوا ہے جو اس کی کتابیں اس لئے چھاپے چلا جا رہا ہے کہ جاوید چوہدری کی مانند اس کا نام بھی بکتا ہے کالم کا تو میں کہہ نہیں سکتا لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ آج کے اس کرب والم کے دور میں ذہنی سکون کے حصول کے لئے عشق کا عین ؒ ضرور بکتا ہے،اس کی کتابوں کے کئی کئی ایڈیشن اس بات کے گواہ ہیں۔
ساھیوال میں ہمارے ایک محترم شاعر یسینٰ قدرت مرحوم بہت زود گو شاعر تھے،ہمیں ان پر حیرت ہوتی تھی کہ وہ اتنی تیزی سے اور اتنی زیادہ غزلیں کیسے کہہ لیتے تھے۔یہ کوئی چایس پنتالیس سال پہلے کی بات ہے اس زمانے میں وہاں ہمارے گھر کے قریب قائم فرزانہ آنہ لائبریری سے ہر ڈائجسٹ اور ابنِ صفی کا ہر نیا ناول اس شرط پر سب سے پہلے لے آتے تھے کہ صبح کالج جاتے ہوئے واپس کر دیا جائے اور جس برق رفتاری سے ہم انہیں ختم کرتے تھے آج  سوچ کر حیرت ہوتی ہے ہمیں وہ زمانہ اس لئے یاد آ گیا کہ اتنے طویل عرصے کے بعد ہم نے امجد جاوید کا ناول امرت کور اور دوسرا ناول فیضِ عشق ایک ایک نشت میں پڑھ ڈالااور اس طرح پڑھا کہ پروف کی غلطیاں بھی ہماری نظر کی سکینگ سے نہ بچ سکیں۔ہمیں اس وقت بھی حیرت ہوتی تھی کہ ڈائجسٹ میں قسط وار کہانیاں لکھنے والے ہر ماہ اتنی لمبی قسط اتنے دلچسپ انداز میں کیسے لکھ لیتے ہیں،ہمیں آج بھی یہی تجسس ہے کہ امجد جاوید اتنے لمبے لمبے اور ضخیم ناول کیسے لکھ لیتا ہے۔ہم سے تو کسی کتاب پر مضمون /کالم لکھنا ہو تو عذاب لگتا ہے۔ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم کتاب پڑھے بغیر لفافے کا نفسِ مضمون بھانپنے کا فن نہیں جانتے کیونکہ ہم صرف تبصرہ نگار ہیں نقاد نہیں۔
امجد جاوید کا ناول امرت کور بظاہر تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھی گئی پریم کتھا ہے لیکن ناول پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہ اصل پریم کتھا نہیں ہے،پریم کہانی تو کوئی اور ہے امجد جاوید عشق کی عین پکڑ کر قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہے پھر اسے تقسیمِ ہند کی ہول ناکیوں اورکشت و خون کے سمندر میں سے گذارتا ہوا کتھارسس کی جانب لے جاتا ہے۔یہ ناول تقسیمِ ہند کے موقع پر سکھوں کی جانب سے قتل و غارت کے پس منظر میں لکھا گیا ہے لیکن امجد جاوید نے جلیانوالہ باغ کے ایک حوالے کے علاوہ تاریخ کی بساکھی نہیں پکڑی۔ناول رومانوی بھی ہے لیکن خون آلود ہے۔
اس ناول  کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق ضرور پلٹنے پڑیں گے۔پریم چند کے کہانی بیاں کرنے کی تاریخ سے پہلے اردو افسانوں اور ناولوں کا جو رنگ تھا ان میں سوائے خیالی بایوں کے ایسی چیزیں کم نظر آتی ہیں جن کا تعلق تھوس حقیقتوں سے ہو زندگی کی ٹھوس حقیقتیں کیا تھیں اگر ہم زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کے عقب میں ژاں پال سارتر کی آواز سنیں تو منکشف حقیقت ہمیں نو آبادیاتی معاشرے کے ان رویوں تک لے جاٗئے گی جہاں شناخت لمحوں اور رشتوں کے انضباط سے بے کسی، بے بسی، بے جینی اور مایوسی جھلکتی ہے ایسے پر آشوب اور گماشتہ اور ابتلا میں زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کا ادراک
 اور پھر جرآتِ اظہار،فکر کے استعاروں کو فضیلت عطا کرتے ہیں۔پریم چند نے حقیقت بگاری کی جو بنیاد قائم کی ہمارا بعد کا آنے والا تمام ادب انہی بنیادوں پر کھڑا ہے۔میں یہاں پریم چند کے بارے میں اپنی بات روک کر بات آگے بڑھاتا ہوں کہ  ہر دور اپنے ساتھ اپنی پہچان کے رشتے،رنگ ڈھنگ،طور طریقے لے کر آتا ہے۔
لفظ کی صنعت گری ایک مشکل فن ہے یہ جہاں فن کے اظہار کا وسیلہ ہے وہیں فن کار کے مقام کا تعین بھی کرتا ہے۔ اسلوب فن کاری کی پہچان کا ایک وطیرہ بھی ہے چنانچہ تخلیقِ فن میں لفظوں کا چناؤ خیال کو صقیل کرتا ہے تو فن کار کوممیز کرلے حسِ ترتیب،سلاستِ بیان اور ہیت میں امتیاز بھی دیتا ہے۔امرت کور امجد جاوید کے اظہارِ فن میں لفظوں کے درست چناؤ اور حسِ ترتیب کا شاہکار ہے۔
کہانی ناول کا مرکزہ ہے جسے کرداروں نے سنبھالا ہوا ہوتا ہے۔یہ کردار کہانی یا پلاٹ کے ادبی تسلسل کا ایک حصہ ہوتے ہیں اورپلاٹ یا کہانی کی ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کسی ناول کے مقام کا تعین کرنے کے لئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ مصنف نے کتنے جاندار کردار تخلیق کئے ہیں۔اور ان کرداروں کا محاورہ کیسا نظر آتا ہے۔کرداروں کے استعمال سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کہانی کی اٹھان کیسی ہے۔ڈاکٹر گیان چند جین کا کہنا ہے کہ داستان ایک یا چند کرداروں کی سرگذشت ہے جو بغیر کسی انقطاع کے مسلسل بیان کر دی جاتی ہے۔امرت کور کی داستان بیان کرنے میں امجد جاوید نے بلال کا کردار تخلیق کیا اس کی محبوبہ زویا کا کردار سامنے لایا گیا لندن میں ان کی محبت کو پروان چڑھایا۔ان کا وہاں ایک سکھ دوست بھان سنگھ دکھایا گیا۔ منظر نامے میں لندن،لاھور اور امرتسر کو پیش کیا گیاامرتسر کے ایک پسماندہ گاؤں اس لئے دکھایا گیا کہ ایک تو بھان سنگھ وہاں سے تھا پھر امرت کور بھی تو وہیں کی تھی۔
اس کہانی کا ہیرو بلال اپنے سکھ دوست کے مجبور کرنے پر اپنی محبت کو پانے کے لئے لندن سے امرتسر کے گاؤں اپنے دوست بھان سنگھ کے ساتھ پہنچتا ہے۔ کیونکہ اس کے دوست کا اعتقاد تھا کہ،،کاش تم میرے گاؤں کی اس پاگل عورت امرت کور سے مل سکتے۔یقین کرو یار تجھے تیری محبت یوں مل جائے کہ خود تجھے احساس نہ ہو،یہ جو درمیان میں رکاوٹیں ہیں نا،ان کے دور ہو جانے  کا پتہ ہی نہ چلے اور زویا تیری ہو جائے،،
امجد جاوید نے امرت کور کا کردار اسی انداز میں تخلیق کیا ہے۔بلا کا سکھ دوست  کہتا ہے کہ امرت کور اگر تیرے سر پر ہاتھ رکھ دے تو تجھے تیری محبت یوں مل جاٗے کہ خود تجھے احساس نہ ہو۔امرت کور جب بلال کو دیکھتی ہے تو اس کے وجود میں زلزلے آ جاتے ہیں اور برسوں کی چپ کا قفل ٹوٹ جاتا ہے۔وہ  بڑے جذب کے عالم میں کہتی ہے
،،آ گیا تو۔۔ تجھے آنا ہی تھا،، 
یہاں سے جذبہِ عشق کی ایک لازوال داستان کا انکشاف ہوتا ہے اور یہی اس کہانی کا کلائمکس ہے۔اس کلائمکس کو بیان کرنے کے لئے یہاں امجد جاوید نے دو اور کردار تخلیق کئے ہیں،جن میں سے ایک مرکزی کردار ہے نور محمد،گاؤں کا گبرو نوجوان جس پر امرت کور مر مٹی ہے لیکن وہ لنگوٹ کا پکا ہے وہ امرت کور کو دھتکار دیتا ہے،امرت کور اسے ایک ویرانے میں لے جا کر آخری بار ورغلاتی ہے انکار پر اسے بے ہوش کرکے رسیوں سے باندھ دیتی ہے۔امرت کور کے بعد دوسرا جاندار کردار جس کے گھر کا ہر فرد سکھوں کی نفرت کا شکار ہو کر فسادات میں جل گیا۔دوسرا کردار رگھبیر سنگھ جو مسلم سکھ فسادات کی جڑ تھا۔
نور محمد اور امرت کور کی داستانِ عشق،مذہب اور محبت کی کشمکش کی داستان ہے۔جسے امجد جاوید نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ناول کے تمام لوازمات کو پورا کرتا ہوا ایک خوبصورت ناول امرت کور جسے علم وعرفان پبلیشرز،الحمد مارکیٹ،40اردو بازار لاھور نے بڑے سائز میں شائع کیا ہے

3 تبصرے:

  1. Hai yeh Amrit Kaur navel ka Haqeeqi tajziya
    Tabsra hai yeh mubassir ka nehayat dilnasheeN

    Hai tanazur is ka Barqi Azmi taqseem e Hind
    Karta hai hamwar jo fikri tanazur ki zameeN

    Bolta column ki hai yeh khoobsoorat peshkash
    Dekh kar be sakhta aata hai lab par aafreeN
    Ahmad Ali Barqi Azmi

    جواب دیںحذف کریں
  2. ہے یہ امرت کور ناول کا حقیقی تجزیہ
    تبصرہ ہے یہ مبصر کا نہایت دلنشیں

    بولتا کالم کی ہے یہ خوبصورت پیشکش
    کرتا ہے ہموار جو فکری تناظر کی زمیں

    ہے تناظر اس کا برقی اعظمی تقسیمِ ہند
    کرتا ہے ہموار جو فکری تناظر کی زمیں
    احمد علی برقی اعظمی

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہے یہ امرت کور ناول کا حقیقی تجزیہ
    تبصرہ ہے یہ مبصر کا نہایت دلنشیں

    بولتا کالم کی ہے یہ خوبصورت پیشکش
    کرتا ہے ہموار جو فکری تناظر کی زمیں

    ہے تناظر اس کا برقی اعظمی تقسیمِ ہند
    دیکھ کر بے ساختہ آتا ہے لب پر آفریں
    احمد علی برقی اعظمی

    جواب دیںحذف کریں