ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ، 23 مئی، 2014

ثبات اور بے ثبات کا شاعر۔سہیل ثاقب

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،غزل کوقافیہ پیماں ہونے کے ناطے ایک طبقہ نظم کے مقابلے میں محدودیت کا حامل قرار دے کر رد کرتا آیا ہے،کلیم الدین احمد جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،نے ایک جگہ ایک جملے میں یہ کہا تھا کہ جو شعراء مغرب کی نظم نگاری سے واقفیت نہیں رکھتے یا اس جیسی صنف میں شعر نہیں کہتے وہ بے بضاعت شاعر ہوتے ہیں یا بے بضاعت شاعری کرتے ہیں اور پھر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہویئے غزل کی صنف کو ناقص قرار دے کر اس کے تمام شعرا کو بھی اس لٗے بے بضاعت قرار دیتے ہیں کہ وہ نیم وحشیانہ صنفِ ادب ہے۔
دنیا بھر  کی زبانوں  کی شاعری میں اصنافِ ادب،ان کی تخلیقی واردات کی نوعیت،ماہیت اور تجربے کے ایک مخصوص طرزِ عمل اور طرزِ احساس سے وجود میں آتی ہیں،ان کے پس منظر میں اس زبان و ادب کے تہذیبی و تخلیقی شعور اور اس کے فطری و قدرتی اظہار کے لیئے موزوں سانچے تلاش کرنے کا عمل پوشیدہ ہے جس سے وہ شاعری اپنے منوع موضوعات اور مواد کے باوجود خاص انداز کے سانچوں میں تشکیل پاتی ہے یعنی شاعری میں اس کی ہیت تخلیقی وجود کے بیرونی پیکر کے مانند ہوتی ہے اور  اس کی کتنی ہی قدیم و جدید شکلیں ہر زبان کی شاعری اور ادبیات میں رایئج ہیں،

کلیم الدین احمد  کے اس نکتہِ نظر کا پرچار ہمارے محترم مسلم شمیم نے سہیل ثاقب کے ایک مجموعہِ غزل،، سب کہنے کی باتیں ہیں،، میں کیا ہے،لکھتے ہیں 
،،سہیل ثاقب اگر نظم کے شاعر ہوتے تو ان کے شعری مجموعے میں سیاسیات کے موضوعات پر ان کا شاعرانہ ردِ عمل دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا، پھر بھی ان کے ہاں غزل کی محدودات کے باوجود نیئے تبدیل شدہ عالمی منظر نامے کے حوالے سے شعور و فکر اور کربِ احساس کا اظہار غزل کی زبان میں کم کمپایا جاتا ہے۔ مسلم شمیم نے،مولانا الطاف حسین حالی کے اتدو شاعری خاص طور پر غزل کو ہدفِ تنقید بنانے کوبنیاد بنا کر،کلیم الدین احمد کے   کے اسے نیم وحشی صنفِ سخن قرار دے کر مسترد کرتے ہویئے غزل میں خردہ فروشی یعنی غزل کا ہر شعرایک دوسرے سے نفسِ مضمون کے علاوہ کیفیت اور تاثر میں ہر اعتبار سے مختلف ہونے کو غزل کا عیب قرار دینے کے تناظر میں سہیل ثاقب کی غزلیہ شاعری کے بارے میں مندرجہ بالا تجزیہ رقم کیا، اس کے ساتھ ساتھ مسلم سلیم دوسری جانب کہتے ہیں کہ بیسویں صدی کی غزل نے کلیم الدیں احمد کے بیان کردہ عیب سے بہت حد تک دامن کشی کر لی اور یوں غزلِ مسلسل کی روایت ایک مضبوط اور مقبول روایت ٹہری ہے۔
سہیل ثاقب کے اب تک شایئع ہونے والے تینوں مجموعہِِ کلام،پہلا،،تیری میری آنکھوں میں،، دوسرا،، سب کہنے کی باتیں ہیں،، اور موجودہ تیسرا،، کل کی بات اور تھی،، چونکہ غزلیہ ہیں اس لیئے مسلم شمیم نے درمیانی راہ اختیار  کرتے ہویئے لکھا کہ سہیل ثاقب کے شعری مجموعہ میں غزلِ مسلسل کی بڑی تعداد پایئ جاتی ہے۔ ان غزلوں  میں کیف و کم کی ایک فضا اور ایک تاثر قاری کو اپنے دایئرہِ اثر میں دیر تک رکھتا ہے۔یہی وہ جواز ہے جو غزل کو مسترد اور نظم کے حامی پیش کرتے ہیں۔حالانکہ غزل کے ایک مضبوط شعر کا مقابلہ لفظوں کے زیاں پر منبی طویل نظم بھی نہیں کر پاتی،
ہمیں مسلم شمیم کی بین السطور کہی باتوں سے کچھ لینا دینا نہیں جو انہوں نے آتش لکھنوی کے شعر کی شکل میں سہیل ثاقب سے کہی ہے۔
شاعری کھیل نہیں ہے جسے بچہ کھیلے
ہم نے باون برس اس صنف میں پا پڑ بیلے
یہاں ہم سہیل ثاقب کی شاعری کا جایئزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں 
عصرِ حاضر مجھے کس موڑ پہ لے آیا ہے
زندگی اپنا ہی چہرہ نہیں پہچانتی ہے
سہیل ثاقب نے مسلم شمیم کو اس شعر میں بھرپور جواب دیا ہے کہ سیاسیات پر سہیل ثاقب نے بھرپور بات نہیں کی حالانکہ وہ سیاسیات کا طالب علم ریا ہے۔سہیل ثاقب کا یہ ایک شعر ہی سیاسیات کے حوالے سے کافی ہے۔
سہیل ثاقب، مثلِ موسیٰ طور پر کھڑے ہو کر رب سے ملتمس نہیں ہیں لیکن بندگی کی ضد پر ہیں 
ہٹا دے آسماں یارب ہٹا دے
جو ہے مابین، چلمن اٹھا دے
پھر اس کے بعد جو ہونا ہے ہو لے
یہ بندہ ضد پہ ہے جلوہ دکھا دے
سہیل ثاقب نے ان چار مصرعوں میں وہ سب کہہ دیا،وہ سب ابلاغ کرا دیا جو ایک واقعاتی نظمِ مسلسل نہیں کرا سکتی۔سہیل ثاقب کا خالقِ کائنات سے تخاطب کا انداز کچھ اور ہے لیکن محبوبِ خدا سے ان کی التجا اور ہی رنگ میں ہے۔
 مربوط کائنات ہے یہ ان کے نام سے
پڑھتے رہو درود  بہت احترام سے 
بس منتظر ہوں اپنے بلاوے کا آپ تک
آوں گا حاضری کو بڑے اہتمام سے
محبت کے  میٹھے اور رسیلے جذبے سہیل ثاقب کی شاعری کا ایک رخ ہیں۔ وہ محبت جو  دھیمے سروں میں دل و دماغ پر قبضہ کرتی ہے اور پھر فضائیں اسی محبت  میں گونج کر رہ جاتی ہیں۔ 
سہیل ثاقب  کے  اب تک تین مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں۔ان مجموعہ ہائے کلام کی بنیاد گردوپیش کی چاہتیں ہیں، نفرتیں ہیں، اپپنے دکھ ہیں،اپنے سکھ ہیں،وقت کا جبر ہیں اور چکی کی مشقت ہے۔
کیا عجیب اپنا بھی مقدر ہے
پہلے صحرا ہے بعد میں گھر ہے
پھر بھی ہم اڑ نہیں پاتے
ہر پرندے کا ہاتھ میں پر ہے
سہیل ثاقب  جذبات و احساسات کا بیباک اظہار کرتے ہیں۔یہ لا شعوری فکر ہے جس نے محبت کے علاوٗہ زندگی کے ہر رخ کی بے رحمی کو بہت سادگی سے صفحہِ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔
بے ثمر اب ہے شجر ہم نے یہ مانا لیکن
یہ شجر ہو گیا بیکار غلط کہتے ہو
بیرون ملک جا بسنے والے افراد خاص طور پر ان افراد کے ہاں جو سچے شعری رویوں کا ادراک بھی رکھتے ہوں۔ ہجرت کا استعارہ بہر طور دکھائی دیتا ہے۔ میں نے کہیں کہا تھا کہ پہلی جبری ہجرت تخلیقِ کائنات کے فوراََ بعد ہوئی جب آدم نے ربِ کائنات کی حکم عدولی کی۔ہجرت کے اس تصور کو سہیل ثاقب  نے کیا خوب باندھا ہے۔
ابھی ہجرت کہاں پوری ہویئی ہے
میں رستے میں ذرا سستا رہا ہوں 
ہجرت کی وجوہات کچھ بھی ہوں ایک گہری فکر رکھنے والا شاعر جب اظہارِ ذات کرتا ہے تو اس کے لہجے کی تھکن اس کی طویل مسافرت کا پتہ دیتی ہے۔زندگی کے تجربوں نے سہیل ثاقب کو اس سوچ سے آشنا کر دیا ہے جو سچے شعری رویوں کی احساس ہے۔
جانا مشکل ہو جاتا ہے لوٹ کے آنے والوں سے
گھر کیا ہوتا ہے پوچھو پرگیس کو جانے والوں سے
شاعری کی زندہ روایات کو خود میں سموتے ہويے سہیل ثاقب نے اپنے اشعار میں وہ طرحداری پیدا کی ہے جو عصری شعور، جدید لہجے اور ادبی رحجانات اور میلانات سے ہم آہنگ ہے۔
اس لئے ہر کویئی دے جاتا ہے دھوکہ ثاقب
جھانک کے دل کے میں اندرنہیں  دیکھاکرتا
گھر کی اونچایئی پہ جاتی ہیں سبھی کی نظریں 
کویئی بنیاد کا پتھر نہیں دیکھا کرتا
شاعری میں وجدانِ سخن اور میلاناتِ فکری کے ساتھ ساتھ اسلوب اور لفظیات کا اظہار قادر الکلامی کا اظہار کرتی ہے۔ سہیل ثاقب کی بیشتر غزلوں میں قدیم اسلوب و لفظیات کی جگہ جدیدغزل کی ہمہ گیری، رمزیت اور حقیقت پسندی جلوہ گر ہے۔
 سہیل ثاقب کی شاعری میں کلاسیکی پختگی کے ساتھ ساتھ خیال و فکر میں ایک نیاپن اور جدیدیت ملتی ہے۔جون کیٹس نے کہا تھا کہ جدیدیت نت نئے استعارے اور علامتیں وضع کرنے کا نام نہیں بلکہ پرانی اور مروجہ علامتوں میں نئے معنی تلاش کرنے میں مضمر ہے۔
خواب تھے مرے جواں کل کی بات اور تھی
فصلِ گل تھی مہرباں کل کی بات اور تھی
دور وہ بھی تھا کہ جب ہر گماں یقین تھا
اب یقین بھی گماں  کل کی بات اور تھی
خوش خرامیِ غزل جس کو دیکھ دیکھ کر
جھک گیا تھا آسماں، کل کی بات اورتھی

1 تبصرہ:

  1. ہیں رضا کے تبصرے آئینۂ نقد و نظر
    ان کے ادبی تجزئے کے معترف ہیں دیدہ ور

    ہے یہ ثاقب کے ہُنر کا خوبصورت تجزیہ
    عہدِ حاضر کے ہیں برقی جو سخنور معتبر
    احمد علی برقی اعظمی

    جواب دیںحذف کریں