ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 25 مئی، 2014

غزل ۔۔ حماد نیازی

حماد نیازی
کیا گھڑی تھی وه یار! کیا دن تھا
جب مرے پاس بس ترا دن تھا
شب کا کیا ہے گزر گئی، شب تھی
دن کا کیا ہےگزر گیا، دن تھا
وقت کی ٹہنیوں سے ٹوٹ گیا
ایک دن جوہرا بھرا دن تھا
داستاں تھی سمے کی اینٹوں میں
خواب میں کوئی خواب سا دن تھا
راکھ تھی منظروں کی سینے میں
دل میں بکھرا،بچا کچھا دن تھا
تیرے ہونے سے تھا مرا ہونا
رات کی وجه تسمیه دن تھا
بے سبب یونہی یاد آیا ہے
آج کا دن بہت برا      دن تھا
آنکھ کھلتے هی کھل اٹھے آنگن
صحن میں پھر نیا نیا دن تھا
پیارے بچو !کہانی ختم ہوئی
بھول جاؤ، که شب تھی یا دن تھا
کون شب مجھ سے کھو گیا حماد
کوئی دن تھا اگر مرا دن تھا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں