اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 21 مئی، 2014

نوشی گیلانی کی ایک تازہ غزل

نوشی گیلانی
عِشق دربار سجاتا ہے تو ہم  ناچتے  ہیں
پھر سرِ دار بُلاتا ہے تو ہم  ناچتے  ہیں
 ایک لہجہ کسی بھیگی ہویٔ خوشبو کی طرح
صبح کے ساتھ جگاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 آخرِ شام  کویٔ عشق  کا  پاگل  لمحہ
جب ہمیں پاس بُلاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 دُور تک پھیلی ہویٔ برف کا شفاف  بدن
دِل میں اِک آگ لگاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 شب کی پازیب سے اُلجھا ہوا تنہا گُھنگرو
وصل کے گیت سُناتا ہے تو ہم ناچتے ہیں
 گرمیٔ لمس کی شدت سے دہکتا آنچل
ایک دیوار اُٹھاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں