ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

سوموار، 14 اپریل، 2014

تقریبِ رونمائی:واصف ایک پختہ کار شاعر ہے اور اسے مصرع سازی اور شعر کا فن آتا ہے

 جواں سال شاعر عبدالرحمان واصف کی کتاب   ،، بجھی ہوئی شام ،،کی تقریبِ رونمائی و پذیرائی  
کہوٹہ کی مقامی لائبریری میں منعقد کی گئی۔ تقریب کا اہتمام  مقامی ادبی تنظیم “کہوٹہ لٹریری سوسائٹی نے کیا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی  ڈاکٹر محمد عارف قریشی تھے ، محفل کے صدر نشین معروف شاعر جاوید احمد تھے جبکہ اعزازی مہمانان میں اسلام آباد سے تشریف لائی ہوئی ادیبہ، شاعرہ ، افسانہ نگار اور پروڈیوسر محترمہ فرحین چوہدری، معروف شاعر اور سنگر شیراز اختر مغل، محترم علی راز،


معروف ادبی و ثقافتی تنظیم سخن ور کے چئیرمین ارشد ملک،  حسن ابدال سے تشریف لائے ہوئے جواں سال شاعر دلاور علی آزر​اور سخنور پاکستان کے جنرل سیکرٹری نوید ملک تھے۔پروگرام کی نظامت کے فرائض پروفیسر حبیب گوہر نے سر انجام دیے ۔
پروگرام کا آغاز عابد تیمور ہاشمی کی خوبصورت آواز میں تلاوت ِ کلامِ پاک سے ہوا، اس کےبعد حبیب الرحمان طالب نے

اپنے مخصوص لب و لہجے میں نعت رسولِ مقبول پیش کی۔
عبداللہ کمال نے عبدالرحمان واصف کے فن و شخصیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ واصف نے اپنے اس مجموعے میں روایت کے اندر رہتے ہوئے نہایت خوبصورت لہجہ تخلیق کیا ہے اور ان کی غزلوں کے ساتھ ساتھ ان کی نظموں میں بھی ایک انفرادیت ہے جو ان کو زندہ رکھے گی۔
قاضی محمد طارق نےکہا کہ واصف کہوٹہ کا ادبی ستارہ ہے اور اس کا یہ مجموعہ ادب میں اچھا اضافہ ہوگا ۔
عابد تیمور ہاشمی نے کہا کہ واصف کو شعر کی بنت کرنا اور سلیقہ ِادا آتا ہے ۔
نوید ملک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور نے قافیہ بندی اور تک بندی کے لیے انٹرنیٹ پر بہت سے سافٹ وئیر متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے ہر کہ و مہ شعر کہہ سکتا ہے مگر وہ جذبہ جو شعر میں جان ڈالتا ہے وہ ٹیکنالوجی تخلیق نہیں کر پائی ۔ اسی لیے تک بندی اور قافیہ بندی کی حد تک تو ان سافٹ وئیرز کے ذریعے انسان شاعر بن جاتا ہے مگر اس کے کلام میں شگفتگی اور ذوقِ جمال نہیں رہتا، اس کا کلام جسم و جاں کو معطر نہیں کرتا، مگر واصف وہ شاعر ہے کہ جس کے اشعار آنکھوں کے راستے دل کی منزل تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور یہی اس کی کامیابی کا راز ہے۔

سخنور پاکستان کے چئیرمین ارشد ملک نے عبدالرحمان واصف کے فن اور شخصیت پر ایک خوبصورت نظم کہی جس کو سامعین نے بے حد سراہا ۔
محترمہ فرحین چوہدری نے اپنی گفتگو میں کہا کہ واصف نے اپنے مجموعے میں بہت خوبصورت کلام پیش کیا ہےاور ان کی یہ کاوش اہل نقد ونظر میں اپنا منفرد مقام پیداکرنے میں یقینی طور پر کامیاب ہوئی ہے ۔
جاوید احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ واصف مستقبل میں بھی اچھے شعری مجموعے تخلیق کریں گے اور اردو ادب میں ایک خوبصورت باب کی بنیاد رکھیں گے ۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد عارف قریشی نے عبدالرحمان واصف کو ایک معیاری اور خوبصورت شعری مجموعہ کی تخلیق پر مبارکباد پیش کی اور  اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واصف ایک پختہ کار شاعر ہے اور اسے مصرع سازی اور شعر کا فن آتا ہے۔ 
رپورٹ: عبداللہ ابراہیم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں