ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ، 22 فروری، 2014

ثروت زہرہ وقت کی قید میں


حقیقی شعورِ ذات، شعورِ شخصیت سے بالکل مختلف چیز ہے لیکن ہم شعورِ شخصیت کو ہی شعورِ ذات سمجھنے لگتے ہیں،ہم اپنی بات اور اپنی ذات کے بارے میں اپنے خیال کے درمیان تمیز نہیں کر سکتے،ہمارے لئے وہ ایک چیز بن جاتے ہیں۔اور یہ دھوکا ساری عمر قائم رہتا ہے۔ڈی ایچ لارنس نے کہیں لکھا ہے کہ ہم سب اپنی ذات کے بارے میں اپنے خیال کے زندان میں رہتے ہیں لیکن یہ احساس بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے کہ وہ قید میں ہیں وہ اس زندان کو اپنا گھر سمجھ لیتے ہیں اور اس سے نکلنے کی بجائے اس کے درودیوار کو سجانے لگتے ہیں اور اس سے اس طرح مطمئن اور مسرور ہو جاتے ہیں جس طرح
کوئی اپنے گھر میں مسرور و مطمئن ہوتا ہے لیکن جن لوگوں کو قید کا احساس ہوتا ہے ان کی پوری زندگی زندان کی دیواروں سے سر پٹختے گذر جاتی ہے۔ہماری شخصیت کا زندان ہمارے لئے اتنا حقیقی ہوتا ہے کہ ہم پوری زندگی کو اس کے رخنہِ دیوار کے ذریعہ دیکھنے لگتے ہیں اور اس طرح دیکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی زندگی کو، اس زندگی کو جو حقیقی ہے اور ہمارے زندان سے وجود رکھتی ہے کبھی اس طرح نہیں دیکھ سکتے جیسی وہ ہے۔ثروت زہرہ،جلتی ہوا کے گیت کے بعد اپنے دوسرے مجموعہِ کلام ..وقت کی قید میں .. کے ساتھ ساتھ سامنے آئی ہیں،نظم ان کا توانا شعبہ ہے،اس لئے یہ نیا مجموعہ صرف نظموں پر محیط ہے۔
بے پروں کی تتلی
یہ جھاڑن کی مٹی سے
میں گر رہی ہوں 
یہ پنکھے کی گھوں گھوں میں 
میں گھومتی ہوں 
یہ سالن کی خوشبو پہ
میں جھومتی ہوں 
میں بیلن سے چکلے پہ
بیلی گئی ہوں 
توے پر پڑی ہوں 
ابھی جل رہی ہوں 
یہ ککر کی سیٹی میں 
میں چیختی ہوں 
کسی دیگچی میں پڑی گل رہی ہوں 
مگر جی رہی ہوں 
ثروت زہرہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ قید میں ہیں بلکہ یہ ان میں سے ہیں جن کی ساری زندگی زندان کی دیواروں سے سر پٹختے گذر جاتی ہے۔وہ شخصیت کے زندان میں قید ہیں،شخصیت وقت ہے،وقت جو ایک ترتیب سے گذرتا چلا جاتا ہے اور ہمیں شعورِ ذات ہونے ہی نہیں دیتا،
اوسپنسکی کہتا ہے تشخص کی ایک عام صورت  ہے جو ہمکو خوابیدی رکھنے میں بڑا حصہ لیتی ہے اس کو باطنی تفکر کہا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تشخص اس تصور سے کیا جائے جو اپنی ذات کے بارے میں قائم کیا گیا ہو کیونکہ ہر شخص کے ذھنمیں اپنی تصویر ہوتی ہے جو کچھ مستند ہوتی ہے اور کچھ غیر مستند۔ اپنی تصویر بنا کر ہر شخص اس کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اس امید میں کہ دنیا اس کو بعینہ اس  تصویر  کی حیثیت سے قبول کر لے گی۔یہ شدید مشغولیت اور اس کے ساتھ ٹھیک تاثر کو پیش نہ کر سکنے کا احساس، جھجک یاشعورِ ذات کہلاتا ہے لیکن یہ حقیقی شعورِ ذاتکی ضد اور گہری خوابیدگی کا مطاہرہ ہوتا ہے۔ہم اپنے ذھن میں ایک تصویر بناتے ہیں اور دوسروں پر اس تصویر کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں،ہماری زندگی کا ہر الیہ اسی سے پیدا ہوتا ہے۔ہماری ذہنی
 تصویر کیا ہے۔ ہماری ذات کے بارے میں ہمارا ایک خیال ہے۔ یہ خیال ہمیشہ ہماری اہمیت سے وابستہ ہوتا ہے۔ ہم اس خیال کو اپنے اندر پاتے ہیں،اس کی نگہداشت کرتے ہیں۔اپنے جذبے، احساس اور تخیل کا سارا آب و رنگ اس کی آرائش اور زیبائش پر صرف کرتے ہیں اور یہ خوابیدگی ہمارے اندر اتنی گہری سرایت کر جاتی ہے کہ ہم اپنی ذات سے بیگانہ ہو کر اپنے خیال کی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ثروت زہرہ کے ذھن پر عورت کی مظلومیت اور اس پر ہونے والے مظالم کی ایک تصویر نقش ہے جسے وہ معاشرے کو دکھانا چاہتی ہیں،یہی مرکزی تھیم ان کے پہلے مجموعہ کلام..جلتی ہوا کا گیت..کا بھی تھا اور اس نئے مجموعے کا بھی ہے،جلتی ہوا کا گیت اونچے سروں میں گایا ہوا ایسا گیت تھا جس نے عورت کی مظلومیت کے ساتھ ساتھاس کی بغاوت کے جذبات کی تر جمانی کی تھی اور یہ ایک چیخ بن کر ابھری تھیکیونکہ ثروت زہرہ نے  ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا۔
بنت ہوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
مجھ میں احساس کیوں ہو کہ عورت ہوں میں 
زندگی کیوں لگوں بس ضرورت ہوں میں 
میرا ہر حرف،ہر اک صداجرم ہے
مجھ میں احساس کیوں ہو کہ عورت ہوں میں 
زندگی کیوں لگوں بس ضرورت ہوں میں 
یہ میری آگہی  بھی میرا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
میں تماشا نہیں اپنا اظہار ہوں 
سوچ سکتی ہوں سو لائق دار ہوں 
میرا ہر حرف،ہر اک صداجرم ہے
 موجودہ  مجموعے میں ڈاکٹر ثروت زہرہ  کے ہاں شاعری شعور کا استعارہ  بن کر ابھری ہے۔ڈاکٹر ثروت زہرہ کی یہ امیجری معاشرے کو جھنجھوڑنے کے لئے  کافی ہے، عقل و فہم اور ادراک شرط ہے۔
ڈاکٹر ثروت زہرہ  کی شاعری اور خاص طور پر نظم کا بنیادی نکتہ فرد، اس کی ذات اوراس کی نا آسودگیوں اور محرومیوں مضمرہے۔ڈاکٹر ثروت زہرہ  کی نظم میں جدید دور کے مسائل موجود ہیں، وہ اندر کی تنہائی کو باہر کی جانب منتقل کرتی ہیں۔
ڈاکٹر ثروت زہرہ  کی نظم میں گہری بے اطمینانی اور انتشار کی کیفیت ہے جس مییں سماجی گھٹن اور تنہائی بنیادی کردار  ہیں۔ ان کے ہاں پائے جانے والے سارے رویوں کا مرکزہ جدید دور کی منافقت ہے۔
 ڈاکٹر ثروت زہرہ  اپنے شعری سفر میں اپنی آنکھ کے ہفت آئینے میں  وجود، ذات،دنیا،کائنات اور اس کے مظاہرات کے کتنے ہی عکس ابھارتی ہیں جو ایک دوسرے سے جدابھی ہیں اور آپس میں جڑے ہوئے بھی ہیں۔ہر عکس میں شاعرہ کے انتہائی ذاتی مشاہدے اور تجربے کارنگ نمایاں ہے۔ ہر نظم کسی لگی بندھی یا رواج یافتہ سوچ سے آزاد نظر آتی ہے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی فکرطبعزاد اپنی دریافت کے سفر میں بھی ہو اور اس کا  عکس  دکھانے کے لئے زندان کے رخنہ ِ دیوار سے جھانک بھی رہی ہو۔
ڈاکٹر ثروت زہرہ  نئی جہت، نئے ادراک کی منفرد تخلیق کار ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقات سے اردو ادب میں نئے رحجانات کا اضافہ کیا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں انسانی احساسات کو زندہ روایات کی طرح روشناس کرا کے اپنا مقام خود متعین کر رہی ہیں ایک نئی جہت اور نئے ادراک کی منفرد شاعرہ کے طور پر۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں