ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 1 دسمبر، 2013

غزل ۔ عطا تراب


جو ہوا یار وہ ہونا تو نہیں چاہیے تھا
خوب کہتے ہو کہ رونا تو نہیں چاہیے تھا
اے خدا ایک خدا لگتی کہے دیتے ہیں
تو ہے جیسا تجھے ہونا تو نہیں چاہیے تھا
کیوں دھڑکتی ہوئی مخلوق سسکتی ہی رہے
بے نیازی کو کھلونا تو نہیں چاہیے تھا
سلک _ ہستی سے اگر روٹھ گیا در _ جمال
سنگ _ دشنام پرونا تو نہیں چاہیے تھا
تو تو بچھتی ہی چلی جاتی ہے اے سادہ نگار
ڈھانپ خود کو کہ بچھونا تو نہیں چاہیے تھا
خود کشی بنتی ہے لیکن ہمیں بزدل ہیں کہ زیست
بار _ بے کار ہے ڈھونا تو نہیں چاہیے تھا
تو تو سچ مچ میں غزل کی کوئی انگڑائی تھی
تجھے آغوش میں ہونا تو نہیں چاہیے تھا
حیف ہے سلسلہ ء جبر میں شامل ہوں میں
تخم _ ہستی مجھے بونا تو نہیں چاہیے تھا
کم نگاہی میں سماتی ہی نہیں قامت _ خوش
اے زمانے تجھے بونا تو نہیں چاہیے تھا
عشق کا داغ کہاں چھوڑ کے جاتا ہے تراب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں