یہ کس نے لکھی ہے لوحِ خاکی پہ جارحیت
یہ کس کے ہاتھوں خُدا کا فرمان جل رہا ہے

بموں کی لُو سے گلاب چہرے جھلس گئے ہیں
فشارِ بارود سے گلستان جل رہا ہے

یہ وقت آلِ سعود کے امتحان کا ہے
حرم کے در پر غلافِ قرآن جل رہا ہے

یہ آلِ یعقوب کے مقدر کی سختیاں ہیں
چراغِ یوسف سے بابِ کنعان جل رہا ہے

یہ آگ تورات کی تفاسیر سے لگی ہے
نظر کی حد تک وحی کا میدان جل رہا ہے

یہ جنگ اہلِ زمیں کے اعمال کی سزا ہے
سیاستوں کی چتا میں انسان جل رہا ہے

ہے کس قدر سوز ناک، مسعود آہ وزاری
سخن کی حدت سے دل کا دیوان جل رہا ہے

مسعود منور

Post a Comment