دل چاہتا ہے کہ آج ساری آوازیں بند کردوں۔۔۔بالکل ایسے جیسے ابھی ابھی ریڈیو کی آواز بند کی ہے۔۔۔ اگر آوازیں آئیں تو صرف درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ یا اس کی ٹہنیوں پر بیٹھے پرندوں کی چہچہاہٹ کی۔۔۔ یا پھر بارش کی رم جھم یا دور کہیں پنگھٹ پر پانی بھرتی کسی حسینہ کے پاؤں سے لپٹی پایل کی چھن چھن کی۔
دل چاہتا ہے کہ آج اخبارات کے سارے الفاظ مٹ جائیں اور صرف تصاویر باقی رہ جائیں۔ پھر ان تصاویر کے کچھ رنگ تتلیاں بن کر ہوا میں اڑیں تو کچھ پھول بن کر فضا کو ایسے معطر کردیں کہ اس میں پھیلی خون اور ماس کی بدبو کا احساس ختم ہوجائے۔۔۔اور الفاظ اگر اخبارات کےصفحات سے نہ بھی مٹیں تو وہ کسی بزرگ صوفی شاعر کی شاعری میں تبدیل ہوجائیں اور بچے کھچے حروف سفید ہوکر ان صفحات میں ایسے کھو جائیں کہ انہیں پڑھنا ممکن نہ رہے۔
آج کوئی تقریر یا نعرے سننے کی خواہش ہے اور نہ ہی کوئی بیان پڑھنے یا ایسے وعدے سننے کی تمنا جو جھوٹے ہونٹوں سے جنم لیکر یا تو اخباروں کی شہ سرخیاں بنتے ہیں یا پھر دھوئیں اور گرد سے بھری فضا میں گھل مل کر اسے مزید گندہ کر دیتے ہیں۔
دل چاہتا ہے کہ مختلف رسالوں کے اوپر چھپی گھٹیا تصاویر بھی آج خوبصورت پینٹنگز کا روپ دھار لیں اور ان کے آس پاس بھٹکتے فضول الفاظ ان شاہکار پینٹنگز کے چاروں اطراف یا اندر کے کسی حصے میں پھیل کر خوبصورت خطاطی کی شکل اختیار کرلیں۔
آج کسی مشیں کا شور سننے کا من ہے اور نہ ہی کسی بیہودہ بیان پڑھنے یا جھوٹی مسکراہٹوں سے سجے چہروں والی تصاویر دیکھنے کی خواہش۔
آج دل چاہ رہا ہے کہ اخبارات کے پنے آبشاروں میں تبدیل ہوجائیں اور ان میں چھپی تصاویر انکے نیچے اور ارد گرد پڑے مختلف اشکال کے چھوٹے بڑے پتھروں میں۔۔۔اور الفاظ چھوٹی چھوٹی بوندیں بن کر ان پتھروں پر ایسے گریں کہ نغمگیں آواز یں جنم لیں ۔۔۔ایسی آوازیں جیسے پانی کی وہ چھوٹی چھوٹی بوندیں بڑے بڑے پتھروں کو چھیڑ کر انہیں گیت سنا رہی ہوں یا کوئی جلترنگ بجا رہی ہوں ۔۔۔ اور میں وہیں آس پاس بیٹھا ان جادوئی آوازوں میں ایسے کھو جاؤں کہ خود ہی کبھی آبشار کے گرتے قطرے بن جاؤں تو کبھی جلترنگ یا دور سے آتی بانسری کی سریلی آواز ۔
زاھد احمد
دل چاہتا ہے کہ آج اخبارات کے سارے الفاظ مٹ جائیں اور صرف تصاویر باقی رہ جائیں۔ پھر ان تصاویر کے کچھ رنگ تتلیاں بن کر ہوا میں اڑیں تو کچھ پھول بن کر فضا کو ایسے معطر کردیں کہ اس میں پھیلی خون اور ماس کی بدبو کا احساس ختم ہوجائے۔۔۔اور الفاظ اگر اخبارات کےصفحات سے نہ بھی مٹیں تو وہ کسی بزرگ صوفی شاعر کی شاعری میں تبدیل ہوجائیں اور بچے کھچے حروف سفید ہوکر ان صفحات میں ایسے کھو جائیں کہ انہیں پڑھنا ممکن نہ رہے۔
آج کوئی تقریر یا نعرے سننے کی خواہش ہے اور نہ ہی کوئی بیان پڑھنے یا ایسے وعدے سننے کی تمنا جو جھوٹے ہونٹوں سے جنم لیکر یا تو اخباروں کی شہ سرخیاں بنتے ہیں یا پھر دھوئیں اور گرد سے بھری فضا میں گھل مل کر اسے مزید گندہ کر دیتے ہیں۔
دل چاہتا ہے کہ مختلف رسالوں کے اوپر چھپی گھٹیا تصاویر بھی آج خوبصورت پینٹنگز کا روپ دھار لیں اور ان کے آس پاس بھٹکتے فضول الفاظ ان شاہکار پینٹنگز کے چاروں اطراف یا اندر کے کسی حصے میں پھیل کر خوبصورت خطاطی کی شکل اختیار کرلیں۔
آج کسی مشیں کا شور سننے کا من ہے اور نہ ہی کسی بیہودہ بیان پڑھنے یا جھوٹی مسکراہٹوں سے سجے چہروں والی تصاویر دیکھنے کی خواہش۔
آج دل چاہ رہا ہے کہ اخبارات کے پنے آبشاروں میں تبدیل ہوجائیں اور ان میں چھپی تصاویر انکے نیچے اور ارد گرد پڑے مختلف اشکال کے چھوٹے بڑے پتھروں میں۔۔۔اور الفاظ چھوٹی چھوٹی بوندیں بن کر ان پتھروں پر ایسے گریں کہ نغمگیں آواز یں جنم لیں ۔۔۔ایسی آوازیں جیسے پانی کی وہ چھوٹی چھوٹی بوندیں بڑے بڑے پتھروں کو چھیڑ کر انہیں گیت سنا رہی ہوں یا کوئی جلترنگ بجا رہی ہوں ۔۔۔ اور میں وہیں آس پاس بیٹھا ان جادوئی آوازوں میں ایسے کھو جاؤں کہ خود ہی کبھی آبشار کے گرتے قطرے بن جاؤں تو کبھی جلترنگ یا دور سے آتی بانسری کی سریلی آواز ۔
زاھد احمد
ایک تبصرہ شائع کریں