بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر،بانکے پہرے دار
گھنے،سہانے،چھاوں چھڑکتے،بور لدے چھتنار
بیس ھزار میں بک گءے سارے،ھرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گءے ان ساونتوں کے جسم
گری دھڑام سے گھاءل پیڑوںکی نیلی دیوار
کشتے بیکل، جھڑتے پنجر،چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک،اے آدم کی آل
(مجید امجد)
ایک تبصرہ شائع کریں