نیم تاریک کمرے کے ایک کونے میں رکھی میز پر نیندکی سات گولیاںدھری تھیں اور قریب ہی ایک شیشے کے گلاس میں پانی رکھا تھا۔سفید کاغذ کو سیاہی سے آلودہ کرتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی

کہ آج کی یہ سیاہ رات اس کی زندگی کی آخری رات ہے۔اس کے بعد تمام دکھ اور تکالیف سے نجات ملنے والی ہے ۔لہٰذا اب کسی سے کیا شکوہ شکایت؟حتیٰ ان سے بھی نہیں جنہوں نے اس حال کو پہنچایا ہے۔یعنی جیتے جی مرنے پر مجبور کیا ہے۔پل پل مرنے سے توایک بار کا مرنااچھا۔یہ سوچ کر اس نے ایک گولی اٹھائی اور نگل لی ۔

میزپرچھ گولیاں باقی رہ گئی تھیں۔وہ اٹھی اوردیوارپرلگے آئینہ میںاپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ایک زہرخندمسکراہٹ اس کے لبوں پر رینگ گئی۔یہ ہاجرہ ابراہیم کا چہرہ ہے۔اورصبح لوگ اس چہرے کو دیکھ کرکہیں گے کہ کتنی زردی چھائی ہے اس چہرے پر۔موت نے اسے آغوش میں لے لیا۔یا اس نے موت کو گلے لگایا،مگرکیوں؟وہ جانتی ہے کہ اس کیوں کا جواب سب کے پاس ہے۔وہ ایک لڑکی ہے اور کسی بھی لڑکی کی خودکشی کی بابت سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔اور بسا اوقات اس قسم کی صورتحال میں انگلیاں بھی اٹھتی ہیں۔ کم عمری کے دکھوں کی داستان تو قریبی عزیزوں کی زبانی سن رکھی تھی اوراس کے بعدکے دکھوں کا تجربہ بڑاجان لیوا ہے ۔اس لئے اب برداشت کا مادہ ختم ہوچکا تھا،اورفیصلے کی گھڑی آپہنچی تھی کہ وقت اسے تمام نہیں کر رہا مگراسے وقت کا گلا گھونٹناپڑے گا۔اورسب کچھ دفن ہوجائے گا ۔ہاجرہ ابراہیم پلٹ کرمیز تک آئی اورایک گولی اٹھائی اور نگل لی اوراب میزپرپانچ گولیاں باقی رہ گئی تھیں،

یہ ریڈیوپاکستان ہے،وقت ملا لیجیے رات کے گیارہ بجنے والے ہیں آئیے خبریں سنتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔لڑکی کی خودکشی کی وجہ معلوم نہ ہوسکی البتہ لاش کے سرہانے خواب آورگولیوں کے خالی پیکٹ پائے گے جن سے پتہ چلتا ہے کہ گولیوں کی زیادہ مقدارموت کا سبب بنی ہے۔

جب ریڈیو پاکستان کی مقامی خبروں میں اس نے یہ خبرشامل کی تھی توکئی دنوں تک خود بھی افسردہ رہی تھی اس لئے کہ متوفی اس کی ہم عمر تھی اور اسکے حالات میں بھی مماثلت تھی۔

ریڈیو نے ایک سلیقہ بخشا اورایک آواز نکھرتی چلی گئی۔بہت اچھا بولتی ہیں آپ اور آواز بھی خوب ہے

جب کسی نے کہا تو وہ جواب میں فقط شکریہ کہہ پائی ۔

اور ایک وقت ایسا آیاجب اسے خود بھی احساس ہوا کہ کہنے والے صرف جھوٹی تعریف نہیں کرتے بلکہ سچ بھی بولتے ہیں۔یقیناi am the best لوگوں نے سراہا بھی ۔پھر جب وہ کسی طور بھی کسی بڑے کے کام نہ آسکی تو سب کے لیے بے کار ہوگئی

تم زمانے کے ساتھ نہیںچل سکتیں دقیانوسی خیالات کی مالک ہو،یہاں ان لڑکیوںکی قیمت لگتی ہے جو زمانے اوربڑے لوگوں کے ساتھ چلنے کا ہنر جانتی ہوں۔

میں لڑکی ہوں کوئی بکاﺅمال نہیں جسکی قیمت لگے جہاں تک ہنر کی بات ہے تو کیا میںباصلاحیت نہیں؟

تم لڑکی ہی نہیں ہو ،کم از کم لڑکیوں والی حس بھی نہیں ہے۔

ہاں مانا کہ میں کچھ نہیں کر سکتی لیکن مر توسکتی ہوں ناں۔وہ آگے بڑھی اور ایک گھونٹ پانی سے ایک نیند کی گولی نگل لی اب میزپر چار گولیاں باقی رہ گئی تھیں۔

ابوجان میں آپ کو آج ایک نئی کہانی سناتی ہوں،لیکن میںشہرذاد نہیںجو اپنی جان بچانے کے لئے کہانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیتی ہے۔یہ کہانی مختصربھی ہے اورسبق آموزبھی۔کہ والدین نے اپنی بیٹی کوزیورتعلیم سے آراستہ کیا، اورپھرشعوروآگہی اس کی موت کا سبب بنی ،اس نے مقابلہ کیا لےکن پھر ہار مان لی۔

ہاں کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پرکوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر

مگر کتنے لوگوں کو خبر ہے کہ تقویٰ کیا ہے ؟اس نے خود سے سوال کیا ۔برابری کی بنیاد پر لین دین کاتو سب کو ہی پتہ ہے ،میرے اردگردبسنے والے لوگوں کو بھی،لیکن ان کو یہ نہیں معلوم کہ جو،ان کے بیچ بس رہا ہے ان کو زندہ رہنے کاحق دیا جائے ۔مگر ہم زبان سے مار ڈالتے ہیں۔اسے یاد آیا کہ ابھی موت اس کی منتظر نہیں بلکہ وہ موت کودعوت دے رہی ہے چناچہ اس نے ایک گولی اٹھائی اور نگل لی اب میز پرتین گولیاں باقی رہ گئیں تھیں ۔وہ کچھ سوچنا چاہتی تھی مگر اس کو اپنا سربھاری اور گھومتا ہوا محسوس ہوا ۔وہ کرسی کا سہارہ لےکر اٹھی مگر پھراپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اورگرپڑی ۔میزکاسہارہ لے کردوبارہ اٹھنے کی کوشش کی اور کھڑی ہوگئی ۔ایک عجیب اورمیٹھی سی نیند نے آگھیرا تھا۔جیسے کسی غریب کوپیٹ بھر کر کھاناکھانے کے بعد آتی ہے یاکسی بچے کواس کا من پسندکھلونا مل جائے اوروہ اس سے کھیل کر سوجائے۔اسکے تصور میں بھی ایک بچی ابھری کوئی اسے آوازدے رہا تھا ۔ہاجرا بیٹا گرجاﺅگی چوٹ لگ جائے گی۔

مگروہ سنی ان سنی کئے لکڑی کی ٹوٹی سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش میں تھی۔بالآخرپانچویں پائدان پر پہنچ کر سیڑھی کی خلا ءسے اوندھے منہ گرپڑی ۔ناک سے خون جاری ہوگیا جلدی سے دومہربان ہاتھوں نے اسے گودمیں اٹھایا اورڈاکٹرکی طرف دوڑ لگائی ۔مگروہ زخم تواسی وقت مندمل ہوگئے جب اسکی زخمی اورخون آلود ناک پر ماں نے بوسہ دے کر کہا ہائے اللہ یہ چوٹ مجھے کیوں نہ آئی ؟ اور وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے محض ماں کے مہربان چہرے پرہاتھ پھےرتی رہ گئی ، ماں نے اسی ننھے سے ہاتھ کواپنے لبوں سے لگایااوراسے اپنے سینے میں چھپالیا۔درد کا احساس غائب ہوگیا ناک سے خون کے قطرے گر کراسکی سفےدبراق فراک کوہی نہیںماں کے چہرے کو بھی خون آلود کرچکے تھے،

ڈاکٹر نے نسخہ لکھا دوا ئی اورانجکشن کے بعد فارغ کردیا تھوڑی ہی دیرمیں اسکے حواس معطل ہوگئے اوروہ اندھیرے میں گھر گئی ڈوبنے سے پہلے اس کے ہونٹوں سے ایک سسکی نکلی ،،،ماں

اس نے پھر میز کا سہارہ لیا اور اٹھنے کی کوشش کی سر چکرارہا تھا لبوں کے بجائے نیم واں اورمخمورآنکھوں نے پکارا ،،،ماں

مگر جب اسے ہرطرف سناٹے کاراج دکھائی دیا تواپنے اکیلے پن اورکمرے کی تاریکی کا احساس ہوا۔تاریکی نے ہیولے کا روپ دھارا اوراس کی طرف بڑھنے لگاتواسکی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ،وہ منمنائی۔

خدا کے لیے مجھے مت مارو چھوڑ دو مجھے ،تمہیں اللہ کا واسطہ،مگر ہیولا اسکے نرم گالوں پر اپنی انگلیوں کے نشان ثبت کرچکا تھا ،جانے کہاں سے پھرتی آگئی اور اس نے اٹھ کر بھاگنا چاہا ،اس وقت تک غسال مردے کو نہلانے کے لئے اوراسے نیا لباس پہنانے کے لئے اس کا گریبان پھاڑ چکا تھا

زبان میں ایک کڑواہٹ سی گھل گئی ،وہ ہمت کر کے کھڑی ہو گئی اور پانی پینے سے پےشتر میز پر سے گولی اٹھا کر منہ میں رکھنا نہیں بھولی ۔اب میزپر صرف دو گولیاں باقی رہ گئیں تھیں۔اس نے وہ گولیاں اپنی ہتھیلی پر رکھ لیں ۔ایسا لگا جےسے گرم انگارے ہوں حالانکہ وہ ایسے پانچ انگارے وقتا فوقتا نگل چکی تھی اور زبان اب بھی ٹھنڈی تھی،البتہ دل وجگر میں اک آگ سی بھڑکی ہوئی تھی،ایک بے چینی سی تھی جیسے پارہ بھر دیا ہو کسی نے۔اس نے گھبراکر گولیاں دوبارہ میز پر رکھ دیں ،اوران کوبغوردیکھنے لگی۔اچانک ایک آواز سنائی دی

باجی مجھے اس عیدپر نئے کپڑے بنا دوگی نا، میںپرانے کپڑے پہنوں گا تومیرے دوست میرا مزاق اڑائینگے

۔ہا ہاہا ۔۔۔باجی نے تومجھ سے بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے ترقی ملنے پر نیا یونیفارم لے کر دینگی مگر کب ترقی ملے گی نہیں معلوم؟اور آج تین سال ہونے کوہیں ۔اباجی زندہ ہوتے تو وہ ہم کو،،،،،،،،،؟

اس نے پہلے غصے میں چھوٹے برکت علی کو دیکھا پھرایک قہرآلودنگاہ سکینہ پر ڈالی ۔

میرا قصوربتاﺅ ۔کہاں کمی آنے دی میں نے؟لیکن تم لوگوں کے مسکین اوریتیم چہرے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑتے۔میں نے اباجی کو نہیں مارا مگر وہ ہمیں جیتے جی مار گئے ،بلکہ مجھے ایک امتحان میں ڈال گئے ۔شعور کی منازل سے آشنا کر کے باقی ہر چیزسے بیگانہ کر گئے۔

اس کا دماغ چکرا رہا تھا ،ہر چیز گھومتی اوراندھیرے میںڈوبتی محسوس ہورہی تھی ۔اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں مگر ایک دل خراش چیخ نے اسے پیچھے مڑکر دیکھنے پر مجبور کیا

ماں ننھے برکت علی کی لاش کندھے پر ڈالی گھر میں داخل ہورہی تھیں۔ان کے پیچھے محلے کی چند خواتین بھی تھیں۔وہ بھی بین کررہی تھیں۔اس نے گھبرا کر پوچھا ۔ماں اسے کیا ہوا ہے ؟ماں نے خواتین کی مددسے بچے کا بے جان جسم اپنی چادر پر رکھا اورپتھرائی نگاہوں سے اسے ایک ٹک دیکھے گئی۔اس نے اپنا سوال دہرایا۔ اسے کیا ہوا ہے ؟ماں نے لاش کا ہاتھ آگے کیا، مٹھی میں غیرملکی برانڈکی چاکلیٹ کا آدھا حصہ دبا ہوا تھا ۔یہ کہاں سے۔۔۔۔۔؟وہ فقط اتنا کہ پائی

بچے کے شفاف چہرے پر موت کی زردی چھائی تھی ۔ کوئی گلی میں زہریلی چاکلیٹ پھینک گیا وہ اس نے اٹھا کر کھالی تھی۔

اماں ڈاکٹر کے پاس۔۔۔؟اب کوئی فائدہ نہیںیہ مر چکا ہے ۔کوئی اور خاتون بولی ،اب تم جا کرکسی کو بلا لو تاکہ ہم رسومات ادا کر سکیں ۔اس وقت تک اماں بے ہوش ہو چکی تھیں۔

ِِِِنہ نہ اسے مٹی کے حوالے نہ کرو ،میں اسے خوب ڈانٹتی ہوں جب یہ مٹی میںکھیل کر آتا ہے۔یہ تو مستقبل میں اپنی ماں کا سہارہ بنے گا۔،،اس کے ساتھ ہی وہ ہذیانی انداز میں چیخنے لگی

مجھے بھی مر جانا چاہیے،مجھے بھی اس کے ساتھ ہی دفن کردو۔یہ کہہ کر وہ تقریبا خواتین کو دھکا دے کر میز تک آئی۔اورایک گولی اٹھائی اور نگل لی اوراب میزپرایک گولی باقی رہ گئی تھی۔اس نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھا مگرکمرے میں اندھیرے کی وجہ سے وقت کا تعین نہ کر پائی۔اسکا جسم پسینے میں شرابور ہوچکا تھا۔گھنگھریالے بالوں کی لٹیں ماتھے کو چھو رہی تھیں ۔آج زندگی کی ٓٓآخری رات ہے۔آس پاس کی ہر شے معدوم ہورہی تھی،خوداس کا وجوداندھےرے میں ڈوب رہا تھا

ہر شے معدوم ہورہی تھی خود اسکاوجودتاریکی میں ڈوب رہا تھا ۔اب تو اٹھنے کی بھی سکت باقی نہیں رہی تھی،

بڑی ذہین لڑکی ہو مگر بولتی بہت ہو۔۔شاید تمہاری ذہانت تمہاری زبان کے نیچے پوشیدہ ہو ۔کافی مطالعہ ہے ۔اورچیزوں کو اسکی گہرائی میں بھی دیکھنے پرقدرت رکھتی ہو۔ےقین نہیں آتا کہ اس قدر خوبصورت طریقے سے لفظوں کو قید کرنے والی اتنی پان دھان سی لڑکی ثابت ہوگی میں آپ کی ذہانت سے متاثر ہوں ۔

متاثر ہیں یا متعصب ہیں؟،،،،، جواب میں وہ مسکرایا اور کرسی سے اٹھ گیا۔او کے محترمہ امید کرتا ہوں کہ بہت جلد ملاقات ہوگی ۔بیسٹ آف لک۔

وہ مسکرائی ،جی ضرور کیونکہ مجھے خود پر پورا بھروسہ ہے۔اور اپنی صلاحیتوں پر بھی۔

اسے ابکائیاں سی آنے لگی تھی مگر اےسا لگتا تھا کہ آنتیں منہ کے راستے باہرآنے والی ہیں ۔میں عضوءمعطل ہوں، میری حیثیت ایک زنگ آلود پرزے کی سی ہے جوسڑ توسکتا ہے مگر کسی کام نہیں آسکتا۔کوئی چکنائی اسے اس کی اصل حالت میں نہیں لاسکتی۔خیالات بھی دقیانوسی اورزنگ آلود ۔

بی بی آج کے جدیددورمیں صرف باتوں سے دل نہیں بھرتا ،لوگوں سے ملنا جلنا بھی ایک معنیٰ رکھتا ہے زمانے کے تقاضوںسے ہم آہنگی ضروری ہے۔اگر آپ کامیابی کے اصل گر سے واقف ہوناچاہتیں ہیں تو آپ کو زمانے کے ساتھ چلنا ہوگا ۔رسم و رواج اوربندھنوںکی چادر اتارنی ہوگی۔اور یہ چادر بھی جو آپکی ترقی اورخوبصورتی کی راہ میں حائل ہے۔اورآپکا چہرہ بھی لوگوں کو نظر نہیں آتا۔

بعض اوقات روایتوں سے بغاوت آدمی کو معتبر کر دیتی ہے۔اور آدمی بے خوف بھی ہوجاتا ہے۔ہاجرہ ابراہیم کو بھی ہر قسم کے خوف سے عاری ہوناپڑے گا پہلے اندر کا خوف انسان کو مارتا ہے پھر وہ بیرونی خدشات، وسوسوں اوراندیشوں کے ہاتھوں دم توڑ دیتا ہے۔اور جب اتنے سارے ہاتھ کسی کمزور کو دبوچنے کو آگے بڑھنے لگیں تو اسے مرجانا چاہیے کیونکہ اب مقابلے کی تاب نہیں ۔چادر اترے گی تو خاندان والے مار ڈالینگے ۔سرپرٹکی رہے تو یہ جدیدزمانہ۔مگر اب سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔مٹی میں ملنے والا ہے ۔اوراسے ختم ہونا بھی چاہیے۔

جھومتی ہوئی وہ اٹھی میز پر سے آخری گولی اٹھائی اور بمشکل نگلنے کی کوشش کی گلاس اس کے بری طرح لزر رہا تھا۔بالآخر ہاتھ سے چھوٹ کر گرا اورچکناچور گیا ۔وہ بھی بکھرے شیشے کے ٹکڑوں پر ڈھ سی گئی شیشے اس کے جسم میں پیوست ہوگئے مگر وہ سسکی بھی لینے کے قابل نہ تھی۔بس ایک طویل مگر زخمی سانس خارج ہوئی اور ذہن اندھیرے میں ڈوب گیا۔

میڈم تشریف لائیے ۔سب آپ کا انتظار کررہے ہیں ۔آپ رونق انجمن ہیں کےسے ہو سکتا ہے کہ آپ کی غیرموجودگی میں آپ کی سالگرہ کا کیک کٹے ،میڈم کپڑے آپ کوبہت سوٹ کررہے ہیں۔

جدیدتراش خراش کے مغربی لباس میں ملبوس اورتراشیدہ بالوں کو ایک ادا سے جھٹک کر اس نے ایک نظر رعونت سے اس لفاظ شخص پر ڈالی ۔ایک ادائے دلبرانہ سے اس کے ساتھی نے اسکانیم عریاں بازوتھاما اور

وہ بڑے طمطراق سے اس کے سنگ آگے بڑھی۔

بالآخرمیں نے خودکشی کرلی ۔اورآج میری پانچویںبرسی ہے۔ قطرہ قطرہ زہر میرے اندر سرائیت کر رہا ہے اس نے صرف دوسروں کی نظر میںمجھے زندہ رکھا ہے۔میرا اندرسڑچکا ہے۔ا س سے جو تعفن اور بدبواٹھتی ہے ،اس پر میں پرفیوم چھڑکنے کے سواکچھ نہیں کرسکتی۔

ناز رخسانہ




Post a Comment