کھلتا ہے باب ِ صبح ِ اثر اہنے ہاتھ میں
لیکر کھڑا ہوں علم کا در اہنے ہاتھ میں
اک دن دکھاوں گا انہیں سورج نکال کر
رکھتا ہوں میں تو شام و سحر اہنے ہاتھ میں
خوش ہو رہا ہوں دانش ِ انساں نے لے لیا
رستہ میان ِ شمس و قمر اہنے ہاتھ میں
پہلے نہیں تھا لمس کی حدت سے رابطہ
پہلے نہیں تھی اس کی خبر اہنے ہاتھ میں
میں رنگ ِ خوشگوار سے تجھ کو ملاوں گا
اے رنگ ِ بہترین بکھر اہنے ہاتھ میں
جس دن سے میں شریک صف ِ رزق ِ پاک ہوں
کھلتے ہیں میکا ئیل کے پر اہنے ہاتھ میں
بیٹھے ہوئے ہو ہمت ِ بے بس لیے ہوئے ؟
دست ِ ہنر ہے : دست ِ ہنر اہنے ہاتھ میں
اک دن کسی فرشتہ ء برہم نے لینے ہیں
میری سزایئں ، میرے ضرر اہنے ہاتھ میں
سر میں گھس آیئں اس کی لکیریں تو کیا ہوا
لیتا ہوں روز ، میں بھی تو سر اہنے ہاتھ میں
ماں کی دعایئں ساتھ ہوں ناصر علی تو پھر
پردیس میں بھی لگتا ہے گھر اہنے ہاتھ میں
ناصر علی
ایک تبصرہ شائع کریں