ہر طرف سے آوازیں ۔۔۔ ایک شور کی سی آوازیں۔ سستا۔۔۔ سستا۔ ۔ ۔ آج کل سے بھی سستا۔ ۔ ۔ ۔ ادھر دیکھو۔۔۔ ادھر دھیان دو۔ وقت ضایع مت کرو۔ آج نہیں لیا تو پچھتاؤگے۔ ہم سے لو ۔ ۔ ۔ ہم سے ۔ خرید تے کیوں ہو، کرایے پر لو۔ کل فیشن بدل گیا تو سب گیا۔ پیسے کی فکر مت کرو۔ قرضہ لے لو۔ بینک کس لیے ہیں ۔ ۔ ۔ معمولی سود پر قرضہ ۔ ۔ ۔ سب آسان قسطوں پر- جو لینا ہے، لے جاؤ۔ اگلے بارہ ماہ تک کچھ نہ دینا ۔ اگلے چوبیس ماہ کچھ نہ دینا۔ ہم سے خریدو۔۔۔۔ ہم سے لو۔ دو خریدنے پر ایک بالکل مفت۔ ہر طرف سے آوازیں ۔۔۔ ایک شور کی سی آوازیں۔ دماغ چکرا گیا ہے۔ کہاں جاؤں، کیا کروں۔
یہ کیا ہے?!... ہاں! ۔ ۔ ۔ یہ سب، شاید اچھا ہی ہے ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ لیکن مجھے تو اس سب کی ضرورت نہیں۔
اچھا! آپ بتائیں آپ کو کیا چاہیے ۔ ۔ ۔ ہم آپ کی مدد کریں گے۔
مجھے۔۔۔ مجھے تو تھوڑا سا ذہنی سکون چاہیے۔ مجھے شور نہیں خاموشی چاہیے اور مجھے ایک چھت چاہیے۔ ۔ ۔ جسے میں اپنا کہہ سکوں۔ ۔ ۔ اپنا گھر۔ ۔ ۔اور اس کے نیچے کی زمین کا ٹکڑا، جسے میں اپنی زمین کہہ سکوں اور جس پر کوئی قرضہ نہ ہو۔
میری طرف دیکھنے والی آنکھیں ہنستی ہیں اور پھر گھوم کر دوسری طرف دیکھنے لگتی ہیں۔
مجھے تھوڑا سا سکون چاہئے، دو نہ! ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے رنگ چاہئے ہیں۔ ۔ ۔ خوشبو سے بھرے رنگ ۔ ۔ ۔ اور تھوڑی سی فرصت. . . اس خوشبو کے بیچ کھڑے ہوکر سانسیں لینے اور رنگوں کو اپنے ارد گرد محسوس کرنے کیلیے۔ ۔ ۔ اور تھوڑے سے رنگ اور کچھ سفید کاغذ ۔ ۔ ۔ جن پر پھیلا کر میں ان رنگوں کے ساتھ کھیل سکوں اور مجھے آزادی چاہیے . . . ان رنگوں کو چھونے کی اور اپنی آنکھیں کھول کر انکو اپنے سینے میں اتارنے کی۔ مجھے ہوا چاہیے۔ ۔ ۔ ملاوٹ اور جلے ہوئے پیٹرول کی بو سے پاک۔
میں بول رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مستقل، لیکن کوئی بھی میری طرف نہیں دیکھتا۔ میرے کانوں میں صرف ہنسی کی کئی آوازیں گونجتی ہیں۔ میں کہتا ہوں۔ ۔ ۔ کتنے پیسے لوگے بوری بھر تازہ ہوا کے اور کیا دو بوری خریدوں تو ایک مفت ملے گی?۔ ۔ ۔ لیکن میری بات کا جواب کوئی بھی نہیں دیتا۔ سب ہنستے اور مجھے دیوانہ کہتے ہیں۔
مجھے چاہیے ۔ ۔ ۔ مجھے بہت کچھ خرید نا ہے۔ مجھے ایسی درانتی چاہیے جس سے نفرتوں کا گلا کاٹ سکوں۔ ۔ ۔ مجھے ایک بیلچہ چاہیے، ایسا بیلچہ جس سے ظلم کی قبر کھود سکوں اور مجھے کفن چاہیے۔ ۔ ۔ اسلحہ اور بارود کو لپیٹ کر دفنانے کے لئے. میں بولتا رہ جاتا ہوں۔ اب کوئی ہنستا بھی نہیں، کوئی مجھے دیوانہ بھی نہیں کہتا۔ جیسے میرے گلے سے آواز نکل ہی نہ رہی ہو۔ جیسے صرف میرے ہونٹ ہل رہے ہوں۔ میں کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے قرضہ دے دو۔ ۔ ۔ بڑے اور گہرے گڑھے کھدوانے کے لیے جہاں ایسی ساری گیسز دفنادوں جو انسانی جسموں کو گلا دیتی ہیں اور جو ذہنوں سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر انہیں مفلوج بنا دیتی ہیں اور مجھے قرضہ چاہیے ایسا بیج خریدنے کے لیے جسے اگر میں ان گڑھوں میں دفناؤں تو وہاں سے سفید پھول کھلیں۔ میں کہتا رہ جاتا ہوں لیکن کوئی بھی میری آواز نہیں سن پاتا، جیسے وہ میرے گلے کے اندر ہی دب کر رہ گئی ہوں ۔ ۔ ۔ لیکن پھر بھی ہر طرف شور ہے. . . سستا۔۔۔ سستا۔ ۔ ۔ آج کل سے بھی سستا۔ ۔ ۔ ۔ ادھر دیکھو۔۔۔ ادھر دھیان دو۔ وقت ضایع مت کرو۔ آج نہیں لیا تو پچھتاؤگے۔
یہ کیا ہے?!... ہاں! ۔ ۔ ۔ یہ سب، شاید اچھا ہی ہے ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ لیکن مجھے تو اس سب کی ضرورت نہیں۔
اچھا! آپ بتائیں آپ کو کیا چاہیے ۔ ۔ ۔ ہم آپ کی مدد کریں گے۔
مجھے۔۔۔ مجھے تو تھوڑا سا ذہنی سکون چاہیے۔ مجھے شور نہیں خاموشی چاہیے اور مجھے ایک چھت چاہیے۔ ۔ ۔ جسے میں اپنا کہہ سکوں۔ ۔ ۔ اپنا گھر۔ ۔ ۔اور اس کے نیچے کی زمین کا ٹکڑا، جسے میں اپنی زمین کہہ سکوں اور جس پر کوئی قرضہ نہ ہو۔
میری طرف دیکھنے والی آنکھیں ہنستی ہیں اور پھر گھوم کر دوسری طرف دیکھنے لگتی ہیں۔
مجھے تھوڑا سا سکون چاہئے، دو نہ! ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے رنگ چاہئے ہیں۔ ۔ ۔ خوشبو سے بھرے رنگ ۔ ۔ ۔ اور تھوڑی سی فرصت. . . اس خوشبو کے بیچ کھڑے ہوکر سانسیں لینے اور رنگوں کو اپنے ارد گرد محسوس کرنے کیلیے۔ ۔ ۔ اور تھوڑے سے رنگ اور کچھ سفید کاغذ ۔ ۔ ۔ جن پر پھیلا کر میں ان رنگوں کے ساتھ کھیل سکوں اور مجھے آزادی چاہیے . . . ان رنگوں کو چھونے کی اور اپنی آنکھیں کھول کر انکو اپنے سینے میں اتارنے کی۔ مجھے ہوا چاہیے۔ ۔ ۔ ملاوٹ اور جلے ہوئے پیٹرول کی بو سے پاک۔
میں بول رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مستقل، لیکن کوئی بھی میری طرف نہیں دیکھتا۔ میرے کانوں میں صرف ہنسی کی کئی آوازیں گونجتی ہیں۔ میں کہتا ہوں۔ ۔ ۔ کتنے پیسے لوگے بوری بھر تازہ ہوا کے اور کیا دو بوری خریدوں تو ایک مفت ملے گی?۔ ۔ ۔ لیکن میری بات کا جواب کوئی بھی نہیں دیتا۔ سب ہنستے اور مجھے دیوانہ کہتے ہیں۔
مجھے چاہیے ۔ ۔ ۔ مجھے بہت کچھ خرید نا ہے۔ مجھے ایسی درانتی چاہیے جس سے نفرتوں کا گلا کاٹ سکوں۔ ۔ ۔ مجھے ایک بیلچہ چاہیے، ایسا بیلچہ جس سے ظلم کی قبر کھود سکوں اور مجھے کفن چاہیے۔ ۔ ۔ اسلحہ اور بارود کو لپیٹ کر دفنانے کے لئے. میں بولتا رہ جاتا ہوں۔ اب کوئی ہنستا بھی نہیں، کوئی مجھے دیوانہ بھی نہیں کہتا۔ جیسے میرے گلے سے آواز نکل ہی نہ رہی ہو۔ جیسے صرف میرے ہونٹ ہل رہے ہوں۔ میں کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے قرضہ دے دو۔ ۔ ۔ بڑے اور گہرے گڑھے کھدوانے کے لیے جہاں ایسی ساری گیسز دفنادوں جو انسانی جسموں کو گلا دیتی ہیں اور جو ذہنوں سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر انہیں مفلوج بنا دیتی ہیں اور مجھے قرضہ چاہیے ایسا بیج خریدنے کے لیے جسے اگر میں ان گڑھوں میں دفناؤں تو وہاں سے سفید پھول کھلیں۔ میں کہتا رہ جاتا ہوں لیکن کوئی بھی میری آواز نہیں سن پاتا، جیسے وہ میرے گلے کے اندر ہی دب کر رہ گئی ہوں ۔ ۔ ۔ لیکن پھر بھی ہر طرف شور ہے. . . سستا۔۔۔ سستا۔ ۔ ۔ آج کل سے بھی سستا۔ ۔ ۔ ۔ ادھر دیکھو۔۔۔ ادھر دھیان دو۔ وقت ضایع مت کرو۔ آج نہیں لیا تو پچھتاؤگے۔
زاھد احمد
ایک تبصرہ شائع کریں