دورکہیں کِھلا ہوا خواب تھا مرغزار میں
دیر تلک چلے تھے ہم نیند کے شاخسار میں
موج ِخزاں سے قبل ہی ایک ہَوائے ہجر نے
لوٹ لیا چمن مرا وہ بھی بھری بہار میں
تجھ کو وہ عہد ِ مختصر یا د نہیں رہا مگر
کوئی رہا ھے عمر بھر محشر ِ انتظار میں
اب نہ خدا کرے کہ ہم پھر تری آرزو کریں
اب ہو خدا کرے یہ دل اپنے ہی اختیار میں
آج یہ کس نے گرم ہاتھ شانہء غم پہ رکھ دیا
کون دلاسا دے گیا لمحہء سوگوار میں
کس کے لبوں پہ میرا نام گُل کی طرح چٹک گیا
کس نے اضافہ کر دیا موسم ِ خوشگوار میں
ایک نئی ہَوا کے بعد منظرِ دشت اور ہے
نقش ِ قدم کا ذکر کیا درد کے اس غبار میں
جشن ِ گلُ و نمائش ِ باغ سے دُور ہم کِھلے
ایک نگاہ کے لیے کون لگے قطار میں
راہ مین بیٹھتے گئے تھک کے مریض ِ بے دِلی
منزل ِ شوق کے اسیر اب بھی اُسی حصار میں
ثمینہ راجہ
دیر تلک چلے تھے ہم نیند کے شاخسار میں
موج ِخزاں سے قبل ہی ایک ہَوائے ہجر نے
لوٹ لیا چمن مرا وہ بھی بھری بہار میں
تجھ کو وہ عہد ِ مختصر یا د نہیں رہا مگر
کوئی رہا ھے عمر بھر محشر ِ انتظار میں
اب نہ خدا کرے کہ ہم پھر تری آرزو کریں
اب ہو خدا کرے یہ دل اپنے ہی اختیار میں
آج یہ کس نے گرم ہاتھ شانہء غم پہ رکھ دیا
کون دلاسا دے گیا لمحہء سوگوار میں
کس کے لبوں پہ میرا نام گُل کی طرح چٹک گیا
کس نے اضافہ کر دیا موسم ِ خوشگوار میں
ایک نئی ہَوا کے بعد منظرِ دشت اور ہے
نقش ِ قدم کا ذکر کیا درد کے اس غبار میں
جشن ِ گلُ و نمائش ِ باغ سے دُور ہم کِھلے
ایک نگاہ کے لیے کون لگے قطار میں
راہ مین بیٹھتے گئے تھک کے مریض ِ بے دِلی
منزل ِ شوق کے اسیر اب بھی اُسی حصار میں
ثمینہ راجہ
ایک تبصرہ شائع کریں