ہچکیوں میں درد ، آہوں میں اثر آیا نہیں
دل کو جلنے کا سلیقہ ، عمر بھر آیا نہیں
وہ جنھیں صاحب نظر اور دیدہ ور لکھا گیا
آنکھ کا شہتیر اُن کو بھی نظر آیا نہیں
چلتے ، چلتے چل بسی آدھی صدی پائوں تلے
اِس مسافت میں تو خوابوں کا نگر آیا نہیں
رات کا پچھلا پہر اور ہم سفر تیرا جمال
اس خرامِ شوق میں وقفہ مگر آیا نہیں
عمر بھر چھانے سمندر لفظ و معنی کے مگر
ہاتھ پھر بھی زندگانی کا گہر آیا نہیں
جو پتہ تو نے دیا تھا وہ غلط ثابت ہوا
دل کے رستے میں کہیں بھی تیرا گھر آیا نہیں
صبح کا بھولا ہوا ، مسعود، سمجھے تھے جسے
زندگی کی شام تک وہ لوٹ کر آیا نہیں
دل کو جلنے کا سلیقہ ، عمر بھر آیا نہیں
وہ جنھیں صاحب نظر اور دیدہ ور لکھا گیا
آنکھ کا شہتیر اُن کو بھی نظر آیا نہیں
چلتے ، چلتے چل بسی آدھی صدی پائوں تلے
اِس مسافت میں تو خوابوں کا نگر آیا نہیں
رات کا پچھلا پہر اور ہم سفر تیرا جمال
اس خرامِ شوق میں وقفہ مگر آیا نہیں
عمر بھر چھانے سمندر لفظ و معنی کے مگر
ہاتھ پھر بھی زندگانی کا گہر آیا نہیں
جو پتہ تو نے دیا تھا وہ غلط ثابت ہوا
دل کے رستے میں کہیں بھی تیرا گھر آیا نہیں
صبح کا بھولا ہوا ، مسعود، سمجھے تھے جسے
زندگی کی شام تک وہ لوٹ کر آیا نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں