بہشت بوسہ و شوق کچھ بھی نہیں
یہ اداسی ہے جس کو قبول کچھ بھی نہیں
معاملات محبت میں ہوں بہت مصروف
یہ اور بات کہ حاصل وصول کچھ بھی نہیں
میں اپنے ہونے کا انکار کیوں کروں آخر
میں کہوں ترے قدموں کی دھول کچھ بھی نہیں
مرے لئے تو یہ کاغذ کا پھول کچھ بھی نہیں
عباس تابش
یہ اداسی ہے جس کو قبول کچھ بھی نہیں
معاملات محبت میں ہوں بہت مصروف
یہ اور بات کہ حاصل وصول کچھ بھی نہیں
میں اپنے ہونے کا انکار کیوں کروں آخر
میں کہوں ترے قدموں کی دھول کچھ بھی نہیں
مرے لئے تو یہ کاغذ کا پھول کچھ بھی نہیں
عباس تابش
ایک تبصرہ شائع کریں