بہشت ھوتی فضاؤں سے گفتگو کی ہے
حیا سرشت نگاہوں سے گفتگو کی ہے
شجر کی اوٹ میں سورج نے سر چھپا لیا ہے
کہ میرے سائے نے چھاؤں سے گفتگو کی ہے
یہ تیری آنکھ کی پتلی میں شور کیسا ہے
سکوت اوڑھے چراغوں سے گفتگو کی ہے?
کلام کر، تری پہچان بس کلام میں ہے
بتا کہ تو نے صحیفوں سے گفتگو کی ہے
سمجھ رہا ہے کہ صحرا سے تو مخاطب ہے
نہیں نہیں مری آنکھوں سے گفتگو کی ہے
جدید ہوتے زمانوں سے راہ و رسم نہیں
قدیم ہوتی زمینوں سے گفتگو کی ہے
طلسم ہے، کہ کوئی جسم ہے ،بس اتنا ہے
دھنک مزاج ہواؤں سے گفتگو کی ہے
سبھی تجھی سے نکلتے ہیں ختم ہوتے ہیں
یہ میں نے جتنے حوالوں سے گفتگو کی ہے
حماد نیازی
حیا سرشت نگاہوں سے گفتگو کی ہے
شجر کی اوٹ میں سورج نے سر چھپا لیا ہے
کہ میرے سائے نے چھاؤں سے گفتگو کی ہے
یہ تیری آنکھ کی پتلی میں شور کیسا ہے
سکوت اوڑھے چراغوں سے گفتگو کی ہے?
کلام کر، تری پہچان بس کلام میں ہے
بتا کہ تو نے صحیفوں سے گفتگو کی ہے
سمجھ رہا ہے کہ صحرا سے تو مخاطب ہے
نہیں نہیں مری آنکھوں سے گفتگو کی ہے
جدید ہوتے زمانوں سے راہ و رسم نہیں
قدیم ہوتی زمینوں سے گفتگو کی ہے
طلسم ہے، کہ کوئی جسم ہے ،بس اتنا ہے
دھنک مزاج ہواؤں سے گفتگو کی ہے
سبھی تجھی سے نکلتے ہیں ختم ہوتے ہیں
یہ میں نے جتنے حوالوں سے گفتگو کی ہے
ایک تبصرہ شائع کریں