
بنت حوا ھوں میں یہ مرا جرم ھے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
شاعری کی خدا داد صلاحیت ،ساز گار ادبی ماحول اورشاعر باپ کاظم عباس کی لاڈلی بیٹی ثروت زہرا نے طالب علمی کے زمانے سے ہی شاعری کا آغاز بھرپور انداز میں کر دیا تھا۔
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
شاعری کی خدا داد صلاحیت ،ساز گار ادبی ماحول اورشاعر باپ کاظم عباس کی لاڈلی بیٹی ثروت زہرا نے طالب علمی کے زمانے سے ہی شاعری کا آغاز بھرپور انداز میں کر دیا تھا۔
انھوں نے ایم بی بی ایس سندھ میڈیکل کالج کراچی سے کیا۔بزم طلبہ ریڈیو کے مشہور پروگرام میں حصہ لیکر اپنی کارکردگی سے سب کو چونکا دیا۔ کراچی میں سترہ بار بہترین ڈیبیٹر رہیں۔ پھرعشق نے انہیں جہاں درد کی دولت سے مالامال کیا وہاں بھر پور اعتماد دیا۔ ان کے جذبوں کو توانائی دی ۔انہیں کھل کے بات کرنے کا ہنر آگیا ان کے شوہر پیر محمد کیلاش ,سندھی کے افسانہ نگار اور نقاد ہیں۔انھوں نے ثروت کو سنجیدہ شاعری کی طرف مائل کیا۔ اس لئے ثروت نے ٹی وی پر خبریں پڑھنا چھوڑ دیاآجکل وہ شارجہ میں مقیم ہیںاور دبئی کے ہسپتال میں ملازمت کر رہی ہیں ان کے دو ہونہار بچے ہیں۔
ان کی پہلی کتاب "جلتی ہوا کا گیت " 2004 میں شائع ہو ئی اور ناقدین سے داد پائی۔
موضوعات کے دھنک رنگوں میں سجی ان کی کتاب میں آج کے دور کے اضطراب کا نوحہ ہے جو حساس دلوں پر کچوکے لگاتا ہے ثروت نے پنی شاعری میں اس اضطراب کو کھل کر بیان کیا ہے۔وہ معاشرے کی ایک باشعور عورت ہے جومعاشرے میں اپنی ذمے داریاں بطریق احسن نبھا رہی ہے آج کے دور میں جلتے سلگتے موضوعات ظلم ،جبر ، معاشرتی نا ہمواری ،بھوک جنگ و جدل ،طبقاتی تقسیم نے انسانوں کی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے۔ایسے میں شاعر ادیب جو معاشرے کے حساس ترین ا فراد ہوتے ہیں وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ثروت کی شاعری تسلیم و رضا کی شاعری نہیں ہے بلکہ ثروت کی شاعری ایک حساس غور وفکرا ور احتجاج کرتی ہوئی عورت کی شاعری ہے۔جس میں غم وغصہ ّ اور نا آسودگی کا احساس نمایاں ہے شاعری ثروت کے مزاج کا حصہ ہے ان کا حساس دل زندگی کی تلخیوں پر کڑھتا ہے۔آس پاس کے ماحول نے ان پر گہرا اثر ڈالا وہ خود بھی سوچتی ہیں اور دوسروں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہیں ثروت پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اس لئے انسانوں اور انسانوں کے دکھوں سے ان کا براہ راست واسطہ رہتا ہے کہانیاں خود چل کر ان کے پا س آتی ہیں۔اور ان کی نظموں میں ڈھل جاتی ہیں نظموں میں ان کاانداز مخصوص اور منفرد ہے نئی نسل کی یہ نمائندہ شاعرہ مشاعروں میں چھا جانے کا ہنر جانتی ہیں۔لکھنے کا انداز اچھا ہے اور شاعری کو پڑھنے کا انداز اوربھی اچھا۔
ان کی پہلی کتاب "جلتی ہوا کا گیت " 2004 میں شائع ہو ئی اور ناقدین سے داد پائی۔
موضوعات کے دھنک رنگوں میں سجی ان کی کتاب میں آج کے دور کے اضطراب کا نوحہ ہے جو حساس دلوں پر کچوکے لگاتا ہے ثروت نے پنی شاعری میں اس اضطراب کو کھل کر بیان کیا ہے۔وہ معاشرے کی ایک باشعور عورت ہے جومعاشرے میں اپنی ذمے داریاں بطریق احسن نبھا رہی ہے آج کے دور میں جلتے سلگتے موضوعات ظلم ،جبر ، معاشرتی نا ہمواری ،بھوک جنگ و جدل ،طبقاتی تقسیم نے انسانوں کی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے۔ایسے میں شاعر ادیب جو معاشرے کے حساس ترین ا فراد ہوتے ہیں وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ثروت کی شاعری تسلیم و رضا کی شاعری نہیں ہے بلکہ ثروت کی شاعری ایک حساس غور وفکرا ور احتجاج کرتی ہوئی عورت کی شاعری ہے۔جس میں غم وغصہ ّ اور نا آسودگی کا احساس نمایاں ہے شاعری ثروت کے مزاج کا حصہ ہے ان کا حساس دل زندگی کی تلخیوں پر کڑھتا ہے۔آس پاس کے ماحول نے ان پر گہرا اثر ڈالا وہ خود بھی سوچتی ہیں اور دوسروں کو بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہیں ثروت پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اس لئے انسانوں اور انسانوں کے دکھوں سے ان کا براہ راست واسطہ رہتا ہے کہانیاں خود چل کر ان کے پا س آتی ہیں۔اور ان کی نظموں میں ڈھل جاتی ہیں نظموں میں ان کاانداز مخصوص اور منفرد ہے نئی نسل کی یہ نمائندہ شاعرہ مشاعروں میں چھا جانے کا ہنر جانتی ہیں۔لکھنے کا انداز اچھا ہے اور شاعری کو پڑھنے کا انداز اوربھی اچھا۔
جو سارا دن مرے خوابوں کو ریزہ ریزہ کرتے ہیں
میں ان خوابوں کو سی کر رات کا بستر بناتی ہوں
وہ شاہ لطیف بھٹائی ،کالی داس ،شیخ سعدی، میرا جی، مجید امجد اور راشد کی شاعری پر رشک کرتی ہیں اور ان عظیم شاعروں جیسی گہرائی اور گیرائی اپنی شاعری میں دیکھنے کی متمنی ہیں۔وہ شعوری طور پر کسی سے متاثر نہیں ہیں لیکن سچے اور کھرے جذبے خود بخود لکھنے والوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ادا جعفری فہمیدہ ریاض ، امرتا پریتم ،سارا شگفتہ ،عشرت آفریں اور یاسمین حمید کی شاعری ان کے شعری افق کو وسیع کرتی ہےادب کی لئے نقاد کی اہمیت ہر دور میں ہوتی ہے تنقیدی مضامین کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔ نقاد اچھی شاعری کی خوبیوں کو سامنے لاتے ہیں ثروت نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادب میں گروہ بندیاں تو ہر جگہ اور ہمیشہ سے ہیں مثبت اور تعمیری سوچ اور تنقید خوشگوار اثرات ڈالتی ہے۔لیکن دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا رجحان بھی دیکھنے میں آتا ہے لیکن یہ بھی کوئی انہونی بات نہیں۔ثروت زہرا اردومنزل کو باقائدہ دیکھتی ہیں اور اسے اپنی پسندیدہ ویب سائٹ قرار ددیتی ہیں۔ثروت بڑوں کی عزت احترام ا ور محبت کرنے والی شخصیت ہیں ثروت سے میری اچھی خاصی دوستی ہے وہ عمر میں مجھ سے چھوٹی ہے پہلے وہ ہمیشہ مجھے صبیحہ صاحبہ کہتی تھی دوستی میں باجی آپی لگانا اسے پسند نہیں تھا۔پھر اس نے صرف صبیحہ کہنے کی اجازت مجھ سے لی اور ہماری دوستی اور گہری ہو گئی۔ آج کا دور تلخیوں میں اپنی مثال آپ ہے ایسے میںثروت کی شاعری کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ جب وہ بہت غصے میں ہوتی ہیں تو نظمیں کہتی ہیں جب ذرا کم غصے میں ہوتی ہیں تو غزلیں کہتی ہیں جب سارا غصہ کاغذ پر اتر جاتا ہے تو انسانوں سے محبت سے ملتی ہیں۔ مشاعروں میں ان کی طویل نظم زندگی کے ہجر میں بہت کامیاب رہتی ہے یہ نظم چھوٹے چھوٹے خطوط پر مشتمل ہے جو انسانی نفسیات اور ہجر کے معاملات کو ظاہر کرتی ہے۔ پردیس میں رہنے والوں کی دوریوں اور مجبوریوں کی داستانیں ہیں۔ پردیسیوں کے دل کی بات جب بھی وہ انہیں سناتی ہیں تو بے پناہ داد ان کے حصے میں آتی ہے
ہم نے مشاعروں کے سلسلے میں ایک ساتھ مختلف ملکوں کے سفر کئے اس دوران اسکے روئیے اوراس کی شخصیت کھل کے سامنے آئی ہماری سوچوں میں بہت یکسانیت تھی وہ خوش گوار سفر آج بھی یادوں میں محفوظ ہیں۔
تحریر صبیحہ صبا
میں ان خوابوں کو سی کر رات کا بستر بناتی ہوں
وہ شاہ لطیف بھٹائی ،کالی داس ،شیخ سعدی، میرا جی، مجید امجد اور راشد کی شاعری پر رشک کرتی ہیں اور ان عظیم شاعروں جیسی گہرائی اور گیرائی اپنی شاعری میں دیکھنے کی متمنی ہیں۔وہ شعوری طور پر کسی سے متاثر نہیں ہیں لیکن سچے اور کھرے جذبے خود بخود لکھنے والوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ادا جعفری فہمیدہ ریاض ، امرتا پریتم ،سارا شگفتہ ،عشرت آفریں اور یاسمین حمید کی شاعری ان کے شعری افق کو وسیع کرتی ہےادب کی لئے نقاد کی اہمیت ہر دور میں ہوتی ہے تنقیدی مضامین کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔ نقاد اچھی شاعری کی خوبیوں کو سامنے لاتے ہیں ثروت نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادب میں گروہ بندیاں تو ہر جگہ اور ہمیشہ سے ہیں مثبت اور تعمیری سوچ اور تنقید خوشگوار اثرات ڈالتی ہے۔لیکن دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا رجحان بھی دیکھنے میں آتا ہے لیکن یہ بھی کوئی انہونی بات نہیں۔ثروت زہرا اردومنزل کو باقائدہ دیکھتی ہیں اور اسے اپنی پسندیدہ ویب سائٹ قرار ددیتی ہیں۔ثروت بڑوں کی عزت احترام ا ور محبت کرنے والی شخصیت ہیں ثروت سے میری اچھی خاصی دوستی ہے وہ عمر میں مجھ سے چھوٹی ہے پہلے وہ ہمیشہ مجھے صبیحہ صاحبہ کہتی تھی دوستی میں باجی آپی لگانا اسے پسند نہیں تھا۔پھر اس نے صرف صبیحہ کہنے کی اجازت مجھ سے لی اور ہماری دوستی اور گہری ہو گئی۔ آج کا دور تلخیوں میں اپنی مثال آپ ہے ایسے میںثروت کی شاعری کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ جب وہ بہت غصے میں ہوتی ہیں تو نظمیں کہتی ہیں جب ذرا کم غصے میں ہوتی ہیں تو غزلیں کہتی ہیں جب سارا غصہ کاغذ پر اتر جاتا ہے تو انسانوں سے محبت سے ملتی ہیں۔ مشاعروں میں ان کی طویل نظم زندگی کے ہجر میں بہت کامیاب رہتی ہے یہ نظم چھوٹے چھوٹے خطوط پر مشتمل ہے جو انسانی نفسیات اور ہجر کے معاملات کو ظاہر کرتی ہے۔ پردیس میں رہنے والوں کی دوریوں اور مجبوریوں کی داستانیں ہیں۔ پردیسیوں کے دل کی بات جب بھی وہ انہیں سناتی ہیں تو بے پناہ داد ان کے حصے میں آتی ہے
ہم نے مشاعروں کے سلسلے میں ایک ساتھ مختلف ملکوں کے سفر کئے اس دوران اسکے روئیے اوراس کی شخصیت کھل کے سامنے آئی ہماری سوچوں میں بہت یکسانیت تھی وہ خوش گوار سفر آج بھی یادوں میں محفوظ ہیں۔
تحریر صبیحہ صبا
ایک تبصرہ شائع کریں