لگتا ہے کہانی کوئی پانی سے بھری ہے
جیسے کسی امکان ِ مسلسل میں کھڑے ہوں
دنیا تیری ہر چیز نشانی سے بھری ہے
لگتا ہے کہ ہم ہیں کسی تصویر کا حصہ
تصویر لگاتار کہانی سے بھری ہے
آثار ہوئے صبح ِ بلا خیز کی صورت
دیوار مگر رات کی رانی سے بھری ہے
بستی میری بیماری ء بے حال سے دوچار
ہستی میری اندوہ نہانی سے بھری ہے
ایسے تو نہیں اشک نما شعر غزل کے
حالت میری افسوس بیانی سے بھری ہے
ناصر علی اس شاہ ِ زمانہ کی رعایا
جس شاہ کی تعظیم گرانی سے بھری ہے
ناصر علی
ایک تبصرہ شائع کریں