ان کہی داستاں سناتے ھوئے
عمر گذری لہو جلاتے ھوئے
ایک دیوار بن گئی مجھ میں
ایک دیوار کو گراتے ھوئے
انگلیاں تھک گئیں مری آخر
اک دیئے سے دیئے جلاتے ھوئے
آسمان زار زار رویا تھا
اس حسیں آنکھ کو رلاتے ھوئے
باغ ترتیب دے دیا اس نے
دشت میں آبلے بچھاتے ھوئے
کیا خبر کس جہان میں ٹہرے
ہم تری سرزمیں پہ آتے ھوئے
آ، میری آنکھ میں اتر کر دیکھ
آب کو آگ میں نہاتے ھوئے
سیدا ؛ چور ہو گیا ھوں میں
جسم کی کرچیاں اٹھاتے ھوئے
حماد نیازی
ایک تبصرہ شائع کریں