آنکھوں کے در کھلے ہوئے ہیں
کتنے منظر کھلے ہوئے ہیں

یہ کیسا شاہین ہے جس کے
مجھ میں شہپر کھلے ہوئے ہیں

کچھ اچھے آثار نہیں ہیں
گھر خالی، در کھلے ہوئے ہیں

کتنے ہی دروازے میری
ذات کے اندر کھلے ہوئے ہیں

تنگ زمیں گر ہوگی ہم پر
سات سمندر کھلے ہوئے ہیں

گرچہ کاغذ پر چسپاں ہے
تتلی کے پر کھلے ہوئے ہیں

جن سے تھی ناموسِ عصمت
ان کے بھی سر کھلے ہوئے ہیں

امن و اماں ہیں قید میں اختر
بستی میں ڈر کھلے ہوئے ہیں
مجید اختر

Post a Comment