ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعرات، 28 مئی، 2015

کتابیں بولتی ہیں‘ بلاشبہ بنیادی و اولین طور پر فن پاروں کے تجزیاتی مضامین پر مشتمل کتاب ہے۔۔جاہد احمد

(جاہد احمد)
رضا الحق صدیقی صاحب کی تازہ مطبوعہ ’کتابیں بولتی ہیں‘ ہاتھ لگی تو فوری اثر تو یہ ہوا کہ دماغ غیر ارادی طور پر آس پاس پھیلے ہیجان، افراتفری، چیخ و پکاراور قنوطیت کے چنگل سے راہ فرار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
کتاب کا بہترین سرورق اور اس قدر خوبصورت عنوان کسی بھی کتاب دوست کی توجہ کھینچنے کے لئے کافی ہے۔ کتاب کی بولی کتاب سے شغف رکھنے والے خوب سمجھتے ہیں کیونکہ کتاب بولتی بھی ہے اور چہچہاتی بھی، یہ اپنی باتوں سے اداس بھی کر جاتی ہے اور زندگی کے رنگ بھی بکھیرتی ہے، یہ استاد بھی ہے اور اٹکھیلیاں کرتا نادان بچہ بھی۔ یہ لوری بھی دیتی ہے اور ساری ساری رات جگا بھی سکتی ہے!!! اب ایسا عنوان تخلیق کرنے والا خود کیسا ادب شناس اور کتاب دوست ہوگا عنوان پڑھنے کے بعد اس کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ جاتا۔ واہ! کیا بات ہے!’ کتابیں بولتی ہیں‘۔
رضا الحق صدیقی صاحب اردو ادب کا وسیع تر مطالعہ رکھتے ہیں اور اُن کی ’کتابیں بولتی ہیں‘ اس علم و فہم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو اپنے عنوان کی طرح یہ کتاب واقعی دل و دماغ میں بولتی محسوس ہونے لگی۔ تجزیاتی و ادبی مضامین پر مشتمل یہ کتاب قاری کو جہاں متعدد جانے پہچانے تخلیق کاروں کے فن کے حوالے سے رائے قائم کرنے یا پہلے سے قائم شدہ رائے کا تقابلی جائزہ لینے میں مدد دیتی ہے وہیں یہ کتاب ایسی تخلیقی شخصیات کے فن سے بھی روشناس کراتی ہے جو ادب کی دنیا میں نووارد ضرور ہیں لیکن ناتواں نہیں اور مستقبل میں اپنا لوہا منوانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔
’کتابیں بولتی ہیں‘ تخلیق کاروں کے نثری و شعری فن پاروں کے تجزیاتی مطالعہ جات پر مبنی سچے اور کھرے ادبی تجزیہ نگار کی ایسی سچی کاوش ہے جس میں تنقید کا عنصر تضحیک اور ہتک عزت کے زہر سے پاک ہے، ایسا متوازن تجزیہ جو تتلی کی اڑان کی طرح غیر محسوس انداز میں خامی کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور مثبت پہلوئوں پر رنگ بھی بکھیرتا چلا جاتا ہے یوں کہ تخلیق کار کا حوصلہ بھی بلند رہے اور خامی بھی در پردہ نہ رہے۔ یہی خوبی رضا الحق صدیقی صاحب کو تنقید نگار کہلائے جانے والے دیگر قلمکاروں سے ممتاز کرتی ہے! رضا صاحب ادبی سطح پر طے شدہ اصولوں کے تحت پُر مغز تجزیہ کرتے ہیں۔ محض تنقید برائے تنقیدنگاری نہیں!!
رضا الحق صدیقی صاحب کی ’کتابیں بولتی ہیں‘ قاری کا ہاتھ پکڑ کر ایک ایک کرتے ہوئے مضمون با مضمون ادبی شخصیات سے ملاقات کراتی اور اس کے فن بارے بات چیت کرتی ہولے ہولے آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ملاقات اور بات چیت کا سلسلہ کب شروع ہو کر ختم بھی ہوگیا۔ بہرحال ملاقات وہی اچھی جس میں ملاقات کے بعد بھی کچھ کسک کچھ کمی کچھ تشنگی رہ جائے۔ تاکہ دوبارہ ملنے کی تڑپ کم از کم برقرار رہے۔ یہی اس کتاب کی خوبی ہے کہ یہ اپنے لئے مزید طلب کی خواہش پیدا کرتی ہے۔
’کتابیں بولتی ہیں‘ بلاشبہ بنیادی و اولین طور پر فن پاروں کے تجزیاتی مضامین پر مشتمل کتاب ہے! لیکن احمد ندیم قاسمی، خالد احمد، شہزاد احمد، مجید امجد، گلزار، مشرف عالم ذوقی جیسے افراد پر لکھے گئے ادبی و توصیفی مضامین ان نابغہ روزگار تخلیق کاروں کے فن کی نئی جہتوں سے آگاہی بخشتے ہوئے کتاب کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح کتاب کا ابتدائیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو ان جائزاتی مطالعہ جات کی بنیاد یا اپروچ یا اصولوں کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تجزیہ کار اپنی ذاتی پسند و نا پسند کو بھی کسی معیار یا طے شدہ اصولوں کی کسوٹی پر پرکھے بغیر رائے دینے پر تیار نہیں۔ کتاب کی بنیاد گہری اور مضبوط ہے، لکھنے والا باذوق باشعور باخبر با علم باکردار اورزمانہ و ادب شناس شخص ہے، کتاب ادبی محاسن پر صفحہ با صفحہ موقع محل کی مناسبت سے پُر اختصارمگر مدلل و مکمل گفت و شنید کرتی ہے۔ اس کتاب کا ہر ہر صفحہ ادبی گیان کی بولی بولتا ہے ۔ ایسی خوبصورت بولتی کتاب کو سامعین قارئین کی صورت مل جائیں تو لکھاری کی محنت ٹھکانے لگ جائے گی۔باقی اس کتاب کے بارے میں حتمی رائے تو قارئین خود پڑھ کر ہی قائم کر یں گے!!!
اختتام میں آغاز سے متعلق کہنا ضروری ہے کہ کتاب کا انتساب ایک ایسا جز ہے جو محض چند سطروں پر مشتمل ہونے کے باوجود مصنف کے لئے ہمیشہ انتہائی اہم رہتا ہے اور کسی خاص شخصیت سے اس کی جذباتی وابستگی کامہر ثبت ثبوت بھی ہوتا ہے۔ رضا صاحب نے یہ کتاب اپنے بابا ضیا الحق صدیقی صاحب کے نام کی ہے جنہیں وہ بابا جی سرکار اور مرشدِ کامل کہہ کر کتاب کے آغاز میں آواز دے رہے ہیں۔ رضا صاحب کے بابا جی یقینا بہت خوش ہوں گے کہ ان کے رضا نے ’کتابیں بولتی ہیں‘ کو ان کے نام سے منسوب کر کے اس کتاب کے ساتھ زندہ جاوید کر دیا ہے جو کہ اردو کے تنقیدی ادب میں منفرد مقام کی حامل تجزیاتی کتاب کے طور پر جانی پہچانی جائے گی۔ یقینا رضا الحق صدیقی صاحب اور ان کی اہلیہ اعلی معیار کی اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
’کتابیں بولتی ہیں‘ کے ناشر گگن شاہد اور امر شاہد ہیں جبکہ یہ کتاب بک کارنر جہلم سے بھی خریدی جا سکتی   ہے۔مصنف کو فیس بک پر ان بکس کرکے دستخط شدہ کاپی حاصل کی جا سکتی ہے۔https://www.facebook.com/siddiqiraza

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں