ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

منگل، 23 ستمبر، 2014

جنتِ گم گشتہ ۔۔ لیاقت علی بہاولپور

میں متوسط طبقے کا ایک قلیل آمدنی والا فرد ہوں اور اپنے طبقے کے بے شمار انسانوں کی طرح مجھے بھی اپنی بہت سی خواہشات کو آنے والے کسی اچھے وقت تک ملتوی کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ یہ بات اَب میں محض مشاہدے ہی نہیں تجربے کی بنیاد پر کر سکتا ہوں کہ یہ اچھا وقت ندی کے دومتوازی کناروں کی طرح پاس رہ کر بھی کبھی ہاتھ نہیں ملا پاتا۔
مجھے پہلے پہل جب ملازمت ملی تو میری تنخواہ دس ہزار روپے تھی۔ والدہ نے والد کی وفات کے بعد ذمہ داریوں سے سبکدوشی کی آخری کاوش کے طور پر میری شادی کر دی۔ گبِن نے رومن امپائر کے زوال کے اسباب کہاں سے شروع



کیے تھے یہ توشاید میں نہ بتا سکوں،ہاں مگر میری زندگی کے زوال کی داستان اُسی روز سے شروع ہوئی جب میں سرپر سہرا باندھے معزز ہونے کا مصنوعی تاثر دے رہا تھا۔پھر دھیرے دھیرے مجھے احساس ہونے لگا، میں اپنے ہی بہن بھائیوں، اماں اور برادری سے ملنے والی کچھ رعایتوں کو گنوا بیٹھا ہوں۔ اَب میں اور میری بیوی اپنی الگ سماجی شناخت رکھتے ہیں، جسے چاہ کر بھی میں اُس لڑی میں نہیں پرو سکتا جس کا کبھی میں ایک اٹوٹ حصہ ہوا کرتاتھا۔ راہ و رسم کے تقاضوں کی صورت بھی ویسی نہ رہی جیسی پہلے کبھی ہوا کرتی تھی۔ پہلے نہ کسی کے سکھ دُکھ میں شرکت میری انفرادی ذمہ داری تھی اور نہ ہی کبھی کسی کو میرے جانے نہ جانے سے شکایت پیدا ہوئی تھی۔ میں یونی ورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور میرے اخراجات اتنے ہی تھے کہ اماں ہر یکم کو جب مجھے پندرہ سو تھماتیں تو میں سوچتا میں ان پیسوں کا کیا کروں گا؟ عجب بے فکری کا زمانہ تھا۔ میری لاپرواہیوں کے باوجود دوست احباب، بہن بھائی سب خوش تھے۔لیکن شادی کے بعد مجھے معلوم ہوا میں ذمہ داریوں کے نام پر عجیب طرح کی توقعات کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہوں۔ میرا وہ رَکھ رَکھاؤ کہ جس میں کبھی بے نیازی شامل تھی اَب لجاجت شامل ہونے لگی ہے۔ میری لاپرواہیوں ہی نہیں بسا اوقات ہٹ دھرمیوں کو بھی خندہ پیشانی سے جھیلنے والے میرے اپنے اَب میری خطاؤں کی تاک میں رہنے لگے ہیں۔ میں جو پہلے دن چڑھے سو کر اُٹھنے کا عادی تھا اَب صبح سویرے اُٹھ بیٹھا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ مجھے اَب نیند نہیں آتی بلکہ اس لیے کہ سبھی کو لگتا ہے شادی کے بعد ارسلان وہ نہیں رہا۔ اس کا تو جی ہی نہیں چاہتا کہ بیوی کے پہلو سے نکلے ۔ حالانکہ یہ بات بھی میں اپنے تجربے کی بنیاد پر وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ شادی کے بعد جس پہلو سے نکلنے کی شدید تر خواہش ایک نارمل انسان میں پیدا ہو سکتی ہے وہ بیوی کا پہلو ہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن چھوڑیے یہ ایک الگ کہانی ہے۔
مجھے اَب صبح سویرے جاگ کر یہ یقین دلانا پڑتا کہ دیکھیے میں وہی ارسلان ہوں جو کبھی پہلے ہوا کرتاتھا۔ مجھ میں قطعاً کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میرا کمرہ گھر کی بالائی منزل پر تھا اور شادی سے پہلے دن میں نجانے کتنی بار میں اوپر جاتا اور نیچے اُترتا مگر نہ مجھے اور نہ ہی کسی اور کو اِس کا دھیان رہا کہ میں کب گیا اور کب پلٹا۔ لیکن اَب میں محسوس کر رہا تھا میرے اوپر جانے اور نیچے اُترنے کا مکمل حساب نوٹ ہونے لگا ہے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ میں اپنے ہی کمرے کی طرف سب سے نظریں بچا کر یوں گیا گویا کوئی چور ہوں اور پکڑے جانے سے خوف زدہ ہوں! ایسے میں اگر کسی کی نگاہ مجھ پر پڑ گئی تو اوّل تو اُس نے کم از کم اتنی بلند آواز میں ضرور اپنا تبصرہ نشر کیا جواَماں کی کمزور سماعت اور بند کواڑوں کے باوجود اُن تک پہنچ جائے۔
’’بھئی ارسلان کا دل اَب نیچے کہاں لگنے والا ہے۔۔۔!‘‘
یہ نہ بھی ہوا تو کوئی معنی خیز مسکراہٹ یا خبردار کرنے والی شکنیں پیشانیوں پر ضرور عیاں ہوتیں اور میں اپنے لہجے میں خوشامد کی حد تک مٹھاس گھولے اِن شکنوں کو دور کرنے کے جتن کرنے لگتا۔ میرے اَماں کے پاس اُٹھنے بیٹھنے یا باتیں کرنے کے کوئی طے شدہ اوقات نہ تھے۔ میرا حافظہ برا نہیں مگر اس کے باوجود میں ذہن پر جتنا بھی زور ڈالوں مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کب کب اَماں کے پاس بیٹھتا اور کب کب اُٹھتا تھا۔ یہ سب معمولات کسی ضابطے کے اسیر نہ تھے۔ جب چاہا، جس قدر چاہا بیٹھ گئے، جب چاہا نکل گئے۔ جس بات کو چاہا مان لیا، جسے چاہا ہنسی ہنسی میں اُڑادیا۔ شکایت میں تلخی اور محبت میں کوئی بناوٹ نہ تھی۔ لیکن اَب نجانے کیا ہوا کہ میں دیکھ رہا تھا مجھے اَماں کو باقاعدہ وقت دینا پڑ رہا ہے۔ خود اَماں ہی نہیں میں بھی گھڑی کی سوئیوں کا محتاج ہونے لگا ہوں جو بتاتی ہیں کہ ہاں محبت اور خلوص کا دورانیہ مکمل ہوا جاؤ، اَب تم جا سکتے ہو۔ اور اگر یہ دورانیہ کہیں میری خواہش یا اَماں کی توقع سے میچ کر جاتا تو میں اطمینان سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلا جاتا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو مجھے بہرحال انتظار کرنا پڑتا۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ دفتر سے لوٹا تو میری طبیعت ناساز تھی اور تھکاوٹ سے میرا بدن دکھ رہا تھا مگر محبت کے اس متعین دورانیے کو بہرحال مجھے نبھانا تھا سو میں اَماں کی چارپائی کے ساتھ رکھی کرسی پر نیند سے اونگھتا، لُڑھکتا بیٹھا رہا کہ مبادایہ سمجھ لیا جائے کہ ارسلان واقعی بدل گیا ہے۔۔۔!
دوسری جانب شمائلہ جو آغاز میں کسی گلدان کی طرح تھی کہ جسے جہاں چاہا سجا دیا، جب چاہا ہٹا لیا، اَب مزاحمت کرنے لگی۔ میں کہتا آؤ نیچے چل کر بیٹھتے ہیں اَماں خفا ہوں گی۔ وہ پوچھتی کیا اَماں نہیں جانتیں میں آپ کی بیوی ہوں؟ میں جھلّا کر کہتا تکرار مت کرو، وہ تنک کر جواب دیتی تو اصرار بھی مت کریں۔ اَماں ہی کیا گھر میں کوئی بھی بیمار پڑ جاتا تو میں اُس سے تقاضا کرتا کہ وہ تیمار داری کے سارے تقاضے نبھائے اور سچ تو یہ ہے وہ یہ تقاضے نبھاتی۔ ایسے میں مجھے عجب اطمینان کا احساس ہوتا۔ اُسے دوڑ دوڑ کر کام کرتے دیکھتا تو لگتا کوئی میرے کندھوں پر لدابھاری بوجھ دھیرے دھیرے اُتار رہا ہے۔ میرے اندر کے کمزور پڑتے مرد کو جیسے کوئی سہارا ملتا اور لہجے میں قدرے تحکم شامل کرتے ہوئے میں بھی بلند آواز میں (اتنی کہ اَماں کی کمزور سماعتوں تک پہنچ جائے) کہتا شمائلہ فارغ ہو کر میرے لیے چائے کا ایک کپ بھی بناتی آنا۔۔۔۔ ! لیکن پھر ایک روز وہ خود بیمار پڑ گئی۔ آدھے سر کے درد سے وہ پانی سے نکلی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی۔ میں خود اس موذی مرض کا شکار رہا ہوں اور جان سکتا ہوں کہ یہ کتنا شدید ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ اطلاع میں جب نیچے اَماں اور بھابیوں کو دینے اُترا تو میں نے شعوری طور پر لہجے میں لاپروائی سی شامل کرتے ہوئے کہا :
’’اَماں ذرا شمائلہ کو تو دیکھ لیں کہتی ہے میری طبیعت خراب ہے۔‘‘
یہ ’کہتی ہے‘ میں نے کچھ اِس انداز میں کہا جیسے مجھے تو یقین نہیں آپ ہی دیکھ آئیں۔ کچھ ہی دیر میں اَماں اور بڑی بھابھی اوپر آگئیں۔ شمائلہ بدستور درد سے کراہتی اپنے سر کو گھٹنوں میں دبائے ہاتھوں سے دبانے لگی تو میرا جی چاہا میں اُس کا سر دَبا دوں مگر پھر نجانے کیوں میںیہ حوصلہ نہ کر سکا۔ اَماں اور بھابھی کچھ تسلیاں اور ٹوٹکے بتاتیں واپس اُتریں تو میں خود اُٹھا اور اُس کا سر دبانے لگا۔ وہ غصے سے بولی :
’’آئندہ اگر کبھی آپ نے مجھے کسی کی تیمار داری کا کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا؟‘‘
مجھ سے کوئی جواب نہ بن پایا اور میں خاموش ہو گیا۔ عین اُسی لمحے چھوٹی بھابھی بھی خبر گیری کو اوپر آگئیں۔ مجھے شمائلہ کا سردباتے دیکھ کر اُن کی ہنسی یوں چھوٹی گویا کسی مزاحیہ فلم کا کوئی بہت عمدہ منظر دیکھ لیا ہو۔ پھر کیا تھا آتے جاتے گھر میں اَب یہ طعنہ بھی سننے کو ملنے لگا کہ ارسلان تو بیوی کا غلام ہے ۔ اور بیوی کس کس کی غلام ہے ۔۔۔۔؟ یہ کوئی دیکھتا نہ دیکھنا چاہتا۔ نتیجتاً میں کسی کو تو کیا سمجھاتا اُلٹا اپنی بھڑاس شمائلہ ہی پر نکالتا، اُلجھتا اور اپنی مردانگی کی تشفی اُن نام نہاد اُصولوں سے لینا چاہتا جنہیں خود میرا اپنا دل بھی ماننے پر آمادہ نہ تھا۔ آئے روز خبر ملتی، آج فلاں صاحب مجھ سے خفا ہیں تو آج فلاں۔۔۔۔!
خفگی کا سبب کیا ہے۔۔۔؟
سلام نہیں کیا۔۔۔ کیا تو دل سے نہیں کیا۔۔۔ آئے تو حال نہیں پوچھا۔۔۔ گئے تو رکنے کو نہیں کہا۔۔۔!
اور نتیجتاً مجھے اپنی اُن کوتاہیوں کا اعتراف بھی کرنا پڑتا جن کی سرے سے مجھے خبر ہی نہ تھی۔ اُدھر رات شمائلہ دن بھر کی بپتا مجھے سناتی تو میں چلّا اُٹھتا کہ خدا کے لیے اپنے معاملات خود سلجھاؤ، مجھے مت بتاؤ کہ کس نے کیا اور کیوں کہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہ معاملات واقعی خود سلجھانے لگتی تو پھر مجھے ہی شکایت ہوتی کہ کیا ضروری تھا کہ تم سب کو یوں جواب دو؟ مجھ سے تو پوچھ لیا ہوتا۔۔۔!
نیچے اَماں کے پاس بیٹھتا تو وہ چھوٹتے ہی کہتیں:
’’دیکھو احسان میاں بیویوں کو یوں سر پر نہیں بٹھا لینا چاہیے۔ بہن بھائیوں اور ماں باپ کا بھی کوئی حق ہے کہ نہیں؟‘‘
میں دھیرے سے کہتا ’’اَماں ایسا کون سا حق ہے جو میں پورا نہیں کر رہا؟‘‘
میرے سادہ سے اس سوال پر اماں کا چہرہ سرخ ہو جاتا اور وہ غصے سے کانپنے لگتیں۔ اُن کا بی۔پی شوٹ کر جاتا اور ہمیشہ کی طرح وہ دھمکی دیتیں کہ کتنے دن مزید جی لوں گی میں؟ آؤ تم خود گلا دبا دو میرا، جان چھڑاؤ اس بے کارکے بوجھ سے۔۔۔! میں لپکتا اور اماں کے پاؤں دبانے لگتا۔ انہیں گلے لگاتا، ماتھے پر بوسے دیتا۔ وہ گالیاں دیتیں میں مسکراتا رہتا اور سرنیہواڑے کہتا:
’’اَماں جوتے مار تیرا خون ہوں نا جو سزا دے قبول ہے پر دیکھ ایسا مت کہا کر تجھے اَبا کا واسطہ اماں ایسا نہ کہا کر۔‘‘
اَماں کا غصہ قدرے ٹھنڈا پڑنے لگتا اور وہ شمائلہ کو صلواتیں سنانے لگتیں کہ جب سے یہ حرام زادی آئی ہے تو وہ نہیں رہا۔۔۔!
کبھی کبھی میں سوچتاہوں کیا میں واقعی وہ نہیں رہا؟
لیکن نہیں میں نے پہلے اتنی باتوں کا خیال کب رکھا تھا؟ وہ سبھی باتیں، تبصرے اور شکایتیں جو میں آسانی سے کر لیا کرتا تھا اَب اُن سے گریز برتتا پھر بھی آئے روز مجھے کسی نہ کسی کٹہرے میں ملزم بنا کر کھڑا کر دیا جاتا۔ میری لااُبالی اور لاپروائی کی عادت توجہ اور پرواہ میں بدل گئی تھی مگر شکایتیں تھیں کہ بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ ایسے میں خبر ملی شمائلہ اُمید سے ہے۔ ڈاکٹر نے چیک اَپ کیا اور متوازن غذا کے ساتھ ساتھ مکمل احتیاط اور آرام کا مشورہ دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ کوتاہی مت کیجئے گا۔ ڈاکٹر کی ہدایات اور شمائلہ کی موجودہ ضروریات نے مجھے مزید اُلجھن میں ڈال دیا۔ میری بھوک، پیاس، کپڑوں اور ضرورتوں کا خیال مجھ سے زیادہ بھابیوں کو رہنے لگا۔ ارسلان کو وقت پر کھانا نہیں ملتا۔۔۔ ناشتہ بھی پتہ نہیں کرتا ہے یا نہیں، کپڑے بھی دُھلے ملتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔! یہ وہ شکایتیں تھیں جو مجھے ہونی چاہیے تھیں لیکن مجھے نہیں تھیں۔ میں اپنے کام خود کر سکتا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا۔ تب کبھی کسی کو نظر نہ آیا کہ اپنے یہ کام میں خود کرتا ہوں۔ لیکن اَب مجھے ا ستری پکڑے کسی نے اپنی ہی پینٹ استری کرتے، بوٹ پالش کرتے یا ڈبل روٹی پر جیم لگاتے دیکھ لیا تو بلند آواز میں یوں پوچھا گویا کوئی انہونی ہو گئی ہو۔
’’ارسلان بھائی آپ خود کپڑے استری کر رہے ہیں!‘‘
’’خود جوتے۔۔۔!‘‘ ’’خود چائے۔۔۔!‘‘
خود، خود، خود۔۔۔ گویا خود کام کرنا بڑی ہزیمت ہو۔ اُدھر یہ پکار اماں کی کمزور سماعتوں سے ٹکراتی تو وہ ہڑبڑا کر اُٹھتیں، اپنا چشمہ سنبھال کر باہر نکل آتیں اور غصّے سے پہلے مجھے اور پھر شمائلہ کو گالیاں دینے لگتیں۔ میں بڑھتے ہوئے فساد سے گھبرا کر کہتا اَماں اُس نے بہت کہا میں کر دیتی ہوں مگر میں خود اپنی مرضی سے یہ کام کررہا ہوں۔ میری صلح جوئی کی سبھی کاوشیں بے کار جاتیں اور میں واپس کمرے میں جاتا تو شمائلہ مجھ پر برسنے لگتی کہ ’’بہت برداشت کر لیا ہے میں نے۔ حد ہوتی ہے ہر چیز کی، جس کا جب جی چاہتا ہے بے وجہ مجھے گالیاں دینے لگتا ہے۔‘‘ میں پہلے کمرے کی چٹخنی چڑھاتا اور پھر اُسے پیار سے لُبھاتا، سمجھاتا کہ پلیز تم ٹینشن مت لو تمہارے لیے اچھا نہیں ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایات اُسے یاد دِلاتا اور بالآخر اُسے سمجھا کے یوں گھر سے نکلتا گویا کسی جیل سے نکل کر جا رہا ہوں۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا تھا کہ شمائلہ کی غذا کا بھی خصوصی خیال رکھیں او راُسے فروٹ اور جوس لازمی دیں۔ سو اَب دفتر سے واپسی پر مجھے یہ فروٹ اور جوس بھی خریدنا پڑے۔ میں نے آغاز میں بتایا تھاناں کہ میں متوسط طبقے کا ایک قلیل آمدنی والا شخص ہوں جس کی تنخواہ دس ہزار روپے ہے۔ اِن دس ہزار روپے سے میرے اخراجات بمشکل پورے ہوتے تھے پھر بھی ایک مریض کے لیے ضرورت کے یہ پھل بہرحال مجھی کو خریدنا تھے۔ لیکن میری پریشانی اُس وقت اَماں کے بی۔پی کی طرح شوٹ کر گئی جب تیسرے روز متواتر جوس کے دو پیکٹ، چار کیلے، دو سنگترے اور ایک سیب شاپر میں بالائی منزل منتقل ہوتے دیکھ کر بھابھی نے سوال اُٹھایا کہ ہمارے میاں گھر میں جو لائیں وہ پہلے اَماں کے کمرے میں آئے اور پھر برابر تقسیم ہو اور یہاں محترمہ کے لیے پھلوں کے شاپر بالا ہی بالا اوپر کی منزل کو منتقل ہو جائیں؟
بھابھی کے اس سوال نے اُس دِیا سلائی کا کام کیا جو بظاہر ننھا سا ایک شعلہ اُگلتی ہے مگر بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔ بڑے بھیّا کو بھی احساس ہوا بیگم نے کچھ غلط تو نہیں کہا۔ اَماں کو بھی لگا یہ اُن کی کھلم کھلا توہین نہیں تو اور کیا ہے کہ اشیاء اُن کے کمرے میں تقسیم کے عمل سے گزرے بغیر براہِ راست منتقل کر دی جائیں۔ وہ غصّے سے تلملا اُٹھیں۔ ایک فلک شگاف گالی انہوں نے مجھے دی اورلپک کر باہر نکلنے کی کوشش میں بستر پر گر گئیں۔ میں تین تین سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اُترا۔ ڈاکٹرز کے نسخے، ہدایات اور مجبوریاں سب جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر رَد کر دیے گئے اور اَماں نے اپنی زندگی کا آخری فیصلہ سنایا۔۔۔’’اس لاڈلی کو لے کر اس گھر سے دفع ہو جاؤ۔‘‘ میں حسبِ روایت اُن کو لپٹ گیا، ماتھے پر بوسے دیے اور قدموں میں سر رکھ کر بلک بلک کر رونے لگا۔ لیکن اماں دیکھتے ہی دیکھتے برف کے کسی پتلے کی مانند سرد ہو گئیں۔ خون کے چند قطرے دائیں جانب اُن کے لڑھکتے ہوئے نتھنے سے نکلے اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں