ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

اتوار، 21 مئی، 2017

آج حسرت پر سکوں ہے زندگی / عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے/ حسرت بلال

حسرت بلال
قیدِ الفت سے رہا ہوتے ہوئے
وہ بھی کب خوش تھا جدا ہوتے ہوئے
میں نے دیکھے ہیں بہت سنسان شہر
راستوں سے آشنا ہوتے ہوئے
خود کشی کا ذائقہ چکھا گیا
مفلسی سے آشنا ہوتے ہوئے
کچھ نہیں دیکھا گیا حسب و نسب
خوبروں پر فدا ہوتے ہوئے
پھرمسافر کو بھٹکنے سے بچا
راستے کا اک دیا ہوتے ہوئے
آج حسرت پر سکوں ہے زندگی
عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے

جمعہ، 19 مئی، 2017

میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں / ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری / قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
غرور آیا نہ کام آئی خاکساری مری
ہر ایک شخص نے گردن یہاں اتاری مری
میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں
ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری
دھرا ہوا ہے مرے سر پہ اک شکستہ خواب
خدا کا شکر کہ گٹھڑی نہیں ہے بھاری مری
کوئی تو روشنی مجھ کو اڑائے پھرتی ہے
یہ ماہتاب نہیں ہے اگر سواری مری
میں آپ اپنے گناہوں کی ہوں سزا شہزاد
مرے وجود پہ ہوتی ہے۔ سنگ باری مری

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی

  
جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت معروف ترقی پسند شاعر،ادیب اور دانشور ڈاکٹر خالد جاوید جان نے کی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی  اور ممتاز راشد لاہوری تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف نوجوان شاعرمیجر احمد نواز  اور شاعرہ، ادیبہ وکالم نگار محترمہ عالیہ بخاری تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔

سید علی  گوہرنے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں مقررین نے ڈاکٹر عبدالغفار عزم کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی۔ دوسری نشست میں  ان کی یاد میں محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ان کی شہرہ آفاق کتا ب ''نقش اول'' کا بھر پور تعاف کرایا گیا اور صاحبِ صدر اور مہمانِ اعزاز کو یہ مایہ ناز ادب کا شہکار تصنیف پیش کی گئی۔ایم زیڈ کنولؔ نے ڈاکٹرصاحب کی کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''   آج کے طوائف الملوکی کے دور میں ڈاکٹر عبدالغفار عزم نہ صرف خود چمنِ ادب کو اپنے لہو سے سینچتے رہے بلکہ   اس کی بہار کو سدا بہار کرنے کے لئے دیارِ مغرب میں مشرقی روایتوں کے فروغ کے لئے ساری دنیا سے گوہرِ نایاب چُن چُن کر ایک ایسی منفرد بستی بسا ڈالی۔ جس کی آباد کاری جغرافیائی سرحدوں سے بے نیاز ہے۔ساکنانِ شعر وسخن دنیا کے جس گوشے میں بھی آباد ہیں اس بستی کی شہریت ان کیلئے اعزاز ہے۔ جس کا نہ کوئی رنگ ہے، نہ نسل، نہ مذہبی قد غن،اور نہ جغرافیائی حدود۔ جہاں گاگر اور ساگر میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کی بنیاد رکھنے سے لے کر آخر ی سانسوں تک سخنورانِ ادب کے لئے آپ ایک شجرِ سایہ دار بن کر سایہ بھی دیتے رہے اور ٹھنڈک بھی۔خوشبو بھی اور طراوت بھی اور ایک قطب ستارے کی طرح میرِ کارواں بن کر سر گرمِ عمل رہے۔'' 
 اختر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، فراست علی بخاری، ندا سرگودھوی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب روایتوں کے امین تھے۔9۔اپریل2016 کو جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام دوسری تقریبِ ایوارڈ کی صدارت فرمانے کے لئے وہ بیماری کے باوجود  لند ن سے لاہور تشریف لائے۔ یہاں سے بخیریت   واپس لندن پہنچنے کے بعد یکم مئی 2016 کو ہمتوں اور استقامت کا یہ ستارا، ''استعارا  '' بن گیا۔ جگنو انٹرنیشنل نے اس وقت بھی ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یہ یادیں ہمیشہ جاوداں رہیں گی۔ آج کی تقریب اس بات کا ثبوت ہے۔تقریب میں مظہر جعفری،بابر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، ظلِ ہما نقوی،شبانہ زیدی(اوکاڑہ)،محمد اکرم فریدی،پروفیسر نذر بھنڈر،ریاض احمد ریاض،فراست بخاری، رضون خوشی، اظہر اقبال مغل، اعجاز اللہ نازاور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔احباب نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر جگنو انٹرنیشنل کی تمام ٹیم کی کارکردگی کو سراہا  اور ایم زیڈ کنول، چیف ایگزیکٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ڈاکٹر عزم کی یادو ں کے چراغ روشن کر کے ڈاکٹر صاحب کی فروغ ِ اردو کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو امر  بنانے کا اہتمام کیا۔تقریب کے اختتام پر ملک کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں گئیں۔

جمعرات، 4 مئی، 2017

دُرّ ِ مکنون کی جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام تقریبِ اجرا


الحمرا ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی کی تالیف شدہ کتاب " دُرّ ِ مکنون "المعروف الہامی الفاظ توانائی کے یونٹس کی تقریبِ اجراء الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت  پیر مخدوم سید نفیس الحسن بخاری، سجادہ نشین،چیئرمین،صوفی ازم کونسل پاکستان و اُچ شریف ٹرسٹ  نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف شاعرہ،ادیبہ،کالم نگار محترمہ فاطمہ رضوی تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔قاری،حافظ ڈاکٹرسیدنور المصطفیٰ نے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔عالیہ بخاری ہالہ، پروفیسر نذر بھنڈر،ممتاز راشد لاہوری،میجر خالد نصر،، ڈاکٹر ایم ابرار،محمد زہیب صدیقی،میاں صلاح الدین اور دیگرنے بہت خوبصورت مقالے پیش کئے۔ایم زیڈ کنول نے کتاب اور صاحبِ کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ"    شاعری ہو یا نثرحب اہلِ بیت اُن کی گھٹی میں پڑی ہے۔ روحانیت، اور فہمِ دین اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔جس نے انہیں بحرِ مسیحائی کا شناور بنا دیا۔ علم و حکمت کے خزینے چُنتے چُنتے ایسے باغِ اِرم میں جا پہنچے جہاں تصوف ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔اپنے اب و جد کی محبت اس طرح اُن کی روح میں حلول کر گئی کہ اُن کے لفظوں کے ساگرایسے گوہر اُگلنے لگے کہ تصوف کے بام و در مسکرا اُٹھے۔بس پھر کیا تھا تخلیق کے چشمے گُل وبلبل کی کہی و اَن کہی داستانوں سے سیراب ہونے کی بجائے تصوف کی آبشاروں سے روح کوسیراب کرنے لگے اور      اکو الف ان کی ہستی کا مدعا بن گیا۔پھر سلطان الہند،روضہ الاقطاب جیسے گنجہائے گراں مایہ تصنیف و تالیف کئے۔ سید زادے نے اس نوجوانی کی عمر میں ہی شریعت اور طریقت  کے جواہر اپنی جھولی میں بھر لئے ہیں جن سے وہ خلائقِ عامہ کو مستفیذکر رہے ہیں۔اسی آرزو کی تکمیل دُرّ ِ مکنون کی تالیف ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ سعادتوں اور دعاؤں کا یہ گنجینہٗ علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمامشائع ہوئی ہے۔یہ کتاب دُرّ ِ مکنون  ہی نہیں در نایاب بھی ہے اور آج کے زمانے کی ضرورت بھی" معزز مہمانوں اور مقررین نے جگنو انٹرنیشنل کو اس شاندار با برکت روحانی تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور ڈاکٹر فہیم کاظمی کی اس تالیف کو روحانیت کے باب میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیااور کہا کہ حقیقی و حسبی و نسبی وارث درگاہ معلی خواجہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز اجمیری رحمتہ اللہ علیہصاحبزادہ سید فہیم رضا کاظمی الچشتی عفی،صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی نے کلام پاک، مشاہیر مشائخ عظا م اور خواجگانِ چشت کے عملیات و وظائف میں سے سدا بہار پھول اولیائے چشت سے محبت کرنے والوں کی نذر کر کے اپنے اسلاف کی محبت کا

 حق ادا کیا ہے۔تقریب میں مسعود اختر،مظہر جعفری،ڈاکٹرکنول فیروز، محمد طفیل اعظمی،عقیل اختر،ایم شاہد رانا،رانا سعید احمد،فراست بخاری، نجمہ شاہین،عزیز شیخ اور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں  کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔

منگل، 2 مئی، 2017

رات کی بے کراں اُداسی میں / ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے / انور زاہدی

طاق میں اک چراغ جلتا ہے
درد تنہائی میں ہی پلتا ہے 
رات کی بے کراں اُداسی میں 
ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے
کاش یہ علم تمہیں ہوسکتا
دُکھ کا دریا ہی کیوں بکھرتا ہے
کیسے برسات کے مہینوں میں
دل پہ ساون یونہی گرجتا ہے
چاند برکھا کی بھیگی راتوں میں
چھپ کے بادل میں پھر اُجلتا ہے
رات کٹتی نہیں ہے کیوں انور
غم کا دن کس طرح نکلتا ہے
انور زاہدی