ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

منگل، 28 فروری، 2017

اکیلے میں اگر ملتا وہ مجھ سے / تو ممکن ہے مجھے پہچان لیتا / ارشد شاہین

ارشد شاہین
مری مجبوریوں کو جان لیتا
تو کیا وہ بات میری مان لیتا
سرِ دشتِ طلب رکتا تو کیسے
بھلا کس کس کا میں احسان لیتا
پلٹ کر سوچتا ہوں خاکِ دنیا
بچی تھی جو اُسے بھی چھان لیتا
بتا دنیا ! تری اوقات کیا تھی
تجھے پانے کی گر میں ٹھان لیتا
تری آواز تو آتی کہیں سے
میں چل پڑتا ، نہ کچھ سامان لیتا
ذرا سی چوک ہو جاتی تو دشمن
مرا خنجر مجھی پر تان لیتا
اگر احساس کچھ ہوتا دلوں میں
تو جان انسان کی انسان لیتا
وفا پر اُس کی ،شک ہوتا تو اُس سے
کوئی وعدہ ، کوئی پیمان لیتا
اکیلے میں اگر ملتا وہ مجھ سے
تو ممکن ہے مجھے پہچان لیتا
مقدر یاوری کرتا تو ارشد
کوئی مجھ کو نہ یوں آسان لیتا

جمعہ، 24 فروری، 2017

نظم "گلوبل دائرے کا چکر" /نوید ملک

نوید ملک
ہوائیں آگ روتی ہیں
فلک برسا رہا ہے دھوپ کے کوڑے
درختوں کی نگاہیں نوچتی ہیں اب پرندوں کو
گھڑی کی سوئیاں تلوار بن کر وقت کے سینے کو زخمی کر رہی ہیں
نئے مذہب بنائے جا رہے ہیں
شرابی فلسفے ایجاد کرتا ہے تو زانی دین پر تہمت لگاتا ہے
ہماری گردنوں کر راستے بھی گھورتے ہیں
بشر لاشوں کو بوتا ہے
زمیں نوحے اُگاتی ہے
فرشتے نیکیوں کی فائلوں کو بند کر کے ریسٹ کرنے لگ گئے ہیں
صحافی اور ہر اخبار کا بزنس
گلی کوچوں تلک پھیلا ہوا ہے
ہر اک پارٹی کا لیڈر انقلابی بوریوں میں مفلسوں کے خواب جکڑے
کورٹ کے باہر 
کرپشن تھوکتا ہے
دھماکے ہو رہے ہیں
بتاو تو سہی خود کش کی مسجد، منڈیوں، دربار، ہر بازار اور اسکول سے کیا دشمنی ہے
یہ خود کش بھی گلوبل دائرے کا ایک چکر ہے
کہ جس کی آنکھ میں مظلوم چبھتا ہے

بدھ، 15 فروری، 2017

جگنو انٹرنیشنل کی تیسری سالگرہ کے موقع پر نوشاد کاظمی کے افسانوی مجموعہ مسافرت کی تقریبِ اجرا

جگنو انٹرنیشنل کی تیسری سالگرہ کے موقع پرمعروف افسانہ نگار نوشاد کاظمی کے افسانوی مجموعہ ،، مسافرت،، کی تقریبِ اجرا کا انعقاد کیا گیا،صدارت معروف سرائیکی قلم کار محترمہ مسرت کلانچوی تھیں،تقریب کی نظامت کے فرائض جگنو انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹو مسرت زہرہ کنول نے سرانجام دیئے،

منگل، 14 فروری، 2017

ناگہانی موت پہ صبر نہیں آتا (لاہور میں مرنے والوں کے نام ) /ثمینہ تبسم

ثمینہ تبسم
چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہوں
پاک ہوں یا ناپاک
جب انسان بم دھماکوں سے 
ٹکڑے ٹُکڑے ہو کر 
مٹی میں رُل جاتے ہیں 
تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا
میری چیخیں نکل جاتی ہیں
میں اُن سے معافی مانگتے ہوئے
انتہائی بے چارگی سے 
اپنے دل میں اُن کی قبریں بناتی ہوں
خُون سے پاک
صاف سُتھری
پھولوں سے لدی 
چمکتی ہوئی قبریں
میں اُن کے کتبوں پہ 
ریسٹ اِن پِیس RIP لکھتی ہوں 
تو وہ کٹی پھٹی لاشیں بین کرتی ہیں
اور مُجھ سے 
اپنے گُمشُدہ 
ہاتھ
بازو
آنکھیں اور ٹانگیں مانگتی ہیں
میں روتے
بلکتے
تڑپتے ہوئے
اُن سے 
آئی ایم سوری I am sorry کہتی ہوں
مگر سمجھ نہیں آتی کہ آخر میں سوری کس سے ہوں ???
ثمینہ تبسم

عجیب کیفیت ہے آج / حامد یزدانی(کینیڈا)

حامد یزدانی

الوداع
……………
عجیب کیفیت ہے آج
مال ( روڈ) کے سہانے آسماں کو کیا ہُوا ہے ؟
اپنے شہر ہی کی اجنبی سڑک 
کہ اَن سُنی زباں میں کوئی نظم ہے
ہر ایک حرف غیر سا
ہرایک آنکھ غم نما
قدم قدم ہے
خامشی بچھی ہوئی
ہر ایک پیڑ رنج سا
کہ ہولے ہولے
سسکیاں سی بھر رہی ہَوا ہے
پھیکی پھیکی سی فضا ہے
جیسے صادقین ؔ نے
سفید شام کے ورق پہ
ہلکے سُرخ رنگ سے
لکھا ہو 
“پیارے الوادع”
۔۔۔۔۔۔۔۔
حامدؔ یزدانی

سوموار، 13 فروری، 2017

کرشن چندر کی اہلیہ سلمیٰ صدیقی انتقال کر گئیں

ہندوستان کے  اپنے وقت کےمعروف ادیب اور ماہرِ تعلیم
رشید احمد صدیقی کی صاحب زادی سلمیٰ صدیقی جنہوں نے 1957 میں معروف کہانی کار کرشن چندر سے شادی کر لی تھی،آج صبح انتقال کر گئیں۔

ہفتہ، 11 فروری، 2017

بانو قدسیہ کی یاد میں جگنو انٹرنیشنل کی تقریب

                             
بلند پایہ ادیبہ،ڈرامہ نگار،افسانہ نگار اور ناول نگار محترمہ بانوقدسیہ کی یاد میں پروگرام
پنج ریڈیو یو ایس اے اور جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام انعقاد پذیر ہوا۔ 
رواں جمعہ کا پروگرام اردو ادب کے گوہرِ نایاب محترمہ بانو قدسیہ کی یادوں کے حوالے سے ترتیب دیا گیاجو پنج ریڈیو یو ایس اے سے براہِ ِراست نشر کیا گیا۔ جس کی میزبانی کے فرائض امریکہ سے خوبصورت شاعرہ،ادیبہ،ڈائیلاگ رائٹر،ڈایریکٹر، پروڈیوسر پنج ریڈیو یو ایس اے محترمہ الماس شبی اور لاہور،پاکستان سے چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل محترمہ مسرت زہرا کنولؔ المعروف ایم زیڈ کنولؔ  نے سر انجام دیئے۔جبکہ پروگرام کو آرڈینیٹر کی حیثیت  سے جگنو انٹر نیشنل کے کنوینئر،معروف بینکر، ادب نوازشخصیت محترم سید فردوس حسین نقوی نے بھر پور ادبی فریضہ ادا کیا۔محترمہ بانو قدسیہ پر گفتگو کے لئے جرمنی سے محترم شفیق مراد، چیف ایگزیکٹو،شریف اکیڈمی، جرمنی نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ مزید بر آں بانو قدسیہ جو ہر چھوٹے بڑے کی بانو آپا تھیں اور ادب کے گوہر کے ساتھ ساتھ محبتوں اور اخلاقیات کے گوہر لٹاتی رہیں اُن کی یادوں کو اتنے مختصر وقت میں سمیٹنا آسان کام نہیں ہے لیکن پنج ریڈیو کے تعاون سے جگنو انٹر نیشنل کے احباب نے کوزے میں دریا کو سمیٹتے ہوئے بحسن و خوبی یہ امر سر انجام دیا۔
محترم اختر ہاشمی، کو آرڈینیٹر جگنو انٹر نیشنل ماریشیس شگفتہ غزل ہاشمی،صدر، صداقت نقوی، میڈیا کوآر ڈینیٹرمیانوالی، منیرفردوس نے محترمہ بانو قدسیہ کے فن اور شخصیت پرسیرحاصل گفتگو کرکے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ بانو آپا صدی کی نہیں صدیوں کی مصنفہ تھیں، اُن کا نام اور کام ہمیشہ باقی رہے گا اور آنے واکی نسلوں کو منزلوں کا پتہ دیتا رہے گا۔۔ الماس شبی اور ایم زیڈ کنول نے میزبانی کے فرائض بہت خوبصورت انداز میں نبھائے۔اُن کی پُر مغز گفتگو کو بہت سراہا گیا۔ فردوس نقوی نے پروگرام کے آخر میں گفتگو فرماتے ہوئے اس اشتراک پہ  الماس شبی اور مسرت زہرا کنولؔ کو مبارکباد پیش کی اور محترمہ بانو قدسیہ کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لئے بہت عقیدت اور خلوص سے دعا کی ۔

ہفتہ، 4 فروری، 2017

کیا اداس شام تھی انور گھٹاوں میں گھری / رنگ میں ملا دیا خزاں کی شام نے مجھے / انور زاہدی

یاد کیا کرادیا خزاں کی شام نے مجھے 
خواب میں جگا دیا خزاں کی شام نے مجھے
سوچتے ہوئے تجھے آنکھ بس لگی ہی تھی 
کس طرح اٹھا دیا خزاں کی شام نے مجھے
کیسے دل دھڑکتا تھا ذکر کو ترے سن کے
کس طرح ڈرا دیا خزاں کی شام نے مجھے
شہر کے حسیں چہرے یاد تھے سبھی مجھ کو
سب کا سب بھلا دیا خزاں کی شام نے مجھے
کیا اداس شام تھی انور گھٹاوں میں گھری
رنگ میں ملا دیا خزاں کی شام نے مجھے 

راجہ گدھ کی خالق معروف ادیبہ بانو قدسیہ انتقال کر گئیں۔انا للہِ و انا الیہِ راجعون

راجہ گدھ کی خالق معروف ادیبہ بانو قدسیہ  انتقال کر گئیں۔انا للہِ و انا الیہِ راجعون