ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 25 جنوری، 2017

کچھ عشق پہ بھی چاہئے تھی شاعری کی اوس / کچھ شاعری بھی عشق سے مرطوب کی گئی / سحرتاب رومانی

سحر تاب رومانی
ہر ایک بات مجھ سے ہی منسوب کی گئی 
تعریف میرے بعد مری خوب کی گئی
پہلے تو زخم زخم کیا جسم کو مرے 
پھر اسکے بعد روح بھی مضروب کی گئی
بچ کر نکل نہیں سکی اسکے عتاب سے 
یہ زیست احتیاط سے معتوب کی گئی
واعظ کا لفظ لفظ تو رد ہو کے رہ گیا
گویا کہ بات ہی سُنی مجذوب کی گئی
کیوں اپنے آپ سے بھی مجھے منحرف رکھا
کیوں ذات میری مجھ سے ہی مغلوب کی گئی
کچھ عشق پہ بھی چاہئے تھی شاعری کی اوس 
کچھ شاعری بھی عشق سے مرطوب کی گئی
میرا نشانِ فکر بھی باقی نہیں رہے 
ہر ایک سوچ میری یُوں مصلوب کی گئی

سوموار، 9 جنوری، 2017

دیکھ کعبہ ہے مرا کشورِ دل ریش میاں / دھڑکنوں میں ہے اذاں گونجتی، توحید بکف / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
چاندنی رات ہے کیا خانۂ خورشید بکف
لوحِ مژگانِ سحر تاب ہے تمہید بکف
ہے مضافاتِ زمانہ میں کہیں عمرِ رواں
خام ہے سوچ،کہ پلٹے گی یہ تجدید بکف
بے بصر آنکھ میں ٹھہرا ہے شبِ تار سا دن
تونے نادیدہ نہیں دیکھا کبھی دید بکف
نودمیدہ ہے گلِ تاز لبِ خنداں کا
حسنِ دل کش جو نمو خیز ہے روئید بکف
یہ مآثر جو مرے عالمِ ادراک میں ہیں
سرگراں خوابِ تمنا ہیں یہ تجرید بکف
ماحصل آج، گذشتہ کی طلب کا دیکھا
دستِ امروز میں فردا کا تھا تقلید بکف
یہ ستارے ہیں کہ املا ہے مری قسمت کی
اک خطِ نور دمکتا ہے جو امید بکف
دل کے امصار میں جو زیست گماں زاد ہوئی
سامع یہ وہم سراپا ہیں نہ تردید بکف
دیکھ کعبہ ہے مرا کشورِ دل ریش میاں
دھڑکنوں میں ہے اذاں گونجتی، توحید بکف

وہ شخص کون تھا جو صدا دے کے مر گیا / سب نے سنی پکار، کہ زنداں نیا نہیں / نوید ملک

نوید ملک
سب کچھ وہی ہے یار، کہ زنداں نیا نہیں
وحشت زرا نکھار، کہ زنداں نیا نہیں
ہر شخص مجھ کو قید میں دیکھے تو کھِل اُٹھے
اور میں ہوں بے قرار، کہ زنداں نیا نہیں
لگتا ہے مجھ سے پہلے کئی لوگ رہ چکے
اٹھا نہیں غبار، کہ زنداں نیا نہیں
وہ شخص کون تھا جو صدا دے کے مر گیا
سب نے سنی پکار، کہ زنداں نیا نہیں

بدھ، 4 جنوری، 2017

میں موسم استعارے ڈھونڈتا ہوں / زمیں کے سب نظارے ڈھونڈتا ہوں / انور زاہدی

انور زاہدی
میں موسم استعارے ڈھونڈتا ہوں 
زمیں کے سب نظارے ڈھونڈتا ہوں
زمیں پر ہوں مگر لگتا نہیں ہے 
فلک سے بھی اشارے ڈھونڈتا ہوں
چمن سے گل سمندر سے لہر تک 
ہوا بھی اور کنارے ڈھونڈتا ہوں
شھر کے سب مکانوں کھڑکیوں سے 
مہک چندن ستارے ڈھونڈتا ہوں
اگر مل جائے انور جستجو میں 
تری آنکھوں میں تارے ڈھونڈتا ہوں