ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

جمعرات، 21 ستمبر، 2017

میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں /تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے/حامد یزدانی

حامد یزدانی
روشنی تیری تھی جس نے رنگ سے چھانا مجھے
ورنہ کب قوسِ قزح کے بس میں تھا پانا مجھے
میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں
تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے
عہدِ رفتہ کے شکستہ عکس کی تکرار ہوں
تُم سمجھ بیٹھے ہو کوئی آئنہ خانہ مجھے
کھولتا ہوں شب کی جب کھڑکی تو نیلے صحن میں
چاند اک رکھا ہوا ملتا ہے ، روزانہ مجھے
تیری کڑواہٹ ہوں حامدؔ اور تِرے لہجے میں ہوں
اے مِرے شیریں سخن! تو ہی نہ پہچانا مجھے

بدھ، 20 ستمبر، 2017

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول ''ADRET'' کی تقریبِ اجراء

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے ''ADRET''لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول  
کی تقریبِ اجراء کاانعقادکیا گیا۔
تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست میں کتاب کا اجراء کیا گیا جس کی صدارت سوشل اایکٹیوسٹ  بشری ٰ اعتزاز احسن نے کی۔ 
مہمانِ خصوصی صاحبِ کتاب صائمہ اشرف  اورمہمانِ اعزازایم این اے (مسلم لیگ ن)شائستہ پرویز ملک تھیں۔
وسری نشست کی صدارت ڈائریکٹر" اخوت '' ڈاکٹر اظہار الحق ہاشمی نے کی۔مہمانِ اعزاز  اشرف جاوید تھے۔ مہمانوں کا بھر پور استقبال کیا گیا اور انہں پھول پیش کئے گئے۔ 
دونوں نشستوں کی نقابت ممتاز شاعرہ،ادیبہ،ماہرِ تعلیم،دانشور، چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، ایم زیڈ کنول اور ممتاز ماہرِ 
تعلیم اور سماجی کارکن عابدہ خاورنے اپنے خوبصورت،منفرد اندازمیں کی۔ 

اتوار، 10 ستمبر، 2017

سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی /مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے/انور زاہدی

محبت ہے تو یہ جور و ستم کا سلسلہ بھی ہے
جو ہم تم ہیں تو باقی زندگی کا مرحلہ بھی ہے
یہ کیا اسرار ہے کیسی کشش بے حال کرتی ہے
نہ میں سمجھا نہ تم سمجھیں عجب اک رابطہ بھی ہے
سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی
مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے
دریچوں سے صدائیں کس لئے مجھ کو بلاتی ہیں
شھر میرا ہے لیکن اک طرح سے بے وفا بھی ہے
رہا انور ہمیشہ میں رتوں کے دام میں گویا
مگر چہروں نے جیسے اپنے جادو میں کیا بھی ہے

منگل، 22 اگست، 2017

عُدو بھی دے خدایا , آن والا / بھلا کم ظرف سے کیا جوڑ کوئی / احمد رضا راجا

جدا کیسے کرے گا موڑ کوئی
محبت کا کہاں ہے توڑ کوئی
دمک اُٹھے ہمارا شیشۂ دل 
تُو اِس مِیں عکس ایسا چھوڑ کوئی
میسر کیوں نہیں ہے چیَن ، جانے 
لگی ہے کیوں نجانے دوڑ کوئی ؟
عُدو بھی دے خدایا , آن والا  
بھلا کم ظرف سے کیا جوڑ کوئی 
محبت میں سیاستدان مت بن 
تُو وعدہ وصل کا مت توڑ کوئی
ہوں بیٹھے رفتگاں ، دالان میں سب
وہ لمحہ ، وقت کا ، پِھر موڑ ، کوئی
بہت۔ مضبوط ہو جائے گا ، خود بھی
تُو ٹُوٹا دل کسی کا جوڑ کوئی
ترا دامن بھی بھر جائے گا راجا 
خدا کے ہاں نہیں ہے تھوڑ کوئی

بدھ، 26 جولائی، 2017

جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا / آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے / انور زاہدی

انور زاہدی
دل نے ہمارے خواب جو بوئے تھے کیا ہوئے 
شب روز اس فراق میں کھوئے تھے کیا ہوئے
وہ سحر خیز باد صبا کیسے گم ہوئی
لمحے گلے لگا کے جو روئے تھے کیا ہوئے
سنولائی ہوئی شاموں میں روشن ترے چراغ
ویران دریچوں میں سموئے تھے کیا ہوئے
قصے کہانیاں جو سناتے رہے تھے ہم
سب ہجر کی راتوں میں ڈبوئے تھے کیا ہوئے
جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا 
آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے

اتوار، 21 مئی، 2017

آج حسرت پر سکوں ہے زندگی / عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے/ حسرت بلال

حسرت بلال
قیدِ الفت سے رہا ہوتے ہوئے
وہ بھی کب خوش تھا جدا ہوتے ہوئے
میں نے دیکھے ہیں بہت سنسان شہر
راستوں سے آشنا ہوتے ہوئے
خود کشی کا ذائقہ چکھا گیا
مفلسی سے آشنا ہوتے ہوئے
کچھ نہیں دیکھا گیا حسب و نسب
خوبروں پر فدا ہوتے ہوئے
پھرمسافر کو بھٹکنے سے بچا
راستے کا اک دیا ہوتے ہوئے
آج حسرت پر سکوں ہے زندگی
عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے

جمعہ، 19 مئی، 2017

میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں / ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری / قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
غرور آیا نہ کام آئی خاکساری مری
ہر ایک شخص نے گردن یہاں اتاری مری
میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں
ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری
دھرا ہوا ہے مرے سر پہ اک شکستہ خواب
خدا کا شکر کہ گٹھڑی نہیں ہے بھاری مری
کوئی تو روشنی مجھ کو اڑائے پھرتی ہے
یہ ماہتاب نہیں ہے اگر سواری مری
میں آپ اپنے گناہوں کی ہوں سزا شہزاد
مرے وجود پہ ہوتی ہے۔ سنگ باری مری

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی

  
جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت معروف ترقی پسند شاعر،ادیب اور دانشور ڈاکٹر خالد جاوید جان نے کی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی  اور ممتاز راشد لاہوری تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف نوجوان شاعرمیجر احمد نواز  اور شاعرہ، ادیبہ وکالم نگار محترمہ عالیہ بخاری تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔

سید علی  گوہرنے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں مقررین نے ڈاکٹر عبدالغفار عزم کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی۔ دوسری نشست میں  ان کی یاد میں محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ان کی شہرہ آفاق کتا ب ''نقش اول'' کا بھر پور تعاف کرایا گیا اور صاحبِ صدر اور مہمانِ اعزاز کو یہ مایہ ناز ادب کا شہکار تصنیف پیش کی گئی۔ایم زیڈ کنولؔ نے ڈاکٹرصاحب کی کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''   آج کے طوائف الملوکی کے دور میں ڈاکٹر عبدالغفار عزم نہ صرف خود چمنِ ادب کو اپنے لہو سے سینچتے رہے بلکہ   اس کی بہار کو سدا بہار کرنے کے لئے دیارِ مغرب میں مشرقی روایتوں کے فروغ کے لئے ساری دنیا سے گوہرِ نایاب چُن چُن کر ایک ایسی منفرد بستی بسا ڈالی۔ جس کی آباد کاری جغرافیائی سرحدوں سے بے نیاز ہے۔ساکنانِ شعر وسخن دنیا کے جس گوشے میں بھی آباد ہیں اس بستی کی شہریت ان کیلئے اعزاز ہے۔ جس کا نہ کوئی رنگ ہے، نہ نسل، نہ مذہبی قد غن،اور نہ جغرافیائی حدود۔ جہاں گاگر اور ساگر میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کی بنیاد رکھنے سے لے کر آخر ی سانسوں تک سخنورانِ ادب کے لئے آپ ایک شجرِ سایہ دار بن کر سایہ بھی دیتے رہے اور ٹھنڈک بھی۔خوشبو بھی اور طراوت بھی اور ایک قطب ستارے کی طرح میرِ کارواں بن کر سر گرمِ عمل رہے۔'' 
 اختر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، فراست علی بخاری، ندا سرگودھوی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب روایتوں کے امین تھے۔9۔اپریل2016 کو جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام دوسری تقریبِ ایوارڈ کی صدارت فرمانے کے لئے وہ بیماری کے باوجود  لند ن سے لاہور تشریف لائے۔ یہاں سے بخیریت   واپس لندن پہنچنے کے بعد یکم مئی 2016 کو ہمتوں اور استقامت کا یہ ستارا، ''استعارا  '' بن گیا۔ جگنو انٹرنیشنل نے اس وقت بھی ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یہ یادیں ہمیشہ جاوداں رہیں گی۔ آج کی تقریب اس بات کا ثبوت ہے۔تقریب میں مظہر جعفری،بابر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، ظلِ ہما نقوی،شبانہ زیدی(اوکاڑہ)،محمد اکرم فریدی،پروفیسر نذر بھنڈر،ریاض احمد ریاض،فراست بخاری، رضون خوشی، اظہر اقبال مغل، اعجاز اللہ نازاور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔احباب نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر جگنو انٹرنیشنل کی تمام ٹیم کی کارکردگی کو سراہا  اور ایم زیڈ کنول، چیف ایگزیکٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ڈاکٹر عزم کی یادو ں کے چراغ روشن کر کے ڈاکٹر صاحب کی فروغ ِ اردو کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو امر  بنانے کا اہتمام کیا۔تقریب کے اختتام پر ملک کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں گئیں۔

جمعرات، 4 مئی، 2017

دُرّ ِ مکنون کی جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام تقریبِ اجرا


الحمرا ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی کی تالیف شدہ کتاب " دُرّ ِ مکنون "المعروف الہامی الفاظ توانائی کے یونٹس کی تقریبِ اجراء الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت  پیر مخدوم سید نفیس الحسن بخاری، سجادہ نشین،چیئرمین،صوفی ازم کونسل پاکستان و اُچ شریف ٹرسٹ  نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف شاعرہ،ادیبہ،کالم نگار محترمہ فاطمہ رضوی تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔قاری،حافظ ڈاکٹرسیدنور المصطفیٰ نے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔عالیہ بخاری ہالہ، پروفیسر نذر بھنڈر،ممتاز راشد لاہوری،میجر خالد نصر،، ڈاکٹر ایم ابرار،محمد زہیب صدیقی،میاں صلاح الدین اور دیگرنے بہت خوبصورت مقالے پیش کئے۔ایم زیڈ کنول نے کتاب اور صاحبِ کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ"    شاعری ہو یا نثرحب اہلِ بیت اُن کی گھٹی میں پڑی ہے۔ روحانیت، اور فہمِ دین اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔جس نے انہیں بحرِ مسیحائی کا شناور بنا دیا۔ علم و حکمت کے خزینے چُنتے چُنتے ایسے باغِ اِرم میں جا پہنچے جہاں تصوف ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔اپنے اب و جد کی محبت اس طرح اُن کی روح میں حلول کر گئی کہ اُن کے لفظوں کے ساگرایسے گوہر اُگلنے لگے کہ تصوف کے بام و در مسکرا اُٹھے۔بس پھر کیا تھا تخلیق کے چشمے گُل وبلبل کی کہی و اَن کہی داستانوں سے سیراب ہونے کی بجائے تصوف کی آبشاروں سے روح کوسیراب کرنے لگے اور      اکو الف ان کی ہستی کا مدعا بن گیا۔پھر سلطان الہند،روضہ الاقطاب جیسے گنجہائے گراں مایہ تصنیف و تالیف کئے۔ سید زادے نے اس نوجوانی کی عمر میں ہی شریعت اور طریقت  کے جواہر اپنی جھولی میں بھر لئے ہیں جن سے وہ خلائقِ عامہ کو مستفیذکر رہے ہیں۔اسی آرزو کی تکمیل دُرّ ِ مکنون کی تالیف ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ سعادتوں اور دعاؤں کا یہ گنجینہٗ علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمامشائع ہوئی ہے۔یہ کتاب دُرّ ِ مکنون  ہی نہیں در نایاب بھی ہے اور آج کے زمانے کی ضرورت بھی" معزز مہمانوں اور مقررین نے جگنو انٹرنیشنل کو اس شاندار با برکت روحانی تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور ڈاکٹر فہیم کاظمی کی اس تالیف کو روحانیت کے باب میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیااور کہا کہ حقیقی و حسبی و نسبی وارث درگاہ معلی خواجہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز اجمیری رحمتہ اللہ علیہصاحبزادہ سید فہیم رضا کاظمی الچشتی عفی،صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی نے کلام پاک، مشاہیر مشائخ عظا م اور خواجگانِ چشت کے عملیات و وظائف میں سے سدا بہار پھول اولیائے چشت سے محبت کرنے والوں کی نذر کر کے اپنے اسلاف کی محبت کا

 حق ادا کیا ہے۔تقریب میں مسعود اختر،مظہر جعفری،ڈاکٹرکنول فیروز، محمد طفیل اعظمی،عقیل اختر،ایم شاہد رانا،رانا سعید احمد،فراست بخاری، نجمہ شاہین،عزیز شیخ اور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں  کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔

منگل، 2 مئی، 2017

رات کی بے کراں اُداسی میں / ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے / انور زاہدی

طاق میں اک چراغ جلتا ہے
درد تنہائی میں ہی پلتا ہے 
رات کی بے کراں اُداسی میں 
ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے
کاش یہ علم تمہیں ہوسکتا
دُکھ کا دریا ہی کیوں بکھرتا ہے
کیسے برسات کے مہینوں میں
دل پہ ساون یونہی گرجتا ہے
چاند برکھا کی بھیگی راتوں میں
چھپ کے بادل میں پھر اُجلتا ہے
رات کٹتی نہیں ہے کیوں انور
غم کا دن کس طرح نکلتا ہے
انور زاہدی

جمعرات، 13 اپریل، 2017

پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب / نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
نیامِ حرف میں شمشیر سے معانی رکھ
کمانِ شوق میں اک تیر سی کہانی رکھ
نکل بھی خواب گزیدہ حصارِ نوم سے آنکھ
نمودِ حسن کی یوں تو نہ پاسبانی رکھ
پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب 
نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ
کسی خیال میں لا اُس کی بے خیالی کو
کبھی دھیان میں اُس کی بھی بے دھیانی رکھ
نزولِ عشق ، مصیبت ہی ناگہانی ہے
یہ ناگہانی ، ہمیشہ ہی ناگہانی رکھ
یہ زادِ راہِ محبت ہے، عشرتِ غم ہے
میاں سنبھال کے یہ دردِ جاودانی رکھ
اداس آنکھ کی جو دلکشی بڑھانی ہے
تو اس میں یاد کا صہبا نشاط پانی رکھ
رگوں میں خون کی گردش فشار خیز نہ ہو
توُ چشم زار میں اشکوں کی بھی روانی رکھ
جواں ترنگ ہے اصغر ترا بڑھاپا بھی
سرُور خیزیٔ الفت کی شادمانی رکھ

سوموار، 20 مارچ، 2017

لو ح ،، کی تقریب پذیرائی ۔۔ صدارت: ایس ایم ظفر ، مہمانِ خصوصی : محترمہ صدیقہ بیگم

رپورٹ:رابعہ الرَ بّا ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،
مو سم بہا ر شروع ہو چکا تھا ۔ مگر سر دی کی کچھ لہر یں ملیریا میں لگنے والی سردی کی طر ح شہر میں دور رہی تھیں۔ کچھ جسم میں سنسنا ہٹ بن کر دوڑ جاتی تو کچھ ہمیں یا د دلاتی کہ نہیں یہ تو کو ئی خیالی سنسناہٹ ہو گی جو مو سم کا مزہ نہیں لینے دے رہیں۔ موسم بھی کیا ظالم شے ہے حساس انسانو ں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا
ہے
 ۔ 
یہ اتو ار کا دن تھا صبح سے ہی دھوپ اور سرد ہو ئیں آنکھ مچو لی کھیل رہی تھیں۔ دونو ں نے ہا ر نہیں ما نی اور ان کی من ما نی میں زندگی نے بھی مسکرانے سے انکا ر نہیں کیا ۔ اور شہر ہو شہر لا ہور، زندہ دلان کا شہر ، باغو ں کا شہر ، پھولوں اور خوشبو کا شہر،گورنمنٹ کالج کاشہر تو کس کی مجال ہے کہ کو ئی کرتا انکا ر ۔ الحمرا میں جشن بہا راں تھا ، ایوان اقبا ل میں حلقہ اربا ب ذوق کا اجلا س تھا، تو ایک اجلاس پا ک ٹی ہا ئوس میں منعقد تھا،کہیں جشن بہا

را ں کا مشاعرہ تھا ، کہیں فیض امن میلہ،یو ایم ٹی کی ادبی بیٹھک تو کاسمو پو لیٹن کلب میںکو ئی تقریب پذیرائی، انہی ادبی میلو ں میں ایک میلا سن فورٹ ہو ٹل لاہو ر کی دوسری منزل پر بھی سجا ہواتھا ۔ جہا ں ادبی بہا ر کے ساتھ اولڈ راوینز کی بہا ر دکھا ئی دے رہی تھی۔ کیو نکہ اس بہا ر کا انعقا د اولڈ راوینئز ایسوسی ایشن لا ہو ر کی جا نب سے کیا گیا تھا ۔ سو یہا ں را وی کیو ں نا بہتا ۔ جتنے راوینز بیٹھے ہو ئے تھے وہ آج بھی راوین ہی لگتے تھے ، عمر ان پہ اپنے اثرات چھو ڑنے میں نا کا م نظر آتی تھی ۔ بس ذرا سب کے جسما نی زاویے بد ل گئے تھے۔ مجھے محسو س ہوتا ہے کہ راوین ہونا ایک کیفیت کا نا م ہے جو طا ری ہو جا ئے تو طاری اور جا ری ر ہتی ہے۔

سن فورٹ کی بھی اگرتاریخ اٹھا ئی جاتی تو اس میں بھی کو ئی باب ایسا نہیں ہو گا جس میں درج ہو کہ اس کی زمین پہ کتنے راوینئز اکھٹے ہو ئے ہوںگے۔وہ آج خو د اس کیف میں جھو م گیا ہو گا ۔ خود پہ نا زاں ہو گا اور نا ز کا سہر ا جا تا ہے ممتا زشیخ کے سر ، ’’ اک سہر ے پہ کئی سہر ے سجا لیتے ہیں لو گ،، مگر یہ ہمت بھی کو ئی کو ئی کر تا ہے ، اور یہ نصیب بھی کسی کسی کو ملتاہے، ممتا ز شیخ نے پہلے اپنا سہرا تو سجا یا ہی ہو گا ، مگر اس کے بعد ’’لو ح ،، کو نکالنے کا ، پھر اس کی کامیا ب اشاعت کا ، کامیاب پریزنٹیش کا ، اور کامیاب سر کو لیشن کا، اور پھر ہر سال ایک بھر پو ر تقر یب کا ، اور یہ اس سلسلے کی چوتھی تقر یب تھی ۔ اور چوتھا انداز تھا ۔ 
ہال بھرا ہو تھا ۔ اور بقو ل ماہر قانون اور قابلِ احترام پاکستانی جناب ایس ایم ظفر جو اس تقریب کی صدارت بھی فرما رہے تھے کہ اس ہال میں سب کے سب اسیرانِ ادب ہی تشریف فرما ہیں اور اسیرانِ ادب کا لفظ سہ ماہی"لوح" کے 
ٹائٹل کی پیشانی پر بھی کندہ ہے، 

میزبانی کے فرائض کا آغاز اولڈ راوئینزایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکرٹری شہباز شیخ نے کیا اور اس تقریب کے حوالے سے مختصر گفتگو کے بعد تقریب چلانے کی ذمے داری معروف شاعر اور دانشور ڈاکٹر ابرار احمد کو سونپ دی۔ "ادبِ لطیف" کی سدا بہارایڈیٹر محترمہ صدیقہ بیگم تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں ۔محترمہ صدیقہ بیگم کے دائیں طرف جناب ممتاز شیخ براجمان تھے جن کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا کہ تقریب میں لاہور کے تمام نمائندہ شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور نقاد تشریف فرما تھے۔ غالباََ یہ اس روز کی سب سے کامیاب اور بھرپور تقریب تھی۔ راوئینز اور"لوح" کے پروانوں کا ہجوم سا اُمڈ آیا تھا جس میں امجد اسلام امد، ڈاکٹر اختر شما ر، ڈاکٹر سعادت سعید ، ڈاکٹر ضیا الحسن ، ڈاکٹر نجیب اجمل، ظفر سپل ، سعود عثما نی،حسین مجر وح ، ڈاکٹر نیازی ، انجم قریشی ، امجد طفیل ، اقتداد جاوید ، ڈاکٹر ابرار احمد ، سجا د بلو چ ، عبرین صلاح الدین ، مظہر سلیم مجوکہ ،وقاص عزیز ، ر خشند ہ نو ید ، قمر رضا شہرا د ، ڈاکٹر خالد ہ انو ر ، اورنگ زیب نیازی ، یو نس خان ، سلمی اعوان، نیلم احمد بشیر ، حمید ہ شاہین ، انجم قریشی، وحید رضا بھٹی ، سرفراز احمد، نا ز بٹ ، آسنا تھ کنو ل ،باقی احمد پوری، ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر جو ا ز جعفری، محمد ندیم بھابھہ، امجد طفیل ، شائستہ نزہت، وسیم عباس ،ہا یٓکورٹ کے ریٹایرڈ ججز، بیوروکریٹس ،وکلاہ، اور میرے سمیت بہت سے لو گ شامل تھے۔ جن کے نا م شامل نہیں کر سکی ، وہ میر ی کم علمی ہے۔ اس موقعہ پر ممتاز شیخ صاحب کے بچپن یعنی گورنمنٹ کالج کے دوست بھی کثیر تعداد میں موجود تھے جن کا تعلق آج زندگی کے مختلف شعبوں میں امتیازی حیثیت رکھنے سے ھے جن میں عسکری اداروں کے اعلی عہدے دار ،پولیس کے زمے دارعہدوں پر متمکن حضرات ، ڈاکٹرز ، سول سروس ، بینکار ،بزنیس مین شامل تھے-
آدبا ،افسانہ نگاروں اور شعراہ کی اکثریت نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا اور وہ بھی مفید - یہ دن تھا راز فاش ہو نے کا ، ایک کے بعد ایک بھید کھل رہا تھا ، کچھ سے تو میں بھی پر دہ نہیں اٹھا نے والی کہ ہر راز کے فاش ہو نے کا بھی وقت ہو تا ہے ۔ اسے اس کی عمر دینی چاہئے ۔ انجم اعظم قریشی نے بتایا کہ ’’ لو ح ،، کا نا م انہو ں نے تجو یز کیا تھا اور وہ آج تک اس پر اتراتی ہیں اور اس کی مٹھاس محسوس کرتی ھیں جس کی تائید ممتازشیخ صاحب نے بھی کی ، اک راز ممتا ز شیخ کی ز با ن سے بھی سماعتوں تک گزرا، آہ کیا یاد آگیا
’’ وقت کر تا ہے پر ور ش بر سوں،،
یہ نہیں معلو م ممتاز صا حب نے کس عشر ے کی با ت کی ، مگر جگہ تھی گورنمنٹ کا لج لا ہو ر اور ’’راوی،، کی ادارت کے"ہما "کا موقع تھا مگر ممتاز شیخ صاحب بوجوہ راوی کے ’’ ایڈیٹر،، منتخب نہ کیے جا سکے، بس یہ درد خواب بن کر نجانے کب سے تعبیر کی تلا ش میں کتنی وحشتوں کا سفر تنہا کر تا رہا اور آخر اس خواب نے’’ لو ح ،، کی صورت تعبیر پا لی۔ مجھے عطا الحق قاسمی کی ایک با ت یا د آ گئی ’’ آئیڈیل ملتا ضر ور ہے مگر بس وقت پہ نہیں ملتا،،تب ممتا ز صاحب نے دل میں ٹھا نی تھی کہ وہ ’’راوی،،کو آئیڈیل بناتے ہوئے "راوی " جیسا ہی مقتدرپر چہ نکا لیں گےانہوں نے مذید کہا کہ اگر انہیں "راوی " کے نام سے پرچہ نکالنے کی اجازت مل سکتی تو وہ "لوح" کا نام "راوی ثانی" رکھتے۔ اب انہو ں نے ثابت کر دکھایا کہ دیکھے جانے والے خواب ضرور پو رے ہو کر رہتے ہیں۔

بہت سی تجا ویز بھی پیش کی گئیں، بہت سے مشو رے دئیے گئے۔ تعریف بھی کی گئی ، تنفید بھی نے خاصی جگہ پا ئی ،اس موقع پر ممتاز شیخ صاحب نے کہا وہ اس اجمتاع میں ہر قسم کی تنقید کا خیر مقدم کریں گے اور اس کی روشنی میں "لوح" کو مذید بہتر بنائیں گے۔اس موقع پر میری معلومات میں بھی بہت اضافہ ہوا اور ایس ایم ظفر صاحب کی یہ بات سن کر اچھا لگا کہ پاکستا ن بننے سے قبل اس سر زمین ِ بر صغیر پہ چا ر ہز ار سے زائد پر چے نکلتے تھے، جس میں سے دو ہزار صرف لاہو ر سے ہی نکلا کر تے تھے۔تو گویا لا ہو ر کو ’’ ادبی رسائل و جرائد ،، کا شہر بھی کہہ سکتے ہیں ۔ وہ زما نہ چشم تصور میںگردش کرنے لگا۔ 
خلیل جبرا ن کی با ت ہو ئی، ابن خیام کی بات ہو ئی ، دوستو فسکی کو یا د کیا تو ،کو لمبس کو یا د کیا ، تو پطر س بخاری تک کا ذکر چھڑا ، سو ند ھی ٹرانسلیشن سوسائیٹی (گو ر نمنٹ کا لج لاہو ر) کا قصہ چھڑا ، نجا نے کتنی داستانیں ابھی با قی تھیں ، نجا نے کتنے قصے ابھی چھڑنے تھے، مگر وقت کی قید نے رسمی کا روائیو ں کی طر ف مو ڑ دیا ۔ 
ان اختتامی ر سمی کا روائیوں کے بعد جہا ں پْر تکلف چائے کا دور چلا ، وہا ں نئی تہذیب کے نئے ر نگ نے بھی ر نگ بکھیرے، یعنی سیلفی ٹا ئم جس میں بنا عمر و رنگ ونسل محمو د و ایا ز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے ۔ اور یہ ہر دور کا حسن ہو تا ہے کہ اس کو اس کی طر ح ہی گزارا جا ئے تو لطف ہے۔کیو نکہ زند گی کا کو ئی پل لو ٹ کے نہیں آتا ۔ اور یہ پل بھی آج کے بعد سے یا د بن گیا ہے ۔ جس کو ہم خو ش نصیبو ں نے کیمر وں اور یاداشتوں میں قید کر لیا ہے ۔ کل سے یہ ہما ری یا دوں میں مسکرائے گا۔

منگل، 14 مارچ، 2017

ھم دنیا میں عدت کے دن گزار ر ہے ہیں /احمد سہیل امریکہ

احمد سہیل
جب لڑکی خاموش ہو جاتی ہے
تو خواب تعبیر سے جدا ہو جاتے ہیں
جب لڑکی مسکراتی ہے
تو ھم سے آزادی چھین کی جاتی ہے
ھم دنیا میں عدت کے دن گزار ر ہے ہیں
مجھے موت دے دو
کہ میں اپنی زندگی میں واپس جانا چاہتا ہوں
موت ایک معمہ ہے
سایوں کے پیچھے
وہ اپنی تعریف سن کر رو دیتی ہے
الجھے ہوئے اندھیرں میں
زندگی مجرم بنے کھڑی ہے
تم خزاں سے پہلے آجانا
زندگی بیچنے والا سپاہی موت سینے پر سجاتا ہے
موسموں کے بدل جانے سے
پیڑوں سے پتے جدا ہو جاتے ہیں
مگر جدائی کا کوئی موسم نہیں ہوتا
جتنی دیر میں یہ نظم پوری ہو
تم لوٹ آنا
جاڈوں سے پہلے تم مجھے آزاد کردو
یہ اس شہر کی کہانی ہے
جب شہر سر شام سوگیا تھا

منگل، 28 فروری، 2017

اکیلے میں اگر ملتا وہ مجھ سے / تو ممکن ہے مجھے پہچان لیتا / ارشد شاہین

ارشد شاہین
مری مجبوریوں کو جان لیتا
تو کیا وہ بات میری مان لیتا
سرِ دشتِ طلب رکتا تو کیسے
بھلا کس کس کا میں احسان لیتا
پلٹ کر سوچتا ہوں خاکِ دنیا
بچی تھی جو اُسے بھی چھان لیتا
بتا دنیا ! تری اوقات کیا تھی
تجھے پانے کی گر میں ٹھان لیتا
تری آواز تو آتی کہیں سے
میں چل پڑتا ، نہ کچھ سامان لیتا
ذرا سی چوک ہو جاتی تو دشمن
مرا خنجر مجھی پر تان لیتا
اگر احساس کچھ ہوتا دلوں میں
تو جان انسان کی انسان لیتا
وفا پر اُس کی ،شک ہوتا تو اُس سے
کوئی وعدہ ، کوئی پیمان لیتا
اکیلے میں اگر ملتا وہ مجھ سے
تو ممکن ہے مجھے پہچان لیتا
مقدر یاوری کرتا تو ارشد
کوئی مجھ کو نہ یوں آسان لیتا

جمعہ، 24 فروری، 2017

نظم "گلوبل دائرے کا چکر" /نوید ملک

نوید ملک
ہوائیں آگ روتی ہیں
فلک برسا رہا ہے دھوپ کے کوڑے
درختوں کی نگاہیں نوچتی ہیں اب پرندوں کو
گھڑی کی سوئیاں تلوار بن کر وقت کے سینے کو زخمی کر رہی ہیں
نئے مذہب بنائے جا رہے ہیں
شرابی فلسفے ایجاد کرتا ہے تو زانی دین پر تہمت لگاتا ہے
ہماری گردنوں کر راستے بھی گھورتے ہیں
بشر لاشوں کو بوتا ہے
زمیں نوحے اُگاتی ہے
فرشتے نیکیوں کی فائلوں کو بند کر کے ریسٹ کرنے لگ گئے ہیں
صحافی اور ہر اخبار کا بزنس
گلی کوچوں تلک پھیلا ہوا ہے
ہر اک پارٹی کا لیڈر انقلابی بوریوں میں مفلسوں کے خواب جکڑے
کورٹ کے باہر 
کرپشن تھوکتا ہے
دھماکے ہو رہے ہیں
بتاو تو سہی خود کش کی مسجد، منڈیوں، دربار، ہر بازار اور اسکول سے کیا دشمنی ہے
یہ خود کش بھی گلوبل دائرے کا ایک چکر ہے
کہ جس کی آنکھ میں مظلوم چبھتا ہے

بدھ، 15 فروری، 2017

جگنو انٹرنیشنل کی تیسری سالگرہ کے موقع پر نوشاد کاظمی کے افسانوی مجموعہ مسافرت کی تقریبِ اجرا

جگنو انٹرنیشنل کی تیسری سالگرہ کے موقع پرمعروف افسانہ نگار نوشاد کاظمی کے افسانوی مجموعہ ،، مسافرت،، کی تقریبِ اجرا کا انعقاد کیا گیا،صدارت معروف سرائیکی قلم کار محترمہ مسرت کلانچوی تھیں،تقریب کی نظامت کے فرائض جگنو انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹو مسرت زہرہ کنول نے سرانجام دیئے،

منگل، 14 فروری، 2017

ناگہانی موت پہ صبر نہیں آتا (لاہور میں مرنے والوں کے نام ) /ثمینہ تبسم

ثمینہ تبسم
چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہوں
پاک ہوں یا ناپاک
جب انسان بم دھماکوں سے 
ٹکڑے ٹُکڑے ہو کر 
مٹی میں رُل جاتے ہیں 
تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا
میری چیخیں نکل جاتی ہیں
میں اُن سے معافی مانگتے ہوئے
انتہائی بے چارگی سے 
اپنے دل میں اُن کی قبریں بناتی ہوں
خُون سے پاک
صاف سُتھری
پھولوں سے لدی 
چمکتی ہوئی قبریں
میں اُن کے کتبوں پہ 
ریسٹ اِن پِیس RIP لکھتی ہوں 
تو وہ کٹی پھٹی لاشیں بین کرتی ہیں
اور مُجھ سے 
اپنے گُمشُدہ 
ہاتھ
بازو
آنکھیں اور ٹانگیں مانگتی ہیں
میں روتے
بلکتے
تڑپتے ہوئے
اُن سے 
آئی ایم سوری I am sorry کہتی ہوں
مگر سمجھ نہیں آتی کہ آخر میں سوری کس سے ہوں ???
ثمینہ تبسم

عجیب کیفیت ہے آج / حامد یزدانی(کینیڈا)

حامد یزدانی

الوداع
……………
عجیب کیفیت ہے آج
مال ( روڈ) کے سہانے آسماں کو کیا ہُوا ہے ؟
اپنے شہر ہی کی اجنبی سڑک 
کہ اَن سُنی زباں میں کوئی نظم ہے
ہر ایک حرف غیر سا
ہرایک آنکھ غم نما
قدم قدم ہے
خامشی بچھی ہوئی
ہر ایک پیڑ رنج سا
کہ ہولے ہولے
سسکیاں سی بھر رہی ہَوا ہے
پھیکی پھیکی سی فضا ہے
جیسے صادقین ؔ نے
سفید شام کے ورق پہ
ہلکے سُرخ رنگ سے
لکھا ہو 
“پیارے الوادع”
۔۔۔۔۔۔۔۔
حامدؔ یزدانی

سوموار، 13 فروری، 2017

کرشن چندر کی اہلیہ سلمیٰ صدیقی انتقال کر گئیں

ہندوستان کے  اپنے وقت کےمعروف ادیب اور ماہرِ تعلیم
رشید احمد صدیقی کی صاحب زادی سلمیٰ صدیقی جنہوں نے 1957 میں معروف کہانی کار کرشن چندر سے شادی کر لی تھی،آج صبح انتقال کر گئیں۔

ہفتہ، 11 فروری، 2017

بانو قدسیہ کی یاد میں جگنو انٹرنیشنل کی تقریب

                             
بلند پایہ ادیبہ،ڈرامہ نگار،افسانہ نگار اور ناول نگار محترمہ بانوقدسیہ کی یاد میں پروگرام
پنج ریڈیو یو ایس اے اور جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام انعقاد پذیر ہوا۔ 
رواں جمعہ کا پروگرام اردو ادب کے گوہرِ نایاب محترمہ بانو قدسیہ کی یادوں کے حوالے سے ترتیب دیا گیاجو پنج ریڈیو یو ایس اے سے براہِ ِراست نشر کیا گیا۔ جس کی میزبانی کے فرائض امریکہ سے خوبصورت شاعرہ،ادیبہ،ڈائیلاگ رائٹر،ڈایریکٹر، پروڈیوسر پنج ریڈیو یو ایس اے محترمہ الماس شبی اور لاہور،پاکستان سے چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل محترمہ مسرت زہرا کنولؔ المعروف ایم زیڈ کنولؔ  نے سر انجام دیئے۔جبکہ پروگرام کو آرڈینیٹر کی حیثیت  سے جگنو انٹر نیشنل کے کنوینئر،معروف بینکر، ادب نوازشخصیت محترم سید فردوس حسین نقوی نے بھر پور ادبی فریضہ ادا کیا۔محترمہ بانو قدسیہ پر گفتگو کے لئے جرمنی سے محترم شفیق مراد، چیف ایگزیکٹو،شریف اکیڈمی، جرمنی نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ مزید بر آں بانو قدسیہ جو ہر چھوٹے بڑے کی بانو آپا تھیں اور ادب کے گوہر کے ساتھ ساتھ محبتوں اور اخلاقیات کے گوہر لٹاتی رہیں اُن کی یادوں کو اتنے مختصر وقت میں سمیٹنا آسان کام نہیں ہے لیکن پنج ریڈیو کے تعاون سے جگنو انٹر نیشنل کے احباب نے کوزے میں دریا کو سمیٹتے ہوئے بحسن و خوبی یہ امر سر انجام دیا۔
محترم اختر ہاشمی، کو آرڈینیٹر جگنو انٹر نیشنل ماریشیس شگفتہ غزل ہاشمی،صدر، صداقت نقوی، میڈیا کوآر ڈینیٹرمیانوالی، منیرفردوس نے محترمہ بانو قدسیہ کے فن اور شخصیت پرسیرحاصل گفتگو کرکے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ بانو آپا صدی کی نہیں صدیوں کی مصنفہ تھیں، اُن کا نام اور کام ہمیشہ باقی رہے گا اور آنے واکی نسلوں کو منزلوں کا پتہ دیتا رہے گا۔۔ الماس شبی اور ایم زیڈ کنول نے میزبانی کے فرائض بہت خوبصورت انداز میں نبھائے۔اُن کی پُر مغز گفتگو کو بہت سراہا گیا۔ فردوس نقوی نے پروگرام کے آخر میں گفتگو فرماتے ہوئے اس اشتراک پہ  الماس شبی اور مسرت زہرا کنولؔ کو مبارکباد پیش کی اور محترمہ بانو قدسیہ کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لئے بہت عقیدت اور خلوص سے دعا کی ۔

ہفتہ، 4 فروری، 2017

کیا اداس شام تھی انور گھٹاوں میں گھری / رنگ میں ملا دیا خزاں کی شام نے مجھے / انور زاہدی

یاد کیا کرادیا خزاں کی شام نے مجھے 
خواب میں جگا دیا خزاں کی شام نے مجھے
سوچتے ہوئے تجھے آنکھ بس لگی ہی تھی 
کس طرح اٹھا دیا خزاں کی شام نے مجھے
کیسے دل دھڑکتا تھا ذکر کو ترے سن کے
کس طرح ڈرا دیا خزاں کی شام نے مجھے
شہر کے حسیں چہرے یاد تھے سبھی مجھ کو
سب کا سب بھلا دیا خزاں کی شام نے مجھے
کیا اداس شام تھی انور گھٹاوں میں گھری
رنگ میں ملا دیا خزاں کی شام نے مجھے 

راجہ گدھ کی خالق معروف ادیبہ بانو قدسیہ انتقال کر گئیں۔انا للہِ و انا الیہِ راجعون

راجہ گدھ کی خالق معروف ادیبہ بانو قدسیہ  انتقال کر گئیں۔انا للہِ و انا الیہِ راجعون

بدھ، 25 جنوری، 2017

کچھ عشق پہ بھی چاہئے تھی شاعری کی اوس / کچھ شاعری بھی عشق سے مرطوب کی گئی / سحرتاب رومانی

سحر تاب رومانی
ہر ایک بات مجھ سے ہی منسوب کی گئی 
تعریف میرے بعد مری خوب کی گئی
پہلے تو زخم زخم کیا جسم کو مرے 
پھر اسکے بعد روح بھی مضروب کی گئی
بچ کر نکل نہیں سکی اسکے عتاب سے 
یہ زیست احتیاط سے معتوب کی گئی
واعظ کا لفظ لفظ تو رد ہو کے رہ گیا
گویا کہ بات ہی سُنی مجذوب کی گئی
کیوں اپنے آپ سے بھی مجھے منحرف رکھا
کیوں ذات میری مجھ سے ہی مغلوب کی گئی
کچھ عشق پہ بھی چاہئے تھی شاعری کی اوس 
کچھ شاعری بھی عشق سے مرطوب کی گئی
میرا نشانِ فکر بھی باقی نہیں رہے 
ہر ایک سوچ میری یُوں مصلوب کی گئی

سوموار، 9 جنوری، 2017

دیکھ کعبہ ہے مرا کشورِ دل ریش میاں / دھڑکنوں میں ہے اذاں گونجتی، توحید بکف / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
چاندنی رات ہے کیا خانۂ خورشید بکف
لوحِ مژگانِ سحر تاب ہے تمہید بکف
ہے مضافاتِ زمانہ میں کہیں عمرِ رواں
خام ہے سوچ،کہ پلٹے گی یہ تجدید بکف
بے بصر آنکھ میں ٹھہرا ہے شبِ تار سا دن
تونے نادیدہ نہیں دیکھا کبھی دید بکف
نودمیدہ ہے گلِ تاز لبِ خنداں کا
حسنِ دل کش جو نمو خیز ہے روئید بکف
یہ مآثر جو مرے عالمِ ادراک میں ہیں
سرگراں خوابِ تمنا ہیں یہ تجرید بکف
ماحصل آج، گذشتہ کی طلب کا دیکھا
دستِ امروز میں فردا کا تھا تقلید بکف
یہ ستارے ہیں کہ املا ہے مری قسمت کی
اک خطِ نور دمکتا ہے جو امید بکف
دل کے امصار میں جو زیست گماں زاد ہوئی
سامع یہ وہم سراپا ہیں نہ تردید بکف
دیکھ کعبہ ہے مرا کشورِ دل ریش میاں
دھڑکنوں میں ہے اذاں گونجتی، توحید بکف

وہ شخص کون تھا جو صدا دے کے مر گیا / سب نے سنی پکار، کہ زنداں نیا نہیں / نوید ملک

نوید ملک
سب کچھ وہی ہے یار، کہ زنداں نیا نہیں
وحشت زرا نکھار، کہ زنداں نیا نہیں
ہر شخص مجھ کو قید میں دیکھے تو کھِل اُٹھے
اور میں ہوں بے قرار، کہ زنداں نیا نہیں
لگتا ہے مجھ سے پہلے کئی لوگ رہ چکے
اٹھا نہیں غبار، کہ زنداں نیا نہیں
وہ شخص کون تھا جو صدا دے کے مر گیا
سب نے سنی پکار، کہ زنداں نیا نہیں

بدھ، 4 جنوری، 2017

میں موسم استعارے ڈھونڈتا ہوں / زمیں کے سب نظارے ڈھونڈتا ہوں / انور زاہدی

انور زاہدی
میں موسم استعارے ڈھونڈتا ہوں 
زمیں کے سب نظارے ڈھونڈتا ہوں
زمیں پر ہوں مگر لگتا نہیں ہے 
فلک سے بھی اشارے ڈھونڈتا ہوں
چمن سے گل سمندر سے لہر تک 
ہوا بھی اور کنارے ڈھونڈتا ہوں
شھر کے سب مکانوں کھڑکیوں سے 
مہک چندن ستارے ڈھونڈتا ہوں
اگر مل جائے انور جستجو میں 
تری آنکھوں میں تارے ڈھونڈتا ہوں