ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ, دسمبر 22, 2017

ﻭﮦ ﻋﮑﺲ ﺑﻦ ﮐﮯ ﻣﺮﯼ ﭼﺸﻢِ ﺗﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ / ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ / بسمل صابری

بسمل صابری
ﻭﮦ ﻋﮑﺲ ﺑﻦ ﮐﮯ ﻣﺮﯼ ﭼﺸﻢِ ﺗﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ شبِ ﻏﻢ ﮐﺎ ﺍﮎ ستاﺭﮦ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﮎ ستارہ ﺟﻮ چشمِ سحر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ پہ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮔﻨﮕﻨﺎﺅﮞ ﺍﺳﮯ
ﻭﮦ ﺷﻌﺮ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﺽِ نظر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﮔﺰﺭﺗﺎ ﻭﻗﺖ ﻣﺮﺍ ﻏﻢ گسار ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ
یہ ﺧﻮﺩ ﺗﻌﺎﻗﺐِ شام و سحر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺮﺍ ﮨﯽ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ
بگولہ سا ﺟﻮ ﺗﺮﯼ ﺭﮦ گزر ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
نہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ بسمل
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ سانس ﻣﺮﺍ ﺍﺏ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ہے


منگل, دسمبر 19, 2017

سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے / انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے / صبیحہ صبا(مدیراعلیٰ اردو منزل ڈاٹ کام)

سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے
انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے
اپنی سوچ سے کام نہ لینے والوں کو
پستی میں کچھ اور دھکیلا جاتا ہے
لوگ زرا سی ہمدردی کر جاتے ہیں
کرب تو اپنی ذات پہ جھیلا جاتا ہے 
اپنی منزل پر کب نظریں ان کی ہیں
چل پڑتے ہیں جدھر کو ریلا جاتا ہے
شہروں والی خوب ترقی کرتے ہیں
کچلا اس میں جنگل بیلہ جاتا ہے
دنیا بھر میں خوب تماشے ہوتے ہیں
دیکھنے والا دیکھ کے میلہ جاتا ہے

ہفتہ, دسمبر 16, 2017

جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام جشنِ پنج ریڈیو امریکہ کی چھٹی سالگر ہ اور الماس شبی کے اعزاز میں مشاعرہ کاانعقاد



جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام  جشنِ پنج ریڈیو امریکہ کی چھٹی سالگر ہ اور  الماس شبی کے اعزاز میں مشاعرہ کاانعقادالحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں کیا گیا۔اس موقع پرمحترمہ الماس شبی کوان کی فروغِ ادب کے لئے کی جانے والی خدمات کے اعتراف میں فروغِ عالمی ادب ایوارڈسے نوازا گیا جس کا اعلان گذشتہ جگنو انٹر نیشنل کی سالانہ شاندار اور پُر وقار تقریبِ ایوارڈ منعقدہ  پلاک،لاہور میں کیا گیا تھا۔

اس باوقار عالمی نوعیت کی تقریب کی صدارت ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا ٓآرٹس کونسل، کیپٹن(ر)عطا محمد خاں نے کی۔ 
اختر ہاشمی اوراخلاق عاطف (سرگودھا)نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ صداقت نقوی، میڈیا کوآرڈینیٹر،جگنو انٹر نیشنل میانوالی  اور جمیل ناز(منڈی بہاؤالدین) مہمانِ اعزاز تھے۔
نظامت کے فرائض معروف شاعرہ، ادیبہ،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔
 فردوس نقوی نے تلاوت کی۔ صائمہ اشرف نے  نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔فردوس نقوی نے تعارفی کلمات ادا کئے۔تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں جشنِ پنج ریڈیو کے سلسلے میں اس کی چھٹی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی غرض سے خصوصی اہتمام کیاگیا۔صداقت نقوی بھی میانوالی ونگ کی نمائندگی کرتے ہوئے سالگرہ کیک ساتھ لائے تھے۔ سوایک کے بعد دوسرا کیک بھی کاٹا گیا اور یوں بھرپور طریقے سے پنج ریڈیو امریکہ کی سالگرہ منائی گئی۔نشست کے دوسرے حصے 
میں 

الماس شبی کی پذیرائی میں جگنو مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ایم زیڈ کنول، الماس شبی، کیپٹن (ر)عطا محمد خاں،اختر ہاشمی، اخلاق عاطف،صداقت نقوی،جمیل ناز،شگفتہ غزل ہاشمی،  سیدہ فاطمہ رضوی،اشہزاد  تابش،ندیم شیخ،وکٹوریہ پیٹرک،ارشد شاہین،  ممتاز راشد لاہوری، انیس احمد، اعجاز اللہ ناز،  ریاض ا حمد ریاض ،مظہر جعفری ، حسنین بخاری،طفیل اعظمی، میاں صلاح الدین،گلِ رعنا شیریں، محمدشیرازانجم،افضل پارس،علی صدف، ڈاکٹر دانش عزیز،حمید راز،  ضیاء حسین،زاہدہ جبیں راؤ،سمیرا عابد، اعجاز فیروز اعجاز اور دیگر نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو گرمایا۔ تقریب میں شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی اور الماس شبی کو جشنِ پنج ریڈیو کی مبارکباد پیش کی .

جمعرات, دسمبر 14, 2017

بیاض کے زیرِ اہتمام احمد ندیم قاسمی کی ایک سو ایکویں سالگرہ

(رپورٹ: وسیم عباس)
ماہنامہ بیاض کے زیر اہتمام الحمرا ہال نمبر تین ، مال روڈ
میں احمد ندیم قاسمی مرحوم کی سالگرہ منائی گئی ۔
احمد ندیم قاسمی۔۔۔۔۔ ایک عہد ، ایک سایہ دار شجر، جن کی علمی و ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ، جناب عمران منظور ، جناب نعمان منظور اور ماہنامہ بیاض کی پوری ٹیم مرحوم احمد ندیم قاسمی کی سالگرہ ہر سال دھوم دھام سے مناتی ہے،انہوں نے اپنی محبت و عقیدت سےہمارے عہد کے اس معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگارکی یاد کو کبھی لوگوں کےدلوں سے محو نہیں ہونے دیا۔
   
تقریب کی صدارت قاسمی صاحب کی صاحبزادی محترمہ ناہید قاسمی نے کی ۔ مہمانانِ خصوصی میں جناب امجد اسلام امجد، جناب جلیل عالی ، جناب امیر حسین جعفری اور جناب جمشید چشتی تھے ۔نظامت کے فرائض  اعجاز رضوی  کے ذمہ تھے۔ 
تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعت ِ رسولِ مقبول ؐ کے بعدجناب ایوب خاور نے مکالماتی منظوم خراجِ تحسین پیش کیا ، اُس کے بعد مضامین کا سلسلہ شروع ہوا ۔
اظہارِ خیال کرنے والوں میں نعمان منظور، اسلام عظمی ، امیر حسین جعفری ، جمشید چشتی، جلیل عالی اور امجد اسلام امجد صاحب شامل تھے۔ محترمہ ناہید قاسمی صاحبہ نے اپنے بابا کے بارے میں گفتگو کی اور اُن کی دو نظمیں بھی سنائیں ، تقریب کے بعد احمد ندیم قاسمی مرحوم کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ۔ احباب کے لئے عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ 


ہفتہ, دسمبر 2, 2017

کون جانے وہ آ ہی جائے آج/ کھڑکیوں میں دیئے سجا دیکھو/ انور زاہدی

انور زاہدی
رات میں جب دیا جلا دیکھو
عشق کا باب اک کھلا دیکھو
رات آئی ہے سو گئے سب گھر
ایک کھڑکی کا در کھلا دیکھو
نیم شب شہر میں صدا گونجی
خواب میں شہر کو بسا دیکھو
ہو گیا شہر بھر میں سناٹا 
لعل کس گھر کا کھو گیا دیکھو
آسماں پہ ستارے جلتے ہیں
کوئی شاید بھٹک گیا دیکھو
کون جانے وہ آ ہی جائے آج
کھڑکیوں میں دیئے سجا دیکھو
انور زاہدی

جمعرات, نومبر 30, 2017

انجمن ترقی پسند مصنفین ضلع ساہیوال کے تحت معروف شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز کے ساتھ ایک شام

انجمن ترقی پسند مصنفین ضلع ساہیوال کے تحت معروف شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز کے ساتھ  ساہیوال آرٹس کونسل کے مجید امجد ہال میں شام منائ گئی .

اس تقریب کی صدارت پروفیسر اورنگ زیب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر جلیل بٹ نے انجام دیئے .
اوصاف شیخ اور ریاض ہمدانی مہمانانِ اعزاز تھے .
مقررین میں اللہ یار ثاقب ،مرتضی ساجد ،ریاض ہمدانی ،نعیم نقوی،مشتاق عادل کاٹهیہ اور پروفیسر اورنگ زیب شامل تھے.
تقریب میں پروفیسر اورنگ زیب نے رانا محمود افضل اور سلیم کاٹهیہ سے ان 
کے عہدوں کا حلف بھی لیا۔

جمعرات, نومبر 23, 2017

جگنو انٹرنیشنل کا ماہانہ مشاعرہ،صدارت معروف شاعر نذیر قیصر نے کی

جگنو انٹرنیشنل نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوءئج آرٹ اینڈکلچر لاہور کے اشتراک سے  ماہانہ مشاعرہ کی نشست  بیادِ راؤقاسم علی شہزاد(جگنو)منعقدکی۔تقریب کی صدارت   لیجنڈ شاعر نذیر قیصر نے کی۔
اعجاز اللہ ناز بحیثیت مہمانِ خصوصی جبکہ اعظم ملک(اسلام آباد)اور فاطمہ رضوی مہمانِ اعزاز تھے۔
نظامت کے فرائض معروف شاعرہ، ادیبہ جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔ ریاض احمد ریاض نے تلاوت کی۔
 نوجوان نعت خواں محمد عمران چشتی نے نذرانہِ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
مقصود چغتائی، میڈیا سیکریٹری نے راؤقاسم علی 
شہزاد(جگنو) کے حوالے سے تعارفی کلمات ادا کئے۔
شگفتہ غزل ہاشمی،محمد افضل پارس، احمد فہیم میو، مظہر 
جعفری، وکٹوریہ پیٹرک،ریاض احمد ریاض،شیریں گل رانا، ممتاز راشد لاہوری،ڈاکٹر عمران دانش،علی صدف،  محمد شیراز انجم،  مہ جبیں ملک،رضوان خوشی  اور دیگر نے اپنے 

خوبصورت کلام سے محفل کو گرمایا۔ ایم زیڈ کنول نے نقابت کے دوران اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ نذیر قیصر کی خوبصورت شاعری بھی نذرِ حاضرینِ محفل کی، جسے احباب نے بہت پسند فرمایا۔ تقریب میں ایوب کموکا،عابدہ نذیر قیصر، صفیہ،صابری، حاجی ارشاد قادری، اور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔چیف ایگزیکٹو ا تنظیم ایم زیڈ کنولؔ نے جگنو مشاعرہ کے انعقاد کے سلسلے میں خصوصی تعاون پر ڈائریکٹر جنرل پلاک محترمہ ڈاکٹر صغریٰ صدف اور تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

پیر, اکتوبر 30, 2017

کچھ اور بھی لفظوں کو معانی میں پروتی / کچھ شعر غزل میں اگر الہام کے ہوتے / صبیحہ صبا

قدرت کی طرف سے ہمیں انعام کے ہوتے
کچھ یاد نہیں ہم کو ترے نام کے ہوتے 
کیوں سارے ثمر غیر کا ہوتے ہیں مقدر
یاں اپنی زمیں اپنے دروبام کے ہوتے
جو دل پہ زمانے کا ہر اک درد اٹھا لیں 
آلام سے بیکل رہے آرام کے ہوتے
جو میرے لئے اہل محبت نے سجائی 
کچھ لمحے ترے نام بھی اس شام کے ہوتے

دوری کا تصور کسے ہوتا ہے گوارا
یہ فیصلے ایسے ہیں کہ دل تھام کے ہوتے
کچھ اور بھی لفظوں کو معانی میں پروتی 
کچھ شعر غزل میں اگر الہام کے ہوتے
صبیحہ صباؔ

اتوار, اکتوبر 29, 2017

پاکستان کے خلاف جاری الزامات اور پروپیگنڈے کے جواب میں مضبوط قومی بیانیے کی ضرورت ہے:رضا ربانی کا امجد پرویز ملک کی کتاب فوکس پاکستان کی تقریب رونمائی کے موقع پر پیغام

ملک کا مثبت تاثر اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے:رفیق رجوانہ

(رپورٹ: رمضان ساجد) 
چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ مغربی طاقتوں اور ان کے مشرقی اتحادیوں کی جانب سے دہشت گردی او ر انتہاپسندی کے ذریعے پیدا کی گئی افراتفری کے الزامات اْلٹا پاکستان پر لگانے کا موثر جواب دینے کے لئے مربوط قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ سیاسی، پارلیمانی اور سفارتی شعبوں میں حالیہ ادب اور تحریریں اس قومی بیانیے کو منظم بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک کی کتاب’’فوکس پاکستان’‘ کی تقریب رونمائی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔فوکس پاکستان کی تقریب رونمائی اقبال ہال، قائداعظم لائبریری باغ جناح لاہور میں منعقد ہوئی جس میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ مہمان خصوصی تھے۔اس تقریب کا اہتمام ڈائریکٹر جنرل لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے کیا تھا۔ چیئرمین سینٹ نے کتاب کے مصنف امجد پرویز ملک کو اس کتاب کے ذریعے پاکستان کے حوالے سے کئے جانے والے منفی پروپیگنڈے ، غلط فہمیوں اور منفی تاثر کو بھرپور انداز میں زائل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ لکھاری نے اپنی تحریر کے ذریعے پاکستان کے مضبوط قومی بیانیے کے خدوخال بیان کئے ہیں اور پاکستان کے معاشی طورپر ترقی یافتہ، جمہوری طور پر مضبوط ،امن دوست اور ذمہ دار جمہوری ملک کے طور پر پہلوؤں کو کامیابی سے اجاگر کیا ہے جوکہ اسے خطے کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتے ہیں۔
اِس موقع پر مہمان خصوصی گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا کہ ملک کا مثبت تاثر کرنے کی ضرورت ہے ، ملک کو اِس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے جس میں آبادی میں بے پناہ اضافہ اور پانی کی کمی جیسے سنجیدہ مسائل شامل ہیں تاہم مثبت بات یہ ہے کہ آبادی میں نوجوانوں کی زیادہ تعداد مناسب مواقع ملنے پر ملک کی ترقی کا زینہ بن سکتی ہے ۔ جغرافیائی مرکزیت کی وجہ سے علاقائی امن کے لئے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ پاکستان اپنی مقبول قدروں کی وجہ سے ترقی پسند ملک ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت معاشی خوشحالی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ اہم منصوبوں کے ذریعے نا صرف ہم اپنی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کررہے ہیں بلکہ مختلف شعبوں میں ہونے والی خوشحالی کے ثمرا ت سے خطے کے ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن کے فروغ کے لئے پرعزم ہیں اور اس مقصد کیلئے ہم نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اس کے باوجود بعض طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں امجد پرویز ملک کی کتاب فوکس پاکستان اس تاثر کو زائل کرنے کی ایک موثر اور مربوط کوشش ہے۔ اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے کے مقابلے کیلئے ایک موثر قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی ، معاشی استحکام ، آزاد میڈیا اور ترقی پسند معاشرت نے پاکستان کو ایک مضبوط جمہوری ملک بنا دیا ہے۔ 
کتاب فوکس پاکستان کے مصنف سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک نے اکہا کہ یہ کتاب پاکستان کو در پیش چیلنجوں او ر مستقبل کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کی شاندار کامیابیوں کا احوال ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہادی کلچرکے فروغ سے پہلے پاکستان ایک ترقی پسند ملک تھا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں میں بھرپور ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور آمروں کی جانب سے پاکستانی میں جہادی کلچر کے فروغ سے پاکستانی ثقافت، سیاست اور معاشی شعبوں میں انحطاط وقوع پذیر ہوا، انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں بھرپور طور پر بتایاگیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ تاثر حقائق پر مبنی نہیں ہے اور منفی تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70برسوں کے دوران پاکستان نے زندگی کی مختلف شعبوں میں بھرپور ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہر اس پاکستانی کی آواز ہے جوپاکستان کو ترقی پسند مضبوط اور ثقافتی طور پر مربوط دیکھنا چاہتا ہے۔ملک میں صوفی کلچر جیسے خزانے سے استفادہ نہیں کیا گیاحالانکہ مثبت تاثر اُجاگر کرنے میں یہ ایک بہت اہم پہلو ہو سکتا تھا ۔اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم اپنے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کریں اور دُنیا کو بتائیں کے ہم اُس طرح انتہا پسند نہیں جس طرح کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان آنے والے غیر ملکی نہ صرف پاکستان کی مہمان نوازی سے بلکہ ملک کے کئی ایک شعبوں میں مثبت پہلوؤں سے اپنا تاثر تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔
تقریب سے معروف صحافی سہیل وڑائچ، سیاسی رہنما منیر احمد خان اور ڈائریکٹر جنرل لائبریریز پنجاب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے بھی خطاب کیا۔

جمعہ, اکتوبر 13, 2017

جگنو انٹرنیشنل کی تقریبِ محفلِ مسالمہ ۔صدارت،قائم نقوی،مہمانِ خصوصی۔شفیق سلیمی، مہمانانِ اعزاز۔جمیل ناز،مظہر جعفری

 (جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام نواسہِ رسولﷺ  امام عالی مقام ؑ شہیدِ کربلا سے محبت و عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے محفلِ مسالمہ انعقاد پذیر ہوئی۔ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست میں جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی ڈاکٹر فہیم کاظمی(پی ایچ ڈی، اقبالیات۔ اُچ شریف، ضلع بہاولپور) کی شہرہ آفاق کتاب''سلطان الہند'' کے تیسرے ایڈیشن کی تقریبِ تقسیم و تعارف کا اہتمام کیا گیا۔
جبکہ دوسری نشست میں محفل مسالمہ کا انتہائی عقیدت و احترام سے انعقاد کیا گیا۔دونوں نشستوں کی صدارت قائم نقوی نے کی۔ 
مہمانِ خصوصی شفیق سلیمی جبکہ مہمانِ اعزاز جمیل ناز(منڈی بہاؤالدین)اورمظہر جعفری تھے۔ نقابت چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، ایم زیڈ کنول نے اپنے خوبصورت،منفرد اندازمیں کی۔ 
تقریب کا آغاز حسبِ روایت تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعاد ت بابر ہاشمی کو حا صل ہوئی۔ بعد ازاں صائمہ اشرف نے انتہائی خوبصورت انداز میں نعت ِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔مقصود چغتائی نے  تعارفی کلمات ادا کئے۔اختر ہاشمی،اخلاق عاطف (سرگودھا)،فضل گیلانی، شگفتہ غزل ہاشمی، بابر ہاشمی،افضل پارس، ڈاکٹر دانش عزیز،علی صدف، خالد نصر، ڈاکٹر ایم ابرار،حسنین محسن، سمیرا عابد اور دیگر نے امام مظلوم سے محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے خوبصورت نذرانہئ عقیدت پیش کیا۔ مہمانانِ گرامی نے جگنو انٹر نیشنل کی فروغ، ادب کے ضمن میں کاوشوں کو سراہا۔ اس ضمن میں ایم زیڈ کنول (چیف ایگزیکٹو، جگنو انٹرنیشنل) کی بے لوث خدمات کا خاص طور پر ذکر کیا۔ تقریب میں تسنیم کوثر،کنول شہزادی، میثم عباس، اسلم جاوید ہاشمی اور ایم الطاف شا کے علاوہ شاعروں، ادیبوں، ،طلبہ، اور ممتاز ادبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ایم زیڈ کنول نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں پُر تکلف تواضع کا اہتمام بھی کیا گیا۔ یوں یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

اتوار, اکتوبر 8, 2017

ساہیوال میں ادارہ تکوین کے زیرِ اہتمام پہلا ادبی ،علمی اور تہذیبی مکالمہ (شامِ افسانہ)


ساہیوال میں ادارہ تکوین ( ڈاکٹر افتخار شفیع کی رہائش گاہ )کے زیرِ اہتمام  پہلا  ادبی ،علمی اور تہذیبی مکالمہ (شامِ افسانہ)  پروفیسر اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ایزد عزیز (مہمان اعزاز) فائق احمد (مہمان اعزاز) تھے
پروفیسر ڈاکٹر رانی آکاش .پروفیسر عبدالقدیر مرزا. مقصود الحسن جعفری. پروفیسر رشید الظفر. عبدالخالق آرزو. کاشف حنیف  اور ندیم صادق
نے مکالمے میں حصہ لیا۔

ہفتہ, اکتوبر 7, 2017

کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر / کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا / سعود عثمانی

سعود عثمانی
یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا
جو نہیں ملے گا وہ جابجا نظر آئے گا
کبھی جھانک تو کسی برگِ زرد کی آنکھ میں 
کوئی آشنا تجھے دیکھتا نظر آئے گا
کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر
کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا
کہیں کائنات کے باغ میں گل ِ نیلگوں
کہیں سرخ پھول گلاب سا نظر آئے گا
نظر آئے گی تجھے سات رنگ کی روشنی
کوئی راستا تجھے دودھیا نظر آئے گا
ٰہے تری تلاش میں ' تو ہے جس کی تلاش میں 
مگر اس غبارِ سفر میں کیا نظر آئے گا

بدھ, ستمبر 27, 2017

دنیا بھر کے اردو پروگراموں، تقریبات، مشاعروں،مذاکروں اور سیمیناروں میں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی شرکت و شمولیت لازمی عنصر کا درجہ رکھتی ہے: ۔ ڈاکٹریحییٰ صبا


 ٭ آج دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں اردو ہو اور وہاں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کا نام نہ پہنچا ہو۔
دنیا بھر کے اردو پروگراموں، تقریبات، مشاعروں،مذاکروں اور سیمیناروں میں برقی کی شرکت و شمولیت لازمی عنصر کا درجہ رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ خود ڈاکٹر برقی کی درجنوں اردو 

سائٹس،فیس، وہاٹس ایپ،ٹوئٹر اور دیگر سوشل سائٹس پرہر دن اپلوڈ ہونے والی پوسٹ اور میسج ان کی اردو دوستی اور دنیا ئے اردو میں اہمیت و مقام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔مذکورہ خیالا ت کا اظہار ڈاکٹریحییٰ صبانے کے ایم سی کے شعبہئ اردو کی جانب سے منعقدہ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کو دی گئی استقبالیہ تقریب سے کیا۔ نھوں نے مزید گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ابھی حالیہ دنوں ڈاکٹر برقی اعظمی کا شعری مجموعہ”روح سخن“منظر عام پر آیا ہے جس نے پوری دنیا سے قبول عام اور پذیرائی حاصل کی ہے۔دوران تعارفی خطاب انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر برقی کی ذات او رشخصیت ایک انجمن اور ایک عہد کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کا وجود اردو شعرو ادب کے لیے نیک فال ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر برقی جہاں ایک معروف ادیب و شاعر ہیں وہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے آل انڈیا ریڈیو،نئی دہلی کے شعبہ ِ فارسی سے وابستہ ہیں جہاں آپ سینئر براڈ کاسٹر و ایڈیٹر،اینکرجیسے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ 
اس موقع پر کے ایم سی شعبہ اردو سے وابستہ ڈاکٹر امتیاز وحید نے بھی ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی پر اپنے تاثرات مقالے کی صورت میں پیش کرتے ہوئے،ان کی شاعری،فکرو فن بالخصوص ان کی موضوعاتی غزل گوئی پرخصوصی گفتگو کی جس سے ان کی شاعری، فکر، فن، ملاحظات اور تجربات کا مکمل احاطہ کیا۔اس کے بعد برقی اعظمی نے غزل،فکرغزل،ماحول غزل،غزل نمائی،غزل راگ سے متعلق اپنا ہی کلام سنا کر گفتگو کی۔ جسے سامعین و حاضرین نے بے حد پسندکیا۔برقی اعظمی کی دلکش و فکر انگیز شاعری اور غزلوں پر سب نے دل کھول کر داد دی اور ان کے فکرو فن کو سراہا۔

اس موقع پر شعبے کے طلبا و طالبا ت کی ایک کثیرتعداد کے علاوہ شعبہ کے سینئر استاذڈاکٹر خالد اشرف، ڈاکٹر راکیش پانڈے، ڈاکٹر محمد محسن،ڈاکٹر امتیاز وحید،عمران عاکف خان،عبد الحفیظ خان خصوصی طور پر موجود تھے۔

ممتاز شاعر ظفر اقبال کی آج (27ستمبر)85 ویں سالگرہ ہے


ا ردو کے  صاحب ِ طرز ادیب اورممتاز شاعر ظفر اقبال کی آج (27ستمبر)سالگرہ ہے 
ظفر اقبال کا پہلا مجموعہ کلام ’’ آب رواں ‘‘ 1962 میں شائع ہوا تھا ۔
اس کے بعد ان کے دیگر مجموعے گلافتاب، رطب و یابس، عہد زیاں،غبار آلود سمتوں کا سراغ، سر عام ، عیب و ہنر، ہے ہنومان، اطراف اور تفاوت کے نام سے شائع ہوئے۔ 
ان کی شاعری کی کلیات ’’اب تک‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، جس کی ہر جلد میں پانچ پانچ سو غزلیں شامل ہیں۔ ان کے کالموں کا مجموعہ ’’دال دلیہ‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔

جمعرات, ستمبر 21, 2017

میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں /تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے/حامد یزدانی

حامد یزدانی
روشنی تیری تھی جس نے رنگ سے چھانا مجھے
ورنہ کب قوسِ قزح کے بس میں تھا پانا مجھے
میں تلاوت کر رہا ہوں رحلِ نسیاں پر تمہیں
تُم بھی تسبیحِ فراموشی پہ دہرانا مجھے
عہدِ رفتہ کے شکستہ عکس کی تکرار ہوں
تُم سمجھ بیٹھے ہو کوئی آئنہ خانہ مجھے
کھولتا ہوں شب کی جب کھڑکی تو نیلے صحن میں
چاند اک رکھا ہوا ملتا ہے ، روزانہ مجھے
تیری کڑواہٹ ہوں حامدؔ اور تِرے لہجے میں ہوں
اے مِرے شیریں سخن! تو ہی نہ پہچانا مجھے

بدھ, ستمبر 20, 2017

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول ''ADRET'' کی تقریبِ اجراء

جگنو انٹر نیشنل اور لاہور چیمبر آف کامرس کے ادارے ''ADRET''لیبارڈ کے زیرِ اہتمام صائمہ اشرف کے انگریزی ناول  
کی تقریبِ اجراء کاانعقادکیا گیا۔
تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ 
پہلی نشست میں کتاب کا اجراء کیا گیا جس کی صدارت سوشل اایکٹیوسٹ  بشری ٰ اعتزاز احسن نے کی۔ 
مہمانِ خصوصی صاحبِ کتاب صائمہ اشرف  اورمہمانِ اعزازایم این اے (مسلم لیگ ن)شائستہ پرویز ملک تھیں۔
وسری نشست کی صدارت ڈائریکٹر" اخوت '' ڈاکٹر اظہار الحق ہاشمی نے کی۔مہمانِ اعزاز  اشرف جاوید تھے۔ مہمانوں کا بھر پور استقبال کیا گیا اور انہں پھول پیش کئے گئے۔ 
دونوں نشستوں کی نقابت ممتاز شاعرہ،ادیبہ،ماہرِ تعلیم،دانشور، چیف ایگزیکٹو جگنو انٹر نیشنل، ایم زیڈ کنول اور ممتاز ماہرِ 
تعلیم اور سماجی کارکن عابدہ خاورنے اپنے خوبصورت،منفرد اندازمیں کی۔ 

اتوار, ستمبر 10, 2017

سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی /مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے/انور زاہدی

محبت ہے تو یہ جور و ستم کا سلسلہ بھی ہے
جو ہم تم ہیں تو باقی زندگی کا مرحلہ بھی ہے
یہ کیا اسرار ہے کیسی کشش بے حال کرتی ہے
نہ میں سمجھا نہ تم سمجھیں عجب اک رابطہ بھی ہے
سفر صحرا کا اس میں ہیں سرابوں کے مراحل بھی
مگر منزل مری رستے کا جیسے راہ نما بھی ہے
دریچوں سے صدائیں کس لئے مجھ کو بلاتی ہیں
شھر میرا ہے لیکن اک طرح سے بے وفا بھی ہے
رہا انور ہمیشہ میں رتوں کے دام میں گویا
مگر چہروں نے جیسے اپنے جادو میں کیا بھی ہے

منگل, اگست 22, 2017

عُدو بھی دے خدایا , آن والا / بھلا کم ظرف سے کیا جوڑ کوئی / احمد رضا راجا

جدا کیسے کرے گا موڑ کوئی
محبت کا کہاں ہے توڑ کوئی
دمک اُٹھے ہمارا شیشۂ دل 
تُو اِس مِیں عکس ایسا چھوڑ کوئی
میسر کیوں نہیں ہے چیَن ، جانے 
لگی ہے کیوں نجانے دوڑ کوئی ؟
عُدو بھی دے خدایا , آن والا  
بھلا کم ظرف سے کیا جوڑ کوئی 
محبت میں سیاستدان مت بن 
تُو وعدہ وصل کا مت توڑ کوئی
ہوں بیٹھے رفتگاں ، دالان میں سب
وہ لمحہ ، وقت کا ، پِھر موڑ ، کوئی
بہت۔ مضبوط ہو جائے گا ، خود بھی
تُو ٹُوٹا دل کسی کا جوڑ کوئی
ترا دامن بھی بھر جائے گا راجا 
خدا کے ہاں نہیں ہے تھوڑ کوئی

بدھ, جولائی 26, 2017

جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا / آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے / انور زاہدی

انور زاہدی
دل نے ہمارے خواب جو بوئے تھے کیا ہوئے 
شب روز اس فراق میں کھوئے تھے کیا ہوئے
وہ سحر خیز باد صبا کیسے گم ہوئی
لمحے گلے لگا کے جو روئے تھے کیا ہوئے
سنولائی ہوئی شاموں میں روشن ترے چراغ
ویران دریچوں میں سموئے تھے کیا ہوئے
قصے کہانیاں جو سناتے رہے تھے ہم
سب ہجر کی راتوں میں ڈبوئے تھے کیا ہوئے
جاتے ہوئے انور جو پلٹ کے نہیں دیکھا 
آنکھوں میں لال ڈورے بھگوئے تھے کیا ہوئے

اتوار, مئی 21, 2017

آج حسرت پر سکوں ہے زندگی / عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے/ حسرت بلال

حسرت بلال
قیدِ الفت سے رہا ہوتے ہوئے
وہ بھی کب خوش تھا جدا ہوتے ہوئے
میں نے دیکھے ہیں بہت سنسان شہر
راستوں سے آشنا ہوتے ہوئے
خود کشی کا ذائقہ چکھا گیا
مفلسی سے آشنا ہوتے ہوئے
کچھ نہیں دیکھا گیا حسب و نسب
خوبروں پر فدا ہوتے ہوئے
پھرمسافر کو بھٹکنے سے بچا
راستے کا اک دیا ہوتے ہوئے
آج حسرت پر سکوں ہے زندگی
عشق سے عہدہ برا ہوتے ہوئے

جمعہ, مئی 19, 2017

میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں / ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری / قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
غرور آیا نہ کام آئی خاکساری مری
ہر ایک شخص نے گردن یہاں اتاری مری
میں وقت آنے پہ تلوار کھینچ سکتا ہوں
ابھی تو شہر نے دیکھی ہے وضع داری مری
دھرا ہوا ہے مرے سر پہ اک شکستہ خواب
خدا کا شکر کہ گٹھڑی نہیں ہے بھاری مری
کوئی تو روشنی مجھ کو اڑائے پھرتی ہے
یہ ماہتاب نہیں ہے اگر سواری مری
میں آپ اپنے گناہوں کی ہوں سزا شہزاد
مرے وجود پہ ہوتی ہے۔ سنگ باری مری

جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی

  
جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالغفار عزم کی پہلی برسی الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت معروف ترقی پسند شاعر،ادیب اور دانشور ڈاکٹر خالد جاوید جان نے کی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی  اور ممتاز راشد لاہوری تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف نوجوان شاعرمیجر احمد نواز  اور شاعرہ، ادیبہ وکالم نگار محترمہ عالیہ بخاری تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔

سید علی  گوہرنے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔ 
یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ پہلی نشست میں مقررین نے ڈاکٹر عبدالغفار عزم کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی۔ دوسری نشست میں  ان کی یاد میں محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر ان کی شہرہ آفاق کتا ب ''نقش اول'' کا بھر پور تعاف کرایا گیا اور صاحبِ صدر اور مہمانِ اعزاز کو یہ مایہ ناز ادب کا شہکار تصنیف پیش کی گئی۔ایم زیڈ کنولؔ نے ڈاکٹرصاحب کی کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ''   آج کے طوائف الملوکی کے دور میں ڈاکٹر عبدالغفار عزم نہ صرف خود چمنِ ادب کو اپنے لہو سے سینچتے رہے بلکہ   اس کی بہار کو سدا بہار کرنے کے لئے دیارِ مغرب میں مشرقی روایتوں کے فروغ کے لئے ساری دنیا سے گوہرِ نایاب چُن چُن کر ایک ایسی منفرد بستی بسا ڈالی۔ جس کی آباد کاری جغرافیائی سرحدوں سے بے نیاز ہے۔ساکنانِ شعر وسخن دنیا کے جس گوشے میں بھی آباد ہیں اس بستی کی شہریت ان کیلئے اعزاز ہے۔ جس کا نہ کوئی رنگ ہے، نہ نسل، نہ مذہبی قد غن،اور نہ جغرافیائی حدود۔ جہاں گاگر اور ساگر میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کی بنیاد رکھنے سے لے کر آخر ی سانسوں تک سخنورانِ ادب کے لئے آپ ایک شجرِ سایہ دار بن کر سایہ بھی دیتے رہے اور ٹھنڈک بھی۔خوشبو بھی اور طراوت بھی اور ایک قطب ستارے کی طرح میرِ کارواں بن کر سر گرمِ عمل رہے۔'' 
 اختر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، فراست علی بخاری، ندا سرگودھوی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب روایتوں کے امین تھے۔9۔اپریل2016 کو جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام دوسری تقریبِ ایوارڈ کی صدارت فرمانے کے لئے وہ بیماری کے باوجود  لند ن سے لاہور تشریف لائے۔ یہاں سے بخیریت   واپس لندن پہنچنے کے بعد یکم مئی 2016 کو ہمتوں اور استقامت کا یہ ستارا، ''استعارا  '' بن گیا۔ جگنو انٹرنیشنل نے اس وقت بھی ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یہ یادیں ہمیشہ جاوداں رہیں گی۔ آج کی تقریب اس بات کا ثبوت ہے۔تقریب میں مظہر جعفری،بابر ہاشمی، شگفتہ غزل ہاشمی، ظلِ ہما نقوی،شبانہ زیدی(اوکاڑہ)،محمد اکرم فریدی،پروفیسر نذر بھنڈر،ریاض احمد ریاض،فراست بخاری، رضون خوشی، اظہر اقبال مغل، اعجاز اللہ نازاور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔احباب نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر جگنو انٹرنیشنل کی تمام ٹیم کی کارکردگی کو سراہا  اور ایم زیڈ کنول، چیف ایگزیکٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ڈاکٹر عزم کی یادو ں کے چراغ روشن کر کے ڈاکٹر صاحب کی فروغ ِ اردو کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو امر  بنانے کا اہتمام کیا۔تقریب کے اختتام پر ملک کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں گئیں۔

جمعرات, مئی 4, 2017

دُرّ ِ مکنون کی جگنو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام تقریبِ اجرا


الحمرا ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی کی تالیف شدہ کتاب " دُرّ ِ مکنون "المعروف الہامی الفاظ توانائی کے یونٹس کی تقریبِ اجراء الحمراء ادبی بیٹھک، دی مال، لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت  پیر مخدوم سید نفیس الحسن بخاری، سجادہ نشین،چیئرمین،صوفی ازم کونسل پاکستان و اُچ شریف ٹرسٹ  نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی موریشس میں مقیم اردو و پنجابی کے نامور شاعر اختر ہاشمی تھے جبکہ مہمانِ اعزازمعروف شاعرہ،ادیبہ،کالم نگار محترمہ فاطمہ رضوی تھیں۔ نظامت کے فرائض  معروف شاعرہ، ادیبہ، ایڈیٹر احساس جرمنی،جگنو انٹر نیشنل کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ نے ادا کئے۔قاری،حافظ ڈاکٹرسیدنور المصطفیٰ نے تلاوت کی۔ پروفیسر نذر بھنڈرنے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔عالیہ بخاری ہالہ، پروفیسر نذر بھنڈر،ممتاز راشد لاہوری،میجر خالد نصر،، ڈاکٹر ایم ابرار،محمد زہیب صدیقی،میاں صلاح الدین اور دیگرنے بہت خوبصورت مقالے پیش کئے۔ایم زیڈ کنول نے کتاب اور صاحبِ کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ"    شاعری ہو یا نثرحب اہلِ بیت اُن کی گھٹی میں پڑی ہے۔ روحانیت، اور فہمِ دین اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔جس نے انہیں بحرِ مسیحائی کا شناور بنا دیا۔ علم و حکمت کے خزینے چُنتے چُنتے ایسے باغِ اِرم میں جا پہنچے جہاں تصوف ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔اپنے اب و جد کی محبت اس طرح اُن کی روح میں حلول کر گئی کہ اُن کے لفظوں کے ساگرایسے گوہر اُگلنے لگے کہ تصوف کے بام و در مسکرا اُٹھے۔بس پھر کیا تھا تخلیق کے چشمے گُل وبلبل کی کہی و اَن کہی داستانوں سے سیراب ہونے کی بجائے تصوف کی آبشاروں سے روح کوسیراب کرنے لگے اور      اکو الف ان کی ہستی کا مدعا بن گیا۔پھر سلطان الہند،روضہ الاقطاب جیسے گنجہائے گراں مایہ تصنیف و تالیف کئے۔ سید زادے نے اس نوجوانی کی عمر میں ہی شریعت اور طریقت  کے جواہر اپنی جھولی میں بھر لئے ہیں جن سے وہ خلائقِ عامہ کو مستفیذکر رہے ہیں۔اسی آرزو کی تکمیل دُرّ ِ مکنون کی تالیف ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ سعادتوں اور دعاؤں کا یہ گنجینہٗ علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمامشائع ہوئی ہے۔یہ کتاب دُرّ ِ مکنون  ہی نہیں در نایاب بھی ہے اور آج کے زمانے کی ضرورت بھی" معزز مہمانوں اور مقررین نے جگنو انٹرنیشنل کو اس شاندار با برکت روحانی تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور ڈاکٹر فہیم کاظمی کی اس تالیف کو روحانیت کے باب میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیااور کہا کہ حقیقی و حسبی و نسبی وارث درگاہ معلی خواجہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز اجمیری رحمتہ اللہ علیہصاحبزادہ سید فہیم رضا کاظمی الچشتی عفی،صاحبِ تصوف شاعر و ادیب ڈاکٹر فہیم رضا چشتی الکاظمی نے کلام پاک، مشاہیر مشائخ عظا م اور خواجگانِ چشت کے عملیات و وظائف میں سے سدا بہار پھول اولیائے چشت سے محبت کرنے والوں کی نذر کر کے اپنے اسلاف کی محبت کا

 حق ادا کیا ہے۔تقریب میں مسعود اختر،مظہر جعفری،ڈاکٹرکنول فیروز، محمد طفیل اعظمی،عقیل اختر،ایم شاہد رانا،رانا سعید احمد،فراست بخاری، نجمہ شاہین،عزیز شیخ اور دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں  کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔

منگل, مئی 2, 2017

رات کی بے کراں اُداسی میں / ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے / انور زاہدی

طاق میں اک چراغ جلتا ہے
درد تنہائی میں ہی پلتا ہے 
رات کی بے کراں اُداسی میں 
ایک آہٹ پہ دل دھڑکتا ہے
کاش یہ علم تمہیں ہوسکتا
دُکھ کا دریا ہی کیوں بکھرتا ہے
کیسے برسات کے مہینوں میں
دل پہ ساون یونہی گرجتا ہے
چاند برکھا کی بھیگی راتوں میں
چھپ کے بادل میں پھر اُجلتا ہے
رات کٹتی نہیں ہے کیوں انور
غم کا دن کس طرح نکلتا ہے
انور زاہدی

جمعرات, اپریل 13, 2017

پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب / نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
نیامِ حرف میں شمشیر سے معانی رکھ
کمانِ شوق میں اک تیر سی کہانی رکھ
نکل بھی خواب گزیدہ حصارِ نوم سے آنکھ
نمودِ حسن کی یوں تو نہ پاسبانی رکھ
پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب 
نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ
کسی خیال میں لا اُس کی بے خیالی کو
کبھی دھیان میں اُس کی بھی بے دھیانی رکھ
نزولِ عشق ، مصیبت ہی ناگہانی ہے
یہ ناگہانی ، ہمیشہ ہی ناگہانی رکھ
یہ زادِ راہِ محبت ہے، عشرتِ غم ہے
میاں سنبھال کے یہ دردِ جاودانی رکھ
اداس آنکھ کی جو دلکشی بڑھانی ہے
تو اس میں یاد کا صہبا نشاط پانی رکھ
رگوں میں خون کی گردش فشار خیز نہ ہو
توُ چشم زار میں اشکوں کی بھی روانی رکھ
جواں ترنگ ہے اصغر ترا بڑھاپا بھی
سرُور خیزیٔ الفت کی شادمانی رکھ

پیر, مارچ 20, 2017

لو ح ،، کی تقریب پذیرائی ۔۔ صدارت: ایس ایم ظفر ، مہمانِ خصوصی : محترمہ صدیقہ بیگم

رپورٹ:رابعہ الرَ بّا ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،
مو سم بہا ر شروع ہو چکا تھا ۔ مگر سر دی کی کچھ لہر یں ملیریا میں لگنے والی سردی کی طر ح شہر میں دور رہی تھیں۔ کچھ جسم میں سنسنا ہٹ بن کر دوڑ جاتی تو کچھ ہمیں یا د دلاتی کہ نہیں یہ تو کو ئی خیالی سنسناہٹ ہو گی جو مو سم کا مزہ نہیں لینے دے رہیں۔ موسم بھی کیا ظالم شے ہے حساس انسانو ں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا
ہے
 ۔ 
یہ اتو ار کا دن تھا صبح سے ہی دھوپ اور سرد ہو ئیں آنکھ مچو لی کھیل رہی تھیں۔ دونو ں نے ہا ر نہیں ما نی اور ان کی من ما نی میں زندگی نے بھی مسکرانے سے انکا ر نہیں کیا ۔ اور شہر ہو شہر لا ہور، زندہ دلان کا شہر ، باغو ں کا شہر ، پھولوں اور خوشبو کا شہر،گورنمنٹ کالج کاشہر تو کس کی مجال ہے کہ کو ئی کرتا انکا ر ۔ الحمرا میں جشن بہا راں تھا ، ایوان اقبا ل میں حلقہ اربا ب ذوق کا اجلا س تھا، تو ایک اجلاس پا ک ٹی ہا ئوس میں منعقد تھا،کہیں جشن بہا

را ں کا مشاعرہ تھا ، کہیں فیض امن میلہ،یو ایم ٹی کی ادبی بیٹھک تو کاسمو پو لیٹن کلب میںکو ئی تقریب پذیرائی، انہی ادبی میلو ں میں ایک میلا سن فورٹ ہو ٹل لاہو ر کی دوسری منزل پر بھی سجا ہواتھا ۔ جہا ں ادبی بہا ر کے ساتھ اولڈ راوینز کی بہا ر دکھا ئی دے رہی تھی۔ کیو نکہ اس بہا ر کا انعقا د اولڈ راوینئز ایسوسی ایشن لا ہو ر کی جا نب سے کیا گیا تھا ۔ سو یہا ں را وی کیو ں نا بہتا ۔ جتنے راوینز بیٹھے ہو ئے تھے وہ آج بھی راوین ہی لگتے تھے ، عمر ان پہ اپنے اثرات چھو ڑنے میں نا کا م نظر آتی تھی ۔ بس ذرا سب کے جسما نی زاویے بد ل گئے تھے۔ مجھے محسو س ہوتا ہے کہ راوین ہونا ایک کیفیت کا نا م ہے جو طا ری ہو جا ئے تو طاری اور جا ری ر ہتی ہے۔

سن فورٹ کی بھی اگرتاریخ اٹھا ئی جاتی تو اس میں بھی کو ئی باب ایسا نہیں ہو گا جس میں درج ہو کہ اس کی زمین پہ کتنے راوینئز اکھٹے ہو ئے ہوںگے۔وہ آج خو د اس کیف میں جھو م گیا ہو گا ۔ خود پہ نا زاں ہو گا اور نا ز کا سہر ا جا تا ہے ممتا زشیخ کے سر ، ’’ اک سہر ے پہ کئی سہر ے سجا لیتے ہیں لو گ،، مگر یہ ہمت بھی کو ئی کو ئی کر تا ہے ، اور یہ نصیب بھی کسی کسی کو ملتاہے، ممتا ز شیخ نے پہلے اپنا سہرا تو سجا یا ہی ہو گا ، مگر اس کے بعد ’’لو ح ،، کو نکالنے کا ، پھر اس کی کامیا ب اشاعت کا ، کامیاب پریزنٹیش کا ، اور کامیاب سر کو لیشن کا، اور پھر ہر سال ایک بھر پو ر تقر یب کا ، اور یہ اس سلسلے کی چوتھی تقر یب تھی ۔ اور چوتھا انداز تھا ۔ 
ہال بھرا ہو تھا ۔ اور بقو ل ماہر قانون اور قابلِ احترام پاکستانی جناب ایس ایم ظفر جو اس تقریب کی صدارت بھی فرما رہے تھے کہ اس ہال میں سب کے سب اسیرانِ ادب ہی تشریف فرما ہیں اور اسیرانِ ادب کا لفظ سہ ماہی"لوح" کے 
ٹائٹل کی پیشانی پر بھی کندہ ہے، 

میزبانی کے فرائض کا آغاز اولڈ راوئینزایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکرٹری شہباز شیخ نے کیا اور اس تقریب کے حوالے سے مختصر گفتگو کے بعد تقریب چلانے کی ذمے داری معروف شاعر اور دانشور ڈاکٹر ابرار احمد کو سونپ دی۔ "ادبِ لطیف" کی سدا بہارایڈیٹر محترمہ صدیقہ بیگم تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں ۔محترمہ صدیقہ بیگم کے دائیں طرف جناب ممتاز شیخ براجمان تھے جن کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا کہ تقریب میں لاہور کے تمام نمائندہ شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور نقاد تشریف فرما تھے۔ غالباََ یہ اس روز کی سب سے کامیاب اور بھرپور تقریب تھی۔ راوئینز اور"لوح" کے پروانوں کا ہجوم سا اُمڈ آیا تھا جس میں امجد اسلام امد، ڈاکٹر اختر شما ر، ڈاکٹر سعادت سعید ، ڈاکٹر ضیا الحسن ، ڈاکٹر نجیب اجمل، ظفر سپل ، سعود عثما نی،حسین مجر وح ، ڈاکٹر نیازی ، انجم قریشی ، امجد طفیل ، اقتداد جاوید ، ڈاکٹر ابرار احمد ، سجا د بلو چ ، عبرین صلاح الدین ، مظہر سلیم مجوکہ ،وقاص عزیز ، ر خشند ہ نو ید ، قمر رضا شہرا د ، ڈاکٹر خالد ہ انو ر ، اورنگ زیب نیازی ، یو نس خان ، سلمی اعوان، نیلم احمد بشیر ، حمید ہ شاہین ، انجم قریشی، وحید رضا بھٹی ، سرفراز احمد، نا ز بٹ ، آسنا تھ کنو ل ،باقی احمد پوری، ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر جو ا ز جعفری، محمد ندیم بھابھہ، امجد طفیل ، شائستہ نزہت، وسیم عباس ،ہا یٓکورٹ کے ریٹایرڈ ججز، بیوروکریٹس ،وکلاہ، اور میرے سمیت بہت سے لو گ شامل تھے۔ جن کے نا م شامل نہیں کر سکی ، وہ میر ی کم علمی ہے۔ اس موقعہ پر ممتاز شیخ صاحب کے بچپن یعنی گورنمنٹ کالج کے دوست بھی کثیر تعداد میں موجود تھے جن کا تعلق آج زندگی کے مختلف شعبوں میں امتیازی حیثیت رکھنے سے ھے جن میں عسکری اداروں کے اعلی عہدے دار ،پولیس کے زمے دارعہدوں پر متمکن حضرات ، ڈاکٹرز ، سول سروس ، بینکار ،بزنیس مین شامل تھے-
آدبا ،افسانہ نگاروں اور شعراہ کی اکثریت نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا اور وہ بھی مفید - یہ دن تھا راز فاش ہو نے کا ، ایک کے بعد ایک بھید کھل رہا تھا ، کچھ سے تو میں بھی پر دہ نہیں اٹھا نے والی کہ ہر راز کے فاش ہو نے کا بھی وقت ہو تا ہے ۔ اسے اس کی عمر دینی چاہئے ۔ انجم اعظم قریشی نے بتایا کہ ’’ لو ح ،، کا نا م انہو ں نے تجو یز کیا تھا اور وہ آج تک اس پر اتراتی ہیں اور اس کی مٹھاس محسوس کرتی ھیں جس کی تائید ممتازشیخ صاحب نے بھی کی ، اک راز ممتا ز شیخ کی ز با ن سے بھی سماعتوں تک گزرا، آہ کیا یاد آگیا
’’ وقت کر تا ہے پر ور ش بر سوں،،
یہ نہیں معلو م ممتاز صا حب نے کس عشر ے کی با ت کی ، مگر جگہ تھی گورنمنٹ کا لج لا ہو ر اور ’’راوی،، کی ادارت کے"ہما "کا موقع تھا مگر ممتاز شیخ صاحب بوجوہ راوی کے ’’ ایڈیٹر،، منتخب نہ کیے جا سکے، بس یہ درد خواب بن کر نجانے کب سے تعبیر کی تلا ش میں کتنی وحشتوں کا سفر تنہا کر تا رہا اور آخر اس خواب نے’’ لو ح ،، کی صورت تعبیر پا لی۔ مجھے عطا الحق قاسمی کی ایک با ت یا د آ گئی ’’ آئیڈیل ملتا ضر ور ہے مگر بس وقت پہ نہیں ملتا،،تب ممتا ز صاحب نے دل میں ٹھا نی تھی کہ وہ ’’راوی،،کو آئیڈیل بناتے ہوئے "راوی " جیسا ہی مقتدرپر چہ نکا لیں گےانہوں نے مذید کہا کہ اگر انہیں "راوی " کے نام سے پرچہ نکالنے کی اجازت مل سکتی تو وہ "لوح" کا نام "راوی ثانی" رکھتے۔ اب انہو ں نے ثابت کر دکھایا کہ دیکھے جانے والے خواب ضرور پو رے ہو کر رہتے ہیں۔

بہت سی تجا ویز بھی پیش کی گئیں، بہت سے مشو رے دئیے گئے۔ تعریف بھی کی گئی ، تنفید بھی نے خاصی جگہ پا ئی ،اس موقع پر ممتاز شیخ صاحب نے کہا وہ اس اجمتاع میں ہر قسم کی تنقید کا خیر مقدم کریں گے اور اس کی روشنی میں "لوح" کو مذید بہتر بنائیں گے۔اس موقع پر میری معلومات میں بھی بہت اضافہ ہوا اور ایس ایم ظفر صاحب کی یہ بات سن کر اچھا لگا کہ پاکستا ن بننے سے قبل اس سر زمین ِ بر صغیر پہ چا ر ہز ار سے زائد پر چے نکلتے تھے، جس میں سے دو ہزار صرف لاہو ر سے ہی نکلا کر تے تھے۔تو گویا لا ہو ر کو ’’ ادبی رسائل و جرائد ،، کا شہر بھی کہہ سکتے ہیں ۔ وہ زما نہ چشم تصور میںگردش کرنے لگا۔ 
خلیل جبرا ن کی با ت ہو ئی، ابن خیام کی بات ہو ئی ، دوستو فسکی کو یا د کیا تو ،کو لمبس کو یا د کیا ، تو پطر س بخاری تک کا ذکر چھڑا ، سو ند ھی ٹرانسلیشن سوسائیٹی (گو ر نمنٹ کا لج لاہو ر) کا قصہ چھڑا ، نجا نے کتنی داستانیں ابھی با قی تھیں ، نجا نے کتنے قصے ابھی چھڑنے تھے، مگر وقت کی قید نے رسمی کا روائیو ں کی طر ف مو ڑ دیا ۔ 
ان اختتامی ر سمی کا روائیوں کے بعد جہا ں پْر تکلف چائے کا دور چلا ، وہا ں نئی تہذیب کے نئے ر نگ نے بھی ر نگ بکھیرے، یعنی سیلفی ٹا ئم جس میں بنا عمر و رنگ ونسل محمو د و ایا ز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے ۔ اور یہ ہر دور کا حسن ہو تا ہے کہ اس کو اس کی طر ح ہی گزارا جا ئے تو لطف ہے۔کیو نکہ زند گی کا کو ئی پل لو ٹ کے نہیں آتا ۔ اور یہ پل بھی آج کے بعد سے یا د بن گیا ہے ۔ جس کو ہم خو ش نصیبو ں نے کیمر وں اور یاداشتوں میں قید کر لیا ہے ۔ کل سے یہ ہما ری یا دوں میں مسکرائے گا۔

منگل, مارچ 14, 2017

ھم دنیا میں عدت کے دن گزار ر ہے ہیں /احمد سہیل امریکہ

احمد سہیل
جب لڑکی خاموش ہو جاتی ہے
تو خواب تعبیر سے جدا ہو جاتے ہیں
جب لڑکی مسکراتی ہے
تو ھم سے آزادی چھین کی جاتی ہے
ھم دنیا میں عدت کے دن گزار ر ہے ہیں
مجھے موت دے دو
کہ میں اپنی زندگی میں واپس جانا چاہتا ہوں
موت ایک معمہ ہے
سایوں کے پیچھے
وہ اپنی تعریف سن کر رو دیتی ہے
الجھے ہوئے اندھیرں میں
زندگی مجرم بنے کھڑی ہے
تم خزاں سے پہلے آجانا
زندگی بیچنے والا سپاہی موت سینے پر سجاتا ہے
موسموں کے بدل جانے سے
پیڑوں سے پتے جدا ہو جاتے ہیں
مگر جدائی کا کوئی موسم نہیں ہوتا
جتنی دیر میں یہ نظم پوری ہو
تم لوٹ آنا
جاڈوں سے پہلے تم مجھے آزاد کردو
یہ اس شہر کی کہانی ہے
جب شہر سر شام سوگیا تھا

منگل, فروری 28, 2017

اکیلے میں اگر ملتا وہ مجھ سے / تو ممکن ہے مجھے پہچان لیتا / ارشد شاہین

ارشد شاہین
مری مجبوریوں کو جان لیتا
تو کیا وہ بات میری مان لیتا
سرِ دشتِ طلب رکتا تو کیسے
بھلا کس کس کا میں احسان لیتا
پلٹ کر سوچتا ہوں خاکِ دنیا
بچی تھی جو اُسے بھی چھان لیتا
بتا دنیا ! تری اوقات کیا تھی
تجھے پانے کی گر میں ٹھان لیتا
تری آواز تو آتی کہیں سے
میں چل پڑتا ، نہ کچھ سامان لیتا
ذرا سی چوک ہو جاتی تو دشمن
مرا خنجر مجھی پر تان لیتا
اگر احساس کچھ ہوتا دلوں میں
تو جان انسان کی انسان لیتا
وفا پر اُس کی ،شک ہوتا تو اُس سے
کوئی وعدہ ، کوئی پیمان لیتا
اکیلے میں اگر ملتا وہ مجھ سے
تو ممکن ہے مجھے پہچان لیتا
مقدر یاوری کرتا تو ارشد
کوئی مجھ کو نہ یوں آسان لیتا

جمعہ, فروری 24, 2017

نظم "گلوبل دائرے کا چکر" /نوید ملک

نوید ملک
ہوائیں آگ روتی ہیں
فلک برسا رہا ہے دھوپ کے کوڑے
درختوں کی نگاہیں نوچتی ہیں اب پرندوں کو
گھڑی کی سوئیاں تلوار بن کر وقت کے سینے کو زخمی کر رہی ہیں
نئے مذہب بنائے جا رہے ہیں
شرابی فلسفے ایجاد کرتا ہے تو زانی دین پر تہمت لگاتا ہے
ہماری گردنوں کر راستے بھی گھورتے ہیں
بشر لاشوں کو بوتا ہے
زمیں نوحے اُگاتی ہے
فرشتے نیکیوں کی فائلوں کو بند کر کے ریسٹ کرنے لگ گئے ہیں
صحافی اور ہر اخبار کا بزنس
گلی کوچوں تلک پھیلا ہوا ہے
ہر اک پارٹی کا لیڈر انقلابی بوریوں میں مفلسوں کے خواب جکڑے
کورٹ کے باہر 
کرپشن تھوکتا ہے
دھماکے ہو رہے ہیں
بتاو تو سہی خود کش کی مسجد، منڈیوں، دربار، ہر بازار اور اسکول سے کیا دشمنی ہے
یہ خود کش بھی گلوبل دائرے کا ایک چکر ہے
کہ جس کی آنکھ میں مظلوم چبھتا ہے

بدھ, فروری 15, 2017

جگنو انٹرنیشنل کی تیسری سالگرہ کے موقع پر نوشاد کاظمی کے افسانوی مجموعہ مسافرت کی تقریبِ اجرا

جگنو انٹرنیشنل کی تیسری سالگرہ کے موقع پرمعروف افسانہ نگار نوشاد کاظمی کے افسانوی مجموعہ ،، مسافرت،، کی تقریبِ اجرا کا انعقاد کیا گیا،صدارت معروف سرائیکی قلم کار محترمہ مسرت کلانچوی تھیں،تقریب کی نظامت کے فرائض جگنو انٹرنیشنل کی چیف ایگزیکٹو مسرت زہرہ کنول نے سرانجام دیئے،