ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 28 دسمبر، 2016

شاعری حرف سے خفا ٹھہری / خواب آنکھوں سے دور جا بیٹھے / حامد یزدانی

حامد یزدانی
شاعری حرف سے خفا ٹھہری
خواب آنکھوں سے دور جا بیٹھے
چاندنی چاند سے گریزاں ہے
باغ کیا ہے نِرا بیاباں ہے
اک مگر جگمگا رہا ہے کوئی
گوشۂ ضبط کی نمی سے پرے
گہری خاموشیوں کی وادی میں
جانے کیوں یاد آ رہا ہے کوئی
دل میں غم ہے نہ کوئی ارماں ہے
رنج کے آخری پڑاؤ پر
ہجر آمادہ اک مہک کے تلے
پتّی پتّی بکھرتا پیماں ہے

سوموار، 19 دسمبر، 2016

مٹی کی مہک بلا رہی ہے / کس دیس کی یاد آ رہی ہے / واصف سجاد

واصف سجاد
مٹی کی مہک بلا رہی ہے
کس دیس کی یاد آ رہی ہے
اچھا تھا بہت سلوک اپنا 
دنیا ہمیں کیوں بھلا رہی ہے 
کیوں جانے چراغ گاؤں والے 
شہروں کی ہوا بجھا رہی ہے
کیسی ہے فضائے بے یقینی 
جو دل کے افق پہ چھا رہی ہے
میں دیکھ رہا ہوں اپنا انجام
پتوں کو ہوا اڑا رہی ہے

سوموار، 12 دسمبر، 2016

انور زاہدی کا افسانہ ،، کچے شہتوت،،


آج کی داستان بھی انور / عشق میں تیرے نام ہوجائے / انور زاہدی

اک فسوں بس تمام ہو جائے 
خبر بیشک صلائے عام ہو جائے
قصہ غم کا کیا رہے نہ رہے 
یہ کہانی بھی التزام ہو جائے
دن ڈھلے روز کی طرح لیکن 
وقت سے پہلے شام ہو جائے
شہر میں شور اک مچے ایسا
دن چڑہے قتل عام ہو جائے
آج کی داستان بھی انور 
عشق میں تیرے نام ہوجائے

ہفتہ، 10 دسمبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (آٹھویں قسط)۔ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ امریکہ


وائلن بجاتی، سر بکھیرتی، وہ لڑکی


میری لینڈ کے اوشن سٹی کا ساحل سمندر گوروں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ شہروں کی رونقیں دیکھتے دیکھتے اچانک اوشن سٹی کے تفریحی مقام پر چند روز گزارنے کا پروگرام بنا، اچانک تو یہ ہمارے لئے تھا لیکن عدیل اور رابعہ نے ہمارے پاکستان سے آنے سے پہلے ہی ہمیں گھمانے کا پورا پروگرام مرتب کررکھا تھا، یہی نہیں عدیل نے اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے دو ہفتے اسی سلسلے کے لئے بچا رکھے تھے۔

اوشن سٹی، میری لینڈ ریاست کا ایک جزیرہ ہے اور امریکہ میں اسے مِڈ اٹلانٹک ریجن اور تعطیلات کے لئے اہم مقام گردانا جاتا ہے۔ جہاں ہر سال 80 لاکھ افراد تفریح کے لئے آتے ہیں۔ جسے ایک طویل پل نے باقی علاقوں سے جوڑا ہوا ہے۔ اوشن سٹی جس جگہ آباد ہے اسے ایک مقامی امریکی سے ایک انگریز تھامس فنوک نے حاصل کیا۔ سن 1869ء میں ایک بزنس مین اساک کوفن نے ساحلِ سمندر پر پہلے فرنٹ بیچ کاٹیج تعمیر کئے۔ یہاں سیاہ فام تو کم ہی آتے ہیں لیکن گوروں کی بہتات ہے۔ گورے یہاں یا تو ساحلِ سمندر پر اوندھے پڑے سن باتھ لے رہے ہوتے ہیں یا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ بورڈ واک کررہے ہوتے ہیں۔
ساحلِ سمندر کے ریتیلے حصے کے ساتھ ساتھ لکڑی کا میلوں لمبا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے جسے بورڈ واک کہتے ہیں، جسے 1902ء میں تعمیر کیا گیا۔ اِس پلیٹ فارم کے آگے دکانوں کی ایک لمبی قطار ہے، اس سے پیچھے ہوٹل ہیں، کھانے پینے کی، کھیلوں کے سامان کی دکانیں بھی ہیں، جن میں کیچرز لگے ہوئے ہیں۔ ان میں بہت قیمتی چیزیں پڑی ہیں، کیمرے اور آئی پوڈز سے لیکر بہت اعلیٰ قسم کے اسٹفڈ ٹوائز تک سب کچھ موجود ہے۔ آپ ایک یا دو ڈالر ان مشینوں میں ڈال کر قسمت آزما سکتے ہیں۔ یہ دکانیں کیسینو سے مختلف ہیں۔ بورڈ واک کے آخری حصے میں طویل القامت فیری ویل نصب ہے جس میں ہنڈولے لگے ہوئے تھے، بچوں نے ہمیں بھی اپنے ساتھ ہنڈولے میں بٹھالیا۔ جب ویل میں ڈولتا ہوا ہنڈولا ہمیں لے کر بلندی پر پہنچا تو چاروں طرف عجیب منظر تھا، دور دور تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، ایک جانب ایک پل جس پر گاڑیاں اس جزیرے پر مسافروں کو لاتی لے جاتی کھلونا گاڑیوں کی مانند نظر آرہی تھیں۔
مجھے بلندی سے خوف آتا ہے لیکن اب جب بچوں نے ساتھ بیٹھا ہی لیا تھا تو میں ان پر اپنا خوف ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی خوف کی سرسراہٹ کے ساتھ میں جبر کرکے بیٹھا ہوا تھا۔ چار، پانچ چکروں کے بعد ویل رک گیا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراتی خوف کی لہر بھی تھم گئی۔ خوف کا ایسا ہی احساس مجھے اس وقت محسوس ہوا تھا جب پاکستان میں واپڈا ایک ہی تھا اور مجھے واپڈا کی سالانہ رپورٹ کے لئے تصاویر درکار تھیں اور مجھے پاور اسٹیشنوں کی تصاویر بنوانے فوٹوگرافرز کے ساتھ کوٹ ادو اور مظفرگڑھ میں فوٹوگرافی کرانی تھی۔
پاور ہاؤس کی 100 فٹ اونچی چمنی کی فلمبندی کے لئے ایک کرین مہیا کی گئی جس کے ساتھ پنڈولم کی طرح ایک پلیٹ فارم جھول رہا تھا۔ ایسا پلیٹ فارم جس کی کوئی دیوار نہ تھی، اللہ بخشے مسعود ذوالفقار کو، وہ پلیٹ فارم پر چڑھا، کرین آپریٹر نے پلیٹ فارم کو اوپر اٹھانا شروع کیا۔ ابھی پلیٹ فارم پندرہ، بیس فٹ ہی اوپر گیا تھا کہ مسعود ذوالفقار نے اوپر سے کچھ کہا، میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ کرین کو نیچے کروائیں، میں سمجھا اسے ڈر لگ رہا ہے، کرین نیچے آئی تو مسعود ذوالفقار نے مجھے کہا، سر آپ بھی ساتھ آئیں، میں تصاویر اکیلا بنالوں لیکن رضی صاحب کی ڈانٹ سے آپ ہی بچا سکتے ہیں کہ تصاویر آپ کی دی گئی ہدایت پر بنائی گئی ہیں۔ مجبوراََ مجھے اس کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا پڑا۔ ویل کے ہنڈولے میں خوف کی یہ کیفیت تو نا تھی لیکن اس سے اتر کر میں نے بچوں سے کہا کہ ایسے کسی اور کھیل میں مجھے حصہ نہیں لینا، بس تم ہی بیٹھنا۔ اپنی فطری کمزوری سے انسان زندگی میں دو بار سے زیادہ کیا کھیلے؟
امریکہ کا کوئی بھی علاقہ ہو، اس کے ہر شہر میں کسی نا کسی سڑک پر موسیقی کا مظاہرہ کرتے گروپس یا تنہا ڈرم، گٹار، وائلن، ٹرمپٹ بجاتا کوئی نا کوئی فرد نظر آہی جاتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گروپ جسے، بچے بینڈ کہتے ہیں کی چیختی چنگھاڑتی انگلش موسیقی مجھے کبھی پسند نہیں رہی۔ بچے پاکستان میں بھی اپنی دیسی موسیقی کے ساتھ اسے بھی سنتے ہیں لیکن میرے من کو یہ کبھی نہیں بھائی۔ ویسے بھی انگریزی کے حوالے سے میرا ہاتھ ہمیشہ ہولا رہا ہے، موسیقی کی چونکہ کوئی زبان نہیں ہوتی، ناں اردو اور ناں انگریزی اس لئے دھیمے سر بکھیرتی موسیقی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ موسیقی اگر کھلی فضا میں ہو تو سننے کا یہ تجربہ روح کی بالیدگی کا باعث ہوتی ہے، جس طرح صحرا میں دور سے ابھرتی ڈوبتی کسی چرواہے کی صدا۔
اوشن سٹی کے اس بورڈ واک پر سیر کرتے کرتے وائلن کی دھیمی سی، مدھر سی، ابھرتی ہوئی آواز مجھے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ ساحلِ سمندر کے کنارے کھلی فضاء میں وائلن کی اس آواز میں سمندر کی لہروں کا شور بھی شامل تھا۔ بورڈ پر واک کرتے آپس میں باتیں کرتے افراد کی باتوں کا شور بھی تھا، اس معاشرہ میں اظہارِ محبت کے طور پر سرِعام بوسہ لینے کی دھیمی سی آواز بھی اس کھلی فضا میں سنی جانے والی وائلن کی آواز میں ہم آھنگ ہو کر زندگی سے قریب تر محسوس ہو رہی تھی۔
ہم دھیرے دھیرے قدموں سے چل رہے تھے اور آہتہ آہستہ وائلن کی آواز بلند ہوکر دوسری آوازوں کو دبا رہی تھی پھر یوں ہوا کہ ایک موڑ پر وائلن نواز سامنے آگیا۔ یہ وائلن بجاتی ایک لڑکی تھی، اپنی دھن میں مگن وائلن کے تاروں سے دل کو موہ لینے والی موسیقی تخلیق کررہی تھی، آنکھیں بند کئے، سر کو جھکائے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں اتنی مگن تھی کہ شاید اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ ایک خلقت نصف دائرے کی شکل میں اس کے فن سے نہ صرف محظوظ ہورہی تھی بلکہ اس پر سِکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہی تھی۔
امریکہ میں یہ کھیل تماشے ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ آگے ایک اور لڑکی اپنے لچکیلے، تھرکتے بدن کے گرد روشنی سے جگمگ کرتا رنگ گھمانے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ وائلن بجاتی تنہا لڑکی تو اردگرد سے بے پرواہ تھی اور لوگ اس کے فن پر بھی سِکوں اور ڈالروں کی بارش کررہے تھے لیکن رِنگ گھماتی لڑکی کے سامنے پڑے ہیٹ میں ابھی چند ہی سکے نظر آرہے تھے شاید اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ لچکنا، تھرکنا ان کے معمولات اور ماحول کا حصہ ہے اور وہ اپنے روز مرہ کے محاورے میں اس کھیل تماشے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ یہ چند سِکے بھی اس کے بدن کے گرد گھومتے روشنی کے جگمگاتے رِنگ کی بدولت تھے۔ اس لڑکی کے منہ پر مسکراہٹ سجی تھی لیکن اُس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ بتا رہے تھے کہ وہ خاصی مایوس ہے۔ ہم تھوڑی دیر وہاں رُکے، اُس کی نظر چند لمحوں کے لئے ہم پر رُکی اور پھر وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے تھرکنے لگی۔ عدیل نے ایک سِکہ عنایہ کو دیا کہ جاؤ اس ہیٹ میں ڈال آؤ، عنایہ کچھ جھجکی، پھر آگے بڑھی اور ہیٹ میں سِکہ ڈال دیا۔
رات کی تاریکی گہری ہوتی جارہی تھی لیکن روشنی سے منور بورڈ واک پر بھیڑ بڑھنے لگی تھی، سمندر کی سفید ریت پر دوپہر کو جسموں پر سن بلاک لوشن کا بھرپور اسپرے کئے اوندھے پڑے سن باتھ لیتے گورے بھی اپنے ہوٹلوں میں شاور لے کر اب بورڈ واک پر آ گئے تھے۔ یہاں کھانے کی بہت سی دکانیں تھیں لیکن یہاں ہمارے لئے کھانے کو کچھ نہیں تھا کیونکہ یہاں کچھ بھی حلال نہ تھا۔ ہاں آلو کے فرائز تھے یا پاپ کورنز۔ ہم نے پہلے فرائز لئے جو عنایہ بھی کھا سکتی تھی پھر پاپ کارنز لئے اور چلتے چلتے کھانے لگے۔
کیچ اینڈ وِن (Catch and Win) والی بہت سی دکانیں تھیں، وہاں کیچرز میں بیش قیمت چیزوں کو دیکھ کر میں کئی بار ان کے نزدیک گیا لیکن پھر واپس بچوں کے پاس آگیا۔ وہاں کھڑے ہوکر مجھے لاہور میں گلبرگ کا سٹی 2000 یاد آگیا جہاں عدیل کی ضد پر اکثر جانا ہوتا تھا۔ عدیل جی بھر کر رائیڈز کے مزے لیتا اور میں وہاں نصب کیچرز سے کھیلتا تھا اور ہر بار کوئی نا کوئی کھلونا نکال کر عدیل کی خوشی دوبالا کر دیتا تھا۔ اب جب میں چوتھی بار اس دکان پر جاکر کھڑا ہوا تو عدیل بھی میرے پاس آگیا اور کہنے لگا، بچپن میں تو آپ بڑے ایکسپرٹ تھے کھلونے نکالنے میں، یہاں بھی کوشش کرکے دیکھ لیں عنایہ خوش ہوجائے گی۔ میں نے پچیس (25) سال بعد کوشش کی لیکن کھلونا کیچر سے اس وقت گرگیا جب اس کے ڈراپ بکس میں گرنے کی منزل دوگام رہ گئی تھی۔اوشن سٹی، میری لینڈ ریاست کا ایک جزیرہ ہے اور امریکہ میں اسے مِڈ اٹلانٹک ریجن اور تعطیلات کے لئے اہم مقام گردانا جاتا ہے۔ جہاں ہر سال 80 لاکھ افراد تفریح کے لئے آتے ہیں۔ جسے ایک طویل پل نے باقی علاقوں سے جوڑا ہوا ہے۔ اوشن سٹی جس جگہ آباد ہے اسے ایک مقامی امریکی سے ایک انگریز تھامس فنوک نے حاصل کیا۔ سن 1869ء میں ایک بزنس مین اساک کوفن نے ساحلِ سمندر پر پہلے فرنٹ بیچ کاٹیج تعمیر کئے۔ یہاں سیاہ فام تو کم ہی آتے ہیں لیکن گوروں کی بہتات ہے۔ گورے یہاں یا تو ساحلِ سمندر پر اوندھے پڑے سن باتھ لے رہے ہوتے ہیں یا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ بورڈ واک کررہے ہوتے ہیں۔
ساحلِ سمندر کے ریتیلے حصے کے ساتھ ساتھ لکڑی کا میلوں لمبا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے جسے بورڈ واک کہتے ہیں، جسے 1902ء میں تعمیر کیا گیا۔ اِس پلیٹ فارم کے آگے دکانوں کی ایک لمبی قطار ہے، اس سے پیچھے ہوٹل ہیں، کھانے پینے کی، کھیلوں کے سامان کی دکانیں بھی ہیں، جن میں کیچرز لگے ہوئے ہیں۔ ان میں بہت قیمتی چیزیں پڑی ہیں، کیمرے اور آئی پوڈز سے لیکر بہت اعلیٰ قسم کے اسٹفڈ ٹوائز تک سب کچھ موجود ہے۔ آپ ایک یا دو ڈالر ان مشینوں میں ڈال کر قسمت آزما سکتے ہیں۔ یہ دکانیں کیسینو سے مختلف ہیں۔ بورڈ واک کے آخری حصے میں طویل القامت فیری ویل نصب ہے جس میں ہنڈولے لگے ہوئے تھے، بچوں نے ہمیں بھی اپنے ساتھ ہنڈولے میں بٹھالیا۔ جب ویل میں ڈولتا ہوا ہنڈولا ہمیں لے کر بلندی پر پہنچا تو چاروں طرف عجیب منظر تھا، دور دور تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، ایک جانب ایک پل جس پر گاڑیاں اس جزیرے پر مسافروں کو لاتی لے جاتی کھلونا گاڑیوں کی مانند نظر آرہی تھیں۔
مجھے بلندی سے خوف آتا ہے لیکن اب جب بچوں نے ساتھ بیٹھا ہی لیا تھا تو میں ان پر اپنا خوف ظاہر نہیں کرسکتا تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی خوف کی سرسراہٹ کے ساتھ میں جبر کرکے بیٹھا ہوا تھا۔ چار، پانچ چکروں کے بعد ویل رک گیا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراتی خوف کی لہر بھی تھم گئی۔ خوف کا ایسا ہی احساس مجھے اس وقت محسوس ہوا تھا جب پاکستان میں واپڈا ایک ہی تھا اور مجھے واپڈا کی سالانہ رپورٹ کے لئے تصاویر درکار تھیں اور مجھے پاور اسٹیشنوں کی تصاویر بنوانے فوٹوگرافرز کے ساتھ کوٹ ادو اور مظفرگڑھ میں فوٹوگرافی کرانی تھی۔
پاور ہاؤس کی 100 فٹ اونچی چمنی کی فلمبندی کے لئے ایک کرین مہیا کی گئی جس کے ساتھ پنڈولم کی طرح ایک پلیٹ فارم جھول رہا تھا۔ ایسا پلیٹ فارم جس کی کوئی دیوار نہ تھی، اللہ بخشے مسعود ذوالفقار کو، وہ پلیٹ فارم پر چڑھا، کرین آپریٹر نے پلیٹ فارم کو اوپر اٹھانا شروع کیا۔ ابھی پلیٹ فارم پندرہ، بیس فٹ ہی اوپر گیا تھا کہ مسعود ذوالفقار نے اوپر سے کچھ کہا، میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ کرین کو نیچے کروائیں، میں سمجھا اسے ڈر لگ رہا ہے، کرین نیچے آئی تو مسعود ذوالفقار نے مجھے کہا، سر آپ بھی ساتھ آئیں، میں تصاویر اکیلا بنالوں لیکن رضی صاحب کی ڈانٹ سے آپ ہی بچا سکتے ہیں کہ تصاویر آپ کی دی گئی ہدایت پر بنائی گئی ہیں۔ مجبوراََ مجھے اس کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا پڑا۔ ویل کے ہنڈولے میں خوف کی یہ کیفیت تو نا تھی لیکن اس سے اتر کر میں نے بچوں سے کہا کہ ایسے کسی اور کھیل میں مجھے حصہ نہیں لینا، بس تم ہی بیٹھنا۔ اپنی فطری کمزوری سے انسان زندگی میں دو بار سے زیادہ کیا کھیلے؟
امریکہ کا کوئی بھی علاقہ ہو، اس کے ہر شہر میں کسی نا کسی سڑک پر موسیقی کا مظاہرہ کرتے گروپس یا تنہا ڈرم، گٹار، وائلن، ٹرمپٹ بجاتا کوئی نا کوئی فرد نظر آہی جاتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گروپ جسے، بچے بینڈ کہتے ہیں کی چیختی چنگھاڑتی انگلش موسیقی مجھے کبھی پسند نہیں رہی۔ بچے پاکستان میں بھی اپنی دیسی موسیقی کے ساتھ اسے بھی سنتے ہیں لیکن میرے من کو یہ کبھی نہیں بھائی۔ ویسے بھی انگریزی کے حوالے سے میرا ہاتھ ہمیشہ ہولا رہا ہے، موسیقی کی چونکہ کوئی زبان نہیں ہوتی، ناں اردو اور ناں انگریزی اس لئے دھیمے سر بکھیرتی موسیقی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ موسیقی اگر کھلی فضا میں ہو تو سننے کا یہ تجربہ روح کی بالیدگی کا باعث ہوتی ہے، جس طرح صحرا میں دور سے ابھرتی ڈوبتی کسی چرواہے کی صدا۔
اوشن سٹی کے اس بورڈ واک پر سیر کرتے کرتے وائلن کی دھیمی سی، مدھر سی، ابھرتی ہوئی آواز مجھے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ ساحلِ سمندر کے کنارے کھلی فضاء میں وائلن کی اس آواز میں سمندر کی لہروں کا شور بھی شامل تھا۔ بورڈ پر واک کرتے آپس میں باتیں کرتے افراد کی باتوں کا شور بھی تھا، اس معاشرہ میں اظہارِ محبت کے طور پر سرِعام بوسہ لینے کی دھیمی سی آواز بھی اس کھلی فضا میں سنی جانے والی وائلن کی آواز میں ہم آھنگ ہو کر زندگی سے قریب تر محسوس ہو رہی تھی۔
ہم دھیرے دھیرے قدموں سے چل رہے تھے اور آہتہ آہستہ وائلن کی آواز بلند ہوکر دوسری آوازوں کو دبا رہی تھی پھر یوں ہوا کہ ایک موڑ پر وائلن نواز سامنے آگیا۔ یہ وائلن بجاتی ایک لڑکی تھی، اپنی دھن میں مگن وائلن کے تاروں سے دل کو موہ لینے والی موسیقی تخلیق کررہی تھی، آنکھیں بند کئے، سر کو جھکائے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں اتنی مگن تھی کہ شاید اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ ایک خلقت نصف دائرے کی شکل میں اس کے فن سے نہ صرف محظوظ ہورہی تھی بلکہ اس پر سِکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہی تھی۔
امریکہ میں یہ کھیل تماشے ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ آگے ایک اور لڑکی اپنے لچکیلے، تھرکتے بدن کے گرد روشنی سے جگمگ کرتا رنگ گھمانے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ وائلن بجاتی تنہا لڑکی تو اردگرد سے بے پرواہ تھی اور لوگ اس کے فن پر بھی سِکوں اور ڈالروں کی بارش کررہے تھے لیکن رِنگ گھماتی لڑکی کے سامنے پڑے ہیٹ میں ابھی چند ہی سکے نظر آرہے تھے شاید اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ لچکنا، تھرکنا ان کے معمولات اور ماحول کا حصہ ہے اور وہ اپنے روز مرہ کے محاورے میں اس کھیل تماشے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ یہ چند سِکے بھی اس کے بدن کے گرد گھومتے روشنی کے جگمگاتے رِنگ کی بدولت تھے۔ اس لڑکی کے منہ پر مسکراہٹ سجی تھی لیکن اُس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ بتا رہے تھے کہ وہ خاصی مایوس ہے۔ ہم تھوڑی دیر وہاں رُکے، اُس کی نظر چند لمحوں کے لئے ہم پر رُکی اور پھر وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے تھرکنے لگی۔ عدیل نے ایک سِکہ عنایہ کو دیا کہ جاؤ اس ہیٹ میں ڈال آؤ، عنایہ کچھ جھجکی، پھر آگے بڑھی اور ہیٹ میں سِکہ ڈال دیا۔
رات کی تاریکی گہری ہوتی جارہی تھی لیکن روشنی سے منور بورڈ واک پر بھیڑ بڑھنے لگی تھی، سمندر کی سفید ریت پر دوپہر کو جسموں پر سن بلاک لوشن کا بھرپور اسپرے کئے اوندھے پڑے سن باتھ لیتے گورے بھی اپنے ہوٹلوں میں شاور لے کر اب بورڈ واک پر آ گئے تھے۔ یہاں کھانے کی بہت سی دکانیں تھیں لیکن یہاں ہمارے لئے کھانے کو کچھ نہیں تھا کیونکہ یہاں کچھ بھی حلال نہ تھا۔ ہاں آلو کے فرائز تھے یا پاپ کورنز۔ ہم نے پہلے فرائز لئے جو عنایہ بھی کھا سکتی تھی پھر پاپ کارنز لئے اور چلتے چلتے کھانے لگے۔
کیچ اینڈ وِن (Catch and Win) والی بہت سی دکانیں تھیں، وہاں کیچرز میں بیش قیمت چیزوں کو دیکھ کر میں کئی بار ان کے نزدیک گیا لیکن پھر واپس بچوں کے پاس آگیا۔ وہاں کھڑے ہوکر مجھے لاہور میں گلبرگ کا سٹی 2000 یاد آگیا جہاں عدیل کی ضد پر اکثر جانا ہوتا تھا۔ عدیل جی بھر کر رائیڈز کے مزے لیتا اور میں وہاں نصب کیچرز سے کھیلتا تھا اور ہر بار کوئی نا کوئی کھلونا نکال کر عدیل کی خوشی دوبالا کر دیتا تھا۔ اب جب میں چوتھی بار اس دکان پر جاکر کھڑا ہوا تو عدیل بھی میرے پاس آگیا اور کہنے لگا، بچپن میں تو آپ بڑے ایکسپرٹ تھے کھلونے نکالنے میں، یہاں بھی کوشش کرکے دیکھ لیں عنایہ خوش ہوجائے گی۔ میں نے پچیس (25) سال بعد کوشش کی لیکن کھلونا کیچر سے اس وقت گرگیا جب اس کے ڈراپ بکس میں گرنے کی منزل دوگام رہ گئی تھی۔

جمعرات، 1 دسمبر، 2016

ہے یاد مجھ کو آج بھی وہ شام جب کہ ہم / بیٹھے تھے زیرِ سایۃ اشجار دیر تک / ریحانہ قمر

ریحانہ قمر
بیٹھے رہے ہیں سامنے سرکار دیر تک
ہوتا رہا ہے خواب میں دیدار دیر تک
ہے یاد مجھ کو آج بھی وہ شام جب کہ ہم
بیٹھے تھے زیرِ سایۃ اشجار دیر تک
اک بار ہاتھ میرا چُھوا اُس کے ہاتھ سے
بجتے رہے ہیں دل کے مرے تار دیر تک
کہنے کو گرچہ ایک ذرا سی وہ بات تھی
کرتی رہی ہوں خود سے میں تکرار دیر تک
تا دیر میری سانسیں مہکتی رہیں قمر 
آتی رہی ہے پھول کی مہکار دیر تک

دیکھا تیرا امریکا (ساتویں قسط) رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ امریکہ

بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک


قدرت کے مناظر مجھے بہت متاثر کرتے ہیں، میری لینڈ، ورجینیا اور واشنگٹن قدرتی سرسبز اور خوبصورتی سے مالا مال ہیں۔ یہ علاقے سیاہ فام رہائشیوں کے ہیں جبکہ یہاں میکسیکنز بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ امریکہ میں ورجینا نام کی دو ریاستیں ہیں۔ ایک ساؤتھ اور دوسری نارتھ۔ ایک میں غالب اکثریت سیاہ فاموں کی ہے اور دوسری میں گورے۔ میری لینڈ میں سیاہ فام زیادہ نظر آتے ہیں، یہاں مساجد تو نہیں ہیں لیکن کیمونٹی سینٹر کے ایک ہال میں جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جہاں نماز کے لئے آنے والوں کی زیادہ تعداد سیاہ فام باشندوں کی ہوتی ہے۔
میں جب سے آیا ہوں، جہاں بھی گیا، اکیلا نہیں تھا۔ میرے ساتھ میری نصف بہتر چل رہی ہوتی تھیں، ہم دونوں کے درمیان میری جان عنایہ ہوتی تھی، ہمارے آگے دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا یعنی عدیل اور رابعہ چل رہے ہوتے تھے۔ عدیل اور رابعہ ہمارے ساتھ بہت فرینک ہیں لیکن ہماری موجودگی میں یہاں کے ماحول میں بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر نہیں چل رہے تھے حالانکہ ان کے درمیان جو رشتہ تھا وہ ان کی مسکراہٹوں اور ایک دوسرے کی قربت کے احساس سے پھولوں پر شبنم کے قطروں کی مانند ظاہر ہورہا تھا۔ عدیل نیلی پولو ٹی شرٹ اور جینز میں مجھے میری لینڈ کا سب سے وجیہہ لڑکا لگ رہا تھا جب کہ رابعہ سرخ مرچ جیسی رنگ کے کرتے میں سب سے پیاری لڑکی لگ رہی تھی۔
اس وقت ہم بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک جارہے تھے، اس پارک میں درختوں کے خوبصورت پتوں کے ساتھ ساتھ پھولوں کی مسرور کن فضا انسان کو خود میں سمولیتی ہے۔ رنگ برنگے پھول جو برصغیر کی فضا میں نظر نہیں آتے اور اس سے بڑھ کر یہاں درختوں کے پتوں کے رنگ ہیں۔ ستمبر کے بعد جب خزاں اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے تو یہاں درخت خوبصورتی کا نیا راگ الاپتے ہیں۔ موسمِ بہار کے بعد خزاں آنے سے پہلے دور دور تک خوبصورتی اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے۔
پارک کے درمیان پگڈنڈی پر چلتے چلتے عدیل نے پیچھے مڑ کر بتایا کہ منٹیگمری کاؤنٹی میں موجود یہ پارک 50 ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، امریکہ میں یہ ایوارڈ یافتہ ہیں۔ یہ ایوارڈ ان پارکوں کو نہیں ملا ہوگا بلکہ یہ ایوارڈ شاید ان افراد کے لئے ہوگا جو ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوں گے۔ عدیل کے بتانے پر میرے دل میں ایسا خیال آیا کہ پارک تو اس سب سے بڑے مصور کی تخلیق ہیں جس نے لینڈ اسکیپ کے طور پر دنیا بنائی اس پر پہاڑ جمائے، درخت و پھول بوٹے اگائے، ان پارکوں کے یہ حسین مناظراس کی ثناء کر رہے ہیں۔
درختوں کا سایہ سورج کے مغرب کی جانب ڈھلنے کی بناء پر لمبا ہوتا جارہا تھا۔ اِس کے ساتھ ایک چھوٹا سا سایہ میرے بڑھتے سائے کو پکڑنے کی سعیِ لاحاصل میں سبزے کے قالینوں پر بھاگا پھر رہا تھا اور وہ عنایہ تھی میری ننھی پوتی۔
ہاں میں سب سے بڑے مصور کی اس تخلیق میں دور تک اندر جاچکا تھا۔ یہ ایک سحر کا سفر تھا جو میرے اندر جاری تھا۔ ڈھلتے سائے، ہر سو خاموشی، آج پرندے بھی نجانے کیوں خاموش تھے، ہلکے ہلکے بادلوں میں سے در کر آتی سورج کی روشنی میں اس پارک کے سرو قد پودے زمین کو آسمان سے ملا رہے تھے۔
کچھ آگے موجود جھیل کے پانیوں میں قطار اندر قطار کھڑے درختوں کا عکس عجیب منظر پیش کررہا تھا۔ بروک سائیڈ پارک کے روشنی میں چمکتے سرسبز درخت، جھیل کے ساکت پانی میں دائرے بناتے چھوٹے چھوٹے کیچوے، اس ہٹ سے بہت خوش نما لگ رہے تھے جہاں اس وقت ہم موجود تھے۔ اس جیسے منظر نامے میں داخل ہونے والا ہر شخص خود بھی منظر بن جاتا ہے۔
مجھے ہر طرف خاموشی محسوس ہورہی تھی۔ نہ شہر میں سنائی دینے والا شور تھا اور نہ کسی پتے کے ہلنے کی صدا تھی، نہ شہر میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ہمہ وقت ہارن کی کوئی آواز، یہاں کا منظر بالکل ایک ساکت تصویر کی مانند تھا۔ یہ پارک اتنا بڑا تھا کہ ہمارے ساتھ پارک میں داخل ہونے والے افراد نجانے پیچھے کس سمت مڑگئے تھے۔
اچانک سامنے ایک خوبصورت ہٹ نظر آیا جہاں ایک چینی یا شاید جاپانی جوڑا اپنی محبت کو امر کرنے میں مصروف تھا اور ایک تیسرا فرد ان کے اس محبت نامے کو کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن بچے اس منظرنامے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک دوسرے راستے کی جانب مڑ کر آگے جاچکے تھے، میں اپنے پیر میں موجود ویری کوز وینز (varicose veins) میں کھنچاؤ کی بناء پر پیچھے رہ گیا تھا۔ میں نے ایک اچٹتی سی نظر اس جوڑے پر ڈالی اور اسی راہ پر چل دیا جس پر میرے بچے گئے تھے۔
جھیل کا پانی ایک تنگ سے راستے سے ہو کر دوسری جانب جا رہا تھا اس رستے میں انتظامیہ نے زگ زیگ کی شکل میں پتھر رکھے ہوئے تھے جن پر پیر رکھ کر دوسری جانب اسی پگڈنڈی کا تسلسل تھا جس سے گزر کر ہمیں آگے جانا تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے مصطفی زیدی کا شعر یاد آ گیا۔
انہی پتھروں پر چل کر اگر آسکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
بعض اوقات ایسی باتیں ذہن میں در آتی ہیں جو پوری طرح منظر میں فٹ نہیں آتیں لیکن کوئی ایک چیز انسانی ذہن کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ جھیل کے اس تنگ سے راستے کے دونوں جانب میموریل پتھر ایستادہ تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ کتبے آویزاں تھے، بچے بھی وہیں موجود تھے۔ اس سے پہلے ایک وسیع و عریض سا ڈھلوانی لان تھا جہاں عنایہ ڈھلوان پر نیچے کو بھاگی چلی جارہی تھی اور عدیل اس کے تعاقب میں تھا۔
خاموشی کے سحر میں ڈوبی اس شام میں، میں نے ان میموریل پتھروں پر نظر ڈالی۔ یہ پتھر بولنے لگے کہ سن 2002ء میں دو جنونی افراد کی تخریب کاری نے تیرہ معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ان میں سے 10 مرد و زن کو اسنائپرز نے واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں موت کی نیند سلا دیا۔ دوسرا پتھر بتانے لگا کہ مجھ پر اِن دس افراد کے نام کنندہ ہیں جو اس حادثے میں مارے گئے۔ یہاں یہ پتھر اس بات کی گواہی کے لئے لگائے گئے ہیں کہ یہ افراد ہم میں سے تھے اور ہمارے ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے لواحقین تنہا نہیں ہیں، یہ پتھر اُن کے خاندانوں کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرنے والوں کی محبت کا اظہار بھی ہے۔
میرے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا، جنونیت اور وحشی پن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ ہر ملک و قوم میں موجود ہوتا ہے۔ یہاں ایک محبت بھرا پتھر شاید لواحقین کے لئے کافی ہوتا ہوگا کہ کچھ مہربان ان کی کفالت کردیتے ہیں لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے ہاں محبت بھرے پتھروں سے کام نہیں چلتا اور کتنے پتھر لگائے جائیں گے اور کون ان کے لواحقین کی اشک شوئی کرے گا۔ جب تک بچے اور بیگم آگے چلنے کے لئے تیار نہیں ہوگئے میں نے ان پتھروں پر کنندہ اور ان ہی کی مانند اپنے وطن کے بے نشان افراد کے احترام میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔