ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعرات، 24 نومبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (چھٹی قسط)


منٹگمری کاؤنٹی: وڈ سائیڈ پارک


شام کو عنایہ پارک جانے کی ضد کرتی تو ہم سب پیدل ہی اسے اسٹولر میں بٹھا کر قریب کے پارک لے جاتے، یہ کوئی زیادہ بڑا پارک نہیں ہے لیکن اس تک جانے میں میرا بھی سیر کا کچھ شوق پورا ہوجاتا۔ مجھے ابھی تک اس پارک کا نام معلوم نہیں تھا کیونکہ کئی بار پارک جانے کے باوجود کبھی پارک کے بورڈ پر نظر ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اس روز بھی عنایہ پارک جانے کے لئے بضد ہوئی تو ہم عنایہ کو لے کر پارک لے آئے۔ ننھی عنایہ ایک جھولے سے دوسرے جھولے تک بھاگنے لگی۔ ماں، باپ اور دادی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ پارک میں ہر رنگ و نسل کے بچے اور ان کے پیچھے بھاگتی مائیں۔۔۔ میں اکیلا ہی ایک قدیم سی لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا۔ میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو آج پہلی بار اُس پارک کے نام کے پر نظر پڑی جو وہاں سڑک کے کنارے استادہ تھا۔ وڈ سائیڈ پارک، پارک کے نام سے ہوتی ہوئی میری نظر منٹگمری کاؤنٹی پر ٹک کر رہ گئی۔
بچوں کے لئے تو شاید اس لفظ ’’منٹگمری‘‘ میں کوئی خاص کشش نا تھی لیکن میں لمحوں میں اپنے ماضی میں پہنچ گیا۔ منٹگمری (ساہیوال) میری جنم بھومی جس سے میری یادیں جڑی ہیں، ماہی شاہ کے قبرستان میں میرے ماں باپ محو خواب ہیں۔ جہاں میں نے اپنے بابا جی سرکار، اپنے والد سے پہلا لفظ بولنا سیکھنے سے قلم کی حرمت تک کا درس لیا، دوستوں کی صحبت میں کیفے ڈی روز کے شب و روز، مجلسِ فکرِ نو میں بیتا ایک ایک لمحہ، اسٹیڈیم ہوٹل پر مجید امجد کی صحبت میں گزرا ہوا وقت، شہر کے بیچوں بیچ بہتی نہر جو ہمیں دریائے ٹیمز لگتی تھی، کے کنارے ٹہلنا، اُسی نہر کے کنارے لگے ہرے بھرے چتناروں پر چلتے تیشوں پرمجید امجد کے قلم سے نکلی ایک کرب ناک چیخ جس نے ان کی حساسیت کو دنیا پر آشکار کردیا۔
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار
کھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے رد و کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پہ بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل
یہ درخت جن کے کٹنے پر مجید امجد کے اندر ایک حساس انسان چیخ اٹھا تھا، یہاں امریکہ میں کسی شاعر کو چیخنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ یہ فطرت سے پیار کرنے والی قوم ہے۔ یہاں ہر طرف ہریالی بکھری ہے، درختوں کی بہتات ہے لیکن یہاں کوئی ٹمبر مافیا نہیں ہے۔
یہاں تو ہر طرف گھنے جنگل نما پارک ہیں جہاں قدرتی طور پر عمر رسیدہ ہوکر اگر کوئی درخت گر جائے تو یہاں کی انتظامیہ اسے گرا ہی رہنے دیتی ہے۔ ماسوائے اس درخت کے جو سٹرک پر گر کر سڑک کو بلاک کردے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔
منٹگمری (ساہیوال) کی نہر کے کنارے واقع کنعان پارک میں داخل ہوتے ہی ہمارے کانوں میں مجید امجد کی نظم توسیع شہر کی گونج لاشعوری طور پر سنائی دیتی ہے۔ کیفے ڈی روز پر منعقد ہونے والی مجلس فکرنو کی محفلیں، کنور شفیق، نعیم نقوی، زاہد حکیم، ارشد رضوی، رانا زاہد، کامران، راغب شاہ،وارث انصاری، ارشد چوہدری، عبدالمجید، ایزد عزیز، اعجاز شیرازی، دین محمد درد، آئیون راجکمار، جاوید کنول، ایم اے اشرف، وقاص بٹ، سلیم شاہ، اسحاق خان، انوار سیف اور بہت سے دوست، سینئرز میں حاجی بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، جعفر شیرازی، محمود علی محمود، ناصر شہزاد، یٰسین قدرت، اکرم کلیم، غلام فرید کاٹھیہ، پروفیسر راجہ عبدالقادر اور جانے کتنے لوگ تھے جو وہاں رونق افروز ہوتے تھے۔ منٹگمری (ساہیوال) میری یادوں کا مرکز و محور ہے۔ یادوں کا ایک سلسلہ تھا جو بہتا چلا آرہا تھا۔
اچانک بھاگتی ہوئی ننھی عنایہ زور سے مجھ سے ٹکرائی اور ’ابو‘ کی آواز مجھے پھر پارک کے اس بینچ پر لے آئی جہاں میں بیٹھا تھا، میں نے عنایہ کی جانب دیکھا تو چڑھی ہوئی سانس کے ساتھ اس کے چہرے پر مسرت کے دھنک رنگ جھلملا رہے تھے۔ بچوں کی یہ عادت مجھے بہت پسند ہے کہ سیر حاصل کھیل کود کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا۔
عنایہ کی یہ عادت اپنے باپ کی طرح ہے، میں اور میری بیگم دونوں اپنے کام سے واپس آتے تو سارا دن کی تھکن چاہتی تھی کہ تھوڑا آرام کیا جائے لیکن عدیل کہیں نا کہیں جانے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا تھا، حالانکہ وہ بھی اسکول سے آیا ہوتا تھا لیکن بچوں میں انرجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے، ہمارے آتے ہی جوائے لینڈ یا کسی اور جگہ جانے کا تقاضا شروع ہوجاتا اور ہم اسے لے کر نکل جاتے۔ جوائے لینڈ کی ساری رائیڈز پر دو، دو بار بیٹھنے کے باوجود اس کا دل نہیں بھرتا تھا، عنایہ بھی عدیل کی طرح دبلی پتلی اور ویسی ہی پھرتیلی اور چاق و چوبند ہے۔
پارک سے واپسی کے لئے عدیل نے بڑی مشکل سے اسے اسٹولر میں بٹھایا اور ہم واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں چلتے چلتے میں نے عدیل سے پوچھا، یہ منٹگمری کاؤنٹی ہے؟ جی پاپا! میری لینڈ میں تین کاؤنٹیز ہیں۔ منٹگمری واحد کاؤنٹی ہے جہاں انگریزوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ورنہ دوسری کاؤنٹیز میں میکسیکنز نیگرو بھرے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر کاؤنٹی کو اگر پاکستان کے نظام میں دیکھا جائے تو یہ ڈویژن کی حیثیت رکھتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں