ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

ہفتہ، 12 نومبر، 2016

پہاڑ کاٹ کے رستہ بنا لیا ہم نے / یہ نیلے پانی کا دریا مگر بہا ہے خود / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
یہ عشق پیڑ اُگایا نہیں اُگا ہے خود
چراغ ہم نے جلایا نہیں جلا ہے خود
وہ ایک بُت جو نہایت ہی خوبصورت ہے
خدا کسی نے بنایا نہیں، بنا ہے خود
گماں کی اور جو ادراک کا احاطہ ہے
اسی کی سمت یہ وجدانِ در کھلا ہے خود
پہاڑ کاٹ کے رستہ بنا لیا ہم نے
یہ نیلے پانی کا دریا مگر بہا ہے خود
اکیلا اور بھی تنہا سا ہوگیا ہوں دوست
خلا زمین کی حد سے نکل گیا ہے خود
موئن جو ڈیرو کے اطراف گھوم آیا ہوں
ہڑپہ، ٹیکسلا سے مختلف ہوا ہے خود
کمال خیز تحیر جو اشک زار میں ہے
ہمارے درد کی تکلیف میں ملا ہے خود
یہ طبلِ جنگ نہیں کوچ کا نقارہ ہے
روانہ ہونے کے اوقات میں بجا ہے خود
یہ گنجِ زیست بہت قیمتی خزانہ ہے
ہمارے ہاتھ مقدر سے ہی لگا ہے خود

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں