ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


بدھ، 30 نومبر، 2016

کہاں گئے ہیں مرے منتظر مرے ہم خواب / میں چُپ ہُوا تو عدم نے یہ دی صدا ، ہمیں مل / الیاس بابر اعوان

الیاس بابر اعوان
سکوت ِقریہ ء بغداد میں ذرا ہمیں مل
ہماری خاک سے پیکر بنا ، قضا ہمیں مل
شعاع ِمہر کبھی دیکھ تو چراغ ِ دیار
شکوہ ِ خواب کبھی بر سر ِ فنا ہمیں مل
پڑے ہوئے ہیں تہہِ آب و گل تہی صورت
ستارہ لوگ ہیں اے دست ِ ارتقا ہمیں مل
ہم اور کتنی نگاہوں کا کشٹ کاٹیں گے
ہمارے خواب کسی روز برملا ہمیں مل
کبھی اے حسن ِ فسوں گر کلام کر خود سے
تُو آئنے کو کبھی دیکھنے کو آ ہمیں مل
یہ باغ ، باغ نہیں ہے حصار خانہ ہے
نجانے کس نے ہمیں دی تھی یہ صدا ہمیں مل
کہاں گئے ہیں مرے منتظر مرے ہم خواب
میں چُپ ہُوا تو عدم نے یہ دی صدا ، ہمیں مل

جمعرات، 24 نومبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (چھٹی قسط)


منٹگمری کاؤنٹی: وڈ سائیڈ پارک


شام کو عنایہ پارک جانے کی ضد کرتی تو ہم سب پیدل ہی اسے اسٹولر میں بٹھا کر قریب کے پارک لے جاتے، یہ کوئی زیادہ بڑا پارک نہیں ہے لیکن اس تک جانے میں میرا بھی سیر کا کچھ شوق پورا ہوجاتا۔ مجھے ابھی تک اس پارک کا نام معلوم نہیں تھا کیونکہ کئی بار پارک جانے کے باوجود کبھی پارک کے بورڈ پر نظر ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اس روز بھی عنایہ پارک جانے کے لئے بضد ہوئی تو ہم عنایہ کو لے کر پارک لے آئے۔ ننھی عنایہ ایک جھولے سے دوسرے جھولے تک بھاگنے لگی۔ ماں، باپ اور دادی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ پارک میں ہر رنگ و نسل کے بچے اور ان کے پیچھے بھاگتی مائیں۔۔۔ میں اکیلا ہی ایک قدیم سی لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا۔ میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو آج پہلی بار اُس پارک کے نام کے پر نظر پڑی جو وہاں سڑک کے کنارے استادہ تھا۔ وڈ سائیڈ پارک، پارک کے نام سے ہوتی ہوئی میری نظر منٹگمری کاؤنٹی پر ٹک کر رہ گئی۔
بچوں کے لئے تو شاید اس لفظ ’’منٹگمری‘‘ میں کوئی خاص کشش نا تھی لیکن میں لمحوں میں اپنے ماضی میں پہنچ گیا۔ منٹگمری (ساہیوال) میری جنم بھومی جس سے میری یادیں جڑی ہیں، ماہی شاہ کے قبرستان میں میرے ماں باپ محو خواب ہیں۔ جہاں میں نے اپنے بابا جی سرکار، اپنے والد سے پہلا لفظ بولنا سیکھنے سے قلم کی حرمت تک کا درس لیا، دوستوں کی صحبت میں کیفے ڈی روز کے شب و روز، مجلسِ فکرِ نو میں بیتا ایک ایک لمحہ، اسٹیڈیم ہوٹل پر مجید امجد کی صحبت میں گزرا ہوا وقت، شہر کے بیچوں بیچ بہتی نہر جو ہمیں دریائے ٹیمز لگتی تھی، کے کنارے ٹہلنا، اُسی نہر کے کنارے لگے ہرے بھرے چتناروں پر چلتے تیشوں پرمجید امجد کے قلم سے نکلی ایک کرب ناک چیخ جس نے ان کی حساسیت کو دنیا پر آشکار کردیا۔
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار
کھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے رد و کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پہ بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل
یہ درخت جن کے کٹنے پر مجید امجد کے اندر ایک حساس انسان چیخ اٹھا تھا، یہاں امریکہ میں کسی شاعر کو چیخنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ یہ فطرت سے پیار کرنے والی قوم ہے۔ یہاں ہر طرف ہریالی بکھری ہے، درختوں کی بہتات ہے لیکن یہاں کوئی ٹمبر مافیا نہیں ہے۔
یہاں تو ہر طرف گھنے جنگل نما پارک ہیں جہاں قدرتی طور پر عمر رسیدہ ہوکر اگر کوئی درخت گر جائے تو یہاں کی انتظامیہ اسے گرا ہی رہنے دیتی ہے۔ ماسوائے اس درخت کے جو سٹرک پر گر کر سڑک کو بلاک کردے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔
منٹگمری (ساہیوال) کی نہر کے کنارے واقع کنعان پارک میں داخل ہوتے ہی ہمارے کانوں میں مجید امجد کی نظم توسیع شہر کی گونج لاشعوری طور پر سنائی دیتی ہے۔ کیفے ڈی روز پر منعقد ہونے والی مجلس فکرنو کی محفلیں، کنور شفیق، نعیم نقوی، زاہد حکیم، ارشد رضوی، رانا زاہد، کامران، راغب شاہ،وارث انصاری، ارشد چوہدری، عبدالمجید، ایزد عزیز، اعجاز شیرازی، دین محمد درد، آئیون راجکمار، جاوید کنول، ایم اے اشرف، وقاص بٹ، سلیم شاہ، اسحاق خان، انوار سیف اور بہت سے دوست، سینئرز میں حاجی بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، جعفر شیرازی، محمود علی محمود، ناصر شہزاد، یٰسین قدرت، اکرم کلیم، غلام فرید کاٹھیہ، پروفیسر راجہ عبدالقادر اور جانے کتنے لوگ تھے جو وہاں رونق افروز ہوتے تھے۔ منٹگمری (ساہیوال) میری یادوں کا مرکز و محور ہے۔ یادوں کا ایک سلسلہ تھا جو بہتا چلا آرہا تھا۔
اچانک بھاگتی ہوئی ننھی عنایہ زور سے مجھ سے ٹکرائی اور ’ابو‘ کی آواز مجھے پھر پارک کے اس بینچ پر لے آئی جہاں میں بیٹھا تھا، میں نے عنایہ کی جانب دیکھا تو چڑھی ہوئی سانس کے ساتھ اس کے چہرے پر مسرت کے دھنک رنگ جھلملا رہے تھے۔ بچوں کی یہ عادت مجھے بہت پسند ہے کہ سیر حاصل کھیل کود کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا۔
عنایہ کی یہ عادت اپنے باپ کی طرح ہے، میں اور میری بیگم دونوں اپنے کام سے واپس آتے تو سارا دن کی تھکن چاہتی تھی کہ تھوڑا آرام کیا جائے لیکن عدیل کہیں نا کہیں جانے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا تھا، حالانکہ وہ بھی اسکول سے آیا ہوتا تھا لیکن بچوں میں انرجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے، ہمارے آتے ہی جوائے لینڈ یا کسی اور جگہ جانے کا تقاضا شروع ہوجاتا اور ہم اسے لے کر نکل جاتے۔ جوائے لینڈ کی ساری رائیڈز پر دو، دو بار بیٹھنے کے باوجود اس کا دل نہیں بھرتا تھا، عنایہ بھی عدیل کی طرح دبلی پتلی اور ویسی ہی پھرتیلی اور چاق و چوبند ہے۔
پارک سے واپسی کے لئے عدیل نے بڑی مشکل سے اسے اسٹولر میں بٹھایا اور ہم واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں چلتے چلتے میں نے عدیل سے پوچھا، یہ منٹگمری کاؤنٹی ہے؟ جی پاپا! میری لینڈ میں تین کاؤنٹیز ہیں۔ منٹگمری واحد کاؤنٹی ہے جہاں انگریزوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ورنہ دوسری کاؤنٹیز میں میکسیکنز نیگرو بھرے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر کاؤنٹی کو اگر پاکستان کے نظام میں دیکھا جائے تو یہ ڈویژن کی حیثیت رکھتا ہے۔

سوموار، 21 نومبر، 2016

ناز بٹ کی نظم،سوال

ناز بٹ
 خُداوندا ! تری مرضی ۔۔
تُو جب چاہے ۔۔ جسے چاہے
اُسے صحرا کی جلتی ریت پر لا کر کھڑا کر دے
لب ِ دریا کسی کی پیاس کا تُو امتحاں لےلے
کہیں پتھر کا سینہ چیر کر چشمے نکالے تو کسی کی پیاس کی خاطر زمیں دریا بہا ڈالے
کئی میلوں مسافت پر یہ پھیلی بستیاں اپنی
زمانے لگ گئے جن کو بسانے میں۔۔ سجانے میں
وہ اِک پل میں مٹا ڈالے
خداوندا! تری مرضی!
تو قرنوں بعد بھی ملبے تلے سوئی ہوئی بے جان سانسوں کو رواں کر دے
انہیں زندہ نشاں کر دے
بپھر جائیں اگر موجیں
سمندر بُرد ہوجائیں سفینوں پر سفینے 
۔۔۔۔۔۔پانیوں میں جب اُچھال آئے
جسے چاہے بچانا تُو
اُسے ساحل پہ صدیوں بعد اِک مچھلی اُگل جائے !
کبھی چھوٹی سی چنگاری کو شعلوں میں بدل کر تُو جلا ڈالے سبھی آنگن!
جو تو چاہے تو شعلوں کو گُل و گلزار بھی کر دے!
کسی کا چاک ہو سینہ ، کلیجہ چیر کر دانتوں سے وحشت رقص میں آئے
خُدا ونداتری مرضی !
جسے تونے بچانا ہو ،اسے صحرا سے نخلستان کے سائے میں لے آئے
خداوندا ! دُھائی ہے ۔۔۔!!
بدن اب بھی اُدھڑتے ہیں۔۔۔۔ سسکتے ہیں۔۔۔۔! بلکتے ہیں!
سُلگتی بے کفن لاشیں فضا میں بین کرتی ہیں
کلیجہ منہ کو آتا ہے۔۔۔
یہ خُون آلود منظر آنکھ سے دیکھے نہیں جاتے
مرے مالک۔۔۔مرے داتا! نہیں شکوہ مجھے تجھ سے
مگر اتنا تو بتلا دے
تنے میں اب درختوں کے پناھیں کیوں نہیں ملتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
سہارا دینے والی نرم بانہیں کیوں نہیں ملتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ "
( ناز بٹ 

جمعرات، 17 نومبر، 2016

دریائے محبت کی روانی کی طرح ماں / صبیحہ صبا


تو آنے والے دن کی ضمانت نہ دے مجھے / بہتر یہی ہے ، وعدہِ فردا پہ ، ٹال دے / محمد سلیم طاہر


سلیم طاہر
توفیق ہو تو کچھ ، مرے کاسے میں ڈال دے
ورنہ ، تری رضا ہے ، ہوا میں اچھال دے
تو آنے والے دن کی ضمانت نہ دے مجھے
بہتر یہی ہے ، وعدہِ فردا پہ ، ٹال دے
میرے جواب سے تو ، اگر مطمئن نہیں
جو پوچھنا ہے پوچھ مجھے  لا سوال دے
جو ، آج ہم کو ، بیٹھنے دیتا نہیں کہیں
کل کیا عجب ہے وہ ہمیں دل سے نکال دے
تیری طرح کا دوسرا کوئی نہیں ، مگر
میری طرح کا بھی کوئی ہے تو مثال دے
اک بار پھر سے لوگ مجھے ، دیکھنے لگیں
اک بار پھر سے کوئی ہنر دے ، کمال دے
میں خود حساب دوں گا ، دل ِ بد گمان کا
پہلے تو میرے گزرے ہوئے ماہ و سال دے

منگل، 15 نومبر، 2016

آو پھر مل کے خواب ہو جائیں / دشت میں اک سراب ہو جائیں / انور زاہدی (اسلام آباد)

انور زاہدی


آو پھر مل کے خواب ہو جائیں 
دشت میں اک سراب ہو جائیں
جیسے بہتی تھی آگ پانی میں 
ایسے مثل حباب ہو جائیں
پھر ہوا ڈھونڈتی پھرے ہم کو 
پا سکے نہ حجاب ہو جائیں
آو تحریر عشق کو کر دیں 
ایک انمٹ نصاب ہو جائیں
پھر لکھیں نظم 'غزل ہم انور 
پیار کی اک کتاب ہو جائیں 

گیا نہیں وہاں آنکھیں بچھڑ رہی ہوں گی / کسی کے گھر مجھے آوازیں پڑ رہی ہوں گی/ نوید افضال(کینڈا)

نوید افض
گیا نہیں وہاں آنکھیں بچھڑ رہی ہوں گی
کسی کے گھر مجھے آوازیں پڑ رہی ہوں گی
کوئی درختوں کے سائے سے چل دیا ہو گا
سحر کے ساتھ ہی چڑیاں جھگڑ رہی ہوں گی
سلیقے سے اُنہیں پہنانے والا ہو گا کہاں
اب اُس کی بالیاں کانوں سے اَڑ رہی ہوں گی
حنا بھی پھیکی پڑی ہو گی اور وہ گھبرا کر
گذشتہ مونگے انگوٹھی میں جڑ رہی ہوں گی
دلوں میں بستیوں کے ہو گی رنج کی دیمک
برُوں جُڑی ہُوئی اندر اُدھڑ رہی ہوں گی
ملال ہو گا کسی اور بات کا اُن کو
سہیلیاں وہاں بے بات لڑ رہی ہوں گی
چپاتی دھرتے ہُونے شام کی اداسی میں
نگاہیں خالی سی ڈیوڑھی پہ گڑ رہی ہوں گی
فلک سے جُڑتا ہُوا رشتہ ٹوٹتا ہو گا
نوید ! شاخیں صنوبر کی جھڑ رہی ہوں گی

ہفتہ، 12 نومبر، 2016

پہاڑ کاٹ کے رستہ بنا لیا ہم نے / یہ نیلے پانی کا دریا مگر بہا ہے خود / علی اصغر عباس

علی اصغر عباس
یہ عشق پیڑ اُگایا نہیں اُگا ہے خود
چراغ ہم نے جلایا نہیں جلا ہے خود
وہ ایک بُت جو نہایت ہی خوبصورت ہے
خدا کسی نے بنایا نہیں، بنا ہے خود
گماں کی اور جو ادراک کا احاطہ ہے
اسی کی سمت یہ وجدانِ در کھلا ہے خود
پہاڑ کاٹ کے رستہ بنا لیا ہم نے
یہ نیلے پانی کا دریا مگر بہا ہے خود
اکیلا اور بھی تنہا سا ہوگیا ہوں دوست
خلا زمین کی حد سے نکل گیا ہے خود
موئن جو ڈیرو کے اطراف گھوم آیا ہوں
ہڑپہ، ٹیکسلا سے مختلف ہوا ہے خود
کمال خیز تحیر جو اشک زار میں ہے
ہمارے درد کی تکلیف میں ملا ہے خود
یہ طبلِ جنگ نہیں کوچ کا نقارہ ہے
روانہ ہونے کے اوقات میں بجا ہے خود
یہ گنجِ زیست بہت قیمتی خزانہ ہے
ہمارے ہاتھ مقدر سے ہی لگا ہے خود

اتوار، 6 نومبر، 2016

مبشر سعید کی کتاب ’’خواب گاہ میں ریت‘‘ اپنی معنویت میں معرفت اور رومانیت کی منفرد آواز ہے

کل میں نے چاند سے کہا آہستگی کے ساتھ
تم فرد لگ رہے ہو محبت قبیل کے
(مبشر سعید)
اردو غزل میں اکثر شعراء نے انسانی محبت کے زمینی جذبے کو آسمانی بنا کر اور معاملات عشق کو جزدان میں لپٹ کر پیش کیا ہے۔ وہاں عاشق اتنا معذور ہے کہ اس کا ہاتھ خود سر محبوب کے دامن تک کبھی نہیں پہنچتا۔ اتنا مظلوم کہ ستم سہنے کے بعد بھی شعلہ خو، پری زاد کو دعائیں دیتا ہے۔ اتنا نیک کہ محبوب کے فراق میں رات بھر آہیں بھرتا ہے اور جب وہی محبوب مائل بہ کرم سامنے آجائے تو وصال کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ مبشر سعید کی خواب گاہ میں ریت، میں ہمیں عشق و محبت کی یہ سماوی تفسیر اور عاشق کی ایسی معصوم تصویر نہیں ملتی۔

اس کی غزل کاعاشق ایسا مرد ہے جو جسم رکھتا ہے اور جسم کی آواز بھی سنتا ہے۔ جو مٹی سے پیدا ہوا ہے اور مٹی کی خوشبو پوری طرح محسوس بھی کرتا ہے۔ اس کے شعروں میں وصل و ہجر کی کیفیتوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ ہر طرف کھلے موسموں کی نکھری فضائیں اور ہر جانب نیلے آسمان کی روشن وسعتیں دکھائی دیتی ہیں۔
مجھ کو یہ میر تقی میر بتاتے ہیں سعید
عشق کرنا ہے مگر جان سے جانے کا نہیں
وصل کی روشنی آنکھوں میں بسانے کے لئے
تم بھی سو جاؤ مرے خواب میں آنے کے لئے
زندگی ہجر ہے اور ہجر بھی ایسا کہ نہ پوچھ
سانس تک ہار چکا، وصل کماتا ہوا میں
غزل کے شعر کو وہی شاعر بات کے روپ میں پیش کرسکتا ہے جو ہر طرح کی بات کہنے کی قدرت رکھتا ہو۔ جس نے عزم کرلیا ہو کہ بات کو قاری تک بہرحال پہچانا ہے۔ مبشر سعید نے بات کہنے کا یہی دل پذیر انداز اختیار کیا ہے۔ اسی لئے اس کے شعروں کی تفہیم کے لئے کسی شرح کی ضرورت نہیں اور لفظوں کی روح تک پہنچنے کے لئے کوئی فرہنگ درکار نہیں۔ سارا کلام پڑھ جائیے کہیں کوئی ادق لفظ نہیں۔ مبشر سعید نے جو شعر کہا، بات کے انداز میں اور جو کچھ کہا سادہ اور دلکش انداز میں۔ وہ جانتا ہے کہ قائم و دائم رہنے والی بات مکمل ابلاغ ہے اور ابلاغ کی منزل اس وقت تک ہاتھ نہیں آتی جب تک شعر کو سادگی، روانی اور بے ساختگی کے زیور سے آراستہ نہ کیا جائے۔
مبشر سعید کی شعری باتوں میں برجستگی اور بے ساختگی ہے اور ان باتوں میں ابلاغ مکمل ہے۔
ہم محبت بھی عبادت کی طرح کرتے ہیں
واعظو! ہم کو عبادت نہ سکھاؤ، جاؤ
مبشر سعید نے اپنی باتوں کو مختلف جہتوں میں تقسیم کیا ہے۔ کبھی وہ اپنے وجود کے اندر کے شخص سے اور کبھی محبوب سے باتیں کرتا ہے۔ کبھی ماحول سے اور کبھی ماحول میں رچی بسی ہمہ تن گوش فضاؤں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ بات کہنے کے اس رنگ نے اس کی شاعری کو دھنک رنگ بنا دیا ہے۔
چل رہا تھا تو سبھی لوگ مرے بازو تھے
گر پڑا ہوں تو کوئی ہاتھ بڑھانے کا نہیں
مجھے سعید، اداسی نے خاموشی سے کہا
سفر طویل ہے تو چل، کلام کرتے ہیں
گوئٹے کا کہنا ہے کہ دراصل محبت ایک آدرش کی شکل میں خود میرے اندر موجود تھی، یہی آدرش مبشر سعید کا سرمایہ ہے اور اسی آدرش کے زیر اثر مبشر سعید نے محبت کا اظہار یوں کیا ہے۔
تیری یادوں کو ہم اشکوں میں بھگوئے ہوئے ہیں
غور سے سن تو سہی قہقہے روئے ہوئے ہیں
عالمِ وجد سے اظہار میں آتا ہوا میں
یعنی، خود خواب ہوا، خواب سناتا ہوا میں
حلقہ شعر سے گزروں گا محبت میں سعید
اپنے جذبات کو الفاظ میں لاتا ہوا میں
سپردگی، غزل کی جان ہے اور محویت غزل کا ایمان۔ اس امر کا اعلان فراق گورکھ پوری نے 1954ء میں اردو کی عشقیہ شاعری میں کیا جس سے محبت کا تصور بدل کر ایک نیا ارفع تصور سامنے آیا۔ مبشر سعید نے دیکھیئے اس تصور کو کس طرح باندھا ہے۔
میں اگر پھول کی پتی پہ تیرا نام لکھوں
تتلیاں اڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں
یہ تری یاد کا، آواز کا، احساس کا لمس
وصلِ ضوریز کے جذبات جگائے مجھ میں
اپنے کلام کی جامعیت پر مبشر سعید کو کامل یقین ہے۔ وہ کہتے ہیں،
یہ کیا دیوان غالب کے حوالے؟
ہمارا شعر کچھ تازہ نہیں کیا؟
یہ کہا جاسکتا ہے کہ مبشر سعید کی کتاب ’’خواب گاہ میں ریت‘‘ اپنی معنویت میں معرفت، رومانیت کی منفرد آواز ہے۔

منگل، 1 نومبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (چوتھی قسط) / رضاالحق صدیقی

تاریخ اور سائنس کی دنیا میں


واشنگٹن ڈی سی میں سے گزر کر ورجینیا جانا کئی بار ہوچکا تھا اور ایسا شام کے وقت عدیل کے آفس سے آنے پر ہوتا تھا۔ رات کے وقت جگمگاتی روشنیوں میں امریکہ کا دارالحکومت بڑا خوش رنگ نظر آتا لیکن کوئی قابل دید چیز اندر سے نہیں دیکھی جاسکتی تھی۔ عدیل ہمیں وہاں کے بہت سے مقامات کی سیر کراچکا تھا۔ عید کے روز ہمیں نماز کی ادائیگی کے لئے پھر ورجینیا جانا تھا۔ وہاں سارا امریکہ کھلا ہوتا ہے کہ عید ان کا تہوار نہیں ہے لیکن مسلمان ملازمین اپنے تہواروں پر چھٹی کرسکتے ہیں۔ عید کے لئے عدیل نے بھی چھٹی کی ہوئی تھی۔ چاند رات کو بھی ہم واشنگٹن گئے تھے، بہت سے مقامات اس روز دیکھ لئے تھے۔ اب پروگرام یہ بنا کہ ورجینیا میں نماز پڑھنے اور دوپہر کا کھانا وہیں کھانے کے بعد واپسی پر واشنگٹن کے باقی ماندہ مقامات کی سیر کرلی جائے۔
نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم تاریخی ایئر کرافٹ اینڈ اسپیس کرافٹ کا دنیا بھر میں سب سے بڑا اور نادر نمونہ ہے۔ اسے ہسٹری اور سائنس آف ایوی ایشن اور اسپیس فلائیٹ کے علاوہ پلینٹری سائنس کی تحقیق کے مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔ اسے سن 1946ء میں قائم کیا گیا اور اس کی مرکزی بلڈنگ کو 30 سال بعد سن 1976ء میں عوام کے لئے کھولا گیا۔ سن 2014ء میں اس میوزیم کو 67 لاکھ افراد نے دیکھا جس نے اسے دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پانچواں میوزیم بنا دیا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے تاریخ اور سائنس میں کبھی دلچسپی نہیں رہی اور ناں میں سائنس کا طالب علم رہا ہوں۔ مجھے آثار قدیمہ اور عجائب گھروں میں بھی دلچسپی نہیں رہی۔ عدم دلچسپی کی وجہ تو شاید نوعمری میں ہڑپہ کے تاریخ ساز کھنڈرات سے کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی اشیاء پر مشتمل میوزیم کی بے ثباتی دیکھ کر ہوئی۔ اس میوزیم میں کھدائی کے وقت جو کچھ دریافت ہوا، وہ موجود رہا ہوگا لیکن جب ہم نے اسے دیکھا تو وہ اجڑی ہوئی دلی کی مانند نظر آیا۔
یہ امریکہ ہے، یہاں کے لوگ اپنی تاریخ بنانا بھی جانتے ہیں اور سنبھالنا بھی، اسی چیز نے مجھے نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم دیکھنے پر اکسایا۔ میوزیم کے باہر میں نے عدیل سے کہا بھی کہ کہیں اور چلتے ہیں، یہاں کیا دھرا ہوگا؟ لیکن وہ کہنے لگا آپ چلیں تو سہی اور ہم میوزیم میں داخل ہوگئے۔ اندر کی دنیا ہی عجیب تھی، ایک جانب چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان اور چاند پر جانے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تاریخ مجسم کی گئی تھی اور ایک حصہ آسمان پر چمکنے والے سیاروں اور ستاروں کے بارے میں تھا۔
ارے یہ کیا؟ سائیکل کی ایجاد اور اس کے موجد کی سائیکل کمپنی کا حصہ؟ ہمیں ہنسی آگئی کہ بھلا اس کا حصہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ عدیل کہنے لگا یہی تو اس میوزیم کی خاص چیز ہے۔ رائیٹ برادران کی سائیکل کمپنی۔ جس نے انسانی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ رائیٹ برادران؟
وہی جنہوں نے جہاز بنایا لیکن سائیکل کمپنی؟
میں نے خود سے با آواز بلند سوال کیا؟
یہ شاید زمانہِ طالب علمی میں سطحی طور پڑھی ہوئی باتوں کا لاشعور سے شعور میں آنے کا عمل تھا جس نے مجھے سوال کرنے پر اکسایا۔
جی پاپا، وہی رائیٹ برادران، عدیل کا تازہ علم میرے لاشعور کی تائید کرگیا۔
اورول رائیٹ اور ولبر رائیٹ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے پہلی بار زمین کی بیڑیوں کو اتار پھینکا اور ستاروں کی جانب چھلانگ لگائی تھی۔ انہوں نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا تھا، تہذیب انسانی اس کارنامے کے بعد ایک انقلاب سے گزری۔
وہ تاریخ کا ایک عظیم دن تھا جب اورول رائیٹ نے اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں واقع ایک لائبریری میں قدم رکھا۔ کتابوں کی الماری کی جانب بڑھا اور ایک کتاب اٹھائی۔ یہ کتاب ایک جرمن باشندے لیلیئن تھل کی داستان حیات تھی جس نے ایک بڑی پتنگ کے ذریعے اڑنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ میں شیشے کے فریم میں لکھی یہ داستاں عظیم پڑھ رہا تھا جس میں آگے ان بھائیوں کے کارنامے کی مزید تفصیلات درج تھیں۔
عدیل کہنے لگا، پہلے اندر آنہیں رہے تھے اب یہاں سے ہل نہیں رہے ہیں۔ آپ آرام سے پڑھیں ساری چیزوں کو دیکھیں۔ ہم یہیں میوزیم میں ہی ہیں لیکن اتنی دیر بھی نہ لگا دینا کہ باقی چیزیں دیکھنے سے رہ جائیں۔ میوزیم 6 بجے بند ہوجاتا ہے۔
میں ہنس دیا اور پھر پڑھنے لگا، مجھے پھر پتہ نہیں لگا کہ وہ کس وقت وہاں سے چلے گئے۔ اس داستانِ عظیم میں درج تھا کہ اس جرمن باشندے نے انجن استعمال نہیں کیا تھا لیکن اُڑا ضرور تھا۔ وہ ایک تاریخ ساز رات تھی جس میں اورول رائیٹ، لیلیئن تھل کی داستان میں کھویا اس بات پر غور کرتا رہا کہ وہ اُڑا کیسے تھا۔ اُس رات کے غور و فکر نے تہذیبِ انسانی میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔ اورول نے اپنے بھائی ولبر رائٹ کے دل میں بھی شوق کی چنگاری جگا دی تھی اور پھر رائیٹ برادران ایک ایسے کام میں جت گئے جو ہوائی جہاز کی ایجاد پر منتج ہوا اور ان کا نام لافانی کرگیا۔
اوہائیو میں اُس وقت اِسے ایک چھوٹا سا کام سمجھا گیا، بلکہ اُن کی کوششوں کو ناممکن بتایا گیا لیکن ساتھ ہی ساتھ لوگوں میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ رائیٹ برادران نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان اُڑ سکتا ہے۔ پھر وہ دن آگیا۔ لوگ اُن کے دعویٰ کو ناممکن ہوتا دیکھنے اور پھر اُن کا مذاق اڑانے کے لئے جمع ہوچکے تھے لیکن یہ کچھ زیادہ لوگ نہیں تھے۔ صرف پانچ افراد تھے جن میں ایک فوٹو گرافر بھی تھا جس نے انسان کی پہلی اُڑان کی تصویر بنائی تھی۔ یہ واقعہ 17 دسمبر 1903ء کی صبح کے 10 بج کر 35 منٹ پر اورول رائیٹ گرجتے جہاز پر سوار ہوا اور پیٹ کے بل لیٹ گیا اور تار کھیچ کر اس نے اپنے فلائر کی بریکیں اٹھا دیں۔ اُن کی یہ فلائنگ مشین غرائی اور کھانستی ہوئی ہوا میں بلند ہوئی۔ انجن کے ایگزاسٹ سے شعلے لپک رہے تھے، مشین صرف بارہ سیکنڈ کے لئے نیچے، اوپر ہچکولے کھاتے آگے بڑھی اور 120 فٹ تک اڑنے کے بعد زمیں پر گرگئی۔ اِس پرواز کی رفتار صرف 6.8 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ اس تجربے کے بعد اگلی دو پروازوں میں فاصلہ بالترتیب 175 فٹ اور200 فٹ رہا اور ان کی سطح زمین سے بلندی 10 فٹ رہی۔ اُن کی چوتھی پرواز 852 فٹ تک گئی اور یہ 59 سیکنڈز تک اڑتی رہی۔
سن 1903ء کی پہلی کامیاب پرواز کے بعد رائیٹ برادران کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے اور ان کی جدوجہد جاری رہی۔ سن 1905ء میں وہ ایسا جہاز بنانے میں کامیاب ہوئے جو ایک وقت میں آدھے گھنٹے تک اڑسکتا تھا۔ سن 1908ء میں اورول رائیٹ نے دنیا کی پہلی پرواز ورجینیا کے فورٹ میئر میں امریکن آرمی کو دکھانے کے لئے کی۔ امریکن آرمی نے رائیٹ برادران کے جہاز کو دنیا کا پہلا فوجی جہاز قرار دے دیا۔ اُسی سال رائیٹ برادران نے لی منز، فرانس کے نزدیک سو پروازیں کیں جس میں سب سے لمبی پرواز نے 31 دسمبر کو اڑان بھری جس کا دورانیہ 2 گھنٹے اور19منٹ تھا۔
ابھی میں نوٹس لے ہی رہا تھا کہ عدیل نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے اس محویت سے نکالا اور کہنے لگا، آپ نے ابھی تک میوزیم کا یہ حصہ بھی مکمل نہیں دکھا ہم پورا میوزیم گھوم آئے۔ میں نے انہیں کہا بس تھوڑی دیر اور۔۔۔
میں پلٹ تو گیا ہی تھا، میں نے دیکھا کہ اس جہاز کا ریپلیکا سامنے رکھا ہوا تھا اس میں اورول رائیٹ اسی طرح لیٹا دکھایا گیا تھا جیسا کہ تاریخ میں بتایا جاتا ہے۔ میں جہاز کے ریپلیکا کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اب اورول رائیٹ میرے سامنے تھا، میں نے اسے اُس کے کارنامے پر سیلیوٹ کیا۔ اگر اس نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو میں پاکستان سے 8 ہزار میل کا سفر طے کرکے امریکہ کیسے پہنچتا؟
وہاں سے نکلے تو ساتھ ہی سیاروں اور ستاروں کی دنیا آباد تھی۔ اِس دنیا میں داخل ہوئے تو ایک گلیکسی ہمارے سامنے تھی۔ ہر سیارے کو اِس کی جسامت کے مطابق دکھایا گیا تھا۔ ان سیاروں کی ترتیب میں ہماری چھوٹی سی دنیا بھی نظر آرہی تھی جو غالباََ اپنی جسامت کے لحاظ سے سب سے چھوٹی ہے۔ یہاں بھی چاند پر جانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ریکارڈ بتایا گیا تھا۔ خلا بازوں کے لباس بھی سجے ہوئے تھے۔ میں میوزیم کے اس حصے میں آکر سوچ رہا تھا کہ اس حصے کا مطالعہ تو مریم کو کرنا چاہیئے تھا۔
مریم سلطانہ ہماری بھانجی ہے۔ کراچی میں اردو یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔ ابھی گزشتہ سال ہی اُس نے ایڈوانس اسٹرو فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہے اور وہ پہلی خاتون ہے جس نے یہ ڈگری حاصل کی۔ میوزیم کا یہ حصہ اس کے بڑے کام کا تھا۔ ہمیں اسٹرو فزکس کا تو کوئی اتنا خاص علم نہیں ہے، ہاں اسٹرالوجی میں کچھ شدبد کی وجہ سے یہ حصہ بھی ہماری دلچسپی کا مرکز تھا۔ کبھی کبھی ستاروں کی چال دیکھ کر ملکی سیاست کا جائزہ ضرور لے لیا کرتے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات سے پہلے ہمارا اسی حوالے سے جائزہ تھا جو ایک کالم کی شکل میں ایک اخبار میں شائع بھی ہوا تھا کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے ستارے جون 2017ء کے بعد عروج پر ہوں گے۔ اس سے پہلے ان کی تمام کوششیں سعی لاحاصل ثابت ہوں گی اور وقت نے ہماری بات کو درست ثابت کیا ہے۔
وہاں سے نکلے تو سامنے ہی شہرہ آفاق ڈرون کا سامنا ہوگیا۔ ڈرون طیارہ اِس وقت بڑی معصومیت سے لٹکا ہوا تھا۔ اُسے دیکھتے ہوئے ہم نے دل ہی دل میں کہا اچھا یہ ہے وہ ڈرون جس نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اس ڈرون نے جو تباہی مچائی اس سے پاکستانی قوم شدید نالاں رہی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2004ء سے اب تک پاکستان میں 330 ڈرون حملے کئے گئے جن میں 2200ء سے زائد افراد جان بحق ہوئے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کا آغاز سن 2004ء میں ہوا۔ اُس سال صرف ایک حملہ ہوا جس میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔ سن 2005ء میں تین حملے، 13 افراد ہلاک، سن 2006ء میں چار حملے 7 جاں بحق، سن 2007ء میں چار حملے ہوئے جن میں 48 افراد، سن 2008ء میں ڈرون حملوں میں اضافہ ہوگیا اور 36 حملوں میں 219 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2009ء میں54 حملوں میں 350 افراد جبکہ سن 2010ء میں سب سے زیادہ یعنی 122 ڈرون حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 608 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ سن 2011ء میں 72 حملوں میں 256 افراد، سن 2012ء میں 48 حملے 222 ہلاکتیں ہوئیں۔ صدر بش کے زمانے میں پاکستان میں 52 ڈرون حملے ہوئے جبکہ اوباما کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد 314 ڈرون حملے ہوئے۔
اب تو ہم خود ڈرون کے معاملے میں خود کفیل ہوچکے ہیں۔ فوج دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے جس میں پاکستانی ڈرون بھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم نے ابھی کچھ دیر پہلے رائیٹ برادران کو سیلیوٹ پیش کیا تھا کہ اگر انہوں نے جہاز ایجاد نہ کیا ہوتا تو ہم تاریخ میں آج کس مقام پر کھڑے ہوتے۔ لیکن ڈرون بھی تو ایک طیارہ ہی ہے، اگر طیارہ مسافروں اور سامان کو اِدھر سے اُدھر لے جانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا مثبت استعمال ہے اور اگر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر اٹیم بم گرانے کے لئے استعمال ہو تو یہ طیارے کا منفی استعمال ہے۔ ڈرون دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیا طیارے کو ڈرون کی شکل دینے پر رائیٹ برادران کو کیا جانے والا سیلیوٹ واپس لے لینا چاہیئے؟