ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ، 29 اکتوبر، 2016

مرا سادہ سخن! سلجھا ہوا بے ساختہ لہجہ/ تمہاری گفتگو کی ساری تہہ داری سے بہتر ہے/ انجم عثمان

انجم عثمان
قطع کر لیں تعلق! اتنی بیزاری سے بہتر ہے 
محبت میں بھی خودداری، رواداری سے بہتر ہے
بساطِ شوق پہ خود رد کیا اپنے ہی خوابوں کو
کنارا شوق سے تیرے! تری یاری سے بہتر ہے
فسون_آرزو رعنائی اپنی کھو چکا جاناں
تو یہ اقرار کر لینا ریاکاری سے بہتر ہے
زرا ٹھہرو! تم اپنی ساری قسمیں ساتھ لے جاؤ 
جو دل کو چیر دے! یادوں کی اس آری سے بہتر ہے
جو عجز و انکساری! خاکساری ہو طبیعت میں 
تو پھر یہ بندگی میری! تو اوتاری سے بہتر ہے
مرا سادہ سخن! سلجھا ہوا بے ساختہ لہجہ
تمہاری گفتگو کی ساری تہہ داری سے بہتر ہے
نہیں کچھ "ماسوا"! اک پردہ داری کے سوا انجم 
جنوں خیزی! خرد کی ہر فسوں کاری سے بہتر ہے

تا رے شمار کر تی ہو ں شب بھر فراق میں / تم دور مجھ سے جاں مری جایا نہیں کرو/ سبیلہ انعام صدیقی

سبیلہ انعام صدیقی
تم دل کی دل میں رکّھو بتایا نہیں کرو
یوں کہہ کے داستان رلایا نہیں کرو
مجھ سے بچھڑ کےرہتا ہے دلشاد ایک شخص
یہ من گھڑت کہانی سنایا نہیں کرو
آنکھوں کے گرد حلقے پڑے جاگ جاگ کر
نیندوں کو میری ایسے اڑایا نہیں کرو
میری غزل کا طول تمھا رے سبب سے ہے
تم سوچ بن کے شعر میں آیا نہیں کرو
تا رے شمار کر تی ہو ں شب بھر فراق میں
تم دور مجھ سے جاں مری جایا نہیں کرو
مظلوم کی صدا سے نہ آ جا ئےانقلا ب
اتنا زیا دہ ظلم بھی ڈھا یا نہیں کرو
کوشش کرو سبیلہ کےسب تم سے خوش ر ہیں
ناحق کسی کے دل کو دکھایا نہیں کرو

و ہ شِعر تَعلُق کی علا مَت کہا جِن کو / سِینے میں مِر ے یَا ر اُ تَر کیو ں نہیں جاتے / سید انور جاوید ہاشمی،کراچی

سید انور جاوید ہاشمی،کراچی
دِ ل چا ہتا ہے جا نا جِد ھَر کیو ں نہیں جا تے
د یتی ہے صدَ ا ر ا ہ گُزَ ر کیو ں نہیں جا تے
جُز بُغض و حَسد ملتا نہ ہو جس کی گلی سے
سب جا ن گئے با ر ِ د گَر کیو ں نہیں جا تے
و ہ جا ن ِ جِگَر، شو خ نظَر آ ج جِدھر پہے
اُ س سَمت سبھی ا ہلِ نظَر کیو ں نہیں جا تے
و ہ شِعر تَعلُق کی علا مَت کہا جِن کو
سِینے میں مِر ے یَا ر اُ تَر کیو ں نہیں جاتے
عا شق ہو تو پھر جا ں سے گزرجانے کا غم کیا!،
اِ س رَ ا ہ میں سَر جا تے ہیں،سر کیوں نہیں جاتے

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے /عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے / بسمل صابری

بسمل صابری
وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
وہی ستارہ شب غم کا اک ستارہ ہے
وہ اک ستارہ جو چشم سحر میں رہتا ہے
جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے
وہ شعر بن کے بیاض نظر میں رہتا ہے
گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا
یہ خود تعاقب شام و سحر میں رہتا ہے
مرا ہی روپ ہے تو غور سے اگر دیکھے
بگولہ سا جو تری رہ گزر میں رہتا ہے
نہ جانے کون ہے جس کی تلاش میں بسملؔ
ہر ایک سانس مرا اب سفر میں رہتا ہے







جمعہ، 28 اکتوبر، 2016

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیرِاہتمام اخترحسین رائے پوری کی یاد میں مشاعرہ

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِاہتمام اخترحسین رائے پوری کی یاد میں منعقدہ
مشاعرے کے بعد شعراء و شاعرات کا گروپ فوٹو

بدھ، 26 اکتوبر، 2016

سحرتاب رومانی زندگی کے چاک پر ۔۔۔ رضاالحق صدیقی کا بولتا کالم

غارِ سخن میں بیٹھ کے لکھتا ہوں میں غزل
یہ فن یونہی نہیں ملا لہجوں کے شہر میں 
ہوں دوسروں سے مختلف اپنے مزاج میں 
پہچان میری ہے جدا لہجوں کے شہر میں 
،،زندگی کے چاک پر،، کو میں نے انہی اشعار کے حوالے سے دیکھا ہے۔میں نے اس شعری مجمموعے  میں سحرتاب رومانی کو نہیں صرف شخص کی تلاش کی ہے۔زندگی کے چاک پرکی غزلیں سحرتاب رومانی کی فنی پختگی اور منفرد اسلوب کا منہ بولتا ثبوتہیں۔یہ غزلیں عصرِ حاضر کے شعری اسلوب سے قدم ملا کر چلنے کی تاب رکھتی ہیں۔
سحرتاب رومانی کی شاعری پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ شاعری انسان کے داخلی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔انہوں نے غزل کو  روایت سے ہٹ کرنئے مضامین دئیے ہیں۔ سحرتاب رومانی کے کلام میں خیال اور جذبہ الگ الگ قالب کے طور پر دکھائی نہیں دیتے بلکہ شیر و شکر ہو کر ایک خوبصورت شعر میں ڈھل جاتے ہیں۔

رسا چغتائی کہتے ہیں کہ میں میر و غالب  اور حسرت و فیض سے خوف نہیں کھاتا ہوں کہ ان شعراء کو جو کچھ کہنا تھا اور موضوعات کو جو رخ دینا تھا دے چکے لیکن میں نئے شعراء سے خوف کھاتا ہوں کہ نجانے کون کس وقت کیا لکھ دے اور زندگی کو نجانے کس رخ سے دیکھ لے،اکثر شعراء کے حوالے سے یہ کہہ چکا ہوں  کہ یہ کسی شمارو قطار میں ضرور آ جائیں گے،لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ گذشتہ دو دہائیوں سے سحرتاب رومانی کی شاعری مجھے نہ صرف غور و فکر پر آمادہ کرتی رہی ہے بلکہ ان کے  کئی اشعار پر میں نے بے اختیار داد دی ہے۔سحرتاب رومانی اپنے ہم عصروں میں اعتبار کی منزل پر فائز ہیں۔
دیوار و در سے وحشتیں جاتی نہیں سحر
اک دشت ہے مکاں سے میرے ملا ہوا
زندگی کے چاک پر کا دیباچہ لکھتے ہوئے رفیع اللہ میاں لکھتے ہیں،،سحرتاب رومانی میرے لئے اب بھی ایک ایسے شاعر ہیں جو اشعار کی مشق کے دوران بہت سارے ایسے شعر کہہ جاتے ہیں جنہیں کہنے اور لکھنے کے بعد حذف کر دینا چاہیئے لیکن وہ انہیں اپنی غزلوں میں شامل کر دیتے ہیں۔یہ ایسے اشعار ہوتے ہیں جو الفاظ کے معمولی ردوبدل کے ساتھ بہ کثرت نوآموز اور بے نام شاعروں کے ہاں بطور مشق ملتے ہیں۔اگرچہ رفیع اللہ میاں نے اپنی اس بات کے ثبوت میں کوئی ایسا شعر درج نہیں کیا جو ان کی اس بات کو ثابت کرتا۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابتدا میں ایسا پیرا لکھ کرخود کو سکہ بند نقاد ثابت کرنے کی کوشش ہو لیکن بعد میں انہیں خیال آیا کہ وہ تو دیباچہ لکھ رہے ہیں  سو انہوں نے پینترا بدلا اور رطب اللسان ہو گئے۔
میں نے سحرتاب رومانی کی گذشتہ کتاب،، گفتگو ہونے تک،، پر اپنا کالم لکھتے ہوئے لکھا تھا کہ سحر تاب رومانی ایک جمال پسندشاعرہیں حسن ان کے نزدیک دعوت نگاہ ہی نہیں ایک نغمہ جمال فروز بھی ہے، ان کا مذاق جمال پسندی رفیع اور شدید ہی نہیں جمال انگیز اور ترانہ ریز بھی ہے۔ سحر تاب رومانی نے حسن کو لالہ و گل کے پردوں میں چنگ و رباب کے آئینوں میں دیکھا ہے کہ ان کے مذاق عشق میں بھی سو طرح کی رنگینیاں اور رعنائیاں ابھر آئی ہیں۔ ان کی فنی قدریں تصور جمال سے تخلیق ہوئی ہیں۔ ان کے فکروفن میں حسن محبوب کی شوخیاں سما گئی ہیں۔ان کے اشعار میں جو خوبصورتی ہے وہ کسی کے لطفِ فن کا فیض ہے۔ حسن ان کے قلب و روح میں اس طرح نفوذ کر گیا ہے کہ ان کی آواز خود حسن کی آواز بن گئی ہے۔
،،زندگی کے چاک پر،، کا مطالعہ کرتے ہوئے میرا تاثر ہے کہ اگرچہ شاعری کا سفر تیزی سے آگے بڑھا ہے۔پختہ خیالی میں اضافہ ہوا ہے لیکن سحر تاب رومانی کا رومانی ابھی باقی ہے۔
چاہت کی یہ بارش زندہ رکھتی ہے
دل کو تیری خواہش زندہ رکھتی ہے
تمہاری آرزو جاتی نہیں ہے
فلک پر اک شفق ہے اور میں ہوں 
دشت ہوتی زندگی کے چاک پر
خواب لکھتا، شاعری کرتا ہے کون
میں نے اک روز ترا نام لکھا پانی پر
جس کی برکت سے حسیں پھول کھلا پانی پر
زندہ شاعری کی تخلیق کے لئے صرف موزوں طبع ہونا ہی کافی نہیں ہوا کرتاجب تک کہ شعری ہنروری کے مطالبات سے آگہی حاصل کرتے ہوئے ریاضت کا وطیرہ اختیار نہ کر لیا جائے، درحقیقت ریاضت ہی فکری مواد کی رواں ترسیل کے لئے با سلیقہ طریق اظہار متعین کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اور ریاضت ہی کی بنیاد پر تخلیق کار اپنے فکری نتائج پر منحصر مضامین سہولت کے ساتھ پیش کرنے کا شعری میکنزم ترتیب دے کراس کا ثمر حاصل کرتا ہے۔اپنے اسلوب کے اعتبارات قائم کرنے کے لئے شاعر کو بہر طور اپنے احساسات و جذبات کے اظہاری توازن کے معیارات مقرر کرنے ہوتے ہیں۔
تھا خدا سے بہت ضروری کام
اس لئے دیر تک عبادت کی
تیری نگاہ میں رہے بجھتا ہوا دیا
ورنہ تو کائنات میں ہم آفتاب تھے
سحر تاب رومانی کی غزلیں ان کی شخصیت کی آن بان رکھتی ہیں اور ان کے طرز حیات کا پتہ دیتی ہیں۔ ان کے جذبات میں، ان کے فکر و تخیل میں ایک دھیمی معتدل کیفیت اور ان کے تجربات کی صداقت کا عنصر نظر آتا ہے۔

سوموار، 24 اکتوبر، 2016

دیکھا تیرا امریکا (تیسری قسط) / رضاالحق صدیقی




اجنبی شہر میں عید


پاکستان سے ہم 22 روزے گزار کر چلے تھے۔ باقی روزے یہاں بچوں کے ساتھ رکھے لیکن یہ روزے بڑے پھیکے پھیکے تھے، ناں اذان کی آواز، ناں نزدیک کوئی مسجد، بس فون پر سیٹ کی ہوئی واشنگٹن کے وقتِ سحر و افطار پر ابھرنے والی اذان سحری اور افطاری کے اوقات کا پتہ دیتی تھی۔ سچ مانیں اپنا پاکستان بہت یاد آیا، یوں ایک ہفتہ اسی حالت میں گزرا اور پھر عید کا دن آپہنچا۔
پاکستان میں تو عید بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے لیکن یہاں وہ نظارے کہاں۔ چاند رات کو دو آپشن تھے ایک تو یہ کہ چاند رات میلے میں چلے جاتے، جہاں کھانے پینے کے اسٹال لگے ہوتے اور پاکستان یا ہندوستان کا کوئی تھکا ہوا گلوکار آپ کو بوریت کی انتہا کو پہنچا دیتا۔ دوسرا آپشن عدیل نے ہمارے سامنے رکھا کہ چلیں واشگٹن ڈی سی چلتے ہیں جہاں امریکہ کے کچھ مقامات دیکھ لیں گے، ہمیں چاند رات میلے میں تو کوئی دلچسپی نہیں تھی سو فیصلہ یہ طے پایا کہ واشنگٹن کی سیر کی جائے۔
واشنگٹن ڈی سی میں عدیل نے مونومنٹ کے نزدیک پارکنگ ایریا تلاش کرکے گاڑی پارک کی۔ امریکہ کا کوئی بھی شہر ہو پارکنگ تلاش کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ سڑک سے مونومنٹ تک خاصی چڑھائی ہے۔ وہاں پہنچ کر عدیل نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ امریکہ کے پہلے صدر کی ’سمادی‘ ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں دفن ہے؟ اس نے بتایا کہ نہیں دفن تو وہ کسی قبرستان میں ہی ہوگا یہاں صرف اس کا دیوقامت مجسمہ رکھا ہوا ہے، یہ اس کی یادگار ہے۔ موونومنٹ سے چاروں جانب ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر یادگاریں ہیں۔ ابراہم لنکن میموریل کے بالمقابل یو ایس کیپٹل ہے جسے عموماََ وائٹ ہاؤس سمجھا جاتا ہے لیکن یہ امریکی حکومت کے قانون ساز ادارے کانگریس کی اسمبلی ہے۔ یہ عمارت 215 سال پرانی ہے۔ اس عمارت کی تعمیر 1793 میں شروع ہوئی اورسن 1800 میں اسے استعمال کے لئے کھول دیا گیا۔
اسے روسل سینٹ آفس بلڈنگ بھی کہا جاتا ہے۔ سن 1800ء میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو اس وقت اس عمارت کے اوپر نظر آنے والا گنبد تعمیر نہیں ہوا تھا، بعد میں اس کے توسیعی منصوبے کے تحت اس میں ایک بڑے گنبد کا اضافہ کیا گیا، اس عمارت کو نیو کلاسیکل اسٹائل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس عمارت کے اگرچہ دو فرنٹ ہیں لیکن اس کا مشرقی فرنٹ ہی وفود کے استقبال کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ عمارت گزشتہ 2 سو سال میں کئی بار تباہ ہوئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ مرمت اور تزئین و آرائش کا کام جاری رہتا ہے۔ اب بھی ایسا ہی کچھ کام ہورہا تھا جس کے لئے اس کے گنبد کے ارد گرد اسٹیل کے مچان اور سہارے لگائے گئے ہیں۔ سن 2014ء سے شروع ہونے والا یہ کام سن 2017ء کے اوائل میں مکمل ہوسکے گا۔
عدیل کو یہاں آئے چار سے پانچ سال ہوگئے ہیں اس لئے اسے اب یہاں کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔ جب وہ یہ سب کچھ مجھے بتاچکا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اگر یہ وائٹ ہاؤس نہیں ہے تو وائٹ ہاؤس کہاں ہے؟ مونومنٹ پر کھڑے کھڑے اس نے کہا کہ دو اطراف کا تو میں نے آپ کو بتا دیا اب وہ تیسری جانب دیکھیے وہ رہا وائٹ ہاؤس۔ درختوں کی اوٹ سے ایک سادہ سی عمارت اپنی ہلکی سی جھلک دکھا رہی تھی اور چوتھی طرف امریکہ کے تیسرے صدر جیفرسن کی سمادی نظر آرہی تھی۔ مجھے وائٹ ہاؤس دیکھنے کا شوق تھا لیکن رات کافی ہوگئی تھی اور اگلے روز عید تھی اس لئے ہم نے واپسی کی راہ لی۔
گھر پہنچ کر ہمارا چائے کا مطالبہ زور پکڑگیا اس لئے خواتین آتے ہی کچن میں چلی گئیں، اور عدیل بتانے لگا کہ یہاں عید کی نماز کے 3 ٹائم ہیں۔ ایک صبح سات بجے، دوسرا ساڑھے دس بجے اور تیسرا ساڑھے گیارہ بجے۔ اب ایسا ہے پاپا کہ آفس سے آنے کے بعد ابھی ہم واشنگٹن کا چکر لگا کر آئے ہیں، اور میں بہت تھک گیا ہوں سات بجے والی نماز کے لئے پانچ بجے اٹھنا پڑے گا جو میرے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ساڑھے دس بجے والی جماعت میں نماز ادا کرلیں گے۔ ٹھیک ہے، کہاں ہوتی ہے نماز؟ مسجد کدھر ہے یہاں؟ مسجد تو نہیں ہے، مسلم کیمونٹی کوئی ہال کرایہ پر لے لیتی ہے اور وہاں نماز کی ادائیگی ہوتی ہے۔ یہاں سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر ورجینیا میں مسلم کیمونٹی والوں نے عید کی نماز کا انتظام کیا ہے، اور بھی ایک دو جگہ ہے لیکن ہم وہیں پڑھیں گے۔
میری لینڈ، واشنگٹن اور ورجینیا، راولپنڈی اسلام آباد کی مانند جڑواں ریاستیں ہیں۔ عدیل میری لینڈ کے شہر سلور اسپرنگ میں واشنگٹن کے سرحدی علاقے میں رہتا ہے۔ وہاں سے پہلے واشگٹن میں داخل ہوتے ہیں اسے کراس کرتے ہوئے ورجینیا پہنچ جاتے ہیں اور انٹراسٹیٹ ہائی وے نمبر 495 ان اسٹیٹس کو ملانے والی شاہراہ ہے۔ عید کے روز ہم تقریباََ ساڑے نو بجے گھر سے نکلے اور اس ہال میں پہنچ گئے جہاں نماز کا اہتمام تھا۔ وہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا جس سے لگ رہا تھا کہ واقعی عید ہے، ایک بات جو میں نے محسوس کی کہ لوگ پکنک منانے کے انداز میں وہاں آئے ہوئے تھے۔ مرد، خواتین، بچے سبھی وہاں تھے۔ زیادہ تر لوگ مغربی لباس میں ہی تھے لیکن بہت سی فیملیز پاکستان کے قومی لباس میں بھی تھیں جن میں ہم بھی شامل تھے۔ آٹھ دس دن کے بعد شلوار قمیض میں امریکہ میں پھرنا اچھا لگ رہا تھا۔
ہال کے اگلے حصے میں مردوں کا انتظام تھا، درمیان میں ایسے افراد کے لئے جو بیٹھ کر نماز ادا نہیں کرسکتے، کرسیوں کا انتظام تھا۔ پیچھے خواتین نماز کے لئے موجود تھیں۔ سب کچھ اپنی جگہ تھا لیکن عید کی نماز پڑھنے کا مزا اپنے پاکستان میں ہی آتا ہے یا ہمیں پاکستان میں ادا کی جانے والی نماز کا انداز پسند ہے۔ یہاں جماعت کھڑی ہونے سے پہلے خطبے کے بجائے مسلم کیمونٹی کے لئے کام کرنے والے خواتین و حضرات کے تعارف کا ایک سلسلہ ہوا، جو صفوں کے سامنے قطار میں کھڑے تھے، پھر مختلف اعلانات کئے گئے اور باجماعت نماز ادا کر دی گئی۔
پاکستان سے امریکہ آبسنے والی اداکارہ ’ریما‘ بھی خواتین والے حصے میں موجود تھیں۔ جب ہم نماز کے بعد وہیں ایک حلال ریستوران میں لنچ کرنے جا رہے تھے تو ہماری بہو نے ہمیں بتایا کہ بڑی سادہ سی لیکن اچھی لگ رہی تھیں ریما۔ کھانے کے بعد سیلفیوں کا ایک دور چلا، یہ سیلفی کلچر نجانے ہم میں کہاں سے آن ٹپکا ہے لیکن جو بھی اچھا ہے، یادگار ہے

اتوار، 23 اکتوبر، 2016

احمد رضا راجا ۔۔ ایک تعارف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :ارشد محمود راشد

مجھ پہ تحقیق مرے بعد کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے مرے بعد زمانے والے
.احمد رضا راجا منفرد شاعر ہیں جو قاری کے دل میں اترنے کا فن جانتے ہیں.ان  کا اولین شعری مجموعہ ،،محبت ہمسفر میری ، 2004ء میں منصہ شہود پر نمودار ہوا۔ایک شعری انتخاب ،، بھلے دنوں کی بات ہے ،، 2007ء میں شائع ہوا۔
.احمدرضا راجا25دسمبر1977ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور دھمیال گاؤں ،راولپنڈی میں ہی سکونت پزیر ہیں
شاعری کا آغاز 1997ء سے کیا
راجا ہاؤس کو پنڈی کی ادبی سرگرمیوں میں مرکز کی حیثیت حاصل ہے شہر بھر کی ادبی تنظیمیں یہاں مشاعروں کے اہتمام کو اعزاز سمجھتی ہیں وہ کئی ادبی تنظیموں سے منسلک ہیں سابق جنرل سیکرٹری حلقۂ ارباب ِ ذوق راولپنڈی ،سابق وائس چیرمین ملک گیر ادبی تنظیم سخنور ،سابق جنرل سیکرٹری حرف اکادمی پاکستان،
چیئرمین ادبی تنظیم شغف ،راولپنڈی،جنرل سیکرٹری عالمی ادبی تنظیم ارتقا،پاکستان 
آئیے ان کے کلام سے کچھ اشعار دیکھتے ہیں
مجھ پہ تحقیق مرے بعد کرے گی دنیا
مجھ کو سمجھیں گے مرے بعد زمانے والے
مصلوب کر دیا گیا اس جرم پر مجھے
انسانیت پہ جبر نہیں تھا قبول بس
نجانے شوق ہے کیوں ہر کسی کو کج کلاہی کا
بھلا دستار کے اندر بھی کوئی سر بدلتا ہے
لوگوں نے اس کو میری محبت سمجھ لیا
راجا وہ مجھ کو جان سے پیارا تھا اور بس
کیا ہے جو ایک شخص ہمارا نہیں ہوا
ایسا جنوں میں کس کو خسارا نہیں ہوا 
جو چھوڑ گیا دیدۂِ پرنم میں اندھیرے
وہ شخص کبھی آنکھ کا تارا تھا ہمارا
تم اپنی پیار کہانی کو عام مت کرنا
زمانہ ایسے فسانے بہت اچھالتا ہے
جب اس کی یاد رگ و پے میں دوڑتی ہے میاں
فشارِ خون سے دل پر دباؤ آتا ہے
بس اتنا جانتا ہوں کہ آواز اس کی تھی
اتنا پتہ ہے اس نے پکارا تھا اور بس
جدا ہو کر بھی دونوں جی رہے ہیں
کوئی تو ایک مرنا چاہئیے تھا
وہی مجھے بھی وسیلے حیات کے دے گا
جو پتھروں میں چھپی زندگی کو پالتا ہے
ستم سرشت میں اس کی شدید رکھا ہے
سو نام ہجر کا ہم نے یذید رکھا ہے
مجھ سے اب پوچھتی ہے روز مری بینائی
کوئی تعبیر بھی ہے خواب دکھانے والے 
یہ کون آیا ہے دل کے مدینے میں،احمد
درود پڑھتے ہیں پتھر ، درخت جھومتے ہیں
کسی دلیل سے قائل وہ ہو نہیں سکتا
کسی نتیجے پہ وہ نکتہ چیں نہیں آتا
عشق کے امتحان میں سب نے
نقل کی ، نقل بھی ہماری کی
جسے ہوا کے مخالف اڑان بھرنی ہو
وہ پنچھی اڑتے ہوئے پر کہاں سنبھالتا ہے
عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جانِ احمد
ٹھنڈی ہو جائے تو پڑ جاتی ہے کالی چائے
میری طرف سے خیر ہے لیکن دعا کرو
تم کو معاف کر دے مرا ذوالجلال بھی
طلب جو کرتے مسلسل مراد بر آتی
چٹان میں بھی تو آخر کٹاؤ آتا ہے

ہفتہ، 22 اکتوبر، 2016

شہر میں کسے انور ڈھونڈتے پھرو گے تم / ہیں نقاب میں سب ہی کس سے کیا گلہ ہونا / انور زاہدی

انور زاہدی
خوف کی علامت ہے رات کا سوا ہونا
اس لئے تو لازم ہے ہاتھ میں دیا ہونا
تیری یاد سے غافل کس طرح بھلا ممکن
جب تلک ہے تن پہ سر سانس کا روا ہونا
حاجتیں ضروری ہیں زندگی کے دامن میں
زندگی میں لازم ہے زندہ و بقا ہونا
شہر کے مکاں کہنہ گلیوں کی زباں ساکت
رسم اک پرانی ہے مر کے ہی جلا ہونا
شہر میں کسے انور ڈھونڈتے پھرو گے تم
ہیں نقاب میں سب ہی کس سے کیا گلہ ہونا

بدھ، 12 اکتوبر، 2016

عارفہ شہزاد کی ،،عورت ہوں نا،، ۔ تشکیکی رویے کی شاعری ہے ۔ رضاالحق صدیقی

کچھ دیکھا کچھ ان دیکھا سا۔۔۔ دھندلا ایک ہیولیٰ
کون ہے؟ کیا میں؟یا پھر تو ہے؟
بات یہ کون بتائے
دیواروں پرگھٹتے بڑھتے،کالے پیلے سائے
روزن سے چپکی آنکھوں نے راز انوکھے پائے
دور کہیں در ہیں کچھ روشن
آنکھ وہیں جم جائے
انسان اپنی ہجرتِ زمینی کے بعد سے اسی قسم کے گماں میں مبتلا ہے۔سوالات کا ایک انبوہ ہے، ربِ عظیم نے اگرچہ سب کچھ انسان کو سکھایا لیکن پھر بھی سوچ میں ڈوبا رہا یہ انسان۔ اس زمین پر اتارے جانے کے بعد جب مشرق سے سورج نے سر اٹھایا تو اس نے سمجھاکہ یہی میرا رب ہے اور اس نے اس کے سامنے سر جھکا دیا لیکن جب رات کے سیاہ بادل اسے مغرب میں ڈبو گئے تو انسان نے کہا یہ میرا رب نہیں ہو سکتا  کیونکہ میرے رب کو فنا نہیں ہے۔

یہی سوچ ازل سے انسان کے ساتھ ہے۔ایسا بہت کم ہے کہ ادب میں تشکیک کو شاعروں نے اپنا موضوع بنایا ہو۔عورت ہوں نا، پڑھتے ہوئے میرا گمان ہے کہ عارفہ شہزاد بھی انسانی نفسیات میں پیدا ہونے والے تشکیکی رویے کو اپنی شاعری میں استعمال کرتی ہیں۔
خیال آفرینی ایک پیٹرن کا نام ہے،ایک ایسا پیٹرن جو ہمہ وقت تغیر پذیر رہتا ہے  مگر اس تغیر پذیر پیٹرن کے اندر ایسا اتار چڑہاؤ ہے جو تغیرات کے باوجود پیڑن کی ساخت کو قائم رکھتاہے۔
خیال آفرینی کا ایک امتیازی وصف یہ ہے کہ یہ دوئی پر استوار ہوتا ہے ”ایک“ کی کوئی ساخت نہیں ہوتی لیکن جب ایک دو میں تقسیم ہوتا ہے اور دونوں حصے ایک دوسرے کے روبرو آجاتے ہیں تو ایک ایسا رشتہ ابھرتا ہے جس سے لاتعداد نئے رشتے پھوٹ پڑتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب ایک آئینے کے مقابلے میں دوسرا آئینہ رکھ دیا جائے تو عکسوں کا ایک لا متناہی سلسلہ جنم لیتا ہے اور اس طرح ایک کے اندر دوئی کے جنم اور پھر اس کے دائرہ در دائرہ پھیلاو سے رشتوں کی ایک پوری دنیا آباد ہو جاتی ہے جسے ہم پیٹرن کہتے ہیں۔
چکھ آئی ہوں ممنوعہ پھل
کون سا رب ہے جو دیکھے گا
طاق عدد میں طاق ملایا
جفت کا جوڑا آپ بنایا
کون اتارے گا جنت سے
رکھ آئی ہوں آپ زمیں پر
تن من اپنا
ٹی ایس ایلیٹ کا کہنا ہے کہ ہر نئی تخلیق کے وقت شاعر کو ہر نظم میں لفظوں کو نئے انداز میں استعمال کرنا ہوتا ہے اور نئی نظم کا پیرایہ اس کی دوسری نظموں کے پیرایہ سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ موجودہ کیفیات نئے احساس اور نئے مطالب کی متقاضی ہیں۔
عارفہ شہزاد کی نظم اس حوالے سے منفرد ہے کہ اس کی ہرنظم اپنا پیرایہ خود لے کر آتی ہے۔ان کی نظم کا بین السطور جس ہیت کا متقاضی ہوتا ہے عارفہ شہزاد کا مزاج اس بین السطور کے مطابق  زبان اور ہیت عطا کرتا ہے۔
عارفہ جذبوں کی شاعر ہے اور اس کے جذبے سچے ہیں جنہیں اس نے ادبی دیا نت داری کے ساتھ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔وہ وقارِ فکر کی قائل ہیں۔وہ تطہیرِ فن کی بات کرتی ہیں۔لوح و قلم کی حرمت ان کا مسلک اور انسان دوستی ان کا مذہب ہے۔انہوں نے نظم کے وسیلے سیمثبت انسانی اقدار کو پورے ادبی حسن اور فنی رچاو کے ساتھ قاری تک پہنچایا ہے۔
یہ ہے فخرِ آدم
کہ بس ابنِ آدم
امینِ خدا ہے،قرینِ خدا ہے
یہ ہستی مری
کیا فقط واسطہ ہے؟
یہ تسلیم ہے
میں صحیفوں میں تو
عابدہ،مومنہ،صالحہ کے لقب سے پکاری گئی تھی
مگر جب فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا تھا
تو حوا کہاں تھی؟
یہ گیانی پرواز ہے جس سے سوالوں کے سیکڑوں نغمے پھوٹ رہے ہیں جو سننے والوں کے دل میں اتر کر اثر پذیر ہے۔یقیناََ عارفہ ان شاعروں میں سے ہیں جن کے وجود سے عروسِ نظم کا باکپن باقی ہے۔عارفہ نے لفظ و بیان کی جو قندیل روشن کی ہے۔
اس گیانی پرواز کے بعد ایک بار پھر شکوہ کناں ہیں۔
صحیفے تم پہ اترے ہیں 
تمہارا نام ہے نامی
مرے حصے میں ہے پس پیروی یا ایک ناکامی
تمہاری مہر ہے سکہ تمہارا
لفظ بھی سارے  تمہارے ہیں 
تمہارا نام ہے تاریخ کے سارے ہی خانوں میں 
مری تو سوچ  تک محبوس ہے
بس گھر کے کاموں میں 
عارفہ شہزاد اپنے شعری سفر میں اپنی آنکھ کے ہفت آئینے میں وجود،دنیا،کائنات اور اس کے مظاہرات کے کتنے ہی عکس ابھارتی ہیں جو ایک دوسرے سے جدا بھی ہیں اور آپس میں جڑے ہوئے بھی ہیں۔ہر عکس میں شاعرہ کے انتہائی ذاتی مشاہدے اور تجربے کا رنگ نمایاں ہے جو بڑی بے ساختگی سے آشکار کی گئی ہیں۔
مجھے چاہیئے ہیں 
تمہاری آنکھیں 
زمیں کی کوکھ سے پھوٹتی
سرَ خوشی کے رنگ دیکھنے کے لئے
اور تمہاری سماعت
بارش میں 
قطرۂ ِ نسیاں کی آہٹ سننے کے لئے
اور تمہارے ہونٹ
سورج کی تمازت کا لمس
جذب کرنے کے لئے
اور تمہارے ہاتھ
ہوا کی ہتھیلی پر
حیرت کی داستاں لکھنے کے لئے
اور مجھے چاہیئے ہے
تمہاری ساری محبت
تم سے محبت کرنے کے لئے
عارفہ شہزاد کی،،عورت ہوں نا،،فیمنسٹ کا نہیں تشکیک کا استعارہ ہے۔
۔

جمعرات، 6 اکتوبر، 2016

ہرے درخت سے لپٹی ہوئی یہ کاسنی بیل / اداس ہوتی ہے لیکن اداس کرتی نہیں / سعود عثمانی

سعود عثمانی
وہ دن گزر گئے ، وہ کیفیت گزرتی نہیں
عجیب دھوپ ہے دیوار سے اترتی نہیں
ہرے درخت سے لپٹی ہوئی یہ کاسنی بیل
اداس ہوتی ہے لیکن اداس کرتی نہیں
ہوائے درد ! محبت کی تمکنت بھی تو دیکھ
کہ مشت ِ خاک ہے لیکن کبھی بکھرتی نہیں
تُو اس عذاب سے واقف نہیں کہ عشق کی آگ
تمام عمر جلا کر بھی راکھ کرتی نہیں
کوئی دلاسا ملا ہے تو رودیا ہوں سعود
یہ لمسِ حرف نہ ہوتا تو آنکھ بھرتی نہیں