ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 22 اگست، 2016

کراچی میں جدید شاعری کے نمائندہ شاعر رئیس فروغ کی برسی کے موقع پر ان کی کتاب''رات بہت ہوا چلی'' کے دوسرے ایڈیشن کی تقریبِ رونمائی

بزم رئیس فروغ کے زیر اہتمام 
جدید شاعری کے نمائندہ شاعر
رئیس فروغ کے برسی کے موقع پر
ان کی کتاب''رات بہت ہوا چلی'' کے دوسرے ایڈیشن کی رونمائی کی تقریب ان کے صاحبزادے طارق رئیس فروغ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی.
صدارت پروفیسر اشتیاق طالب نے کی
مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی 
نظامت حنیف عابد...پروگرام شروع ہونے سے قبل معروف شاعر، ادیب اور مدیر ’اجرا‘ مرحوم احسن سلیم اور رئیس فروغ مرحوم کی مغفرت کیلیے دعا کی گئی اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
جن احباب نے رئیس فروغ مرحوم کے فن اور شخصیت کے حوالے سے اپنی آراء پیش کیں ان کے اسمائے گرامی ہیں:
محترم انور جاوید ہاشمی

محترم شہاب الدین شہاب
محترم نوخیز انور صدیقی
محترم عقیل عباس جعفری
محترم سرور جاوید
محترم معراج جامی
محترم صابر وسیم
محترم رئیس احمد فاروقی (ترنم کے ساتھ رئیس فروغ کا کلام سنایا)
محترم احمد حاطب صدیقی
مقررین نے رئیس فروغ کے فن اور شخصیت کے بارے میں اپنی بھرپور آراء پیش کیں۔ ’’رات بہت ہوا چلی ‘‘ کے دوسرے ایڈیشن پر خوشی کا اظہار کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کا شائع ہونا وقت کی بہت اہم ضرورت تھی تاکہ ہماری نئی نسل رئیس فروغ کی شاعری سے آگاہ ہو سکے۔ کتاب کے دیباچے (جس میں ملکہ الزبیتھ اور لیڈی ڈائنا کی لڑائی کا قصّہ لکھا ہے۔جو کہ کچھ احباب کے نزدیک روایت اور جدیدیت کی لڑائی کا سمبل ہے۔)پر کچھ مقررین نے اعتراضات بھی اٹھائے کہ اس میں موجود دیباچہ شمیم نوید کی بہت بڑی غلطی تھی، جسے اس کے دوسرے ایڈیشن میں شائع نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ طارق رئیس فروغ نے آئندہ ایڈیشن میں اس دیباچے کو حذف کرنے کی حامی بھرلی۔ جبکہ رئیس فروغ کو اردو غزل کا ایک بڑا اور صاحب اسلوب شاعر ماننے میں سب یک زبان تھے۔
اس کے علاوہ رئیس فروغ کی بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کی کتاب ’’ ہم سورج چاند ستارے‘‘ کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ جسے دوبارہ شائع کرنے کی تجویز دی گئی۔ رئیس فروغ کے لکھے گئے مشہور معروف گیت ’’ میری ہمجولیاں کچھ یہاں کچھ وہاں ‘‘ کو بھی یاد کیا گیا۔
حاضرین میں.  ,حترم صفدر صدیق رضی,  محترم جاوید صبا.,محترم قیصر منور,محترم نوید عباس سیمانمحترم فاروق احمد,محترم ,وشاد احمد,محترم سعید آغا,محترم محسن سلیم,محترم ڈاکٹر عبد المختار,محترم اقبال خورشید,محترم شبیر نازش,محترم نورالہدی سید,محترم ,,راج جامی,محترم آفتاب مضطر,محترم سلیم صدیقی,محترم راشد نور,محترم حفیظ انصاری,محترم نعیم خان,محترم محبوب خاں ,ادب و شاعری سے متعلقہ شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت  کی
پروگرام کے آخر میں سحر انصاری اور نورالہدی سید نے بهی شرکت کی
اس تقریب میں بزم رئیس فروغ کی جانب سے
پروفیسر سحر انصاری کو ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز ملنے پر شیلڈ پیش کی گئی
.....................
رپورٹ: سید انور جاوید ہاشمی

منگل، 16 اگست، 2016

ختم ہو جائےگا یہ عہد اور اس کے قصے / کون جیتا ہے بھلا دل پہ غبار آنے پر/ انور زاہدی

کون کرتا ہے مجھے یاد بہار آنے پر
دیکھ تو لوں میں اسے ایکبار آنے پر
گھر سے نکلا تو خزاں رت کا کرم تھا پھیلا
لوٹ کے دیکھا بہار آئی خمار آنے پر
کس قدر چاہا تمہیں یہ تو نہیں یاد مجھے
آو مل بیٹھیں کسی طور قرار آنے پر
دیکھ تو مڑ کے کبھی مثل صبا تو مجھ کو 
آگ گلشن میں لگی کیسے نکھار آنے پر
ختم ہو جائیگا یہ عہد اور اس کے قصے 
کون جیتا ہے بھلا دل پہ غبار آنے پر
سارے وعدے وہ وفائیں وہ دعائیں انور 
گن نہ پائے گا کوئی وقت شمار آنے پر

بدھ، 10 اگست، 2016

حلقہ اربابِ ذوق کراچی کا اجلاس،گرد کا طوفان، اقبال خورشد اور سویرا


حلقہ ارباب زوق کراچی کی  منگل کو منعقد ہونے والی  نشست میں  اقبال خورشید نےاپنا نوویلا "گرد کا طوفان" پیش کیا۔تقریب میں اقبال خورشید کے ،،گرد کے طوفانِ،، کو بڑی توجہ اور دلچسپی سے سنا گیا۔
 توقع ہے کہ یہ نوویلا جناب سلیم الرحمان کی ادارت میں نکلنے والے معتبر جریدے "سویرا" کے اگلے شمارے میں شامل ہوگا۔

منگل، 9 اگست، 2016

مہک رہے ہیں مری ٹہنیوں پہ رنج کے پھول / کسی کے زخم کی صورت ہرا ہوا ہوں میں / قمر رضا شہزاد

قمر رضا شہزاد
محبتوں سے جو اتنا ڈرا ہوا ہوں میں 
کسی کے دکھ سے لبالب بھرا ہوا ہوں میں
طلوع ہوتی ہوئی روشنی کو کیا معلوم
کسی منڈیر پہ کب سے دھرا ہوا ہوں میں
ہر ایک حال میں کہنا پڑے جو تیری رضا 
یہ زندگی ہے تو سمجھو مرا ہوا ہوں میں
مہک رہے ہیں مری ٹہنیوں پہ رنج کے پھول 
کسی کے زخم کی صورت ہرا ہوا ہوں میں
بلا کا کھوٹ تھا میرے وجود میں شہزاد 
لہو کے سیل میں بہہ کر کھرا ہوا ہوں میں

تشنگی(نظم) ۔ حشمت لودھی

حشمت لودھی
ابھی ساون نہیں برسا 
اندھیری رات کی حابس فضا اٹکی ہے سینے میں 
فقط جگنوں چمکتے ہیں
یا اشکوں کے دءے ہیں 
جھلملاتے ہیں 
بھیگی پلکوں پر 
ابھی جنگل نہیں گزرے 
نہ دریا پار اترے ہیں 
کسی منظر میں کوئی راستہ ایسا نہیں 
جو ہمسفر ٹھرے 
سبھی راستوں کو گہری دلدلوں نے گھیرا ہے 
ادھورا ایسا ہی قصہ مری پوری کہانی ہے 
کہانی کا ہر اک منظر مری کھوئی جوانی ہے 
کہانی میں خوابوں کی دل آویز بستی ہے 
مجھے اس پار جانا ہے 
مرا اک خواب باقی ہے 
وہاں جاکر سنا نا ہے 
یہی تو سارےقصے میں 
مرا اک کام باقی ہے 
کہانی. ہو چکی لیکن 
ابھی انجام باقی ہے

سوموار، 8 اگست، 2016

ہر ایک وصف سے ہے متٰصف ، خدا کی ذات / بِنائےمدحت ِ یزداں بنی ہے ، مدح ِ رسول / محمد سلیم طاہر

محمد سلیم طاہر

مرے وجود میں رچ ، بس گیء ہے مدح ِ رسول
مری تو گھٹی کے اندر پڑی ہے ، مدح ، رسول
مرے یقین کی ، کل کایٰنات ، حبٰ ِ نبی
مرے گمان کی بارہ دری ہے مدح ِ رسول
سبھی فرشتوں کے لب پر ، ثنائےشاہ ِ امم
خدا نے ہاتھ سے تحریر کی ہے مدح ِ رسول
دعایٰیں نبیوں نے مانگیں اسی وسیلے سے
زبان ِ حضرت ِ آدم نے کی ہے مدح ِ رسول
مرے وجود سے پہلے بھی ، ذکر تھا ان کا
مرے شعور نے دم دم سنی ہے مدح ِ رسول
میں صبح و شام ، محمد کا ذکر کرتا ہوں
مری نجات کی ضامن بنی ہے ، مدح ِ رسول
ہر ایک وصف سے ہے متٰصف ، خدا کی ذات
بِنائےمدحت ِ یزداں بنی ہے ، مدح ِ رسول

اتوار، 7 اگست، 2016

ہر گوشہء بساط ہے موج_طرب سے شاد/ انجم! جہاں ہے وجد میں آیا ہوا تمام/انجم عثمان

یہ ابر و برشگال! یہ بادِصبا تمام! 
مہکا ہے بوئے گل سے نشیمن مرا تمام!
سبزے کے پیراہن پہ ستارے بکھر گئے! 
لالے کے رخ پہ نکھری ہے قوسِ قزاح تمام!
جوش_جنوں سے ساغر و مینا ہیں رقص میں! 
ساقی کے اختیار کا قصہ ہوا تمام!
سرو و سمن ہیں کیف کے عالم میں پر فشاں! 
اور آسماں ہے جام بکف! جھومتا تمام!
اک انبساط! اے دلِ خستہ! کشید کر! 
بسمل بھی آج ہو گئے نغمہ سرا تمام!
ہر گوشہء بساط ہے موج_طرب سے شاد! 
انجم! جہاں ہے وجد میں آیا ہوا تمام!