ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


اتوار، 31 جولائی، 2016

تری تلاش میں روشن کروں دئیے انور/ ڈھلے جو دن تو ستارے کی طرح شام آو/ انور زاہدی

کبھی تو پہلے ستارے کی طرح شام آو
تم آو دل میں نظارے کی طرح شام آو
صبح جو ڈوبے قمر تم ہی طلوع ہو جاو
ڈھلے جو دن تو کنارے کی طرح شام آو
بحر کی طرح ہر اک لہر میں اٹھو ایسے
میں تم میں ڈوبوں سہارے کی طرح شام آو
پرانی یاد کی ساری محبتوں کی طرح
چمک کے ایک شرارے کی طرح شام آو
مری کتابوں میں لفظوں کی طرح روشن ہو
میری یادوں میں اشارے کی طرح شام آو
تری تلاش میں روشن کروں دئیے انور
ڈھلے جو دن تو ستارے کی طرح شام آو

جمعہ، 29 جولائی، 2016

گنبد ِسبز سے ، روشن ہوا سینہ میرا /میں تو کہتا ہوں کہ میرا ہے مدینہ میرا / محمد سلیم طاہر

گنبد ِسبز سے ، روشن ہوا سینہ میرا
میں تو کہتا ہوں کہ میرا ہے مدینہ میرا
قریہء ہجر میں ، دن رات پڑا رہتا ہوں
یہی جینا ہے تو پھر خاک ہے جینا میرا
مجھ کو انگلی سے پکڑ ، راہِ ہدایت پہ چلا
اب تو سیدھا ہے ، سلیقہ نہ قرینہ میرا
مجھ کو خود عشق کے آداب سکھا دے مولا
اب تو کھانا ، مرا کھانا ہے نہ پینا میرا
دل کروں فرش تری راہ میں، میں آنکھیں بچھاؤں
تیرے قدموں کو ، ترستا ہے یہ زینہ میرا
دیر تک رات کو سونے نہیں دیتا مجھ کو
اتنا مشتاق ہے ، یہ دیدہء بینا میرا
مجھ کو آقا سے محبت مرے مولا نے سکھایء
اس میں پھر ایک ہوا ، خون پسینہ میرا
یہ جو دل ہے یہ مرے سینے میں پہلے بھی تھا
تو نے چمکایا ، تو چمکا ہے ، نگینہ میرا
نا امیدی میں بھی ساحل سے لگا رہتا ہے
اک سفینے سے بندھا ہے یہ سفینہ میرا
میرا دشمن بھی جو ملتا ہے تری نسبت سے
اک محبت میں بدل جاتا ہے ، کینہ میرا
میری پہچان بنا ، چاک گریبان مرا
آپ ہی آپ ادھڑ جاتا ہے ، سینہ میرا
مسلک ِ عشق میں عاشق ہے شہیدوں کے مثیل

محمد سلیم طاہر

اتوار، 17 جولائی، 2016

دن بھرا دھوپ کا سپنوں سے سجے ہیں بادل / شام جب آئے تو منظر کو سجائے اترے /انور زاہدی

انور زاہدی
پھر ہوئی شام تو دیوار سے سائے اترے
وہ مجھے دیکھنے پھر بام سے آئے اترے
کون کرتا ہے کسے یاد محبت نہ ہو گر
آئے ملنا ہے جسے آنکھوں میں آئے اترے
دن رہا دھوپ کے میدان میں صحرا جیسے
شام آئے تو گھٹا کی طرح چھائے اترے
دن بھرا دھوپ کا سپنوں سے سجے ہیں بادل
شام جب آئے تو منظر کو سجائے اترے
سرمئی شام میں انور ہے تری یاد ہوا
رات جب آئے چراغوں کو جلائے اترے

موسمِ نو بہار پھر آیا / حسرتِ دل فگار پھر آئی/ انجم عثمان


انجم عثمان
موسمِ نو بہار پھر آیا 
حسرتِ دل فگار پھر آئی
محوِگریہ و ماتم وفغاں ہوں میں 
فرصتِ یاد_یار پھر آئی
ہوگئ مہرباں قضاء آخر 
اک سکوت و قرار پھر آیا
پھر سے شب بارشوں کی آئی ہے 
گریہء بے قرار پھر آیا
موسم_نو بہار باز آید! 
حسرتِ دل فگار باز آید!
گریہ و ماتم وفغاں می کنی! 
فرصتِ یاد_یار باز آید!
آخرش مہرباں قضاء باشی! 
اک سکوت و قرار باز آید!
تار_شب ہاےء برشگال کنی! 
گریہء بے شمار باز آید!

ہفتہ، 2 جولائی، 2016

وہ عشق ہے عرفاں ہے وہ عقل ہے برہاں ہے / ہر فکر و عمل اسؐ کا آئینۂ قرآں ہے / جلیل عالی

جلیل عالی
وہ عشق ہے عرفاں ہے وہ عقل ہے برہاں ہے 
ہر فکر و عمل اسؐ کا آئینۂ قرآں ہے
سب چاند سبھی سورج پاتے ہیں ضیا اُسؐ سے
وہؐ رحمتِ عالم ہے وہؐ خواجۂ دوراں ہے
وصفوں میں کمالوں میں سوچوں کے اجالوں میں
سب خیر حوالوں میں فیض اسؐ کا فروزاں ہے
کوئی بھی زمانہ ہو وہؐ خُکق کا پیمانہ
اللہ کا بندوں پر کتنا بڑا احساں ہے
سانسیں ہیں رواں اسؐ سے سینے میں اذاں اسؐ سے
وہؐ روز و شبِ دل ہے وہؐ تاب و تبِ جاں ہے
ذکر اسؐ شہِ والا کا دیتا ہے سکوں دل کو
یاد اسؐ درِ دولت کی ہر درد کا درماں ہے
ہے دھیان مدام اسؐ کا ہونٹوں پہ ہے نام اسؐ کا
جو کچھ ہے تمام اسؐ کا اپنا تو یہ ایماں ہے

داشنگٹن مین مقیم شاعر نقاداور کرنٹ آفیئر ہیڈ ذوالفقار کاظمی ماہانہ تخلیق کے دفتر میں سونان اظہر کے ساتھ

داشنگٹن مین مقیم شاعر نقاداور کرنٹ آفیئر ہیڈ ذوالفقار کاظمی  ماہانہ تخلیق کے دفتر میں سونان اظہرکےساتھ

جمعہ، 1 جولائی، 2016

اسلام کی عظمت کا نشاں ہے قرآن /عرفان کی اک جوئے رواں ہے قرآن/ احمد علی برقی اعظمیٰ

اسلام کی عظمت کا نشاں ہے قرآن
عرفان  کی اک جوئے رواں ہے قرآن
آیا ہے جو سب توڑ کے باطل کے طلسم
توحید کی وہ روحِ رواں ہے قرآن
ہے عدل و مساوات پہ مبنی جو نطام
اس نظم کا پیغام رساں ہے قرآن
مشرک کے لئے ہے یہ ہدایت کا پیام
مومن کے لئے تاب و تواں ہے قرآن
سرچشمۂ ایمان و یقیں ہے یہ کتاب
اک گنجِ نہاں اور عیا ہے قرآن
سائنس کی تائید ہے اس کو حاصل
فیضان خدا کا ہے جہاں ہے قرآن
اسرار ازل کا ہے یہ مظہر برقی
قاری کے لئے فیض رساں ہے قرآن
 
احمد علی برقی اعظمیٰ